زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

اتوار، 21 دسمبر، 2025

بھارت کا مُردہ ضمیرسماج

بھارت کا مُردہ ضمیرسماج: 
ڈاکٹر نذرحافی  :
سپورٹ کشمیر انٹر نیشنل فورم :  ہندوستان کے بارے میں آپ خود فیصلہ کریں!  بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے حالیہ دنوں میں  مسلمان خاتون کا زبردستی نقاب کھینچنے کا واقعہ زیادہ افسوسناک ہے یا اس وقوعے پر  اترپردیش کے وزیر سنجے نشاد کا تبصرہ۔ دریں اثنا، ڈاکٹر نصرت نے بہار کے وزیر اعلیٰ کی حرکت کے خلاف سرکاری نوکری کی  آفر ٹھکرا کر انسانی وقار اور اصول پر مبنی مزاحمت کی مثال قائم کر دی ہے۔  انہوں نے اپنے اس عمل سے یہ ثابت کیا ہے  کہ  انسانی اقدار  کی بقا اور اخلاقی آزادی سب سے بڑی جیت ہے، اور انسان کو ہر صورت میں اپنی باوقار شخصیت  کو زندہ رکھنا  چاہیے۔
قابلِ ذکر ہے کہ  ہندوستان میں انسانی تذلیل ایک منظم فوجی و سیاسی حربہ ہے۔  جہاں جہاں ہندوستان کی رِٹ ہے وہاں وہاں  مرد ہو یا عورت کسی کی بھی عزّتِ نفس محفوظ نہیں۔ مردوں  کا ذکر بعد میں پہلے یہ ملاحظہ فرمائیں کہ خواتین کی آبروریزی بھارت کے اندر چوتھا سب سے زیادہ عام جرم ہے۔  بھارت میں خواتین کے ساتھ  جنسی زیادتی، ہراسمنٹ اور عصمت دری کے  بہت سارے  واقعات رپورٹ ہی  نہیں ہوتے چونکہ متاثرہ خواتین کو ہندوستانی  معاشرے میں  حقارت، شرمندگی،  خوف ،  دھمکیوں اور نفسیاتی  دباؤ کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ اس تناظر میں آپ خود فیصلہ کریں کہ بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے حالیہ دنوں میں  مسلمان خاتون کا زبردستی نقاب کھینچنے کا واقعہ زیادہ افسوسناک ہے یا اس وقوعے پر  اترپردیش کے وزیر سنجے نشاد کا تبصرہ۔ دریں اثنا، ڈاکٹر نصرت نے بہار کے وزیر اعلیٰ کی حرکت کے خلاف سرکاری نوکری کی  آفر ٹھکرا کر انسانی وقار اور اصول پر مبنی مزاحمت کی مثال قائم کر دی ہے۔  انہوں نے اپنے اس عمل سے یہ ثابت کیا ہے  کہ  انسانی اقدار  کی بقا اور اخلاقی آزادی سب سے بڑی جیت ہے، اور انسان کو ہر صورت میں اپنی باوقار شخصیت  کو زندہ رکھنا  چاہیے۔ اس واقعے سے  آپ اندازہ لگائیں کہ اخلاق باختگی میں ہندوستانی سیاستدانوں اور فوجیوں  کا کوئی ثانی نہیں۔   ہندوستانی فوجی بھی  اس میدان میں اپنے سیاستدانوں  سے کسی طرح پیچھے نہیں۔
  بطورِ نمونہ ہم آپ کیلئے یہ ایک واقعہ پیش کئے دیتے ہیں۔23 فروری 1991ء وہ دن تھا جب  ہندوستانی فوجیوں کے ہاتھوں انسانیت کی بدترین تذلیل ہوئی۔ مقبوضہ جمّوں و کشمیر میں کنن اور پوشپورہ کے گاؤں میں کریک ڈاؤن اور تلاشی کے نام پر ایسی قیامت ٹوٹی کہ  جس نے تاریخ کے دامن پر سیاہ دھبہ ثبت کر دیا۔ 80 برس کی بوڑھی عورت سے لے کر 13 برس کی بچی تک، کوئی  عورت اس  درندگی سے محفوظ نہ رہی۔ہیومن رائٹس واچ کے مطابق 100 سے 150 کے درمیان کشمیری خواتین اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنیں۔ انصاف کے لیے صرف چالیس خواتین آگے بڑھ سکیں، جب کہ باقی کو سماجی دباؤ، خوف اور بدنامی کے اندیشوں نے خاموشی پر مجبور کر دیا۔ دہلی حکومت نے تحقیقات تو کیں، مگر ہمیشہ کی طرح نتیجہ یہی نکلا کہ واقعہ بے بنیاد قرار پایا اور مجرم بری ہو گئے۔
وقت گزرا، مگر ہندوستانی فوج کو شرم نہ آئی۔ 2014ء کے بعد کشمیری خواتین نے 23 فروری کو کشمیری خواتین کے مزاحمتی دن کے طور پر منانا شروع کیا تاکہ کنن پوشپورہ کو تاریخ کی گرد میں دفن نہ ہونے دیا جائے۔ یہ دن منانا اس حقیقت کی  یاد دہانی ہے کہ ظلم اگر قانون کی وردی پہن لے تب بھی تاریخ کے کٹہرے سے بچ نہیں سکتا۔ انسانیّت کی اس توہین کا بھارت اور عالمی برادری نے تو کوئی نوٹس نہیں لیا تاہم  2014ء کے بعد سے کشمیری خواتین ہر سال 23 فروری کو "کشمیری خواتین کے مزاحمتی دن" کے طور پر مناتی ہیں، تاکہ  مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر  میں پیش آنے والے  بھارتی مظالم اور اس کے بعد عصمت دری اور قتل کے دیگر واقعات کی یاد کو زندہ رکھا جا سکے۔اسی طرح 1990ء تا 1992ء کے درمیان دیگر مظالم نے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔ اسی دوران  نرس گرِجا ٹیکو اور ہندو خاتون بابلی رائنا جنسی تشدد اور سفاکی  کا نشانہ بنیں۔ بھارت کی طرف سے خواتین  کی تذلیل و اہانت کا یہ سلسلہ مسلسل  کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ آپ بھارت کا میڈیا سوشل میڈیا ہی دیکھ لیں،  جہاں جہاں بھارت کا تسلط ہے وہاں وہاں عورت بے آبرو ہے۔ اگست 2024 میں کولکتہ کے میڈیکل کالج میں 31 سالہ ڈاکٹر کو دوران خدمت عصمت دری کے بعد قتل کر دیا گیا۔ جولائی 2023 میں بہار کی پانچ سالہ معصوم بچی کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ فروری 2025 میں کیرالہ کی رہائشی نو عمر لڑکی نے انکشاف کیا کہ وہ گزشتہ پانچ سالوں سے تقریبا 60 مردوں کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہو چکی ہے۔
برسبیلِ تذکرہ یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ بھارت کی مقبوضہ  ریاست جموں و کشمیر میں کٹھوعہ کے گاؤں رسانہ میں جنوری 2018ء کو ایک 8 سالہ بچی آصفہ بانو  کے ساتھ  ایک انتہائی دردناک واقعہ  پیش آیا۔ مقدمے کی چارج شیٹ پیش کر دی گئی ۔ مقتول بچی خانہ بدوش قبیلے بکروال سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کی گمشدگی کے ایک ہفتے بعد اس کی لاش ملی۔ اس کے گاؤں والوں کو اس کی لاش ایک کلومیٹر دور ملی تھی۔ اس واقعے کی ذمہ داری جب اپریل 2018ء میں سات  افراد پر عائد کی گئی تو یہ  ملک گیر خبر بن گئی۔ پولیس کے مطابق کل سات افراد کی فہرست جاری کی  گئی جن میں چار پولیس افسران بھی شامل تھے۔ ڈاکٹروں کے خیال میں بچی کو پہلے نشہ آور دوا دے کر پھر اس کے ساتھ جنسی زیادتی اور پھر قتل کیا گیا۔ فورنزک شواہد کے مطابق بچی کو ایک ملزم کے زیرِ نگرانی مندر میں کئی روز رکھا گیا۔ مندر سے ملنے والے بال بچی کے بال ثابت ہوئے۔ فورنزک معائنے سے پتہ چلا ہے کہ بانو کئی مرتبہ کئی مختلف مردوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر اس کا گلا گھونٹ کر اسے ہلاک کیا اور پھر اس کے سر پر بھاری پتھر مارا۔ متوفیہ کے باپ نے بتایا کہ جب جنازہ قبرستان پہنچا تو ہندو دائیں بازو کے افراد نے انھیں گھیر لیا اور وہاں تدفین کی صورت میں تشدد کی دھمکی دی۔ بعد ازاں متوفیہ کی نعش کو سات میل دور ایک اور گاؤں میں دفن کرنے لے جایا گیا۔ حسبِ سابق ا انسانیت کے دشمنوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ قابض بھارتی حکومت نے "rehabilitation policy" کے تحت مہاجر کشمیریوں کو واپس بلایا، مگر خواتین بار بار  توہین و اہانت  کا شکار ہوئیں۔ اپریل 2025ء میں پہلگام میں ہونے والے خود ساختہ حملوں کے بعد کئی خواتین کو بغیر قانونی کارروائی کے زبردستی  پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔
اسی  توہین  کا تسلسل اپریل 2017ء میں اس وقت سامنے آیا جب مقبوضہ کشمیر میں ایک 26 سالہ کشمیری نوجوان کو گرفتار کر کے بھارتی فوجی جیپ کے آگے بطورِ ڈھال باندھ دیا گیا۔  بہانہ  فوجی دستوں پر  پتھراؤ کا تھا لیکن ایک انسان کو بطورِ ڈھال ایسے لٹکایا گیا کہ اس طرح اگر کسی جانور کو بھی لٹکایا جاتا تو ساری دنیا میں کہرام برپا ہوجاتا۔ بین الاقوامی انسانی قوانین شہری کو انسانی ڈھال بنانے کی صریح ممانعت کرتے ہیں لیکن ہندوستان نے ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی قانون  کو طاقت کے قدموں تلے روند ا ۔
اس سانحے کے بعد حکومتِ ہند نے متاثرہ نوجوان کے حق میں کھڑے ہونے کے بجائے،  قابض فوج کا ہی ساتھ دیا۔ جموں و کشمیر انسانی حقوق کمیشن نے متاثرہ جوان کو  دس لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم دیا، مگر ریاستی حکومت نے اس پر عمل درآمد سے انکار کر دیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ جس فعل پر عالمی ضمیر نے سوال اٹھایا، اسی پر میجر لیتول گوگوئی کو چیف آف آرمی اسٹاف کا تعریفی کارڈ عطا کیا گیا، گویا انسانی تذلیل بھارتی سماج میں  سیاستدانوں اور فوجیوں کیلئے  قابلِ ستائش  ہے۔ یہ ہندوستانی معاشرے کے زوال اور پستی  کی  انتہا  ہے کہ وہاں  کسی انسان  کی توہین  کو  سیاستدانوں اور فوجی جوانوں  کے لئے قابلِ فخر کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔  دمِ تحریر مقبوضہ کشمیر میں سال 2025ء کے دوران  بھی جعلی مقابلوں اور حراست کے نام پر کئی بے گناہ نوجوان لاپتہ،  شہید یا معذور کیے  گئے   اور خواتین کی عصمت دری کے  بھی کئی واقعات بھی پیش آئے ہیں۔
تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ مظلوم قومیں ہتک آمیز  رویّوں کو فراموش نہیں کرتیں بلکہ اُنہیں   ایندھن کی طرح  اپنی  مقاومت و  مزاحمت کا حصہ بنا لیتی ہیں۔ وہ  دماغ کی گہرائیوں میں چھپے زخموں کو کبھی نہیں بھولتیں ، کبھی نہیں بھولتیں۔۔۔ مظلوم اقوام  اہانت کو نہ قبول کرتی ہیں اور نہ فراموش۔

Why is the Degradation of Humanity Admired by Politicians and Soldiers in India?

Dr. Nazar Haafi

In India, the degradation of humanity has become a systematic military and political tactic. Wherever the writ of India extends, whether it is a man or a woman, no one's dignity remains safe. To begin with, let us first focus on the plight of women: sexual assault is the fourth most common crime against women in India. Many incidents of rape, harassment, and sexual violence are never reported because the victims face contempt, shame, fear, threats, and psychological pressure within Indian society. In this context, ask yourself: which is more disturbing, the recent act of Bihar's Chief Minister, Nitish Kumar, forcibly removing a Muslim woman's veil, or the remarks made by Uttar Pradesh's minister, Sanjay Nishad, regarding this incident? Meanwhile, Dr. Nasrat has set an example of resistance based on human dignity and principles by rejecting a government job offer. Through her actions, she has proven that the preservation of human values and moral freedom is the greatest victory, and one must always keep their dignified identity alive. This incident sheds light on the moral degradation of Indian politicians and soldiers, as both are equally culpable in this matter.
Let us present an example: February 23, 1991, remains a day of the worst degradation of humanity at the hands of Indian soldiers. In the villages of Kunan and Poshpora in occupied Jammu and Kashmir, a brutal crackdown and search operation turned into a catastrophe, marking a dark stain on the pages of history. From 80-year-old women to 13-year-old girls, no woman remained safe from this savagery. According to Human Rights Watch, between 100 to 150 Kashmiri women were subjected to mass rape. Only 40 women came forward to seek justice, while the majority were silenced by social pressure, fear, and the threat of public disgrace. The Delhi government did investigate the matter but, as usual, the incident was dismissed as baseless, and the guilty soldiers were acquitted.
Time passed, yet the Indian army showed no shame. After 2014, Kashmiri women began observing February 23 as "Kashmiri Women's Resistance Day" to prevent Kunan Poshpora from being buried under the dust of history. This day serves as a reminder that even if oppression wears the uniform of law, it cannot escape the judgment of history. While India and the international community turned a blind eye to this humiliation of humanity, since 2014, Kashmiri women have been commemorating this day every year to keep the memories of Indian atrocities, rapes, and murders alive. Similarly, between 1990 and 1992, other atrocities shook the collective conscience of humanity. During this period, nurse Grija Teku and Hindu woman Babli Raina were also victims of sexual violence and brutal murder. The systematic degradation and humiliation of women in India has been ongoing for several decades. Look at India’s media and social media; wherever India's control extends, women are dishonored.
In August 2024, a 31-year-old doctor was raped and murdered while on duty at a medical college in Kolkata. In July 2023, a five-year-old girl from Bihar was abducted, raped, and then brutally killed. In February 2025, a teenage girl from Kerala revealed that she had been sexually assaulted by nearly 60 men over the past five years.
Let us also recall the tragic incident in the occupied territory of Jammu and Kashmir, in January 2018, in the village of Rasana, Kathua. An 8-year-old girl, Asifa Bano, was abducted and subjected to horrific abuse. Her body was found a week later, a kilometer from her village. When the police arrested seven people in April 2018, including four police officers, it became a nationwide scandal. Forensic evidence revealed that the girl was drugged, raped, and then murdered, with heavy stones used to crush her skull. When her body was taken to the cemetery, Hindu right-wing individuals surrounded her family, threatening them with violence. Eventually, her body was buried seven miles away in another village. As expected, no action was taken against the perpetrators of this heinous act.
Additionally, the occupying Indian government’s "rehabilitation policy" brought back displaced Kashmiris, but many women were subjected to repeated humiliation. After the fake attacks in Pahalgam in April 2025, several women were forcibly deported to Pakistan without any legal proceedings.
This continuous humiliation came to the forefront once again in April 2017, when a 26-year-old Kashmiri youth was arrested and bound to the front of an Indian military jeep as a human shield. The pretext was to stop stone-pelting on military convoys, but the way this man was hung as a human shield, even an animal would have been treated better. International human rights law explicitly prohibits using civilians as human shields, but as always, India trampled over the law with the weight of its military might.
Following this incident, the Indian government did not stand with the victim, instead, it supported the military. The Jammu and Kashmir Human Rights Commission ordered compensation of ten lakh rupees for the victim, but the state government refused to comply. To add insult to injury, Major Leetul Gogoi, responsible for this act, was awarded a commendation card by the Chief of Army Staff, as if the degradation of humanity was a matter of pride for Indian society, for politicians and soldiers alike. This reflects the height of moral decay in Indian society, where the humiliation of a person is considered a glorious accomplishment by politicians and military personnel.
As of the time of writing, in occupied Kashmir, several innocent youths have been either disappeared, killed, or maimed under the guise of fake encounters and detentions in 2025, with several incidents of sexual violence against women as well.
History stands as a witness to the fact that oppressed nations do not forget acts of humiliation, but instead, they incorporate them as fuel for their resistance and struggle. The wounds buried in the depths of their minds are never forgotten—never. Oppressed nations neither accept nor forget humiliation.





0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...