زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

بدھ، 24 دسمبر، 2025

نظریاتی بیماریاں قسط ۲

نظریاتی بیماریاں  قسط ۲

ڈاکٹر نذر حافی﴿قسط ۲

ایک بڑی فکری لغزش یہ ہے کہ ہم کسی کو انحراف  میں مبتلا دیکھ کر  اسلام کے تربیتی و اصلاحی نظام کے تحت اُس کی اصلاح  کرنے کے بجائے، اُس شخص کو منحرف اور  ذاتی  طور پر بدکردارسمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہی نظریاتی ناپختگی ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کرتی ہے کہ ہماری تمام تر توجہ انحراف کے اسباب پر غور کرنے کے بجائے منحرف شخص کو کوسنے، اس کی نیت پر حملے کرنے اور اس کی کردار کشی پر مرکوز ہو جاتی ہے، اس دوران  اصل انحراف اپنی جگہ پوری قوت سے زندہ رہتا ہے۔ یوں ہم مرض کے بجائے مریض سے الجھ جاتے ہیں، اور بیماری خاموشی سے مزید پھیلتی چلی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ طرزِ عمل خود ایک قسم کا انحراف ہے، اور اس سے کسی کی اصلاح ممکن نہیں۔

اسی نکتے کی طرف حضرت امام خمینیؒ توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ جب آپ معاشرے میں انحرافات دیکھیں تو یہ گمان نہ کریں کہ انحراف ہی کے ذریعے انحراف کی اصلاح کی جا سکتی ہے۔ انحراف، انحراف کو سیدھا نہیں کر سکتا۔ انحرافات کو اللہ کی ہدایت کے نور اور اپنے رب کے نام کے ساتھ درست کرو۔﴿صحیفۂ امام، ج۸، ص۳۳۱

کسی شخص کا منحرف ہونا بذاتِ خود اتنا بڑا  مسئلہ نہیں،  اصل مسئلہ وہ فکری، سماجی اور اخلاقی فضا ہے جو اس کے اندر  انحراف کو جنم دیتی ہے اور اسے زندہ رکھتی ہے۔ اگر یہ فضا برقرار رہے تو ایک منحرف کے بعد دوسرا، اور دوسرے کے بعد تیسرا منحرف پیدا ہوتا رہے گا۔ چنانچہ اصلاح کا راستہ افراد کی مذمت سے نہیں بلکہ ان اسباب کے خاتمے سے ہو کر گزرتا ہے جو انحراف کو ممکن بناتے ہیں۔

حضرت امام خمینی ان تمام انحرافات کا اصلی سبب نفس کی غلامی کو قرار دیتے ہیں۔ آپ کے بقول :

تمام انحرافی چیزیں،چاہے وہ انحرافی عقائد ہوں، انحرافی اعمال ہوں، انحرافی قلم ہوں یا انحرافی تقاریر،یہ سب اس لیے ہیں کہ وہ عبودیتِ اللہ کے راستے سے نہیں گزرے۔ ایسے  لوگ اللہ کے بندےبننے کے بجائے اپنی نفسانی خواہشات کے بندے بن چکے ہوتے ہیں۔ ﴿صحیفه امام، ج۱۴، ص۳۸﴾

منحرف شخص کو مسلسل کوسنے کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ خود کو مظلوم سمجھنے لگتا ہے، اور اپنی غلطی پر غور کرنے کے بجائے دفاعی پوزیشن اختیار کر لیتا ہے۔ یوں اصلاح کا دروازہ بند اور انا مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس، جب انحراف پر تنقید کی جائے، اس کے دلائل کا علمی رد کیا جائے اور اس کے نتائج کو واضح کیا جائے تو گفتگو شخصیت سے نکل کر فکر کے دائرے میں داخل ہو جاتی ہے، اور اصلاح کا امکان پیدا ہوتا ہے۔

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ فرد ہمیشہ کسی نہ کسی نظام کا پروردہ ہوتا ہے۔ اگر نظام خود غلط سمت میں جا رہا ہو تو محض افراد کو نشانہ بنانا فکری سطحیت کے سوا کچھ نہیں۔ اصل دانش یہ ہے کہ اس نظام کو درست کیا جائے جو غلط کو ممکن اور درست کو مشکل بنا دیتا ہے۔ جب نظام اجازت نہ دے تو فرد خود بخود درست سمت اختیار کرنے لگتا ہے۔

دینی اور اخلاقی نقطۂ نظر سے بھی اصلاح کا یہی منہج ہے۔ اسلام کا مقصد کسی فرد کو رسوا کرنا نہیں بلکہ برائی کو کمزور کرنا ہے۔ جب اصلاح کا ہدف ذات کے بجائے روش بن جائے تو نہ صرف نفرت کم ہوتی ہے بلکہ خیر کے لیے راستہ بھی ہموار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی مصلحین نے ہمیشہ اصول پر ضرب لگائی، شخص پر نہیں۔ شخص پر وہی لوگ ضرب لگاتے ہیں جو اپنی اصلاح کیے بغیر دوسروں کی اصلاح کے خواہاں ہوتے ہیں۔

اسی تناظر میں حضرت امام خمینیؒ فرماتے ہیں:

“جب تک ہم خود اپنی اصلاح نہیں کرتے، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم اللہ کے لیے کام کر رہے ہیں اور لوگوں کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔ جب تک انسان خود صالح نہ ہو، وہ دوسروں کو صلاح کی دعوت نہیں دے سکتا۔ جو شخص، خدا نہ کرے، خود ٹیڑھا قدم رکھتا ہو، اگر وہ لوگوں سے کہے کہ اپنا قدم سیدھا رکھو تو لوگ اس کا مذاق اڑائیں گے اور کہیں گے: اگر قدم سیدھا رکھنا درست ہوتا تو پہلے آپ خود تو سیدھا رکھتے!”﴿صحیفۂ امام، ج۸، ص۴۸۷

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ شخصی حملے معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتے ہیں: ایک حمایتی اور دوسرا مخالف۔ اس تقسیم میں اصل مسئلہ پسِ پشت چلا جاتا ہے، اور ساری توانائی باہمی کشمکش میں ضائع ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس، جب گفتگو انحراف کے خاتمے پر مرکوز ہو تو اختلاف کے باوجود فکری مکالمہ زندہ رہتا ہے اور اصلاح کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔

اسی لیے اسلام کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہماری توجہ اس بات پر مرکوز نہ ہو کہ کون غلط ہے، بلکہ اس سوال پر ہو کہ غلطی کیوں زندہ ہے۔ جب سوال یہ بن جائے تو جواب بھی شخصی نفرت کے بجائے اجتماعی اصلاح کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ دینِ اسلام کو محفوظ رکھنے کے حوالے سے حضرت امام کا نکتہ نظر یہ ہے کہ اگر قرآن اور اسلام کو جس طرح وہ حقیقت میں ہیں دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تو سب اس کے طالب بن جائیں گے۔ انحرافات کی اصل وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے اسلام کو پہچانا ہی نہیں،اگر وہ اسلام کو پہچان لیں اور اس کے احکام کو صحیح طور پر سمجھ لیں تو سب اس کے خریدار ہوں گے۔

﴿ صحیفه امام، ج۶، ص۵۰۹﴾

اس قسط کا خلاصہ یہ ہے کہ منحرف شخص کو کوسنا وقتی تسکین تو دے سکتا ہے، مگر انحراف کے خاتمے کا ذریعہ نہیں بنتا۔ حقیقی اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب ہم سب سے پہلے اپنی اصلاح کریں، خود اپنے بارے میں جھوٹی تاویلیں اور جواز نہ گھڑیں، اپنے اکابرین کے بارے میں غلو سے بچیں، اور افراد کے بجائے افکار، رویّوں اور نظاموں کو ہدف بنائیں، کیونکہ انحراف افراد سے نہیں بلکہ اردگرد کی فضا اور ماحول سے جنم لیتا ہے۔

آخر میں یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ نظریاتی بیماریاں یا انحرافات کسی ایک شخص، ایک جماعت یا ایک زمانے تک محدود نہیں رہتیں۔ یہ بھی انسانوں کی طرح نسل در نسل افزائش پاتی رہتی ہیں۔ ان بیماریوں سے بچنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ دینِ اسلام کو اس کی اصلی اور خالص حالت میں ایک انسان ساز ضابطۂ حیات سمجھ کر محفوظ کیا جائے، اصولوں کو شخصیات پر فوقیت دی جائے، سچ کو تقدیس پر ترجیح دی جائے، اور احتساب کو وفاداری کے منافی نہ سمجھا جائے۔




0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...