عِلم کی کثرت اور حِکمت کی قلت
﴿حاصلِ مطالعہ﴾
ڈاکٹر نذر حافی
انسان ایک مقصد کے تحت پیدا ہوا ہے۔ خود اس کی پیدائش ایک مقصد تک پہنچنے کا وسیلہ ہے۔ اُس مقصد تک پہنچنے کے لیے اسے جتنی ضرورت علم کی ہے اُتنی ہی اجتماعی و معاشرتی تجربات کی بھی۔ اجتماعی و معاشرتی تجربات کی عملی شکل کا نام ٹیم ورک ہے۔ پس ہر انسان کو بیک وقت تعلیمی نور اور ٹیم ورک کے شعور دونوں کی ضرورت ہے۔ٹیم ورک اور تعلیم کے امتزاج کے دعوے آپ نے بھی بہت سُنے ہوں گے۔ ایسے دعوے خود بخود فرد کو مکمل اور معاشرے کو متوازن نہیں کرتے۔ ان دعووں کو سچ ثابت کرنے کیلئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ٹیم ورک کے بغیر تعلیم ایسی روشنی ہے جو دیواروں سے ٹکرا کر بکھر جاتی ہے ۔ علم جب اجتماع کے کام نہ آئے تو وہ اُس چراغ کی مانند ہے جو کسی کی راہوں میں روشنی نہیں بکھیرتا۔ایسا علم معاشرے کے ہاتھوں پر خوش قسمتی کی کوئی لکیر کھینچے بغیر فرد کی تجوریوں کو بھرتا رہتا ہے اور ایسی تعلیم قومی و اجتماعی زندگی کے میدان میں ہمیشہ بے وُقعت اور بے وزن ثابت ہوتی ہے۔ جہاں تک ٹیم ورک اور تعلیم کے امتزاج کی بات ہے تو یاد رکھئے کہ ایک مستحکم ارادے، مسلسل مشق اور اخلاقی ذمہ داریوں کو نبھائے بغیر تعلیم اور ٹیم ورک کا امتزاج ممکن ہی نہیں۔ٹیم ورک سے محروم تعلیم انسان کو بولنا تو سکھا دیتی ہے لیکن توجہ سے سننا ، گہرائی میں اُتر کر سوچنا اور دوسروں کے ساتھ مل کر چلنا نہیں سکھاتی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک غیر ٹیم ورک کے تعلیم یافتہ شخص اپنی "دانائی کا مرکز" خود کو ہی سمجھنے لگتا ہے اور اُس کا علم، خدمت کے بجائے برتری کے احساس میں ڈھل جاتا ہے۔ بغیر ٹیم ورک کے زندگی کے کچھ پڑھا لکھا ہوا آدمی چونکہ ٹیم کی اہمیّت کو نہیں سمجھتا چنانچہ اُس کے سامنے اختلافِ رائے کا اظہار اصلاح و ارتقا کے کے بجائے جنگ و جدال کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کیفیت میں معاشرہ اہلِ علم سے فیض پانے کے بجائے ان کے باہمی ٹکراؤ کا مشاہدہ کرتا ہے جیسا کہ ہمارے ہاں آج کل عام ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ ٹیم ورک کے بغیر سماجی ارتقا میں تسلسل پیدا نہیں ہوتا۔ بغیر ٹیم ورک کے سماج میں ہر فرد اپنی فہم کے مطابق ایک نیا ایجنڈا رکھتا ہے اور ہر روز اپنے کاموں کا ایک نیا آغاز کرتا ہے۔ اس طرح کے ماحول میں کسی کو بھی کوئی مشترکہ نتیجہ نہیں ملتا۔ نسل در نسل نہ تجربہ منتقل ہوتا ہے، نہ غلطیوں سے اجتماعی تجربہ کشید ہوتا ہے، اور نہ ہی نئی نسل اپنی تاریخ کی منظم وارث بن پاتی ہے اور یوں چراغ سے چراغ جلانے کا ہنر گُم ہو جاتا ہے۔ ٹیم ورک نہ ہو تو ایسی تعلیم کردار سازی کے بجائے محض معلومات کا انبار بننے لگتی ہے۔ ایسی معلومات کے باعث وقت کے ساتھ ساتھ انسان بہت کچھ جاننے لگتا ہے مگر وہ خود کچھ بھی نہیں بن پاتا، اور بہت کچھ سمجھنے لگتا ہے لیکن خود سنور نہیں پاتا۔ وجہ یہ ہے کہ ٹیم ورک کے بغیر علم سماج کی زمین پر نہیں اترتا، اس لیے وہ عمل کا پھل دینے کے بجائے ذہن کے ذخیرے میں سوکھ جاتا ہے۔مزید یہ کہ ٹیم ورک سے عاری تعلیم معاشرتی ذمہ داریوں کا شعور پیدا نہیں کرتی اور فرد اپنے علم کو ذاتی کامیابی کا زینہ بنا نے کے بعد اجتماعی ارتقا کا راستہ بھول جاتا ہے۔ اُس کا علم خدمت کے بجائے مسابقت، اور تعاون کے بجائے مقابلہ آرائی میں صرف ہونے لگتاہے، جس سے معاشرہ علماکی کثرت کے باوجود حکمت کی قلت کا شکار رہتا ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ ٹیم ورک کے بغیر تعلیم ایک بکھری ہوئی کتاب ہے، جس میں گہرائی تو ہوتی ہے مگر گیرائی نہیں، روشنی تو ہوتی ہے مگر حرارت نہیں، آواز تو ہوتی ہے مگر ہم آہنگی نہیں۔ تعلیم کو اثر، دوام اور ثمر عطا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ٹیم ورک کے قالب میں ڈھلے، تاکہ علم فرد کی اصلاح سے آگے بڑھ کر اجتماع کی تربیّت کا ذریعہ بن سکے۔
ٹیم ورک نام ہے معتدل مزاجی اور تحمل کے جمع ہونے کا۔ یہی دو عنصر ﴿ معتدل مزاجی اور تحمل﴾ تعلیم و ٹیم ورک کے امتزاج کے بنیادی اوصاف ہیں۔ سختی اور جبر کے بجائے خود احتسابی اور اصلاح کے ساتھ حق کی پاسبانی کرنا ٹیم ورک کی تربیّت کا لازمہ ہے۔ تعلیم انسان کو سوچنا سکھاتی ہے اور ٹیم ورک اسے مل کر چلنا ۔ ٹیم ورک کے دوران اپنے موقف پر قائم رہنا اور اختلافِ رائے کا احترام وہ اخلاقی زینت ہے جو تعلیم کو عمل کا لباس پہناتی ہے۔ البتہ محتاط رہیں کہ اگر ٹیم ورک انسان کو دلیل و منطق کے بجائے اندھی تقلید پر لگا دے تو یہ انتہا پسندی کا راستہ ہے۔ ایسی انتہا پسندی کسی کو صرف ذاتی تشہیر یا شخصی مفاد کا فائدہ دے سکتی ہے اور بس۔ بصیرت رکھنے والا کارکن وہ ہے جو تعلیم سے حاصل شدہ فہم کو ٹیم ورک کے نظم میں ڈھالتا ہے اور ٹیم ورک کو خود احتسابی اور اصلاح کے ذریعے زندہ رکھتا ہے، نہ کہ اسے ذاتی شناخت یا شخصی مفادات کی سیڑھی بناتا ہے۔
کہیں بھی ٹیم ورک کے دوران شخصیت پرستی اور غیر مشروط اطاعت اس وقت جنم لیتی ہیں جب اس میں نظریاتی تربیّت کی روشنی مدھم اور انتہا پسندوں کی گرفت سخت ہو جاتی ہے۔ ٹیم ورک کی تربیّت سوال کرنا سکھاتی ہے اور تعلیم مشورہ مانگنے کا حوصلہ پیدا کرتی ہے۔ جہاں سوال زندہ، مشورہ معتبر اور اصلاح ممکن ہو، وہاں ٹیم ورک پختہ ہوتا ہے لیکن جہاں اختلاف کو جرم سمجھا جائے، وہاں فکری جمودٹیم ورک کی روح کو بھی گھائل کر دیتا ہے۔
