زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

بدھ، 24 دسمبر، 2025

کیا قائداعظم ؒ مسلمانوں کو اکثریت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے؟

کیا قائداعظم ؒ مسلمانوں کو اکثریت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے؟
ڈاکٹر نذر حافی:
نظریہ کسی ایک لمحے کی فکری اختراع نہیں ہوتا۔ آپ نظریے کو کسی ایک کتاب کا ماحصل بھی نہیں کہہ سکتے۔  تاریخ کے طویل تجربے، تہذیبی شعور اور اجتماعی حافظے کا عرق نظریہ کہلاتا ہے۔ قومیں اس وقت وجود میں آتی ہیں جب وہ خود کو محض افراد کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مشترک نظریے، اخلاقی نصب العین اور تاریخی مقصد کا حامل سمجھنے لگیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تاریخ میں وہ قومیتیں دیرپا نقش مرتّب کر سکیں جو زمین کے بجائے فکر پر، نسل کے بجائے نظریے پر، اور جغرافیے کے بجائے اقدار پر اکٹھی ہوئیں۔ اسلامی تصورِ قومیت اسی اصول کا اعلیٰ ترین اظہار ہے، جس نے انسان کو مٹی سے اٹھا کر مقصد سے جوڑ دیا۔ 
اسلام ایسے عہد میں نمودار ہوا جب قبائلی تفاخر، نسبی امتیاز اور لسانی تفاخر ہی اجتماعی شناخت کی بنیاد تھے۔اُس عہد میں پیغامِ محمدی ﷺ نے انسانوں کے درمیان  ان تمام معیارات کو منسوخ کر کے ایمان کے نظریے پر ایک نئی وحدت قائم کی۔ مسلمانوں کیلئے “إنما المؤمنون إخوة” ایک سیاسی و سماجی اصول تھا، جس کی عملی تعبیر میثاقِ مدینہ میں سامنے آئی۔ یہاں پہلی مرتبہ یہ واضح ہوا کہ قوم وہ ہوتی ہے جو ایک نظریے کے گرد منظم ہو، چاہے اس کے افراد مختلف نسلوں، زبانوں اور علاقوں سے تعلق رکھتے ہوں۔ یہی نظریہ بعد کے ادوار میں خلافتوں کی صورت میں تاریخ کا حصہ بنتا رہا۔
بظاہر خلافتِ عثمانیہ کے زوال کے ساتھ مسلمانوں کی سیاسی وحدت بکھر گئی،البتہ ان کی نظریاتی وحدت تب بھی  برقرار رہی۔ استعمار کے دور میں یہی وحدت مسلمانوں کے لیے شناخت، مزاحمت اور بقا کا ذریعہ بنی۔ برصغیر میں یہ نظریاتی وحدت کا زاویہ  اس لیے زیادہ شدید تھا کہ یہاں مسلمان عددی اقلیت ہونے کے باوجود ایک مکمل تہذیبی اکائی تھے۔ یہی وہ تاریخی تناظر ہے جس میں مسلم قومیت نے  ایک سیاسی مطالبے کی صورت اختیار کی۔
سر سید احمد خان نے سب سے پہلے اس حقیقت کو عقلی اور تاریخی دلائل کے ساتھ پیش کیا کہ مذہبی تصورات، سماجی اقدار اور تاریخی ہیروز جداگانہ  ہونے کی وجہ سے ہندو اور مسلمان ایک خطے میں رہتے ہوئے بھی ایک قوم نہیں بن سکتے۔ تاہم سر سید کا دائرہ اصلاح اور تعلیم تک محدود رہا۔ علامہ اقبال نے اسی فکر کو فلسفیانہ عمق عطا کیا اور یہ واضح کیا کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو اپنے ماننے والوں سے ایک جداگانہ اجتماعی و سیاسی نظم کا تقاضا کرتا ہے۔ اقبال کی فکر ایک فلسفی کا خواب تھی۔ اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ایک ایسی شخصیت درکار تھی جو فکر کو سیاست اور نظریے کو ریاست میں تبدیل کر سکے۔
اس پسِ منظر میں قائداعظم محمد علی جناح کی نظریاتی بنیادیں بخوبی  آشکار ہوتی ہیں۔ جناح نہ محض ایک نظریہ ساز تھے اور نہ ہی صرف ایک سیاست دان۔ بلا مبالغہ   وہ فکر اور عمل کا امتزاج  تھے۔ ان کی امتیازی حیثیت اس حقیقت میں مضمر ہے کہ وہ جدید آئینی سیاست کے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ مسلم تاریخ اور تہذیب کے شعور سے بھی بہرہ مند تھے۔ ابتدا میں ان کا جھکاؤ متحدہ ہندوستان کی طرف تھا اور وہ ہندو مسلم اتحاد کے سب سے مضبوط ترجمان سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے جب کانگریس کی سیاست، 1937ء کے انتخابات اور اقتدار میں مسلمانوں کی مسلسل نظراندازی کا تجربہ کیا تب  تو انہوں نے کسی جذباتی ردِعمل کے بجائے تاریخی منطق سے مسلم لیگ کے  نظریاتی موقف کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔

قائداعظم کے سامنے ایک بڑا چیلنج یہ تھا کہ بطورِ قانون دان وہ یہ  جانتے تھے کہ کہیں پر بھی قومیت طاقت، اقتدار اور آئینی ضمانتوں سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی تجربات سے یہ نتیجہ اخذ کر لیا تھا کہ  مسلمان اگر ایک علیحدہ سیاسی وحدت حاصل نہ کر سکے تو وہ ایک بڑی اکثریتی قوم میں تحلیل ہو جائیں گے۔ اُن کے اِسی ادراک نےدو قومی نظریے کو ایک عملی سیاسی مطالبے میں تبدیل کیا۔ قراردادِ لاہور 1940ء اسی فکری پختگی کی مظہر ہے، جو مسلمانوں کی جداگانہ قومیت کے اعلان اور ایک قابلِ عمل ریاستی تصور پر مشتمل  تھی۔
یہ بڑا کٹھن راستہ تھا۔ اُس وقت  ان کے تصورِ قومیت کو غیر مسلم قیادت سمیت کئی ممتاز مسلمان رہنماؤں نے بھی مسترد کر دیا۔ علامہ عنایت اللہ مشرقی ایک عالمی اسلامی انقلاب کے خواب میں مقامی حقیقتوں کو نظرانداز کر بیٹھے۔ مولانا ظفر علی خان مذہبی جوش رکھتے تھے البتہ جدید ریاست کی سیاسی پیچیدگیوں سے چشم پوشی کرتے تھے۔ گاندھی اخلاقی سیاست کے علمبردار تھے مگر مذہب کو قومیت کی بنیاد بنانے کے مخالف تھے۔ ان سب کے برعکس جناح نے نہ تو خیالی خلافت کا خواب دیکھا اور  نہ صرف روحانی و اخلاقی خطابت پر انحصار کیا۔ جناح نے سب کے برعکس  مسلمانوں کیلئے ایک واضح، متعین اور قابلِ حصول منزل کا تعین کیا۔
بالآخر تاریخ نے یہ ثابت کر دیا کہ قائداعظم کا راستہ نظریاتی طور پر تاریخِ اسلام کا تسلسل  تھااور عملی طور پر بھی  کامیاب رہا۔ پاکستان کا قیام اس امر کی شہادت ہے کہ اسلامی تصورِ قومیت  جہاں ماضی کا حوالہ ہے وہیں جدید دنیا میں ایک زندہ سیاسی حقیقت بھی ہے۔یوں  یہ ریاست ایک جغرافیائی وحدت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے درمیان نظریاتی وحدت کا  ایک فکری اعلان بھی ہے۔ایک  ایسا اعلان جو میثاقِ مدینہ سے شروع ہو کر قراردادِ لاہور میں پختہ ہوا اور 1947ء میں اپنی تکمیل کو پہنچا۔ 
خلاصہ یہ کہ قائداعظم کا نظریاتی زاویہ  کانگرسی  رہنماوں سے بہت مختلف تھا۔ اُن کے نزدیک مسلمان قوم  ہندوستان کی سرحدوں کی محتاج نہیں تھی۔  اُن کے نزدیک مسلمان قوم  وحی کے نزول سے تشکیل پائی تھی۔ یعنی غارِ حرا کی اس خاموش گھڑی سے ملت اسلامیہ نے جنم لیا تھا کہ جب انسان کی پہچان خون اور قبیلے کے بجائے  ایمان سے ٹھہرا تھا۔ جہاں یہ اعلان ہوا  تھا کہ انسانوں کے درمیان اب رشتہ زمین  و جغرافئے اور رنگ و نسل کا نہیں عقیدے کا ہو گا۔ پھر یہی نظریہ مدینے کی مٹی میں اترا، میثاقِ مدینہ کی صورت میں منظّم ہوا، اور امت پہلی بار قانون اور ریاست کے قالب میں ڈھلی۔ یہ نظریاتی سفر خلافتوں کے ادوار سے گزرتا ہوا نسل، زبان اور خطے کی تقسیم سے بلند رہا، یہاں تک کہ برصغیر میں  مسلمانوں کیلئے یہ نظریہ ایک نئے سوال کی صورت میں ابھرا کہ کیا مسلمان قوم کو  اکثریت کے رحم پر چھوڑ دیا جائے؟
 چنانچہ یہ شعور سر سید کے استدلال میں دلیل بنا، اقبال کی فکر میں خواب ہوا، اور بالآخر قائداعظم محمد علی جناح کی بصیرت میں آئین، قرارداد اور ریاست کی صورت اختیار کر گیا۔ قائداعظم نے اسلام کو ماضی کی یادگار کے بجائے  ایک زندہ نظریہ سمجھا، امت کو جذباتی ہجوم کے بجائے  ایک ذمہ دار قوم میں ڈھالا، اور صدیوں پر محیط اسلامی فکر کو جدید دنیا میں ایک متعین جغرافیے، واضح دستور اور باوقار ریاست کے طور پر مجسم کر دکھایا۔یہ قائداعظمؒ کا  احسان ہے کہ انہوں نے دینِ اسلام کو اکثریت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا، انہوں نے  ہجوم کے شور کے مقابلے میں قانون کی صدا بلند کی اور ہمیں یہ سبق دیا کہ قومیں قانون کے احترام، کردار ، بصیرت  اور جدوجہد سے زندہ رہتی ہیں۔ اسی طرح  انہوں نےاکثریّت کی مرضی کے خلاف  مسلمانوں کو اُن کا حق  ایک الگ وطن کی صورت میں دلوا کر یہ ثابت کر دیا  کہ  حق کا تعیّن تعداد سے نہیں بلکہ شعور، فہم اور دلیل سے ہوتا ہے۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...