توحیدِ مُفَضَّل
ڈاکٹر نذر حافی:
یہ پہلی ہجری کا آخری حصّہ تھا۔ مُفَضَّل بن عُمر جُعفی کو ایک علمی مشکل پیش آئی۔ مُفَضَّل خود بھی بڑی برجستہ علمی شخصیت تھے۔ ہوا کچھ یوں کہ ملحدین کی جماعت کے ایک بڑے علمبردار "ابن ابی العوجاء" نے مُفَضَّل بن عُمر جُعفی کو ایک روز قبرِ نبیؐ پر آلیا۔ ابن ابی العوجاء نے خدا کے وجود اور توحید پر اس شرط کے ساتھ سوال اٹھایا کہ جواب انتہائی غیر جانبداری اور متانت کے ساتھ دیا جائے۔ اب مُفَضَّل بن عُمر جُعفی کو ابن ابی العوجاء کی شخصیت کے مطابق مدلل جوابات چاہیئے تھے۔ مُفَضَّل بن عُمر جُعفی سوالات لے کر حضرت امام جعفر صادق ؑکے ہاں حاضر ہوئے۔ حضرت امام جعفر صادق ؑ نے اپنی مصروفیات کے پیشِ نظر مُفَضَّل بن عُمر جُعفی سے اگلے روز آنے کو کہا۔
اس کے بعد اگلے مسلسل چار دن آپ نے توحید کے متعلق مُفَضَّل کے سوالات سُنے اور اُن کے جوابات مُفَضَّل کو لکھوائے۔ یوں سمجھئے کہ یہ مُفَضَّل بن عُمر جُعفی کی کلاس نہیں بلکہ توحید کے موضوع پر ایک مکمل ورکشاپ تھی۔ اس ورکشاپ میں نقلی دلائل کے بجائے جہان کی خلقت اور اس میں پائے جانے والے اسرار و رموز کو کھول کر رکھ دیا گیا۔ مُفَضَّل بن عُمر جُعفی کو امام نے لکھنے کیلئے کہا، تاکہ قیامت تک کا کوئی قاری جب اس کتاب کو پڑھے تو غور و فکر کی صلاحیّت کا استعمال کرکے خدا کے وجود، اس کی حکمت اور اُس کی قدرت کو با آسانی پرکھ سکے۔ کتاب کے پہلے باب میں اُن سوالات کا جواب دیا گیا ہے، جن کی وجہ سے کوئی شخص خدا کا انکار کرتا ہے۔ پہلے باب میں منکرین خدا کو دنیا کی تخلیق کے مفروضات، انسان کی تخلیق کی انفرادیت اور انسانی جسم کے اعضاء مثلاً نظام ہضم اور حواسِ خمسہ کی باریکیاں تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔
اس سے یہ جاننے کی دعوت دی گئی ہے کہ کیا ایسا حکمت آمیز نظام بغیر کسی دانا و بینا خالق کے وجود میں آسکتا ہے اور اس طرح کامیابی کے ساتھ چل سکتا ہے!؟ کتاب کے دوسرے باب میں جانوروں میں پائی جانے والی عجیب و غریب حرکات و سکنات کی وضاحت کی گئی۔ اس میں رینگنے والے کیڑے مکوڑوں جیسے سانپ اور چوہے سے لے کر ہاتھی، زرافے، بندر اور کتے سمیت مختلف پرندوں جیسے مرغیاں اور چمگادڑ، نیز شہد کی مکھی، ٹڈی، چیونٹی اور آبی مخلوقات مثلاً مچھلیوں کی ساخت، بناوٹ، غذا، شکار کرنے وغیرہ وغیرہ کو ایک آئینے کی مانند دکھایا گیا ہے۔ اس آئینے میں جھانکنے والا بخوبی یہ دیکھ سکتا ہے کہ جانوروں کے وجود اور زندگی کے شب و روز میں ایسے حیرت انگیز عجائبات پائے جاتے ہیں کہ جو ایک مدبر و دانا، قادر و یکتا خالق و مدیر پر دلالت کرتے ہیں۔
کتاب کا تیسرا باب اس کائنات پر حاکم قوانین سے پردہ اٹھاتا ہے۔ اس میں قاری کو دعوتِ فکر دی گئی ہے کہ وہ آسمان کے وجود کے بارے میں سوچے، ستاروں کی رنگت، سورج کے طلوع و غروب، سال کے موسموں، سورج، چاند اور دیگر ستاروں کی گردش اور زمین پر ان کے اثرات کا جائزہ لے کر یہ سوچے کہ کیسے یہ ساری کہکشائیں اور اجرامِ فلکی جسدِ واحد کی طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے بھی ہیں اور ایک دوسرے سے اپنا فاصلہ بھی قائم رکھے ہوئے ہیں۔ کتاب کے چوتھے باب میں بنیادی طور پر اس دنیا کے ارتقاء میں انسان کا کردار بیان ہوا ہے۔ انسانی زندگی میں آفات، حادثات، امتحانات، مصائب، مشکلات، موت اور مرنے میں پوشیدہ دانائی سے پردہ ہٹایا گیا ہے۔ اس باب میں انسان کو یہ دعوت دی گئی ہے کہ وہ اس جہان اور کائنات کے ساتھ اپنے تعلق اور رشتے کو اپنی عقل کے ترازو پر تولے۔
وہ اس جہان کو اگر مصیبتوں، مشکلات اور امتحانات سے الگ کرکے دیکھے تو اُسے سمجھ آئے گی کہ ان حادثات و امتحانات میں بھی کتنی بڑی حکمت ہے۔ پس اس کائنات کے ارتقاء میں زندگی و موت، حادثات و اتفاقات، مسائل و مشکلات کا حکیمانہ کردار یہ بتاتا ہے کہ اس کائنات کا خالق و مالک ایسا مدبر اور دانا ہے کہ جس کی مدیریت و دانائی اس کائنات کے ذرّے ذرّے سے ٹپکتی ہے۔ اس کتاب کے دلائل فکر کو جھنجوڑتے ہیں۔ یہ کتاب لکیر کا فقیر بننے کے بجائے فکر کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اس میں اتنی مرتبہ دعوتِ فکر دی گئی کہ اس کتاب کا نام ہی کتاب فَکِّر مشہور ہوگیا۔ جہانِ اسلام میں اسے توحیدِ مُفَضَّل کہتے ہیں۔
ویسے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم نے وطنِ عزیز میں "توحید کے نام پر" جتنے لوگوں کی تکفیر کی اور ان کے خلاف کفر کے فتوے دیئے، اگر اُس کی جگہ ہم عوام النّاس کو اسی کتاب کے مطالعے کی دعوت دیتے تو ہم بحیثیت قوم اپنا نام دہشت گردوں کے بجائے صاحبانِ علم میں لکھوا سکتے تھے۔ یہ کتاب دینی معاملات میں مخالفین کے خلاف کافر کافر کے نعرے لگانے، ناروا تہمتیں ایجاد کرنے اور من گھڑت الزامات تراشنے کے بجائے دلیل کی عظمت کو واضح کرتی ہے۔ کوئی بھی مدلل مکتب اپنی طاقت کا اظہار راستہ بند کرو، جلاو گھراو، مارو مارو اور کافر کافر سے نہیں کرتا۔ ایک علمی مکتب کی طاقت دو جملوں میں پوشیدہ ہے، ایک سَلُونِی، سَلُونِی (سوال کرو! سوال کرو) اور دوسرے فَکِّر، فَکِّر (سوچو! سوچو!)۔
امام جعفر صادق ؑ کے مکتب کا اُسلوب "سَلُونِی، سَلُونِی" اور "فَکِّر، فَکِّر" ہے۔ یہی وہ اُسلوب ہے، جس سے حضرت امام ابو حنیفہ ؒاور حضرت مالک بن انسؒ جیسی شخصیات حضرت امام جعفر صادقؑ کے مکتب سے جُڑی ہوئی تھیں اور یہی وہ روِش ہے، جو جہانِ اسلام کو آج بھی حقیقی عظمت دلا سکتی ہے۔ اگر کسی دینی مدرسے یا مکتب کے ہمراہ تفکر اور سوچ و بچار نہیں تو بقولِ اقبال:
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لا الٰہ الا اللہ
1) MCQs — کثیر الانتخاب سوالات
سوال 1: مُفَضَّل بن عمر جُعفی کو علمی مشکل کس نے پیش کی؟
A) امام مالکؒ
B) ابنِ ابی العوجاء
C) امام ابو حنیفہؒ
D) یکے از تابعین
جواب: B
سوال 2: امام جعفر صادقؑ نے مُفَضَّل کے سوالات کتنے دن تک سنے؟
A) دو دن
B) پانچ دن
C) چار دن
D) سات دن
جواب: C
سوال 3: کتاب کے پہلے باب میں کس موضوع پر گفتگو ہے؟
A) جانوروں کے اندر پائی جانے والی حکمت
B) انسان کی تخلیق اور جسمانی نظام
C) کائنات کے قوانین
D) انسانی معاشرت
جواب: B
سوال 4: کتاب کے دوسرے باب میں کس مخلوق کے عجائبات بیان ہوئے؟
A) ستاروں کے نظام
B) نباتات
C) حیوانات اور کیڑے مکوڑے
D) انسان
جواب: C
سوال 5: امام جعفر صادقؑ کے مکتب کی دو بنیادی صدائیں کون سی ہیں؟
A) پڑھو اور لکھو
B) پوچھو اور سمجھو
C) سلونی سلونی اور فکر فکر
D) عمل کرو اور عبادت کرو
جواب: C
سوال 6: "کتاب فکر" کو اور کس نام سے جانا جاتا ہے؟
A) کتاب الحج
B) توحیدِ مُفضل
C) صحیفہ صادق
D) کتاب العجائب
جواب: B
سوال 7: چوتھے باب میں بنیادی طور پر کس موضوع کی حکمت واضح کی گئی ہے؟
A) دنیا کی مخلوقات
B) انسان کی زندگی کے امتحانات
C) موسمی تبدیلیاں
D) غذائی نظام
جواب: B
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال 1: مُفَضَّل بن عُمر جُعفی کو علمی مشکل کیسے پیش آئی؟
جواب: ملحدین کے قائد ابنِ ابی العوجاء نے اُن سے قبرِ رسولؐ پر خدا کے وجود اور توحید کے بارے میں غیر جانبدارانہ اور مدلل جواب کی شرط پر سوالات کیے، جس کے جواب میں مُفَضَّل علمی مشکل محسوس کرنے لگے۔
سوال 2: مُفَضَّل بن عُمر جُعفی ان سوالات کے جواب لینے کہاں گئے؟
جواب: وہ حضرت امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رہنمائی طلب کی۔
سوال 3: امام جعفر صادقؑ نے مُفَضَّل کے سوالات کے جواب کس انداز میں دیے؟
جواب: امامؑ نے مسلسل چار دن تک تفصیل سے اُن کے سوالات سنے اور انہیں جوابات لکھوائے، گویا توحید پر ایک مکمل علمی ورکشاپ منعقد کی۔
سوال 4: اس ورکشاپ میں کس قسم کے دلائل بیان کیے گئے؟
جواب: نقلی دلائل کے بجائے تخلیقِ کائنات، انسانی جسم، حیوانات اور نظامِ عالم کے مشاہداتی و عقلی دلائل پیش کیے گئے۔
سوال 5: کتاب کے پہلے باب کا مرکزی موضوع کیا ہے؟
جواب: اس میں خدا کے منکرین کے بنیادی اعتراضات کا جواب تخلیقِ انسان، دنیا کے مفروضات، جسمانی اعضاء مثلاً نظامِ ہضم و حواسِ خمسہ کی حکمت کے ذریعے دیا گیا ہے۔
سوال 6: پہلے باب میں کس نکتے پر غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے؟
جواب: کہ کیا ایسا حکمت بھرا منظم نظام کسی دانا و بینا خالق کے بغیر خود بخود وجود میں آسکتا ہے؟
سوال 7: کتاب کے دوسرے باب میں کن موضوعات پر روشنی ڈالی گئی ہے؟
جواب: جانوروں کی ساخت، غذائی نظام، حرکات و سکنات، شکار، رہن سہن—چوہوں، سانپوں، ہاتھیوں، پرندوں، شہد کی مکھی، چیونٹی، مچھلی وغیرہ—کے عجائبات بیان کیے گئے ہیں جو خالقِ حکیم کی نشانی ہیں۔
سوال 8: کتاب کے تیسرے باب کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
جواب: اس میں آسمان، ستاروں، سورج و چاند کی گردش، موسموں اور کائناتی قوانین کے ذریعے قاری کو سوچنے پر آمادہ کیا گیا کہ کائنات کس نظم کے تحت چل رہی ہے۔
سوال 9: کتاب کے چوتھے باب میں کس موضوع پر گفتگو کی گئی ہے؟
جواب: اس باب میں انسان کی زندگی کے حادثات، امتحانات، مشکلات، موت و حیات کے اندر موجود حکمت اور انسان کے کائنات سے تعلق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
سوال 10: کتاب کا بنیادی پیغام کیا ہے؟
جواب: یہ کتاب اندھی تقلید کے بجائے عقل، مشاہدہ اور مسلسل فکر کی دعوت دیتی ہے — "فَکِّر، فَکِّر"۔
سوال 11: اس کتاب کو "کتاب فکر" کیوں کہا گیا؟
جواب: کیونکہ اس میں بار بار قاری کو غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے؛ اسی لیے اسے "توحیدِ مُفَضَّل" یا "کتاب فکر" کہا جاتا ہے۔
سوال 12: متن کے مطابق اگر اس کتاب کے مطالعے کی دعوت دی جاتی تو کیا فائدہ ہوتا؟
جواب: قوم تکفیر، الزام تراشی اور شدت پسندی کے بجائے علم و دلیل کے راستے پر چلتی اور علمی قوم کے طور پر پہچانی جاتی۔
سوال 13: امام جعفر صادقؑ کے مکتب کی دو بنیادی صدائیں کون سی ہیں؟
جواب:
سَلونی، سَلونی (سوال کرو! سوال کرو!)
فَکِّر، فَکِّر (سوچو! سوچو!)
سوال 14: امام جعفر صادقؑ کے مکتب سے کون سی بڑی فقہی شخصیات منسلک تھیں؟
جواب: امام ابو حنیفہؒ اور امام مالک بن انسؒ۔
سوال 15: متن کے مطابق ایک دینی مکتب کی اصل طاقت کس چیز میں ہے؟
جواب: راستہ بند کرنے، تشدد یا تکفیر میں نہیں، بلکہ دلیل، سوال اور تفکر کی قوت میں ہے۔










0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں