زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

منگل، 16 دسمبر، 2025

زندگانی علامہ ابن حسن جارچوی اور فن سوانح نگاری کی اہمیت

زندگانی علامہ ابن حسن جارچوی اور فن سوانح نگاری کی اہمیت
قسط اوّل:ڈاکٹر نذر حافی :
ممتاز شیعه عالم دین علامہ ابن حسن جارچوی ،  21  مارچ 1904ء کو  جار چه ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے   ایم اے کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے اور بی ٹی ( بیچلر ان ٹیچر ٹرینگ) کی ڈگری علی گڑھ یونیورسٹی سے سے حاصل کی ۔1923ء میں سکھر میں جو شیعہ کانفرنس ہوئی اس میں اُنہوں نے شرکت کی ۔اس کا نفرنس کی صدارت شمس العلماء، مرزا قلیچ بیگ نے کی تھی ۔علامہ جارچوی 1931ء سے 1938 ء تک جامعہ ملیہ دہلی میں اُستادر ہے۔اُنہیں 1938ء میں  راجہ محمود آباد کو دینی تعلیم دینے کا فریضہ سونپا گیا۔ بعد ازاں وہ شیعہ ڈگری کالج لکھنو کے پرنسپل مقرر ہوئے ۔ اسی طرح انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور  1945ء کر پس مشن کے سامنے پیش ہوئے  تا کہ برصغیر میں مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کے نظریئے کی وضاحت کر سکیں ۔1951ء میں بھارت سے پاکستان چلے آئے۔ اُن کی کوششوں سے کراچی میں انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ کلچر بھی قائم ہوا۔اپنی زندگی میں انہوں نے  ایک درجن سے زائد کتا بیں تصنیف کیں اور بالاخر  16 جولائِی 1973 کو انہوں نے وفات پائی۔
اُن کی سوانحِ حیات کا تجزیہ کرنے سے قبل اس صنف کی انفرادیت کا بیان  کرنا نہایت ضروری ہے۔ فنِّ سوانح نگاری کی مختصر مگر جامع پہچان یہ ہے کہ یہ فن  انسانوں کو رول ماڈل اور نمونۂ عمل سے روشناس کرانے کا فن  ہے۔یہی وہ فن ہے جو کسی  کردار کو آئینہ اور عمل کو رہنما بناتا ہے ۔
اگر یہ فنّی سرمایہ میسر نہ آئے تو نوجوان نسل ایسے حقیقی کرداروں سے محروم رہ جاتی ہے کہ جن کی زندگیوں سے حوصلہ کشید ہو، مزاحمت جنم لے اور اخلاقی بصیرت نکھر سکے۔ گزشتہ ایّام میں جامعۃ الکوثر، اسلام آباد میں جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے زیرِ اہتمام کتب کی ایک دلکش اور فکر افروز نمائش منعقد ہوئی، جس نے علم و ذوق کی فضا کو تازگی بخشی۔
اس موقع پر ایک بُک اسٹال پر فاضل محقق محترم سید نثار ترمذی صاحب سے شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ انہوں نے ازراہِ عنایت پروفیسر سیِّد اصغر جارچوی مرحوم کی تصنیف  "زندگانی علامہ ابن حسن جارچوی" راقم کو ہدیۃً پیش کی۔ یہ سوانح حیات البصیرہ نے چھپوائی ہے اور تحقیق کے فرائض محترم نثار ترمذی صاحب نے انجام دئیے ہیں۔  کتاب کی ظاہری دلکشی، اسلوب کی شگفتگی اور حجم کی اختصاری نے ایسا لطف پیدا کیا کہ مجھے ان گنت مصروفیات کے باوجود چند ہی نشستوں میں اس کے مطالعے کی سعادت حاصل ہو گئی۔
یہاں اس امر کا بیان نہایت ضروری ہے کہ ہر انسان اپنی زیست کے سفر میں جو تجربات سمیٹتا ہے، فنِ سوانح نگاری انہیں قابلِ لمس بھی بناتا ہے اور قابلِ فہم بھی۔ سوانحِ حیات جہاں  کسی ایک فرد کی زندگی کی روداد  ہوتی ہے وہیں  فرد اور معاشرے کے باہمی ربط و تعلق کی ایک زندہ، گویا اور باخبر دستاویز  بھی ہوتی ہے۔ یہ دستاویز کسی انسان کی شناخت اور پہچان کے لیے اس کے ذاتی انتخاب، اس کے فیصلوں اور اس کے گردوپیش موجود سماجی سانچوں جیسے سماجی طبقات، جنس، مذہب، تعلیم اور سیاست کے نظام کی واضح نشان دہی کرتی ہے۔ یہ تمام عوامل کو فرد کی زندگی میں مجسم اور متحرک صورت میں پیش کرتی ہے اور اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ ذاتی تجربات دراصل سماجی حقیقتوں ہی کے  پروردہ اور پیداوار ہوتے ہیں۔ یوں یہ صنف ہمیں یہ سمجھنے کا شعور عطا کرتی ہے کہ فلاں شخص نے “ذاتی مسائل” اور “سماجی مسائل” کے درمیان کس قدر توازن رکھا اور کیسی اعتدال کی راہ اپنائی۔
 “زندگانی علامہ ابن حسن جارچوی” کے مصنّف، پروفیسر سیّد صغیر اصغر جارچویؒ نے فنِ سوانح نگاری کے تقاضوں کو کس حُسن، دیانت اور مہارت کے ساتھ نبھایا، اس کا دل نشیں اور پُراثر اظہار ہمیں ان کے فرزندِ ارجمند، جاوید جارچوی کی اس تحریر میں ملتا ہے جو اظہارِ تشکر کے خلوص، اعترافِ احسان کے وقار اور عقیدتِ فرزندی کے جذبے سے مزیّن ہے۔ اُن کے  اس اظہارِ تشکر کو بطورِ شہادتِ فن اور تحسینِ قلم، ملاحظہ فرمائیے:
" یہ سوانح حیات جو علامہ ابن حسن جارچوی مرحوم کی زندگی کے نشیب و فراز ، اُن کی خدمات اور کردار کی عکاسی کرتی ہے جسے میرے والد جناب صغیر اصغر جار چوی مرحوم نے بہت محبت اور احترام سے قلم بند کیا ہے۔ اُن کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش یہی تھی کہ یہ کتابی صورت میں منظر عام پر آئے لیکن اُن کی صحت اور کچھ نامساعد حالات کی وجہ سے اُن کی زندگی میں یہ خواہش پوری نہیں ہوسکی جس کا ہمیں بے حد افسوس ہے۔
شکر الحمد للہ کہ ہر چیز کا وقت اللہ کی طرف سے معین ہے۔ اس کتاب کے منظر عام پر آنے کا بھی شاید یہی وقت تھا کہ بھولے ہوئے ذہنوں پر سے ایام کی دھول ہٹے اور علامہ ابن حسن جارچوی کی یاد دوبارہ تازہ ہو جائے اور مجھ جیسے نوجوان بھی جان سکیں کہ سادات جارچہ کی اہم شخصیات نے قیام پاکستان میں کیا خدمات انجام دی ہیں اس طرح میرے والد صغیر اصغر جارچوی کی کاوشیں بھی سامنے آسکیں ۔ اس کتاب کی اشاعت کے سلسلے میں جناب نثار ترمذی صاحب اور سید شاہد رضا موسوی کی کوششوں کا بھی صمیم دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں ۔"
 محترم جاوید جارچوی صاحب کے بیان کے بعد ہم اپنے قارئین کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ جدید دور میں، جب شناختیں متغیر، کیریئر غیر یقینی اور تعلقات عارضی ہوتے جا رہے ہیں،  تو ایسے میں سوانحِ حیات کسی  فرد کی جدوجہد کو ایک وسیع سماجی پس منظر میں رکھ کر دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ہجرت، بے روزگاری، صنفی عدم مساوات، ڈیجیٹل کلچر اور طاقت کی نئی صورتیں سوانحی بیانیے میں ذاتی کہانی کے ذریعے سامنے آتی ہیں۔ اس طرح سوانحِ حیات معاشرے کی ناہمواریوں کے مقابلے میں کسی شخص کے  ردِّ  عمل کو انسانی تجربے  کی شکل میں مجسّم کرتی ہے۔
فنِ سوانحِ حیات کی اہمیت اس وجہ سے  بھی ہے کہ معاشرے کے حاشیے پر موجود طبقات، جیسے خواتین، اقلیتیں اور محنت کش وغیرہ اپنی زندگی کی کہانی کے ذریعے غالب بیانیے کو چیلنج کرتے ہیں۔ یوں سوانحِ حیات طاقت، شناخت اور مزاحمت کی سیاست کو بے نقاب کرتی ہے اور جدید سماج میں فرد کی آزادی اور خود مختاری  کو معنی عطا کرتی ہے۔ جب کوئی فرد اپنی زندگی کی کہانی بیان کرتا ہے تو وہ دراصل اپنی کہانی میں یہ دکھا رہا ہوتا ہے کہ اس پر کس طرح ریاست،  مختلف طبقات، جنس، مذہب، زبان یا سماجی روایت نے اثر ڈالا۔ یوں سوانحِ حیات طاقت کے اُن غیر مرئی نظاموں کو بے نقاب کرتی ہے اور قابلِ مشاہدہ بناتی ہے  جو عام طور پر اداروں، قوانین یا روایت کے پردے میں چھپے ہوتے ہیں اس اعتبار سے سوانحِ حیات ماضی کی تفہیم  بھی ہے  اور حال کی تنقید اور مستقبل کی تشکیل کا ایک موثر سماجی متن بھی۔
یہ سوانحِ حیات لفظ "جارچہ"  کی حکایت، علامہ کی ولادت اور ان کی سیاسی خدمات کے تذکرے سے  شروع ہوتی ہے، اور پھر ان کی تصنیفات و تالیفات  سے اُن کی وفات اور تعزیّت ناموں تک کے بیان کے ساتھ  اس شان سے سفر طے کرتی ہے کہ پڑھنے، سوچنے اور تخلیق کرنے والوں کے لیے اس میں بے شمار زاویے اور وافر سامانِ فکر موجود ہے۔ اس کتاب کو کب، کیسے اور کن حالات میں فاضل مصنّف نے رقم کیا، اس بارے  میں علامہ ابن حسن جارچویؒ مرحوم کی دُختر ِ گرامی محترمہ ناہید اقبال صاحبہ نے نہایت سلیقے، دل نشیں اسلوب اور بصیرت افروز انداز میں ایسا نقشہ کھینچا ہے کہ عہد، ماحول اور محرکات سب آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں۔
 وہ رقمطراز ہیں کہ  سب سے پہلے میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ میرے والد کی زندگی میں پیش آنے والے نشیب و فراز سے بھر پور واقعات اب کتابی شکل میں منظر عام پر آ رہے ہیں ۔
صغیر اصغر بھائی مرحوم کی شکر گزار ہوں جنھوں نے میرے والد علامہ ابن حسن جارچوی مرحوم کی مختلف میدانوں میں کی گئی کارگزاریوں کو بہت محنت سے قلم بند کیا۔ مجھے یاد ہے کہ صغیر اصغر بھائی سال دو سال تک روزانہ عصر کے وقت آتے تھے اور مغرب تک ہمارے والد سے گفتگو کرتے رہتے تھے اور اس کو ایک رجسٹر میں تحریر کرتے رہتے تھے۔ اُس وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا لکھ رہے ہیں۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ میرے والد کی یادداشتیں قلم بند کر رہے ہیں۔ ہمارے والد نے علمی ادبی میدان میں جو کارگزاریاں انجام دی تھیں اور سیاسی میدان میں جو کردار ادا کیا حق گوئی کی ایک مثال قائم کی ۔ اپنی سینتالیس 47 سالہ متحرک زندگی میں یہ ثابت کیا کہ اپنے نظریات کو فروخت کیے بغیر اور اپنی ذات کی نفی کر کے خلوص کے ساتھ بھی سیاست میں کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔"
علامہ کی دُخترِ گرامی نے بین السطور اس حقیقت کو نہایت لطافت سے آشکار کر دیا ہے کہ فنِ سوانح نگاری کا اصل مقصود کیا ہے۔ اس فن میں جہاں زندگی کے واقعات کو ترتیب اور تسلسل کے ساتھ رقم کیا جاتا ہے، وہیں یہ ایک ایسا فکری و تخلیقی عمل بھی ہے جس میں ماضی، حال اور مستقبل ایک دوسرے سے پیوست ہو جاتے ہیں۔ ایک کامیاب سوانح نگار کے لیے لازم ہے کہ وہ شخصیت کے فردی تجربے کو اس کے عہد، معاشرے اور فکری روایت کے ساتھ اس طور جوڑ کر پیش کرے کہ سوانح محض معلومات کا مجموعہ نہ رہے، بلکہ پالیسی سازوں اور اہلِ فکر کے لیے ایک بامعنی، باوقار اور بصیرت افروز علمی و معاشرتی دستاویز بن جائے۔
بحیثیتِ سوانح نگار محترم پروفیسر سیّد صغیر اصغر جارچویؒ مرحوم نے اپنے قلم کا حق پورے حُسن و خلوص کے ساتھ ادا کیا اور فن کے تقاضوں کو کمال سلیقے سے نبھایا۔ ان کے بعد محترم سیّد نثار ترمذی صاحب نے بحیثیتِ محقق اس سوانحِ حیات کے تحقیقی  ارتقاکے ذریعے اس کی قدر و قیمت میں اضافہ کیا اور اسے دوام و ماندگاری کا روشن حوالہ بنا دیا۔
کتاب کے پیش لفظ میں پروفیسر سیّد صغیر اصغر جارچویؒ  لکھتے ہیں کہ  "اس کتاب میں آپ کے علامہ ابنِ حسن جارچوی کی سوانح اور میرے خلیرے بھائی کے مکالمات ہیں۔اُن سے ملاقات کرنے سیاست دان ، ادباء، شعراء، کالم نویس ،صحافی، پروفیسر، تجار اور صنعتوں کے مزدور رہنما تشریف لاتے تھے۔ یہ حضرات اپنے اپنے شعبہ کے حوالے سے تبادلۂ خیال  کرتے تھے۔ علامہ موصوف کے اندازِ خطابت سے یہ یہ خیال آیا کہ اُن کا ایک منفرد اسلوب ہے، جیسا کہ انگلستان کے معروف مدیر ڈاکٹر جونسن (Samuel Johnson) کا تھا۔ پس میں نے بھی بوسویل (James Boswell) کی طرح ایک ڈائری بنالی اور علامہ موصوف کے مکالمات قلم بند کرنے شروع کر دیئے ۔
میرا منصب یہ تھا کہ میں اُن کے رفقاء، احباب، معززین اور عمائدین سے فون پر وقت معین کروں اور ان سے ملاقات کے لیے لے جاؤں ۔ یہ حضرات مجھے موصوف کا پرائیویٹ سیکریٹری سمجھتے تھے۔ ان شخصیات کے مابین جو گفتگو ہوتی وہ میں ذہن نشین کر لیتا اور قیام گاہ پر آکر ڈائری میں درج کر لیتا۔اس تالیف میں وہ واقعات بھی ہیں جو انہوں نے وقتاً فوقتاً مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے سنائے ۔
ڈاکٹر جانسن کے تمام احباب یہ جانتے تھے کہ بوسویل ڈاکٹر صاحب کے مکالمات ، قلم بند کرتا ہے۔  جو بوسویل  کو مزاحاً "A food with a dairy" کہتے تھے۔ جب ڈاکٹر جونسن (Samuel Johnson) کا انتقال ہو گیا تو بوسویل نے اُن کی ”سوانح" شائع کرائی۔ جس کا نام Life of Johnson تھا۔ صرف اس تالیف سے بوسویل کو انگریزی ادب میں حیات جاوید مل گئی ۔ کاش میں اس ”سوانح " سے اردو ادب میں زندہ و جاوید ہو جاؤں ۔"
اگر پروفیسر سیّد صغیر اصغر جارچویؒ کا یہ محض ایک صفحے پر مشتمل پیش لفظ توجہ، تدبر اور فکری انہماک کے ساتھ پڑھا جائے تو یہ فنِ سوانح نگاری کے اس بنیادی اصول سے پردہ اٹھاتا ہے جس کی بنیاد صداقتِ بیان اور حوالہ جاتی دیانت پر استوار ہے۔ یہ پیش لفظ اس خواہش اور تمنّا کا اظہار ہے کہ سوانح نگاری محض یادداشتوں کا انبار یا واقعات کی سرسری فہرست نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ علمی ذمہ داری اور تہذیبی امانت ہے۔ سوانح نگار پر لازم ہے کہ وہ واقعات، تاریخوں اور حالاتِ زمانہ کی روشنی میں فرد کی زندگی کو اس کے عہد کے فکری، سیاسی اور سماجی تناظر میں صحیح طور پر سمجھا ئے۔
 تاریخی شعور سے محروم سوانح محض سطحی واقعات نگاری بن کر رہ جاتی ہے، جس میں نہ زمانے کی دھڑکن سنائی دیتی ہے اور نہ شخصیت کی داخلی تشکیل واضح ہوتی ہے۔ ایک بالغ نظر اور صاحبِ بصیرت سوانح نگار ذاتی زندگی اور اجتماعی تاریخ کے گہرے ربط کو نمایاں کرتا ہے اور یہ دکھاتا ہے کہ کس طرح سیاسی کشمکش، سماجی ساخت اور تہذیبی اقدار فرد کی شخصیت سازی میں خاموش مگر فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں، اور یوں سوانح فرد کے احوال سے بڑھ کر عہد کی گواہی بن جاتی ہے۔
المختصر یہ کہ سوانح نگاری اسلوب، زبان اور بیانیہ کے اشتراک کا نام ہے۔ محض حقائق کی فہرست سوانح نہیں بنتی، اس کے لیے فنی ترتیب، منظر نگاری اور کردار نگاری ضروری ہوتی ہے۔ سوانح نگار کو توازن قائم رکھنا پڑتا ہے کہ تحریر نہ تو خشک تاریخی دستاویز بنے اور نہ ہی افسانوی مبالغے کا شکار ہو۔ ادبی حُسن سوانح کو قاری کے لیے بامعنی اور اثر انگیز بناتا ہے اور شخصیت کو ایک جیتے جاگتے انسان کی صورت میں پیش کرتا ہے۔
جاری ہے




0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...