یہ کبھی فراموش نہ کریں کہ تعلیم انسان کو اپنے حقوق سے آگاہ کرتی ہے اور ٹیم ورک اسے دوسروں کے حقوق کا لحاظ سکھاتی ہے۔ بولنے کا حق، سوچنے کی آزادی اور اجتماعی سرگرمی میں شرکت کا موقع اسی توازن سے جنم لیتا ہے۔ اپنے ٹیم ورک سے محبت، دوسروں کی نفی کا نام نہیں۔ ٹیم ورک و تعلیم دونوں کے ساتھ اصل وفاداری یہ ہے کہ خود احتسابی اور اصلاح کے ذریعے معاشرے میں بھلائی، اچھائی اور عزت بانٹی جائے کیونکہ احترام ِ باہمی کی فصل تعلیم سے جنم لیتی اور ٹیم ورک میں پروان چڑھتی ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ وہی ٹیمیں عروج پاتی ہیں جن کے افراد خود احتسابی و اصلاح کے خوگر ہوں۔ ایسی ٹیموں میں اخلاق ضبط بن جاتا ہے اور نظم زندگی کا اصول۔ اس کے برعکس جہاں تعلیم سطحی ، تربیّت برائے نام اورٹیم کے ممبران جذباتی ہوں، وہاں عروج جھاگ کی مانند ابھرتا اور غائب ہوتا رہتا ہے۔
خود احتسابی اور اصلاح ، تعلیم و ٹیم ورک کے مابین ربط کی روح ہیں ۔ تعلیم بغیر اصلاح کے اعدودوشمار کا ملغوبہ بن جاتی ہے اور ٹیم ورک بغیر احتساب و نظرِ ثانی کے زندان۔ یوں سمجھئے کہ تعلیم فرد کو سنوارتی ہے اور ٹیم ورک معاشرے کو۔ ٹیم ورک کے دوران سینئرافراد کو خاص طور پر اراکین کے درمیان یہ سوچنے اور سمجھنے کا اہتمام کرتے رہنا چاہیے کہ استاد اور متربی کا رشتہ ہو یا قائد اور کارکن کا ، صبر، تدریج اور مسلسل محنت کے بغیر یہ رشتہ ثمر آور نہیں ہو سکتا۔
جیسے فقط تعلیم انسان کو کمال تک نہیں پہنچاتی اُسی طرح ٹیم ورک کے دوران افراطیت یا انتہا پسندی بھی انتہائی مہلک ہے۔ فیکٹ چیکنگ، افکار و نظریات کی جانچ، اور سوال اُٹھائے بغیر کسی فرد یا گروہ کی اندھی تقلید کرنا انتہا پسندی ہے۔ ایسی ہی انتہا پسندی کے شکار افراد موقع ملنے پر اپنی ٹیم کے حق میں حد سے تجاوز اور دوسروں کے حقوق اور آزادیوں کو نظرانداز کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو اکثر اوقات ٹیم ورک کو اپنی ذاتی شہرت یا اثر و رسوخ کے لیے استعمال کرنے والوں کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہوئے بھی نظر آتےہیں۔ اس رجحان کے حامل افراد میں خود بھی خود احتسابی اور اصلاح کی گنجائش کمزور ہو جاتی ہے، وہ منطقی اختلاف کو برداشت کرنے کے بجائے دباؤ یا جبر کے ذریعے اپنی رائے کو دوسروں پر زبردستی نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ابتدا میں اُن کی ایسی سرگرمیاں بعض لوگوں کو متاثر کرتی ہیں لیکن ان کا طویل مدتی نقصان یقینی ہوتا ہے۔ ایسی سطحی سرگرمیوں کے باعث ٹیم کے ممبران کا اخلاق ، اجتماعی توازن ، معاشرتی اثرات اور ٹیم کے نیٹ ورک کے یونٹس کم یا کمزور پڑ جاتے ہیں۔
پس تعلیم و ٹیم ورک کی کامیابی کا راز اایسی ہم آہنگی میں پوشیدہ ہے کہ جس کے باعث تعلیم کو ٹیم ورک کے قالب میں ڈھالا جائے اور ٹیم ورک کو نظریاتی تربیّت کے نور سے منوّر رکھا جائے۔نیز خود احتسابی اور اصلاح کو ٹیم ورک کا مزاج، اعتدال کو شعار، برداشت کو زیور اور احترام ِ باہمی کو دستور بنا یا جائے۔ ایسی فضا میں فرد بھی رُشد کرتا ہے اور ٹیم بھی اپنے نصب العین کی طرف رواں دواں رہتی ہے۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں