زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

اتوار، 14 دسمبر، 2025

حوالدار حاجی محمد حسین کیانی مرحوم ومغفور

بسم اللہ الرّحمن الرّحیم


حوالدار حاجی محمد حسین کیانی مرحوم ومغفور

کی سوانح عمری کے متعلق  مجمل یادداشتوں کا مجموعہ


میں نہیں ہوں نغمۂ جاں فزا        مجھے سن کے کوئی کرے گا کیا

 میں بڑے بروگ کی ہوں صدا             میں بڑے دکھی کی پکار ہوں

ازقلم : میجر﴿ ر﴾ گل اختر ولد راجہ غلام حسین

 قوم جنجوعہ راجپوت، ساکن   پنگ پیراں کوٹلی آزاد کشمیر

 نوٹ:  راقم نے اس دستاویز میں جو معلومات قلمبند کی ہیں یہ حوالدارحاجی محمد حسین مرحوم و مغفور سےمورخہ ۱۰  اگست ۲۰۱۴ بروز اتوار بمطابق۱۳ شوال المعظم ۱۴۳۵ ھ کو ان کی شہیدچوک کوٹلی میں واقع رہائش گاہ  پر اُن سے ذاتی انٹرویو کے دوران  حاصل کی تھیں


 یہ دنیا بہت حسین ہے۔اس کا حُسن نیک اور ہمدرد لوگوں کے دم سے قائم ہے۔اس کی خوبصورتی ان لوگوں کے دم  سے ہے جو حالات کے ساتھ لڑتے ہیں، مشکلات میں جدوجہد کرتے ہیں، اور اپنا بوجھ خود  اٹھاتے ہیں۔ایسے  انسان کبھی نہیں مرتے،وہ اپنے اعمالِ حسنہ  کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں،ان  کا نام لوگ بھول بھی جائیں لیکن ان کے لگائے ہوئے شجر ہمیشہ سایہ اور ثمر دیتے رہتے ہیں۔نیکی کا شجر کبھی نہیں مرجھاتا اور نیک انسان ہمیشہ عالمِ بقا میں ارتقا کرتارہتاہے۔

یکم مئی ۲۰۲۱ ﴿ہفتہ﴾


عنوان:۔ حوالدار حاجی محمد حسین کیانی مرحوم ومغفور  کی سوانح عمری   کے متعلق مجمل یادداشتوں کا مجموعہ

مولف : میجر﴿ ر﴾ گل اختر

تکنیکی معاونت:  ڈاکٹر نذر حافی

صفحات۲۷

تاریخ تکمیل: ٢١ رمضان ١٤٤٢ ھ بروز منگل   ﴿ شبِ قدر و  روز شہادت حضرت امام علی  علیہ السلام

چھاپ اول مئی ۲۰۲۱ بمطابق رمضان ١٤٤٢ ھ

جملہ حقوق بحق مولف محفوظ ہیں


 

فہرست

حرفِ مؤلّف.. 2

شجرہ نسب.... 5

اجمالی تعارف.. 6

آبائی وطن اور قبیلہ... 7

داستان ہجرت.. 8

حوالدار کے نام سے شہرت.. 9

انسانی ہمدردی کی مثالیں... 10

خاندان کے چند افراد  کا مختصر تعارف.. 11

بیگمات.. 11

حاجن نزیرہ بیگم... 11

صاحب جان.. 13

اولاد. 13

صفیہ بیگم... 14

بھائی. 16

باغ حسین.... 16

داماد. 18

راجہ مشتاق احمد.. 18

مرحوم کے بارے میں ایک انٹرویو. 20

عائلی اور سماجی زندگی پر ایک نظر... 21

مرحوم کی زندگی کا ایک نظر جائزہ 23

ابوبکرجصاص پلازے کا پس منظر 25

حرفِ آخر. 27

شجرہ نسب

 

 

اجمالی تعارف


 

نام : حوالدار حاجی محمد حسین    ولد : بگاہ خان      قوم: کیانی / گکھڑ       تاریخ پیدائش:1930ء

 جائے پیدائش: اڑی چخڑالی تحصیل مینڈھر ضلع پونچھ مقبوضہ کشمیر  ابتدائی تعلیم: گورنمنٹ پرائمری اسکول سڑوہتی

شادی خانہ آبادی: ۱۹۴۶/۱۹۶۰        بیگمات: حاجن نزیرہ بیگم  /صاحب جان                              اولادِ نرینہ: کوئی نہیں     

ہجرت: ۱۹۴۷/ ۱۹۴۸                               فوجی ملازمت: ۱۹۴۸                              آرمی سے ریٹائر: ۱۹۵۳

کوٹلی شہر میں آمد:۱۹۵۳            تجارت کا آغاز: ۱۹۵۸                              انگلینڈ روانگی:۱۹۶۲                    

تاریخ وفات: مورخہ 5 دسمبر 2020ء بروز ہفتہ بمطابق 19 ربیع الثانی 1442ھ 22  مگھر 2077بکرمی سہہ پہر ساڑھے تین بجے

مقام وفات :  اپنے گھر  واقع شہید چوک کوٹلی آزاد کشمیر                     مدفن :  پنگ پیراں سرینگر قبرستان

آبائی وطن اور قبیلہ

مرحوم  گکھڑ   قبیلے سے تھے۔ گکھڑ  جنہیں عرفِ عام میں کیانی کہاجاتا ہے۔ کیانی (اصل میں کییان یا کویان) لفظ "کائی" کی جمع ہے ، جس کا مطلب ہے  دانا اور حکیم۔ یہ بنیادی طور پر ایرانی بادشاہوں کا ایک خاندان ہے۔ اس قبیلے کے افراد آج کل ایران، پاکستان اور افغانستان میں پائے جاتے ہیں۔ان کے ناموں کے ساتھ مختلف علاقوں میں  کیاء ؛ کیائی ؛ کیانی ؛ کیاپور ؛ کیایی ؛ شاهدهی ؛ کیائی ؛ رضا قلی اور کیان وغیرہ لکھا جاتا ہے۔  اہلِ تحقیق جانتے ہیں کہ کیانی خاندان  ایرانی بادشاہتوں کے سلسلے کا دوسرا قدیمی خاندان ہے۔

 مختصر یہ کہ کیانیوں نے ایران کے علاقے سیستا ن اور درّہ ہلمند پر شاندار  حکومت کی ہے۔ ان کی سلطنت  کے ایک حصے کا  قلع قمع سلطان محمود غزنوی   نے اور دوسرے کا خاتمہ نادرشاہ  نے کیا۔ بعد ازاں ایران میں صفوی  حکمرانوں نے کیانیوں کو از سرِ نو اہمیت دی۔    تاریخی منابع کے مطابق واقعہ کربلا کے بعد  یزید سے انتقام لینے کیلئے مختار ثقفی نے جو قیام کیا تھا اُس میں ایران سے کیانیوں کا کردار نمایاں تھا۔ مختار ثقفی کے سب سے معتمد اور زیرک سپہ سالار، دوست اور مشیرابوعمر کیان  کا تعلق سیستان و بلوچستان کے کیانیوں سے بتایاجاتا ہے۔  تاریخی دستاویزات کے مطابق  ابو عمر  نے اپنا تعارف  ایران کے معروف شہزادے آرش کی نسل سے بتایا ہے۔

آرش  پہلے  کیانی بادشاہ اور کیانی بادشاہت کے بانی  کیقباد کا بیٹا ہے۔  [1]ایرانی محقیقین نے مختار نامہ کے نام سے ایک تحقیقی  اور مستند ڈرامہ سیریل بھی بنائی ہے۔   یہ ڈرامہ  ٹھوس تاریخی شواہد پر مبنی ہے ، اس کے آخر میں ان ساری تاریخی کتابوں کا نام بھی دیا گیا ہے جن سے استفادہ کرتے ہوئے یہ ڈرامہ بنایا گیا ہے۔ مختار نامہ انٹر نیٹ پر اردو زبان ڈبنگ  میں موجود ہے۔ ہم قارئین کو مشورہ دیں گے کہ  مزید معلومات  کیلئے   مختار نامہ   بھی دیکھیں۔

داستان ہجرت

 

قاشم خان گکھڑ موضع اڑی چخڑالی تحصیل مینڈھر ضلع پونچھ مقبوضہ کشمیر کے رہائشی تھے۔ قاشم خان کے بیٹے بیرولی خان اور بگاہ خان زراعت کے پیشے سے وابستہ تھے۔ بیرولی خان کا ایک ہی بیٹا تھا جس کا نام حسن محمد تھا جو لاولد فوت ہوگیا تھا۔ بگاہ خان کے تین بیٹے باغ حسین، محمد حسین اور گلزار حسین تھے۔ ان کی دادی کا نام سردار بی بی تھا جو کہ گکھڑ کالا خان کی بیٹی تھی۔ بگاہ خان کی کل تین بیویاں تھیں۔ باغ حسین، محمد حسین اور گلزار حسین ایک ہی ماں سے تھے جو کہ بگاہ خان کی پہلی بیوی تھی۔ معتبر ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق بگاہ خان کے بیٹے محمد حسین 1930ء کو اپنے گاوں موضع اڑی چخڑالی تحصیل مینڈھر ضلع پونچھ مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہوئے۔ موصوف نے گورنمنٹ پرائمری اسکول سڑوہتی سے کل پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ چخڑالی سے گورنمنٹ پرائمری اسکول سڑوہتی تقریبا ایک گھنٹہ پیدل مسافت پر واقع ہے۔

1946ء میں محمد حسین ولد بگاہ خان کی شادی خانہ آبادی موضع اڑی چیتری تحصیل مینڈھر کے قاضی صدرالدین گکھڑ کی بیٹی نذیرہ بیگم سے ہوئی۔ 1947ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران قاشم خان کے بیٹے بگاہ خان نے معہ عیال آزاد کشمیر کی طرف ہجرت کی۔ ہجرت کے اس سفر کے دوران دہارگلون کے راستے سے ہوتے ہوئے انڈین مقبوضہ کشمیر کے گاوں بھروٹ کے نزدیک انڈین پوسٹ پانماں کے قریب کھلا درمن تک آنے کے بعد عین بارڈر کے بیچ سے کچھ نامساعت حالات کے پیش نظر اپنے گاوں واپسی کا فیصلہ کیا اور واپس اپنے گاوں اڑی چلے گئے۔

حوالدار کے نام سے شہرت

 

1948ء میں ایک بار پھر بگاہ خان ولد قاشم خان نے معہ عیال آزادکشمیر کی طرف ہجرت کی اور سہڑہ تتہ پانی کے مقام سے بارڈر کراس کرکے براستہ تاہی تتہ پانی چنبہ گلی کے مقام پر عارضی قیام اختیار کیا۔ چنبہ گلی قیام کے دوران ہی محمد حسین ولد بگاہ خان نے تاہی کے مقام پر تعیینات پاکستان آرمی کی 8 حیدری موجودہ 8 آزادکشمیر رجمنٹ میں بحیثیت سپاہی پانچ روپے ماہوار پر ملازمت اختیار کی۔

چنبہ گلی قیام کے عرصہ ایک ماہ کے دوران محمد حسین کا سب سے چھوٹا بھائی گلزار حسین جس کی عمر پانچ چھ سال تھی وفات پاگیا۔ اسی اثنا محمد حسین کی فیملی چنبہ گلی سے سرساوہ سید پور منتقل ہوگئ اور جلد ہی وہاں سے کوٹلی شہر شاہی محلہ میں قیام پذیر ہوگئے۔ حوالدار حاجی محمد حسین  بدستور 1953ء تک تاہی تتہ پانی کے مقام پر اپنے فرائض منصبی انجام دیتے رہے۔ ابتدا میں پانچ روپے ماہوار تنخواہ ملتی رہی پھر دس اور 1953ء میں بیس روپے ماہوار تنخواہ مقرر تھی۔ 1953ء ہی میں محمد حسین نے ملازمت چھوڑ کر کوٹلی شہر میں اپنی فیملی کے ساتھ محنت و مشقت کو اپنا شعار بنالیا۔

1948ء میں محمد حسین ولد  بگاہ خان نے فوج میں بحیثیت سپاہی ملازمت اختیار کی اور 1953ء میں اسی عہدے پر ملازمت سے فارغ ہوکر کوٹلی شہر میں مستقل طور پر قیام پذیر ہوئے۔ حوالدار کا ٹائٹل محبت اور حسن ظن کے طور پر دوست و احباب  کی طرف سے دیا گیا تھا جو کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عملا ً نام کا حصہ بن گیا۔ 13 اگست 1953ء کو حوالدار حاجی محمد حسین  کے والد ماجد بگاہ خان کوٹلی شہر میں وفات پاگئے جن کا مدفن پنگ پیراں سرینگر قبرستان میں ہے۔

انسانی ہمدردی کی مثالیں

حوالدار حاجی محمد حسین ایک نہایت ہی مخلص اور ہمدرد انسان کے طور بھی جانے جاتے تھے۔ اپنے دوست احباب اور رشتہ داروں سے خاص لگاو اور تعلق رکھتے تھے۔ اس جذبہ سے سرشار ہوکر 1965ء میں اپنے برادر نسبتی راجہ محمد صدیق ولد راجہ حسن محمد قوم کملاک راجپوت کو انگلینڈ منگوالیا اور وہاں ذاتی کاوشوں سے ان کی ملازمت  کا بندوبست کیا۔ راجہ محمد صدیق معہ عیال آج بھی برطانیہ میں  خوش و خرم زندگی بسر کر رہے ہیں ۔

مرحوم نے 1967ء میں اپنے پھوپھی زاد بھائی راجہ لعل دین ولد خوشی محمد کے بیٹے عبدالحمید کوبھی  انگلینڈ منگوایا اور روزگار پر لگاکر غریب پروری کا واضح ثبوت دیا۔بعد ازاں عبدالحمید ولد لعلدین 2016ء کو برطانیہ میں وفات پاگئے۔ ان کا مدفن  بھی سرینگر قبرستان پنگ پیراں کوٹلی میں ہی ہے جبکہ  عبدالحمید کا خاندان  برطانیہ میں ہی مقیم ہے۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ضلع راجوری کے علاقہ بھروٹ مقبوضہ کشمیر کا ایک شخص غلام رسول ولد نور حسین ایک لاوارث شخص تھا اس کے کنبے یا خاندان کا کوئی فرد ایسا نہیں تھا جو اس کا سہارا بنتا۔ چنانچہ یہ اجر و ثواب بھی حوالدار حاجی محمد حسین کے حصے میں آیا۔ یہ شخص ساری زندگی حوالدار حاجی محمد حسین کی رہائشگاہ پر رہا۔ اور ان کی فیملی کے ایک فرد کی حیثیت سے اس کی نگہداشت اور دیکھ بھال کی۔ اور یوں دکھی انسانیت کی خدمت کا پورا ثبوت دیا۔ آخر کار غلام رسول المعروف گامی نے 2 فروری 2014ء بروز اتوار اس دار فانی سے کوچ کیا اور سرینگر قبرستان میں دفن ہوئے۔ حوالدار حاجی محمد حسین نے مرحوم کی قبر ذاتی رقم سے تعمیر کروائی۔

حوالدار حاجی محمد حسین  کے نام پر کوٹلی ہاوسنگ اسکیم میں 14 کنال زمین الاٹ تھی جس سے پانچ کنال رقبہ 1982ء / 1983ء میں 12300 بارہ ہزار تین سو روپے میں فروخت کردیا گیا تھا۔1988ء میں خالق اکبر کے بلاوے  پر حوالدار حاجی محمد حسین  ہمراہ دونوں بیویوں کے حج بیت اللہ کی سعادت سے فیضیاب ہوئے۔ آستانہ عالیہ درس شریف گلبار سے بھی گہری وابستگی رکھتے تھے اور آستانہ عالیہ کے بزرگ جناب قبلہ الحاج محمد صادق صاحب کو حوالدار حاجی محمد حسین سے خاصی قربت تھی موصوف صوم و صلواۃ اور دیگر دینی احکامات کے سختی سے پابند تھے۔

خاندان کے چند افراد  کا مختصر تعارف

بیگمات

حاجن نزیرہ بیگم

 

حوالدار حاجی محمد حسین نے زندگی کے جن کھٹن مراحل میں قدم رکھنے کا خواب دیکھا تھا اس سفر میں کامیابی سے ہمکنار ہونے کیلئے انہیں ایک وفادار، بردبار اور محنت و لگن سے سرشار رفیقہ حیات کی بھی اشد ضرورت تھی جوکہ حاجن نزیرہ بیگم کی صورت میں خداوندمتعال نے ان کو عطا کی۔

 نزیرہ بیگم کی شادی  1946ء میں موضع اڑی مینڈھر میں حوالدار حاجی محمد حسین  سے ہوئی۔ حاجن نزیرہ بیگم اڑی چیتری کے قاضی صدرالدین کی دختر تھیں۔ 

یہ حقیقت ہے کہ شوہر اور بیوی گاڑی کے دو پہیوں کے مانند ہوتے ہیں دونوں ایک ساتھ کام کریں گے تو کامیابی کی منازل احسن طریقے سے طے ہوں گی ورنہ زندگی میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔ حاجن نزیرہ بیگم نے اپنے شوہر کی شبانہ روز محنت میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ وہ ایک نیک سیرت خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مہمان نواز اور اعلی اخلاق و کردار کی مالکہ تھیں۔

اللہ تعالی نے 1988ء میں اس نیک سیرت خاتون کو اپنے شوہر کے ہمراہ بیت اللہ کی زیارت کا شرف بخشا۔ حاجن نزیرہ بیگم کو انتہائی سخت حادثاتی موت کا سامنا کرنا پڑا۔ باورچی خانے میں گیس لیکیج کی وجہ سے بری طرح جھلس گئی جس کا علاج سی۔ ایم۔ ایچ کھاریاں برن سنٹر میں ہوا اور صحت یاب ہوکر واپس اپنے گھر کوٹلی آئیں۔ تھوڑے عرصے کے  بعد اسی گیس لیکیج حادثے کی وجہ سے دوبارہ جل گئی اور پھر علاج کارگر ثابت نہ ہوسکا اور پنگ پیراں سرینگر قبرستان میں ابدی نیند سوگئی۔

 

ہمارا خون بھی شامل ہے تزئینِ گلستاں میں۔۔۔ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے

صاحب جان

 

حوالدار حاجی محمد حسین  نے 1958ء سے 1962ء کے درمیان عرصہ میں راجہ حسن محمد ولد راجہ غلام حسین قوم کملاک راجپوت کے ساتھ کوٹلی شہر میں کاروبار کے سلسلے میں پارٹنر شپ پر کپڑے کی دکان ڈالی تھی۔ بعد ازاں یہی راجہ حسن محمد ولد راجہ غلام حسین ،حوالدار حاجی محمد حسین  کے سسر بھی ہوئے اور 1960ء میں حوالدار حاجی محمد حسین  کی دوسری شادی حسن محمد ولد غلام حسین کی بیٹی صاحب جان سے ہوئی جو تادم تحریر ہذا با حیات  ہیں اور ان  سے حوالدار حاجی محمد حسین  کی کوئی اولاد نہیں ہے۔

 

اولاد                                                                                                                     

حوالدر حاجی محمد حسین کی اولاد نرینہ نہ تھی صرف دو بیٹیاں اللہ تعالی نے عطا کیں تھیں۔ بڑی بیٹی 1953ء میں پیدا ہوئی اور پیدائش کے ایک ہفتے بعد وفات پاگئی۔ دوسری بیٹی 28 دسمبر 1955ء بروز بدھ کوٹلی شہر شاہی محلہ میں پیدا ہوئی۔

 

 

صفیہ بیگم

 

حوالدار حاجی محمد حسین کی اولاد میں صفیہ بیگم اکلوتی بیٹی تھی جو 28 دسمبر 1955ء بروز بدھ کوٹلی شہر شاہی محلہ میں پیدا ہوئی۔ صفیہ بیگم نے بی-اے تک تعلیم حاصل کی۔ 22 اپریل 1979ء کو صفیہ بیگم کی شادی اپنے کزن مشتاق احمد ولد باغ حسین سے ہوئی۔

صفیہ مشتاق اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی ہونے کے ساتھ بیٹے کا سہارا بھی تھی لیکن مشیت ایزدی کے سامنے ہر انسان لاچار اور مجبور ہے کوئی انسان امر الہی کو نہیں ٹال سکتا۔ تقدیر کے فیصلے مالک حقیقی نے لوح محفوظ میں جس طرح رقم کئے ہوئے ہیں ہر کسی کو ان فیصلوں کے سامنے چار و ناچار سرتسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔

 

 خالق اکبر نے اپنی مقدس کتاب قرآن کریم فرقان حمید میں یہ وعدہ فرمایا ہوا ہے کہ ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ چنانچہ خداوندمتعال نے اپنے وعدہ تکمیل کیلئے اس پھول (صفیہ مشتاق) کو اپنے گلستان کیلئے چن لیا۔

صفیہ مشتاق کو کینسر کا موذی مرض لاحق ہوگیا۔ ایک عرصہ تک اس موذی مرض کا مقابلہ کرتے ہوئے 25 ستمبر 2001ء بروز منگل 46 برس کی عمر میں اپنے والدین اور بچوں کو داغ مفارقت دے کر اپنے خالق حقیقی سے جاملیں اور کوٹلی پنگ پیراں سرینگر قبرستان کو اپنی ابدی زندگی کا ٹھکانا بنالیا۔ صفیہ بیگم والدین اور خاندان کے دیگر پیاروں کے علاوہ تین بیٹے اور تین بیٹیاں پسماندگان میں سوگوار چھوڑ گئی جن کا تفصیلا ذکربعد میں  آئے گا۔

 

 

 

ہائے رے تیری پسند اے فرشتہ اجل۔۔۔تونے پھول وہ چنُا جو  سارے گلستاں کو ویران کر گیا

بھائی

باغ حسین

 

باغ حسین ولد بگاہ خان 1948ء میں اپنے خاندان کے ہمراہ مقبوضہ کشمیر مینڈھر اڑی سے ہجرت کرکے تتہ پانی چنبہ گلی سرساوہ سید پور اور پھر کوٹلی شہر شاہی محلہ میں قیام پذیر ہوئے۔ اپنی روزمرہ زندگی محنت و مزدوری سے بسر کی۔ 1956ء میں اللہ تعالی نے انہیں ایک فرزند عطا کیا جس کا نام مشتاق احمد رکھا گیا۔

مشتاق احمد کی پیدائش کے چھ ماہ بعد باغ حسین کی زوجہ محترمہ گجرانوالہ سادھوکئی اپنے والدین اور ہمشیرہ کو ملنے گئی اور اچانک بیمار ہوکر وفات پاگئی۔ مرحومہ کو گجرانوالہ سادھوکئی گوناعور کے مقام پر دفنا دیا گیا۔ باغ حسین اپنے چھ ماہ کے اکلوتے بیٹے کو سادھوکئی سے کوٹلی گھر لے آئے اور بچے کی پرورش کا آغاز کردیا۔

باغ حسین ولد بگاہ خان نے دوبارہ شادی نہ کی اور اسی ایک بیٹے کے سہارے پر زیست فانی کے باقی ماندہ دن پورے کردئے۔ بیٹے کی تعلیم بی۔ اے تک مکمل کی۔ اور 22 اپریل 1979ء کو اپنے اس بیٹے کی شادی اپنی اکلوتی بھتیجی صفیہ بیگم سے کردی۔ باغ حسین ولد بگاہ خان حوالدار حاجی محمد حسین کے بڑے بھائی تھے۔ وہ انتہائی شریف النفس با اخلاق اور رزق حلال کمانے پر یقین کامل رکھتے تھے۔

 

 

دونوں بھائی مقبوضہ کشمیر سے اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ ہجرت کرکے آئے تھے۔ تادم وفات امن و آشتی اور پیار و محبت کے ساتھ اکھٹے رہے۔ حوالدار حاجی محمد حسین کی بیرون ملک یا گھر سے باہر گونا گوں مصروفیات کے دوران اور گھر میں عدم موجودگی کے دوران باغ حسین گھریلو کام کاج میں پورا تعاون اور جو مدد درکار تھی کیا کرتے تھے۔ آخر کار 3 جنوری 2007ء بروز سوموار کو کوٹلی شہر شہید چوک میں طبعی موت کا شکار ہوئے اور پنگ پیراں سرینگر قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

 

 

موت کو سمجھے ہیں غافل اختتام زندگی                                         ہے یہ شام زندگی صبح دوام زندگی

داماد

راجہ مشتاق احمد

 

راجہ مشتاق احمد 1956ء کو کوٹلی شہر شاہی محلہ میں پیدا ہوئے۔ چھ ماہ کے تھے کہ والدہ ماجدہ وفات پاگئی۔ بی۔ اے تک تعلیم حاصل کی۔ وہ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ان کی شادی 22 اپریل 1979ء کو کوٹلی شہر شہید چوک میں اپنی  اکلوتی کزن صفیہ بیگم سے انجام پائی۔

مشتاق احمد مورخہ 26 مارچ 2011ء بروز ہفتہ کوٹلی شہر شہید چوک کے مقام پر رات تقریبا ساڑھے بارہ بجے ہارٹ اٹیک کی وجہ سے وفات پاگئے اور سرینگر قبرستان کی مٹی کو اپنا ابدی ٹھکانا بنالیا۔راجہ مشتاق احمد کو اللہ نے   تین بیٹیوں جن میں سے دو شادی شدہ ہیں اور سب سے چھوٹی بیٹی تادم تحریر غیرشادی شدہ ہے  اور تین بیٹوں سے نوازا۔

۱۔ ضیاءالاسلام سب سے بڑا بیٹا ہے جس نے بی۔ اے ۔ ایل۔ ایل۔ بی (قانون کی تعلیم حاصل کی ہوئی ہے۔) شادی شدہ اور صاحب اولاد ہے۔ گھر کے انتظامی امور کے علاوہ کاروباری سرگرمیوں کی نگرانی کے فرائض کی انجام دہی میں پیش پیش ہے۔

   ۲۔ انوارالاسلام

انوارالاسلام کی ولادت 17 نومبر 1990ء کو کوٹلی شہر شہید چوک میں ہوئی۔ انہوں نے  کیڈٹ کالج پلندری سے ایف۔ ایس۔ سی تک تعلیم مکمل کی   پھر 18 نومبر 2009ء کو انہوں نے  پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کیا۔

وہ  دوران ٹریننگ رخصت پر کوٹلی گھر آئے ہوئے تھے ، واپسی پر 10 مئی 2010ء کو  چھتر کراس مظفرآباد کے مقام پر کار حادثہ میں 19 سال کی عمر میں شہید ہوگئے۔ ان  کی تدفین گیارہ مئی 2010ء کو کوٹلی پنگ پیراں میں واقع سرینگر قبرستان میں کی گئی۔

گل ہوا عہد جوانی میں چراغ زندگانی                                                   ہائے یہ کیسا نیند کا جھونکا سرشام آگیا

 

۳۔ بدرالاسلام سب سے چھوٹا بیٹا اسلام آباد میں زیر تعلیم ہے اور فی الحال غیر شادی شدہ ہے۔

پھلا پھولا رہے یارب چمن میری امیدوں کا۔۔۔جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پالے ہیں

مرحوم کے بارے میں ایک انٹرویو

سید مرید حسین شاہ ولد سیّدسید میر شاہ  سے یہ انٹرویو مورخہ 24 جنوری 2021ء بروز اتوار بمطابق 10 جمادی الثانی 1442ھ کو پنگ پیراں کوٹلی کے مقام پر لیا گیا۔ موصوف 2019ء کو انگلینڈ بوٹن سے ریٹائرڈ ہوئے اور  انہوں  نے اپنے انٹرویو میں حوالدار حاجی محمد حسین سے متعلق اپنے تاثرات کا اظہار کچھ یوں کیا۔

جون 1965ء کی بات ہے۔ اس وقت میں  سید مرید حسین شاہ صرف نو سال کا تھا۔ پہلی بار انگلینڈ روانہ ہوا۔ حوالدار حاجی محمد حسین کے برادر نسبتی راجہ محمد صدیق اور کجلانی کے راجہ عیداللہ میرے ہمسفر تھے۔ ہماری فلائٹ صبح سات بجے لاہور ائیرپورٹ سے انگلینڈ روانہ ہونا تھی۔ ہم تینوں نے لاہورمیں رات کو ایک ہوٹل پر قیام کیا اور صبح وقت مقررہ پر ائیرپورٹ پہنچ گئے۔

 ہماری فلائٹ نے صبح سات بجے مقررہ وقت اڑان بھری اور دس گھنٹے کی ڈائریکٹ فلائٹ کے بعد انگلیڈ کے معیاری وقت کے مطابق رات بارہ بجے انگلینڈ ایئرپورٹ پہنچے۔ میرے قریبی عزیز راجہ میراں داد انگلینڈ ایئرپورٹ پر ہمیں لینے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ راجہ میراں داد ہمیں اپنی گاڑی  میں سوار کرکے سیدھا وٹ فورڈ لے گئے جہاں حوالدار حاجی محمد حسین کی رہائش گاہ تھی۔ حوالدار حاجی محمد حسین نے اپنی رہائش گاہ پر ہمارا بڑا والہانہ استقبال کیا۔ ہماری مہمان نوازی انتہائی پرخلوص اور پرتکلف کھانے کے اہتمام کے ساتھ کی۔

کھانے کے بعد میں اپنے ماموں راجہ محمد نذیر حسین کے ساتھ اُن کے  گھر بوٹن جبکہ راجہ عیداللہ اپنی رہائش گاہ شیفلڈ اور محمد صدیق وٹ فورڈ میں حوالدار حاجی محمد حسین کے ساتھ رہ گئے۔حوالدار حاجی محمد حسین کے ساتھ بعد ازاں انگلینڈ  اور کوٹلی  میں کئی بار ملاقاتیں ہوئیں۔ وہ انتہائی ملنسار اور ہمدرد انسان تھے۔ چھوٹوں و بڑوں سب کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آتے تھے۔ہماری دعا ہے کہ خداوند تعالی مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ اور پسماندگان کو صبرجمیل اور اجر عظیم عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

عائلی اور سماجی زندگی پر ایک نظر

1962ء میں حوالدار حاجی محمد حسین  ذریعہ معاش اور رزق حلال کی تلاش میں انگلینڈ چلے گئے اور 1974ء میں انگلینڈ سے انیس پونڈ گیارہ پینسی پینشن لے کر خود ڈسچارج ہوکر وطن واپس آگئے۔ معلومات اور جانکاری کے لئے یہ جملہ تحریر خدمت ہے کہ اس وقت حوالدار حاجی محمد حسین  کی ایک ہفتے کی تنخواہ صرف 9 پونڈ تھی۔

1960ء کے بعد راجہ حسن محمد ولد راجہ غلام حسین کی ذاتی کاوشوں اور محنت سے حوالدار حاجی محمد حسین ولد بگاہ خان قوم گکھڑ کیانی کو کوٹلی شہید چوک میں گورنمنٹ کی طرف سے چھ کنال اراضی الاٹ ہوئی تھی جس میں سے پانچ کنال رقبہ پر موجودہ ابوبکر جصاص پلازہ کے علاوہ گھر اور مسجد بھی تعمیر ہے۔ ابوبکر جصاص پلازہ میں موجود دکانیں اربوں روپے مالیت کی حامل ہیں۔

یہ پراپرٹی اس بات کی غماز ہے کہ حوالدار حاجی محمد حسین کا شمار کوٹلی کے ارب پتی افراد میں ہوتا ہے۔ یہ صرف اللہ تعالی کا کرم اور والدین کی دعاوں کا نتیجہ ہے کہ موصوف اس قدر صاحب جائیداد ہوئے۔ اتنا صاحب ثروت ہونے کے باوجود عاجزی و انکساری، تحمل و بردباری، فہم و فراست ان کی شخصیت کی نمایاں صفات تھیں۔

یہاں ایک اور حقیقت کا برملا اظہار نہ کرنا انصا ف کے تقاضوں کے منافی ہوگا کہ راجہ حسن محمد ولد راجہ غلام حسین نے حوالدار حاجی محمد حسین کے علاوہ اپنے ذاتی اثر رسوخ سے ہندو چونی لال کھشتری جو کہ 1947ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران اپنی زمینیں و جائیدادیں چھوڑ کر اپنے کنبے  کے دیگر افراد کے ہمراہ مینڈھر مقبوضہ کشمیر بھاگ گیا تھا کے باغ (باغیچہ) کا چوبیس کنال رقبہ واقع پنگ پیراں نزدموجودہ ریسٹ ہاوس  اپنے سسر رسول محمد ولد شیرو خان قوم جنجوعہ راجپوت    کے نام الاٹ کرایا تھا،اس چوبیس کنال رقبے پر ہندو چونی لال کھشتری نے پھلداردرختوں کا باغ لگایا ہوا تھا، یہ ۲۴ کنال رقبہ  آج بھی رسول محمد ولد شیرو خان کی اولاد کے تصرف میں ہے اور یہ جگہ آج بھی باغ کے نام سے پکاری جاتی ہے۔

راقم نے اپنے والد محترم مرحوم و مغفورراجہ  غلام حسین ولد بگاہ خان جنجوعہ راجپوت کی زبانی راجہ حسن محمد ولد راجہ غلام حسین سے متعلق جو الفاظ سنے تھے آج بھی کانوں میں اسی طرح گونج رہے ہیں۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ (راجہ حسن محمد) اپنے رشتہ داروں، عزیزوں اور دوستوں کے درمیان ناراضگیاں دور کیا کرتے تھےاور ان کے درمیان باہمی صلح و صفائی اور راضی نامے کرایا کرتے تھے۔ اور اکثر ان سے متعلق ایک اعلی صفات شخص کے طور پر ان کی نشاندہی کی۔

حوالدار حاجی محمد حسین کی رشتہ داروں اور عوام الناس میں اس قدر پذیرائی اور ہر دلعزیزی تھی جس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ حوالدار حاجی محمد حسین  نے 1979ء میں بلدیہ کے چیئرمین کے انتخاب کیلئے امیدوار کے کاغذات جمع کرائے۔ اس الیکشن میں حوالدار حاجی محمد حسین  نے اپنے مدمقابل امیدواروں کو بری طرح سے مات دے کر بھاری اکثریت سے بلدیہ چیئرمین کیلئے کامیابی حاصل کی۔ یاد رہے کہ ان انتخابات میں مہاجر کمیونٹی نے بڑھ چڑھ کر مرحوم کا ساتھ دیا تھا۔ بعدازاں خاص وجوہات کی بنا پر بحیثیت چیئرمین بلدیہ فرائض کی ادائیگی سے معذرت چاہی اور مذکورہ عہدے  کیلئے اپنے جگہ کوٹلی شہر کے خورشید احمد قادری کو نامزد کیا۔ خورشید احمد قادری نے چیئرمین بلدیہ کے عہدے کا چارج سنبھالا اور چیئرمین شپ کا عرصہ احسن طریقے سے مکمل کیا۔

مرحوم کی زندگی کا ایک نظر جائزہ

حوالدار حاجی محمد حسین مرحوم  ایک ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ وہ مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آزاد کشمیر آئے تھے۔  آزاد کشمیر میں انہوں نے  کوٹلی شہر میں قیام کیا۔  ایک نئی زندگی کا  آغاز ایک بڑا چیلنج تھا۔انہوں نے اس چیلنج کو قبول کیا اور بڑی جوانمردی سے نبھایا۔

یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ   شرعی اصطلاح میں ہجرت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کی خوشنودی کیلئے اور دین اسلام کی سربلندی کیلئے اپنا گھر بار اور رشتہ داروں کو چھوڑ دینا، اور ایسی جگہ چلے جانا جہاں آزادی کیساتھ دین اسلام پر عمل کیا جاسکے۔

 کائنات میں کچھ  ہجرتوں کو نمایاں شہرت حاصل ہوئی۔جیسے  ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عراق سے فلسطین کی طرف ہجرت کی۔ اسی طرح  سردار الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مکے سے مدینے کی طرف ہجرت کی۔ اسی طرح حضرت امام حسین علیہ السلام نے مدینے سے مکے اور مکے سے عراق کی طرف ہجرت کی۔ گویا ہجرت  اللہ کی نیک اور برگزیدہ ہستیوں  کی سنت کا نام ہے۔ دینی تعلیمات کے مطابق  اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والا شخص اس طرح گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے جس طرح کوئی نومسلم اسلام لانے کے بعد اور کوئی مومن حج کرنے کے بعد گناہوں سے پاک صاف ہوجاتا ہے۔

حوالدار حاجی محمد حسین کا مہاجر ہونا اُن کیلئے  ایک بڑی خوش قسمتی اور سعادت کی بات ہے۔ موصوف وہ خوش نصیب ہیں جو ہجرت کے ساتھ ساتھ بیت اللہ کی زیارت کی سعادت اور ثواب سے بھی بہرہ مند ہوئے۔

 مذہب اسلام میں ایک مجاہد اور غازی کے مقام و مرتبہ سے ایسا شخص کون ہے جو آشنا نہیں ہے۔ خالق کائنات اپنی مقدس کتاب قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے : " اور جو راہ خدا میں مارا جائے یا غالب آئے ہم اسے عنقریب اجر عظیم دیں گے " ۔

اسی طرح دینِ اسلام میں  " رزق حلال عین عبادت ہے " ۔حوالدار حاجی محمد حسین نے ابتدا میں مجاہدانہ زندگی کو اپنایا پھر محنت و مشقت یعنی تجارت کے پیشے سے رزق حلال کمانے میں مصروف رہے۔ بعدازاں اپنے وطن سے ہزاروں میل دور انگلینڈ میں ذریعہ معاش تلاش کیا اور  رزقِ حلال کمایا۔رزق حلال ہی تمام عبادات کی قبولیت کا ذریعہ ہے۔ اگر کوئی مسلمان حرام کا ایک لقمہ بھی اپنے حلق سے نیچے اتار دیتا ہےتو چالیس روز تک اس کی کوئی عبادت یا دعا قبول نہیں ہوتی۔

یہ ساری باتیں اس امر پر شاہد ہیں کہ موصوف کو مہاجر،  مجاہد اور غازی  اور تاجر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ہماری دعا ہے کہ خداوندِ عالم ان کے مذکورہ کاموں کا ا جروثواب ہمیشہ ان تک پہنچاتا رہے۔رزقِ حلال جس طرح کمانا ثواب ہے اسی طرح اُسے راہِ خدا میں صرف کرنا بھی اللہ تعالی کے قرب اور نزدیکی کا باعث ہے۔ مرحوم کے یادگار کاموں میں سے ایک ان کا   ابوبکرجصاص پلازہ بھی ہے۔آئیے ابوبکر جصاص پلازے  کی وجہ تسمیہ اور پسِ منظر کا جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

ابوبکرجصاص پلازے کا پس منظر

کوٹلی آزاد کشمیر کے شہر میں یہ پلازہ  ایک معروف تجارتی مرکز ہے۔بلامبالغہ یہ   پلازہ اربوں روپے مالیت کی پراپرٹی ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ کا پسِ منظر آستانہ عالیہ درس شریف گلہار سے مرحوم کی وابستگی ہے۔

 یہ بات عیاں ہے کے سارے اولیائے خدا اور عرفا ،  ختم النبیین حضرت محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  اور اُن کے  اہل بیت سے عشق و مودت رکھتے ہیں۔ جتنے بھی اولیائے کرام کے سلسلے ہیں انہیں ولایت حضرت امام علی  ؑکے در سے ہی ملتی ہے۔ لازمی طور پر  اولیائے خدا کا اہل بیت ؑ سے یہ عشق اُن کی مریدوں اور عقیدت مندوں  میں بھی منتقل ہوتا رہتا ہے۔

 اسی عشق و  مودت کے پس منظر میں حضرت جناب صاحبزادہ زاہد سلطانی صاحب نے " تفسیر احکام القرآن" کے نامی گرامی مفسّر قرآن حضرت ابوبکر جصاص کے نام پر  اس پلازے کا نام ابوبکر جصاص  پلازہ رکھا ۔

 

یاد رہے کہ احکام القرآن کے مصنف حضرت ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص   305ھ کو بغداد میں پیدا ہوئے۔ وہ جصاص کے نام سے مشہور تھے۔ "جصاص " چونا ساز کو کہتے ہیں۔ آپ نے حضرت ابولحسن کرخی اور دیگر فقہائے معاصر سے کسب فیض کیا۔وہ  تحصیل علوم کے بعد بغداد میں درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے۔

حکومت کی طرف سے آپ کو منصب قضا وت کی پیشکش کی گئی مگر آپ نے اسے قبول نہ کیا۔ ارباب ِ دانش جانتے ہیں کہ حنفی مسلک میں  تفسیر احکام القرآن  کی بہت اہمیت ہے اور یہ حنفی مسلک کی ایک بلند پایہ اور علمی تفسیر ہے۔ یہ تفسیر  اپنے علم و فضل کے اعتبار سے  علمائے اہلِ سُنّت کے ہاں بہت معروف اور معتبر ہے۔ خصوصا علم فقہ میں اس تفسیر کا مقام بہت بلند ہے۔

اس تفسیر کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ  حضرت  ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص ، اپنے  روحانی پیرومرشد مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ذات با برکات سے بے پناہ عشق  رکھتے تھے اور ان کے دشمنوں سے نفرت اور بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔  زہے مقدر زہے نصیب کہ  حوالدار حاجی محمد حسین مرحوم نے اپنی حلال کی کمائی سے بنائے ہوئے اس  پلازے کا نام ابوبکر جصاص پلازہ رکھا ہے۔ گویا یہ صرف پلازہ نہیں بلکہ حضرت ابوبکرجصاص کے ساتھ عشق و محبت کی علامت بھی ہے۔  جب تک یہ پلازہ رہے گا  مرحوم  کو  رسول اور آلِ رسول ﷺ سے موددت و عشق کا ثواب بھی ملتا رہے گا۔

مجھ سے ممکن ہی نہیں تجھ کو سمجھنا یا رب    جس کا بندہ ہو علی ؑ وہ خدا کیا ہو گا

حرفِ آخر

یہ کون آبلہ پا وادی پُر خار سے گزرا۔۔۔خون سے مہک آتی ہے یہ کس کے لہو کی

حوالدار حاجی محمد حسین کسی عام انسان کا نام نہیں بلکہ اپنے ہدف کے تکمیل کیلئے ایک مسلسل جدوجہدکرنے والی شخصیت  کا نام ہے۔ 1948ء میں مقبوضہ کشمیر سے لٹے پٹے قافلے کی صورت میں ہجرت کرکے کوٹلی میں قیام پذیر ہوکر ایک نئی زندگی کا آغاز یقینا بڑا کھٹن اور صبر آزما مرحلہ تھا۔ اپنی جائے پیدائش کی مٹی، مال و متاع اور آباو اجداد کی جائیدادیں وطن کی پیاری پیاری آب و ہوا ، پھولوں کی مہک، لہلہاتے کھیتوں کو خیرباد کہہ کر عین شباب میں دربدر کی ٹھوکریں کھانا بلاشبہ ایک بڑے امتحان سے کم نہ تھا۔  حوالدار حاجی محمد حسین نے تن تنہا ان مشکلات کا پامردی، حوصلے اور ہمت  کے ساتھ مقابلہ کیا۔

موصوف  کے حالاتِ زندگی کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ غیرمعمولی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ ابتداء میں ہجرت کے مسائل اور مالی تنگی کے بعد دولت و عزت کا عروج بھی دیکھا۔ عزیزوں کی حادثاتی اموات اور پہاڑ جتنے غموں کا سامنا بڑے مردانہ وار اور حوصلے سے کیا۔ اور کبھی بھی اپنے لبوں پر خداوند قدوس سے شکوہ کا شائبہ بھی نہ ہونے دیا ہمیشہ راضی برضا رہے۔ دنیاوی معاملات میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ انتہائی مہربان اور شفیق رہے اور کسی فرد کو  حوالدار حاجی محمد حسین سے متعلق کوئی شکایت نہ ہوئی۔ یوں زندگی کی یہ کشتی اپنی آخری منازل طے کرتے کرتے ساحل فانی میں داخل ہوئی۔

حوالدار  حاجی  محمد حسین کافی عرصہ صاحب فراش رہنے کے بعد مورخہ 5 دسمبر 2020ء بروز ہفتہ بمطابق 19 ربیع الثانی 1442ھ 22  مگھر 2077بکرمی سہہ پہر ساڑھے تین بجے اپنے گھر  واقع شہید چوک کوٹلی میں  داعی اجل کو لبیک کہہ گئے اور یوں پنگ پیراں سرینگر قبرستان کی مٹی اپنے ابدی گھر کیلئے منتخب کرلی۔

اناللہ و انا الیہ راجعون

وہی بزم ہے وہی دھوم ہے وہی عاشقوں کا ہجوم ہے۔۔۔۔۔۔۔بس کمی ہے تو اس شخص کی جو تہہ مزار چلا گیا



·         [1] آموزگار، ژاله (۱۳۹۵). تاریخ اساطیر ایران. تهران: انتشارات سمت. شابک ۹۷۸-۹۶۴-۵۳۰-۸۳۳-۷.

·         اوشیدری، جهانگیر (۱۳۸۳). دانشنامهٔ مزدیسنا: واژه‌نامهٔ توضیحی آیین زرتشت. تهران: نشر مرکز. شابک ۹۶۴-۳۰۵-۳۰۷-۵.

·         پیرنیا، حسن، داستان‌های ایران قدیم ۱۳۰۶

·         تفضلی، احمد (۱۳۸۶). «آرش». دانشنامهٔ ایران. ۲. تهران: بنیاد دائرةالمعارف بزرگ اسلامی. ص. ۴۲۷-۴۲۸. شابک ۹۷۸-۹۶۴-۷۰۲۵-۵۹-۱. دریافت‌شده در ۲۶ فوریه ۲۰۱۸.


0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...