مشرق وسطیٰ ۔۔۔مجھے خوف جنگ سے نہیں!
ڈاکٹر نذر حافی
امریکا کی مشرق وسطیٰ میں بڑی فوجی پیش قدمی جاری ہے۔ اس پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے میں اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے خوف ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ جیسے ہی میں اس امریکی بحری بیڑے کو یزید کی جدید صورت میں پہچان لوں گا، ویسے ہی مجھے اپنی خاموشی کو بھی توڑنا پڑے گا۔ میرے لئے مسئلہ یہ نہیں کہ بحرِ ہند میں بحری جہاز کیوں پہنچ گئے ، مسئلہ یہ ہے کہ میرے ضمیر کے ساحل پر کب سے خاموشی کا پہرہ لگا ہوا ہے۔
میں اعتراف کرتا ہوں کہ جب میں یہ خبر سنتا ہوں کہ ایران سے کشیدگی کے نام پر امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے،بحری بیڑا بحرِ ہند تک آ پہنچا ہے، طیارہ بردار جہاز، جنگی طیارے، ہزاروں اضافی فوجی، اور العدید ایئر بیس ایک بار پھر مرکزِ نگاہ بن گیا ہے تو مجھے حیرت نہیں ہوتی۔ طاقتور جب خوف زدہ ہوتے ہیں تو سب سے پہلے ہتھیار حرکت میں آتے ہیں، دلیل نہیں۔ یہی تو یزید یوں کا پرانا وطیرہ ہے۔
میں اعتراف کرتا ہوں کہ صہیونی لے پالک میڈیا مجھے محض جغرافیائی تجزیہ فراہم کرتا ہے، اخلاقی و دینی جرات نہیں۔ میں خبریں سنتا ہوں اور اسے “خطے کی صورتحال” کہہ کر آگے بڑھ جاتا ہوں، جیسے یہ محض شطرنج کی بساط ہو۔۔۔کچھ بحری جہاز، کچھ فضائی اثاثے، پانچ ہزار سات سو اضافی اہلکار۔۔۔اور ان اعداد و شمار کے نتیجے میں جو انسان ، بستیاں ، مائیں اور بچے اُجڑیں گے مجھے اُن سے کوئی سروکار نہیں۔
میں اعتراف کرتا ہوں کہ جب امریکی صدر ایران کے اندرونی احتجاج کو جواز بنا کر ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارے دیتا ہے تو میرا جمہوریت، امن، استحکام، اور سلامتی جیسے الفاظ سے میرا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ میں اس بد اعتمادی کے باوجود امریکہ کو سامراج کہنے سے ہچکچاتا ہوں، کیونکہ اگر ایک مرتبہ سچ بول دیا تو تو پھر میرا سکون خطرے میں پڑ جائے گا۔
میں اعتراف کرتا ہوں کہ یہ وہی فضا ہے جو گزشتہ برسوں میں بھی تھی۔وہی تناؤ، وہی نقل و حرکت، وہی عالمی بےچینی اور میں تب بھی تماشائی تھا، آج بھی ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ طاقتور کیسے جمع ہوتے ہیں لیکن میں یہ نہیں پوچھتا کہ ان کا رخ کس طرف ہے، کیونکہ رخ کا سوال آخرکار مجھے کسی ایک طرف کھڑا ہونے پر مجبور کر دیتا ہے، اور میں غیرجانبداری کو آج بھی اپنی سب سے محفوظ پناہ گاہ سمجھتا ہوں۔
میں اعتراف کرتا ہوں کہ اگر حسینؑ آج ہمارے درمیان ہوتے تو وہ اس بحری بیڑے کو دیکھ کر خاموش نہ رہتے۔ وہ یہ نہ پوچھتے کہ یہاں پر امریکا کیا کر رہا ہے بلکہ وہ یہ پوچھتے کہ اس کے مقابلے کیلئے تم کیا کر رہے ہو؟کیا تم اس پیش قدمی کو “اسٹریٹجک موو” کہہ کر قبول کر رہے ہو؟کیا تم بموں کو امن اور فوجی اڈوں کو استحکام کا نام دے کر مطمئن ہو گئے ہو؟یا پھر تم نے بھی، میری طرح، حساب کتاب کو اصولوں پر ترجیح دے دی ہے؟
یقین جانئے! مجھ جیسے لوگوں کو امریکا سے کوئی مسئلہ نہیں، ہمیں مسئلہ حسینؑ سے ہے۔ حسینؑ جو خاموش نہیں رہتے، جو سوال کرتے ہیں، جو مجھ سے بیعت مانگتے ہیں۔ امریکہ سے مجھے کوئی خطرہ نہیں لیکن حسینؑ سے مجھے خطرہ ہے، کیونکہ میرا سکون داؤ پر لگتا ہے، اور مجھ جیسے لوگ اپنے سکون کو بچانے کے لیے ہی تو غلط راستوں اور غلط دوستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔
مجھے خوف ہے کہ اگر آج وقت کا حسینؑ ظہور کرے تو میں خوش نہیں بلکہ مضطرب ہو جاوں گا۔ان کی موجودگی سے میرے آرام میں خلل پڑے گا، اور میری بساط اُلٹ جائے گی۔ ۔ وہ مجھے یہ اجازت نہیں دیں گے کہ میں بیک وقت نیک بھی دکھائی دوں اور محفوظ بھی رہوں، اس لیے کہ جرات ہمیشہ ٹکراو کا باعث بنتی ہے۔ حسینؑ میرے لیے مسئلہ ہیں، اس لیے کہ وہ مجھے بدلنا چاہتے ہیں، اور انسان کو سب سے زیادہ خوف اپنی تبدیلی سے آتا ہے۔
مشرقِ وسطی ٰ کے میدان میں آج میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں حق کو اس وقت تنہا نہیں چھوڑتا کہ جب وہ کمزور ہوتا ہے بلکہ اس وقت بالکل چھوڑتا ہوں جب وہ مہنگا پڑتا ہے۔ میں اصولوں کا نہیں، حساب کتاب و نفع نقصان کا آدمی ہوں۔ مجھے وہ سچ پسند ہے جو نفع دے، اور وہ حق قابلِ قبول ہے جو نقصان نہ مانگے۔ جہاں قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، وہاں میں تاویلیں تراشتا ہوں، مصلحتوں کے پردے لٹکاتا ہوں، اور ضمیر کو خاموش کر دیتا ہوں، کیونکہ ضمیر جاگتا رہے تو زندگی آسان نہیں رہتی۔
میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے اپنے خوف کو عقلمندی کا نام دیا ہوا ہے، اپنی بزدلی کو حکمت کا لبادہ اوڑھا رکھا ہے، اور اپنی پسپائی کو مصلحت کہتا ہوں ۔ میں نے لوگوں کے سامنے اپنی بے جا خاموشی کو شرافت اور بےعملی کو دینداری بنا کر پیش کیا ہوا ہے ۔ میرے انہی خوش نما لفظوں نے ظلم کو عام اور ظالموں کو مضبوط کیا ہوا ہے، اور انہی مہذب اصطلاحوں سے ہر دور میں ایک خاموش، منظم اور باقاعدہ کربلا وجود میں آتی ہے۔
میں اعتراف کرتا ہوں کہ اگر میں کربلا میں ہوتا تو نہ حسینؑ کے خیمے میں ہوتا، نہ یزید کے لشکر میں۔ میں تو کنارے کھڑا غیرجانبدار کہلاکر یزید کی مدد کرتا کیونکہ ظالموں کے مدد گاروں کیلئے غیرجانبداری ایک اچھی اصطلاح ہے۔ میرے حالات بتا رہے ہیں کہ میں اگر دس محرم الحرام ۶۱ ھجری میں موجود ہوتا تو انتظار کرتا کہ انجام کیا ہوتا ہے، فتح کس کی ہوتی ہے، تاریخ کس کے حق میں لکھی جاتی ہے، کیونکہ میں حق کو نہیں، نتیجے کو ماننے کا عادی ہوں۔ میں انتظار کرتا اور جب سب کچھ ختم ہو جاتا، تو میں آنسو بہانے والوں میں سب سے آگے ہوتا، یہ کہتا ہوا کہ دل تو شروع سے حسینؑ کے ساتھ تھا۔
میں اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے دین وہاں تک عزیز ہے جہاں تک وہ مجھے بےنقاب نہ کرے۔ وہ دین جو میری خاموشی پر سوال اٹھائے، میری مصلحت کو بے نقاب کرے، اور مجھے حق اور فائدے کے درمیان کسی ایک کے انتخاب پر مجبور کرے، وہ دین مجھے ناگوار گزرتا ہے۔ مجھے عبادت پسند ہے، ذمہ داری نہیں کیونکہ ذمہ داری انسان سے اس کا عذر چھین لیتی ہے۔
میں اعتراف کرتا ہوں کہ اگر حسینؑ آج آ جائیں تو میں انہیں خاموش کرانا چاہوں گا۔تلوار سے نہیں، تہذیب سے، مخالفت سے نہیں، مصلحت سے، یہ کہہ کر کہ حالات نازک ہیں، وقت مناسب نہیں، وحدت خطرے میں ہے۔ میں وہی کروں گا جو ہر دور میں سچ بولنے والوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اگر حسین آ جائیں تو میرا اُن کے حوالے سے کوئی موقف نہیں ہوگا اور اگر ہو بھی تو ایک گول مول سا موقف۔ اسی لئے تو میں نے کربلا کو ایک رسم بنا دیا ہے تاکہ مجھے کسی موقف کی ضرورت نہ پڑے۔ میں نے آنسوؤں کو جنت کا بدل بنایا، ماتم کو قیام کا بدل، اور مجلس کو انقلاب کا بدل۔ یوں میں نے خود کو مطمئن بھی کر لیا اور خود کو دیندار بھی سمجھ لیا، بغیر کچھ بدلے، بغیر کچھ دیے، کیونکہ علامتیں اختیار کرنا آسان ہے، اور کردار تبدیل کرنا مشکل۔
مجھے جیسے لوگوں کیلئے حسینؑ جب صرف شہید ہوں تو قابلِ محبت ہوتے ہیں، مگر جب زندہ ہوں تو ناقابلِ برداشت، کیونکہ زندہ حسینؑ روکتے اور ٹوکتے ہیں۔ وہ نہ غیرجانبداری کی اجازت دیتے ہیں، نہ بےقیمت ایمان کی۔ وہ یا تو انسان کو ت بدل دیتے ہیں، یا نیا بنا دیتے ہیں اور میں ان دونوں کاموں سے خوف زدہ ہوں۔ امریکا کی مشرق وسطیٰ میں بڑی فوجی پیش قدمی جاری ہے۔ اس پیش قدمی کو دیکھ کر میں خوف زدہ ہوں ۔۔۔امریکہ سے نہیں حسینؑ سے خوف زدہ ہوں۔ مجھے خوف جنگ سے نہیں، مجھے خوف اس بات سے ہے کہ کہیں حسینؑ کا استغاثہ مجھے دوبارہ نہ سنائی دے جائے۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں