نظریاتی بیماریاں اور جھوٹ کی اسلامائزیشن :
ڈاکٹر نذر حافی :
قسط ۱
نظریاتی بیماریوں کی کئی اقسام ہیں۔ حضرت امام خمینیؒ کے نزدیک نظریاتی بیماریوں کی سب سے خطرناک صورت فکری و ثقافتی انحراف ہے۔ آپؒ کے نزدیک انسانیت کے صراطِ مستقیم اور انبیائے کرامؑ کے طریقے سے دوری کا نام" انحراف" ہے، جو اصلاحِ نفس کے فقدان اور تہذیبِ باطن کی کمی سے جنم لیتا ہے۔ آپ نے انحراف سے بچنے کیلئے صراطِ مستقیم کی اہمیّت کو واشگاف الفاظ میں بیان کیا ہے۔ سورہ حمد کی تفسیر میں آپ نے لکھا ہے کہ " آپ کو اختیار دیا گیا ہے کہ آپ ان تین راستوں میں سے ایک کو انتخاب کریں: یا انسانیت کے صراطِ مستقیم کو، یا بائیں طرف کے انحراف کو، یا دائیں طرف کے انحراف کو۔ جس سمت بھی انحراف ہو، وہ انسانیت سے دوری ہی کا سبب بنتا ہے، اور جوں جوں انسان آگے بڑھتا ہے، اتنا ہی زیادہ دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ جو شخص سیدھے راستے سے ہٹ جائے، وہ جتنا آگے بڑھے گا، اتنا ہی صراطِ مستقیم سے زیادہ فاصلے پر جا پڑے گا۔ اسی طرح جو علم حاصل کیا جائے اور وہ خدا کے نام، یعنی " باسم ربِّک" کے لیے نہ ہو، وہ صراطِ مستقیم سے دوری کا باعث بنتا ہے، بلکہ جتنا زیادہ ایسا علم حاصل کیا جائے، اتنی ہی دوری بڑھتی چلی جاتی ہے۔"
چنانچہ وہ دینی مدارس اور کالج و یونیورسٹیوں میں نوجوانوں اور جوانوں کوتلقین فرماتے کہ فکری و نظریاتی انحراف سے بچنے کیلئے تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تزکیے اور تہذیبِ نفس پر بھی بھرپور توجہ دیں ۔قرآن مجید نے بھی انحراف سے بچنے کی تاکید کی ہے۔
ارشادِ پروردگار ہے:
"اللہ ان لوگوں کو کیونکر ہدایت فرمائے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے حالانکہ وہ اس امر کی گواہی دے چکے تھے کہ یہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس واضح نشانیاں بھی آچکی تھیں، اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا۔" آلِ عمران ۸۶
فکری و نظریاتی طور پر ایمان لانے کے بعد اُس ایمان پر قائم رہنا ضروری ہے۔ دینِ اسلام انسان سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد وہ منحرف نہ ہو۔ تاہم اس حقیقت سے ہر شخص آگاہ ہے کہ اسلامی معاشرے میں ایمان کے ساتھ ساتھ انحراف بھی واضح طور پر موجود ہے۔
انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ظہورِ اسلام کا نصب العین انسان کو ظلمت سے نکال کر نور کی طرف لے جانا تھا۔ دینِ اسلام کا مقصد برائیوں کا خاتمہ، عدل کا قیام اور معاشرتی اقدار کی اصلاح ہے، مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ آج بھی زمانہ جاہلیت کی بہت ساری برائیاں کسی نئے لباس میں دوبارہ سے مسلمانوں میں نظر آ رہی ہیں۔ چنانچہ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام کے بعد انحراف کیوں اور کیسے جنم لیتا ہے؟
عام طور پر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ وقت کے ساتھ برائیاں خود بخود واپس آ جاتی ہیں، حالانکہ یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ برائیاں کبھی خود واپس نہیں آتیں بلکہ انہیں شعوری طور پر واپس لایا جاتا ہے۔ جب کسی معاشرے میں خیر نافذ ہو جاتا ہے تو شر کی واپسی صرف اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب کچھ شریر لوگ اسے دوبارہ زندہ کرنے کا ارادہ کریں اور اس کی سرپرستی کریں۔
اگر دینِ اسلام کو بطور مثال سامنے رکھا جائے تو یہ ایک ہمہ گیر انقلاب تھا ۔ ایک ایسا انقلاب جس نے جاہلیت کے اندھیروں کو مٹا کر عدل و احسان کی روشنی پھیلائی۔ اسلام سے پہلے عورت کو نہ حق حاصل تھا نہ حرمت، نہ وراثت میں حصہ تھا نہ رائے کی وقعت۔ شوہر کی وفات کے بعد عورت کو دوسروں کی ملکیت سمجھا جاتا تھا، قتل و غارت کو بہادری اور انتقام کو غیرت کا نام دیا جاتا تھا۔ اسلام نے ان تمام تصورات کو ردّ کر کے بیٹی کو رحمت، عورت کو وارث، اور عدل و احسان کو شجاعت قرار دیا۔ فتح مکہ اس اسلام کی روشن مثال ہے جہاں قوت کے باوجود معافی کو اختیار کیا گیا اور انتقام لینے کے بجائے احسان کرنے کو ترجیح دی گئی۔
مگر آج جب ہم اسلامی دنیا پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ سچائی سامنے نظر آتی ہے کہ وہی جاہلیتِ قدیم کی برائیاں دوبارہ عہدِ جدید کے مسلمانوں میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ آج مسلمان ریاستوں میں عورت عملا ً رقص و سرود کی محفلوں کی زینت ہے، اس کے وراثتی حقوق مختلف حیلوں بہانوں سے غصب کیے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں مسلمانوں کے ہاں قتل و غارت، خونریزی، سفاکیت، ملاوٹ، فراڈ اور چوری عام دکھائی دیتی ہے۔
اب ہم اپنی تحقیق کو اس سوال کے ساتھ آگے بڑھاتے ہیں کہ جو برائیاں اسلام نے ختم کر دی تھیں وہ مسلمانوں میں دوبارہ کیسے لوٹ آئیں؟
اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے ہمیں سب سے پہلے اس طبقے پر نظر ڈالنی چاہیے جن کے مفادات براہِ راست برائیوں سے جڑے ہوئے ہیں۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو جانتے ہیں کہ عدل و انصاف اُن کے ناجائز کاموں کیلئے خطرہ ہے۔ان کے مفادات کا تقاضا ہوتا ہے کہ معاشرے میں عدل و انصاف کے بجائے ظلم و ستم قائم ہو۔ چنانچہ وہ معاشرے میں عدل و انصاف کے بجائے رشوت ستانی، ظلم ، دھونس اور جبر و استبداد کو دوبارہ واپس لانے کیلئے منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کرتے ہیں۔
اسی طرح جو سرمایہ دار اور صاحبِ جائیداد حضرات اپنی خواتین کو اُن کا حِصّہ نہیں دینا چاہتے وہ خواتین کے حقوق کی بات بھی سُننا گوارا نہیں کرتے، اور جو جرائم پیشہ اور عقب ماندہ لوگ قتل و غارت و انتقام کو بہادری سمجھتے ہیں وہ امن اور بھائی چارے کو اپنے معاشرتی اسٹیٹس کیلئے ایک خطرہ جانتے ہیں۔ اگر امن و بھائی چارہ قائم ہو جائے گا تو اُنہیں بہادر کون کہے گا؟یہ لوگ مسلمان ہونے کے باوجود عملی طور پر جاہلیت کی اقدار کو زندہ رکھتے ہیں اور یوں اپنے بُرے کاموں سے معاشرے میں زمانہ جاہلیّت کی برائیوں کو زندہ رکھتے ہیں۔
ان کے بعد دوسرا طبقہ وہ ہے جو براہِ راست ظلم نہیں کرتا مگر ظالموں سے فائدہ ضرور اٹھاتا ہے۔ اگر کوئی شخص ناجائز طریقوں سے مال حاصل کر کے اس کا کچھ حصہ دوسروں میں بانٹ دے تو وہ فائدہ اٹھانے والے اس کے جرم پر پردے ڈالنے لگتے ہیں۔ چونکہ ان کے مفادات اُس برائی سے جڑ جاتے ہیں، اس لیے وہ اسے برا کہنے کے بجائے اس کا دفاع کرنے لگتے ہیں۔ یوں برائی کو سماجی قبولیت مل جاتی ہے اور انحراف مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔
سب سے اہم اور فکری طور پر نازک طبقہ وہ ہے جو بعد میں پیدا ہوتا ہے۔ یہ وہ نسلیں ہیں جو نہ اس وقت موجود تھیں جب ظلم ہوا، نہ انہیں ان برائیوں سے کوئی براہِ راست فائدہ حاصل ہوا۔ سوال یہ ہے کہ پھر بعد والی نسلیں پہلے والی نسلوں کی غلطیوں کی حمایت کرتی کیوں نظر آتی ہیں؟
یہاں پر یہ نکتہ قابلِ ذکر ہے کہ انسانی معاشروں میں انحراف صرف مفاد یا جھوٹ تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے کچھ گہرے سیاسی، اقتصادی، عسکری ، ثقافتی، تاریخی اور تہذیبی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتے مگر خاموشی سے معاشرے کی سمت بدل دیتے ہیں۔
جب کچھ عوامل کے تحت پہلی نسل اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کرتی۔ وہ سچ کو چھپاتی ، جواز تراشتی، تاویلیں گھڑتی اور اپنی غلطیوں کو تقدس کا لبادہ اوڑھاتی ہے۔ یعنی جھوٹ کی اسلامائزیشن کرتی ہے تو پھر بعد والی نسل پر لازم ہے کہ وہ پہلے والی نسل کی حمایت کرے۔
اگر پہلی نسل اپنی اولاد کو یہ سچ بتا دے یا کسی بھی طرح اولاد پر یہ منکشف ہو جائے کہ ہمارے بڑوں نے یہ دولت ظلم، غصب اور فراڈ سے حاصل کی ہے تو قوی احتمال ہے کہ اگلی نسل اسے قبول کرنے سے انکار کر دے گی۔ تاریخ میں اس کی مثال یزیدِ ثانی کی صورت میں موجود ہے جس نے غصب شُدہ اقتدار کو مسترد کر کے اپنے باپ کے تخت و تاج کو ٹھکرا دیا۔
جب انحراف کو تسلیم کر کے اُس سے توبہ کرنے کے بجائے اُسے تق کا درجہ دس مل جائے تو پھر صرف ایک خاندان یا ایک طبقہ ہی نہیں بلکہ وہ تمام لوگ جو اس انحراف سے کسی بھی درجے سے فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں، وہ سب اُس انحراف کے محافظ بن جاتے ہیں۔ یوں معاشرے میں ایک ایسا بیانیہ تشکیل پاتا ہے جس میں ہر ظلم کے ساتھ دلیل، ہر غلطی کے ساتھ جواز اور ہر انحراف کے ساتھ تقدس جڑ جاتا ہے۔
نتیجتاً بعد کی نسلیں جب ماضی کی طرف دیکھتی ہیں تو انہیں غلطیاں غلط نظر نہیں آتیں بلکہ ورثہ، روایت اور سیاست نظر آتی ہیں۔ یوں انحراف ایک مقدّس عقیدہ بن کر نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔
اسلامی معاشرے میں انحراف کا ایک بڑا سبب مسلمانوں کے درمیان طاقت کا نشہ بھی ہے۔ جب کسی فرد یا طبقے کو کسی بھی طرح ریاست میں طاقت حاصل ہوجائے تو اس کے اندر یہ احساس پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ قانون اور اخلاق سے بالاتر ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ طاقت جب جواب دہی سے آزاد ہو جائے تو وہ خیر کے بجائے شر کو جنم دیتی ہے۔ جب کہیں پر طاقتور کو قابو میں رکھنے کا نظام کمزور ہو جائے تو وہ اصول جو اسلام کے وقت جانوں پر مقدم تھے، آہستہ آہستہ بوجھ محسوس ہونے لگتے ہیں اور انسان اپنے اختیارات کو اصولوں پر ترجیح دینے لگتا ہے۔
طاقتور طبقے کے علاوہ عوام میں بھی جب کوئی نظریہ زندہ شعور کے بجائے صرف رسم اور روایت میں بدل جائے تو اس سے اسلام کی روح ختم ہو جاتی ہے۔ جب عوام کے درمیان مقصد باقی نہیں رہتا، صرف علامتیں﴿نعرے اور جھنڈے﴾ باقی رہ جاتے ہیں۔ نتیجتاً لوگ اسلام کی شکل تو اپناتے ہیں لیکن اس کے مفہوم اور نصب العین کو نہیں سمجھتے۔ ایسے لوگ یہ نہیں جانتے کہ وہ جو نعرے لگا رہے ہیں، ان کا سچ اور حقیقت سے کتنا تعلق ہے اور وہ کتنے فیصد عملی ہیں؟ سچ ہمیشہ ذمہ داری مانگتا ہے، اور ذمہ داری قربانی چاہتی ہے۔ جب معاشرہ سچ کو ہی نہ سمجھے تو وہ ایسے بیانیے تخلیق کرتا ہے جو حقیقت کے بجائے تاویل پر مبنی ہوتے ہیں اور تاویل رفتہ رفتہ انحراف کا جواز بن جاتی ہے۔ جواز تراشنے اور تاویلیں گھڑنے والی اقوام اپنی تاریخ کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے عقیدت کی عینک سے دیکھنے لگتی ہیں۔ جب اقوام کیلئے اُن کی تاریخ اور تاریخی شخصیات مقدس ہو جائیں، اُن پر سوال اٹھانے کے بجائے عقیدت کو رواج دیا جائے تو پھر اقوام تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے غلطیوں کو دہرانے لگتی ہیں۔ جو قومیں اپنی غلطیوں کو مقدس بنا لیں وہ اصلاح کی صلاحیت کھو بیٹھتی ہیں، اور یہی کیفیت انحراف کو جاویداں بنا دیتی ہے۔
جب تاریخ میں فرد کی بصیرت کا کوئی انتظام نہ ہو اور عقیدت ہی عقیدت ہو تو ہر شخص اپنے فائدے اور مفادات کو حق سمجھنے لگتا ہے۔ اس مرحلے پر غلط کار کے مقابلے میں کوئی اجتماعی ردعمل سامنےنہیں ، وہ تاریخ سے اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنے کے بجائے اپنی غلطیوں کے دلائل اکٹھے کرتا ہے۔جب ایسا ہونے لگے تو بھر تاریخی شخصیات کے بارے میں غُلو کا وجود میں آنا ایک لازمی امر ہے۔
اب انحراف سے بچنے کیلئے کچھ تجاویز بھی ملاحظہ فرمائیں:
اسلام کسی قوم کے لیے محض ایک وقتی جوش یا اچانک تبدیلی کا نام نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک مسلسل فکری، اخلاقی اور عملی سفر ہوتا ہے۔ اگر اس سفر کی نگرانی نہ کی جائے تو وہی اسلام جو ظلم کے خاتمے کے لیے برپا ہوا تھا، خود نئے انحرافات کو جنم دے سکتا ہے۔ اس لیے اصل مسئلہ اسلام لانے کا نہیں بلکہ اسے زندہ رکھنے، سنوارنے اور بگاڑ سے محفوظ رکھنے کا ہے۔
سب سے پہلا اور بنیادی اقدام سچ کی حفاظت ہے۔ جب سچ محفوظ رہتا ہے تو انحراف کو جڑ پکڑنے کا موقع نہیں ملتا۔ ہر اسلام ی رہنما کو چاہیے کہ وہ اپنی کامیابیوں کے ساتھ اپنی کوتاہیوں و لغزشوں کو بھی دیانت داری سےبیان کرے۔ غلطیوں کو چھپانا انحراف کو جنم دیتا ہے، جبکہ ان کا اعتراف اسلام و اسلام یوں کو بالغ بناتا ہے۔ جہاں سچ دب جاتا ہے وہاں تقدیس بے جا جنم لیتی ہے، اور یہی تقدیس بعد میں اصلاح کے راستے بند کر دیتی ہے۔
دوسرا اقدام مسلسل احتساب کا قیام ہے۔اسلامی ممالک میں انحراف کا سب سے بڑاسبب یہ ہے کہ اقتدار یا اختیار رکھنے والے خود کو سوال سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ جب طاقت جواب دہی سے آزاد ہو جائے تو وہ عدل کے بجائے ظلم کی طرف مائل ہو جاتی ہے۔ اس لیے ایک ایسا نظام ناگزیر ہے جو حاکم و محکوم، بانی و پیروکار، سب کو ایک ہی اخلاقی اور قانونی معیار پر پرکھے۔
تیسرا اقدام اقدار کی عملی تعلیم ہے۔ اسلام کے اصول اگر صرف نعروں، خطابات اور تحریروں تک محدود رہیں تو وقت کے ساتھ کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔ اقدار کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ گھروں، تعلیمی اداروں اور اجتماعی رویوں میں عملی صورت اختیار کریں۔ جب نئی نسل اصولوں کو صرف سنتی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں برتتی ہے تو انحراف کمزور پڑ جاتا ہے۔
چوتھا اقدام طاقت کی منصفانہ تقسیم ہے۔ طاقت کا ارتکاز انسان کو خطا سے بالاتر ہونے کا گمان دیتا ہے، اور یہی گمان انحراف کی پہلی سیڑھی ہے۔ جب اختیار محدود اور تقسیم شدہ ہوتا ہے تو غلطی کے امکانات گھٹتے ہیں اور اصلاح کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔
پانچواں اقدام تاریخی شعور کی بیداری ہے۔ اسلامی نظریات کو محفوظ رکھنے کے لیے تاریخ کو عقیدت کے بجائے بصیرت کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔ کامیابیوں پر فخر کے ساتھ ساتھ لغزشوں کا اعتراف بھی لازم ہے، کیونکہ جو قومیں اپنی تاریخ کو مقدس بنا لیتی ہیں وہ اس سے سیکھنے کی صلاحیت کھو دیتی ہیں۔
چھٹا اور نہایت اہم اقدام تاریخی شخصیات و تحریکوں کے بارے میں غلو سے اجتناب ہے۔ جب کسی تاریخی شخصیات و حضرات کو خطا سے پاک، سوال سے بالا اور تنقید سے ماورا بنا دیا جاتا ہے تو درحقیقت حقائق کو نقصان پہنچتا ہے۔ غلو انسان سے سوچنے سمجھنے اور پرکھنے کی صلاحیّت سلب کر لیتاہے۔ جب حکمرانوں اور صاحبانِ طاقت کو مقدّس مان لیا جائے تو ان کے طرزِ عمل سے سیکھنے کے بجائے ان کی پرستش شروع ہو جاتی ہے، اور یوں ان کی زندگی مثال بننے کے بجائے داستان بن جاتی ہے۔
غلو کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ نئی نسل اپنے حقیقی تاریخی ہیروز و رول ماڈلز سے محروم ہو جاتی ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگتی ہے کہ عظمت صرف غیر معمولی انسانوں کے حصے میں آتی ہے، جبکہ عام انسان کے لیے اسلامی اصولوں پر چلنا ممکن نہیں۔ اس کے نتیجے میں آگے بڑھنے کا حوصلہ ختم ہو جاتا ہے اور جدوجہد ناقابلِ حصول محسوس ہونے لگتی ہے۔ حالانکہ اصل عظمت اسی میں ہے کہ انسان اپنی کمزوریوں کے باوجود حق پر قائم رہے۔
ساتواں اقدام اسلامی قیادت کی مسلسل تیاری ہے۔اسلام ہر دور میں فقط اسلامی نعروں سے نہیں بلکہ اسلامی کرداروں سے زندہ رہے گا۔ اگر اسلامی دنیا کی قیادت اسلامی تربیت سے محروم ہوگی تو بہترین نظام بھی کھوکھلا ہو جائے گا۔ اس لیے اسلامی ممالک میں سب سے بڑی سرمایہ کاری انسان سازی پر ہونی چاہیے۔
آٹھواں اقدام اجتماعی ضمیر کی تقویت ہے۔ جب معاشرہ ظلم پر خاموش ہو جائے تو انحراف جڑ پکڑ لیتا ہے۔اسلام کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کے درمیان خیر کے حق میں آواز اٹھانا اور شر کے خلاف کھڑا ہونا اجتماعی فریضہ بن جائے۔ زندہ ضمیر ہی اسلام کا اصل محافظ ہوتا ہے۔
نواں اقدام مفادات کے ٹکراؤ کی پہچان ہے۔ ہر معاشرے میں ایسے افراد اور طبقات موجود ہوتے ہیں جن کے مفادات اسلام کے اصولوں سے متصادم ہوتے ہیں۔ اگر ان مفادات کو بے نقاب اور محدود نہ کیا جائے تو وہ اسلام کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
جاری ہے۔۔۔۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں