غزہ امن بورڈ اور امریکی پالیسیوں کا تسلسل
ڈاکٹر نذر حافی
غزہ امن بورڈ کی بے جا حمایت یا کھوکھلی مخالفت سے کسی کو کیا ملے گا۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کیا پاکستان جیسے ایٹمی و اسلامی ملک کو اس بورڈ میں شامل کئے بغیر امریکہ اس منصوبے میں کامیاب ہو سکتا تھا؟ ا س بارے میں کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے ہمیں امریکی پالیسیوں پر بھی ایک طائرانہ نظر ڈالنی ہوگی۔ ہمارے سامنے واشنگٹن ہر نئے روز کے ساتھ جمہوریت ، تبدیلی، ذمہ دار قیادت اور انسانی حقوق پر مبنی عالمی نظام کی بات کرتا ہے۔ اس کے باوجود ساری دنیا میں کہیں بھی امریکہ کا کردار کسی ثالث یا ضامنِ امن کا دکھائی نہیں دیتا۔ بطورِ مثال ایک طرف تو امریکہ کی طرف سے ایران کو جہاں جوہری عدم پھیلاؤ کے بھاشن دئیے جاتے ہیں وہیں دوسری طرف ایران کے ساتھ اپنے کئے گئے معاہدوں سے امریکہ اپنے مفادات کے مطابق یک طرفہ طور پر دستبردار ہو جاتا ہے۔ ایک جانب ایران کو سفارت کاری کی دعوت، اور دوسری جانب معاشی جنگ، نیز ایران کے اندر خفیہ کارروائیاں ، شورش اور عدم استحکام۔ یعنی امریکہ کے بیان کئے جانے والے اصول زبردستی دوسروں پر تو لاگو کئے جاتے ہیں لیکن خود امریکہ پر نہیں۔
اسی طرح لبنان اور اسرائیل کے تناظر میں بھی امریکی پالیسی لبنان کے اندر طاقت کے عدم توازن کو جان بوجھ کر برقرار رکھنے کی ایک مثال ہے۔ حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں پر تشویش کو بنیاد بنا کر امریکہ کی طرف سے اسرائیل کو غیر مشروط عسکری برتری فراہم کرنے سے مشرقِ وسطی میں یہ مسئلہ حل نہیں ہُوا بلکہ عدم استحکام کو مزید فروغ ملا۔ امریکی منصوبہ ساز یہ جانتے ہیں کہ جب ایک فریق کو مکمل استثنا اور دوسرے پر مکمل دباؤ ہو، تو نتیجہ دائمی تصادم کے علاوہ اور کچھ نہیں نکل سکتا۔ امریکہ نے مرحلہ بہ مرحلہ ثابت کیا ہے کہ دیگر ممالک کے ساتھ کھلی جنگ معاشی و سیاسی طور پر مہنگی اور مسلسل مداخلت اسٹرٹیجک طور پر فائدہ مند ہے۔
اتنی سی بات تو سب کو سمجھ آتی ہے کہ امریکہ طاقت کو قانون کی جگہ استعمال کرتا ہے ۔ جو بات لوگوں کو سمجھ نہیں آتی وہ یہ ہے کہ امریکہ قانون کی جگہ طاقت کے استعمال کو اخلاقیات کے لبادے میں پیش کرتا ہے۔ ایسا کرنے سے امریکی طاقت، انسانی دلائل اور جمہوریت کو مسخ کردیتی ہے اور ہر انٹرنیشنل فورم پر امریکی بیانیہ عدل و انصاف کا جنازہ نکال دیتا ہے۔ یہ سب ہونے کے باوجود سادہ لوح افراد امریکی مداخلت کو عوامی تحفظ، اس کے قبضے کو شراکت داری ، اور تباہی کو استحکام سمجھتے رہتے ہیں۔
اب آپ کو اس پسِ منظر کے ساتھ غزہ امن بورڈ کو بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ بورڈ بظاہر امن کی بشارت لئے ہوئے ہے لیکن یہ وہ امن نہیں جو انصاف کے بطن سے جنم لیا کرتا ہے۔ یہ وہ امن ہے جو غاصب اسرائیل کی گود میں پرورش پائے گا۔ یہ امن مظلوم کو تحفظ دے کر نہیں بلکہ ظلم کو سائنٹفک انداز میں منظّم کر کے قائم کیا جائے گا۔
یہ امریکہ کا سب سے خطرناک روپ ہے ۔ اس میں امریکہ بارود اور بیانیہ دونوں کا استعمال کرتا ہے۔غزہ امن بورڈ اسی بارود اور بیانیے یعنی ہائبرڈ وار کا تسلسل ہے۔ اس تسلسل کا ثمر یہ ہے کہ جو قوتیں کسی قوم اور ملک کو تباہ کرتی ہیں وہی اس کی تعمیر اور اس میں قیامِ امن کے نام پر از سرِ نو منافع کماتی ہیں۔ امریکی پالیسی یہی ہے کہ کسی بھی مظلوم و محکوم قوم کو سب سے پہلے ایک سیاسی وجود و سیاسی قیادت سے محروم کر کے اُسے ایک انتظامی مسئلے کے طور پر پیش کیا جائے۔ امریکہ غزہ کو بھی اب ایک قوم کے بجائے فلسطین سے جداگانہ ایک کیس، ایک بحران، ایک “ہیومینیٹیرین چیلنج” کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
دنیا نے یہ سمجھنے میں بہت دیر کردی ہے کہ امریکہ کسی بھی سر زمین پر قبضے سے پہلے لوگوں کی زبان پر قبضہ کرتا ہے۔جب چاہتا ہے تو طالبان و داعش کو عام لوگوں کی زبان سے مجاہدین اسلام کہلواتا ہے اور جب چاہتا ہے تو دہشت گرد اور پھر جب چاہتا ہے تو حکومت ہی اُن کے حوالے کر دیتا ہے۔ غزہ امن بورڈ یہی تو ہے، اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ آزادی کی آواز کو مؤخر کر کے فوری امن کے نعرے سے لوگوں کو دھوکہ دیا جائے۔ یوں فلسطین پر غاصب اسرائیل کا قبضہ بھی باقی رہے گا اور دنیا بھر میں اسرائیل پر اٹھنے والے سوالات بھی دب جائیں گے۔
المختصر یہ کہ وقت امریکہ غزہ امن بورڈ کے لبادے میں تلوار کے بجائے دنیا کی رضامندی سے فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ مستحکم کرنے کے درپے ہے۔ جب محکوم دنیا کے نمائندے اور اسلامی ممالک خود ایک ایسی میز پر بیٹھ جائیں گے جہاں فلسطین کے حوالے سے فیصلے پہلے ہی طے شدہ ہوں گے تو امریکہ کو طاقت کے استعمال کا ا جواز مل جائے گا۔ ایک مرتبہ پھر سوچئے کہ کیا پاکستان جیسے ایٹمی و اسلامی ملک کو اس میز پر بٹھائے بغیر امریکہ اس منصوبے میں کامیاب ہو سکتا تھا؟ ہماری دانست میں آگے چل کر یہ ہونے والا ہے کہ یہ بورڈ فلسطین پر اسرائیلی قبضے کو مستحکم کرنے کیلئے ایسی صورتحال پیدا کرے گا کہ نہ مکمل جنگ ہوگی اور نہ مکمل امن، نہ مکمل غلامی ہوگی اور نہ مکمل آزادی۔ یہ ایک ایسا جھولتا ہوا جال ہوگا جو اس بحران کو اس حالت میں بدل دے گا کہ وہ اسرائیل کیلئے قابلِ کنٹرول بھی رہے گا اور دنیا خاموش بھی رہے گی نیز یہ صورتحال امریکی مفادات و منافع کے لیے سود مند بھی ثابت ہو گی۔
یاد رکھئے !امریکہ ایک ایسی ریاست ہے جو کسی ملک کے بحران یا مسائل کو حل نہیں کرتی بلکہ اُس کے مسائل کو اُجاگر اور منظّم کر کے اُس سے اپنے مفادات حاصل کرتی ہے۔ علومِ سیاسی میں ایسی ریاست کو ہیجیمونک ﴿ Hegemonic ﴾کہتے ہیں۔ ہیجیمونک اُس طاقت یا رویّے کو کہتے ہیں جس میں کوئی ریاست اپنی طاقت کو ہی قانون کا درجہ دیتی ہے ، وہی بیانیہ طے کرنے والی، اور دنیا میں “نارمل” کی تعریف وضع کرنے والی بھی ہوتی ہے۔ لہذا مشرقِ وسطیٰ اس ہیجیمونی امریکی ریاست کے لیے ایک اسٹرٹیجک لیبارٹری سے زیادہ کچھ اہمیّت نہیں رکھتا۔ اس منطقے میں امریکہ سالہا سال سے اپنی سیاست و طاقت کے تجربات کرتا چلا آ رہا ہے۔ ان تجربات کی روشنی میں دیگر ریاستوں کی خود مختاری کی حدود، انسانی حقوق کے قوانین کی تفسیر، اور انسانی جانوں کی قیمت معیّن کی جاتی ہے۔ چنانچہ امریکہ کے نزدیک امن محض ایک وقتی حربہ ہے، جسے ضرورت پڑنے پر کہیں بھی اپنا لیا جاتا ہے اور حسبِ ضرورت اسے ترک یا دفن کر دیا جاتا ہے۔
کیا ہمارے پالیسی ساز افراد نے اس پر سوچا ہے کہ غزہ امن بورڈ کس چیز کو امن کا نام دے رہی ہے؟ کیا امن وہ ہے جس میں ظلم کو قانونی شکل میں منظّم کیا جائے؟ اور جس میں طاقتوروں کے خلاف مظلوم کی بات اور مطالبے کا کوئی وزن ہی نہ رہے؟ کیا انصاف کو مؤخر و مسترد کرنے کا نام امن ہے۔ ؟ کیا غزہ کو فلسطین سے کاٹنا اور جداگانہ پیش کرنا مظلوم فلسطینیوں کی مدد ہے؟ یہ ظلم کو منظم انداز میں قانونی قالب میں ڈھالنے کا عمل ہے نہ کہ امن ۔ اب ہر پاکستانی پر یشان ہے کہ کیا پاکستان فلسطینیوں پر ظلم کو منظّم کرنے اور اُسے قانونی شکل دینے جا رہا ہے؟ کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ امریکہ کے اسی طرزِ عمل نے ساری دنیا میں بین الاقوامی قانون کو طاقتور کے لیے مفید اور کمزور کے لیے سزا بنا دیا ہے۔ ہمیں یہ بات سمجھ کیوں نہیں آ رہی کہ ظلم کو منظم کرنے سے ظالم اور غاصب چھینی ہوئے چیز کا "حقدار " نہیں بن جاتا۔ آج غزہ امن بورڈ کی بے جا حمایت یا کھوکھلی مخالفت کے بجائے اس بورڈ کی حقیقت کو سمجھنے کی ضرروت ہے۔ ورنہ آج فلسطین ہے تو کل کشمیر۔۔۔آج ایران ہے تو کل پاکستان۔۔۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں