زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

ہفتہ، 24 جنوری، 2026

مشرق وسطیٰ ۔۔۔مجھے خوف جنگ سے نہیں!

مشرق وسطیٰ ۔۔۔مجھے خوف جنگ سے نہیں!

ڈاکٹر نذر حافی
امریکا کی مشرق وسطیٰ میں بڑی فوجی پیش قدمی جاری ہے۔ اس پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے  میں اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے خوف ہے۔   مجھے ڈر ہے کہ جیسے ہی میں اس امریکی بحری بیڑے کو یزید کی جدید صورت میں پہچان لوں گا، ویسے ہی مجھے اپنی خاموشی کو بھی  توڑنا پڑے گا۔  میرے لئے  مسئلہ یہ نہیں کہ بحرِ ہند میں بحری جہاز کیوں پہنچ گئے ،  مسئلہ یہ ہے کہ میرے ضمیر کے ساحل پر کب سے خاموشی کا پہرہ لگا ہوا ہے۔

میں اعتراف کرتا ہوں کہ جب میں یہ خبر سنتا ہوں کہ ایران سے کشیدگی کے نام پر امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے،بحری بیڑا بحرِ ہند تک آ پہنچا ہے، طیارہ بردار جہاز، جنگی طیارے، ہزاروں اضافی فوجی، اور العدید ایئر بیس ایک بار پھر مرکزِ نگاہ بن گیا ہے تو مجھے حیرت نہیں ہوتی۔ طاقتور جب خوف زدہ ہوتے ہیں تو سب سے پہلے ہتھیار حرکت میں آتے ہیں، دلیل نہیں۔ یہی تو یزید یوں کا پرانا وطیرہ ہے۔

میں اعتراف کرتا ہوں کہ صہیونی لے پالک میڈیا  مجھے محض جغرافیائی تجزیہ فراہم کرتا ہے، اخلاقی و دینی جرات  نہیں۔ میں خبریں سنتا ہوں اور  اسے “خطے کی صورتحال” کہہ کر آگے بڑھ جاتا ہوں، جیسے یہ محض شطرنج کی بساط ہو۔۔۔کچھ بحری جہاز، کچھ فضائی اثاثے، پانچ ہزار سات سو اضافی اہلکار۔۔۔اور  ان اعداد و شمار کے  نتیجے میں  جو  انسان ، بستیاں ، مائیں اور بچے  اُجڑیں گے مجھے اُن سے کوئی سروکار نہیں۔
میں اعتراف کرتا ہوں کہ جب امریکی صدر ایران کے اندرونی احتجاج کو جواز بنا کر ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارے دیتا ہے  تو میرا  جمہوریت، امن، استحکام، اور  سلامتی جیسے الفاظ سے میرا اعتماد  اٹھ جاتا ہے۔ میں اس بد اعتمادی کے باوجود  امریکہ کو  سامراج کہنے سے ہچکچاتا ہوں، کیونکہ اگر ایک مرتبہ  سچ بول دیا تو تو پھر میرا سکون خطرے میں پڑ جائے گا۔
میں اعتراف کرتا ہوں کہ یہ وہی فضا ہے جو گزشتہ برسوں میں بھی تھی۔وہی تناؤ، وہی نقل و حرکت، وہی عالمی بےچینی اور میں تب بھی تماشائی تھا، آج بھی ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ طاقتور کیسے جمع ہوتے ہیں لیکن میں یہ نہیں پوچھتا کہ ان کا رخ کس طرف ہے، کیونکہ رخ کا سوال آخرکار مجھے کسی ایک طرف کھڑا ہونے پر مجبور کر دیتا ہے، اور میں غیرجانبداری کو آج بھی اپنی سب سے محفوظ پناہ گاہ سمجھتا ہوں۔
میں اعتراف کرتا ہوں کہ اگر حسینؑ آج  ہمارے درمیان ہوتے تو وہ اس بحری بیڑے کو دیکھ کر خاموش نہ رہتے۔ وہ یہ نہ پوچھتے کہ یہاں پر  امریکا کیا کر رہا ہے بلکہ وہ یہ پوچھتے کہ  اس کے مقابلے کیلئے تم کیا کر رہے ہو؟کیا تم اس پیش قدمی کو “اسٹریٹجک موو” کہہ کر قبول کر رہے ہو؟کیا تم بموں کو امن اور فوجی اڈوں کو استحکام کا نام دے کر مطمئن ہو گئے ہو؟یا پھر تم نے بھی، میری طرح، حساب کتاب کو اصولوں پر ترجیح دے دی ہے؟

یقین جانئے! مجھ جیسے لوگوں کو امریکا سے کوئی مسئلہ نہیں، ہمیں مسئلہ حسینؑ  سے ہے۔  حسینؑ جو خاموش نہیں رہتے، جو سوال کرتے ہیں، جو مجھ سے بیعت مانگتے ہیں۔ امریکہ سے مجھے  کوئی خطرہ نہیں لیکن  حسینؑ سے مجھے خطرہ ہے،  کیونکہ میرا سکون داؤ پر لگتا ہے، اور  مجھ جیسے لوگ  اپنے  سکون کو بچانے کے لیے ہی تو  غلط راستوں اور غلط دوستوں  کا انتخاب کرتے ہیں۔

مجھے خوف ہے کہ  اگر  آج وقت کا حسینؑ  ظہور کرے تو میں خوش نہیں بلکہ مضطرب ہو جاوں گا۔ان کی موجودگی سے میرے آرام میں خلل پڑے گا، اور میری بساط اُلٹ جائے گی۔ ۔ وہ مجھے یہ اجازت نہیں دیں گے کہ میں بیک وقت نیک بھی دکھائی دوں اور محفوظ بھی رہوں، اس لیے کہ جرات ہمیشہ ٹکراو کا باعث بنتی ہے۔ حسینؑ میرے لیے مسئلہ ہیں، اس لیے کہ وہ مجھے بدلنا چاہتے ہیں، اور انسان کو سب سے زیادہ خوف اپنی تبدیلی سے آتا ہے۔

مشرقِ وسطی ٰ کے میدان میں آج میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں حق کو اس وقت تنہا نہیں چھوڑتا کہ  جب وہ کمزور ہوتا ہے بلکہ اس وقت بالکل  چھوڑتا ہوں جب وہ مہنگا پڑتا ہے۔ میں اصولوں کا نہیں، حساب کتاب و نفع نقصان  کا آدمی ہوں۔ مجھے وہ سچ پسند ہے جو نفع دے، اور وہ حق قابلِ قبول ہے جو نقصان نہ مانگے۔ جہاں قیمت ادا کرنی پڑتی  ہے، وہاں میں تاویلیں تراشتا ہوں، مصلحتوں کے پردے لٹکاتا ہوں، اور ضمیر کو خاموش کر دیتا ہوں، کیونکہ ضمیر جاگتا رہے تو زندگی آسان نہیں رہتی۔

میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے اپنے خوف کو عقلمندی  کا نام دیا ہوا ہے، اپنی بزدلی کو حکمت کا لبادہ اوڑھا رکھا ہے، اور اپنی پسپائی کو مصلحت کہتا ہوں ۔ میں نے  لوگوں کے سامنے اپنی بے جا خاموشی کو شرافت اور بےعملی کو دینداری بنا کر پیش کیا ہوا ہے  ۔ میرے  انہی خوش نما لفظوں نے ظلم کو  عام اور ظالموں کو مضبوط کیا ہوا ہے، اور انہی مہذب اصطلاحوں سے ہر دور میں ایک خاموش، منظم اور باقاعدہ کربلا وجود میں آتی ہے۔

میں اعتراف کرتا ہوں کہ اگر میں کربلا میں ہوتا تو نہ حسینؑ کے خیمے میں ہوتا، نہ یزید کے لشکر میں۔ میں تو کنارے کھڑا  غیرجانبدار کہلاکر یزید کی مدد کرتا کیونکہ ظالموں کے مدد گاروں کیلئے  غیرجانبداری ایک اچھی اصطلاح ہے۔ میرے حالات بتا رہے ہیں کہ میں  اگر دس محرم الحرام ۶۱ ھجری میں موجود  ہوتا تو انتظار کرتا کہ انجام کیا ہوتا ہے، فتح کس کی ہوتی ہے، تاریخ کس کے حق میں لکھی جاتی ہے، کیونکہ میں حق کو نہیں، نتیجے کو ماننے کا عادی ہوں۔ میں انتظار کرتا اور  جب سب  کچھ ختم ہو جاتا، تو میں آنسو بہانے والوں میں سب سے آگے ہوتا، یہ کہتا ہوا کہ دل تو شروع سے حسینؑ کے ساتھ تھا۔

میں اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے دین وہاں تک عزیز ہے جہاں تک وہ مجھے بےنقاب نہ کرے۔ وہ دین جو میری خاموشی پر سوال اٹھائے، میری مصلحت کو بے نقاب کرے، اور مجھے حق اور فائدے کے درمیان کسی ایک کے انتخاب پر مجبور کرے، وہ دین مجھے ناگوار گزرتا ہے۔ مجھے عبادت پسند ہے،  ذمہ داری نہیں کیونکہ ذمہ داری انسان سے اس کا عذر چھین لیتی ہے۔

میں اعتراف کرتا ہوں کہ اگر حسینؑ آج آ جائیں تو میں انہیں خاموش کرانا چاہوں گا۔تلوار سے نہیں، تہذیب سے، مخالفت سے نہیں، مصلحت سے،  یہ کہہ کر کہ حالات نازک ہیں، وقت مناسب نہیں، وحدت خطرے میں ہے۔ میں وہی کروں گا جو ہر دور میں سچ بولنے والوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اگر حسین آ جائیں تو میرا  اُن کے حوالے سے کوئی موقف نہیں ہوگا اور اگر ہو بھی تو ایک گول مول سا موقف۔ اسی لئے تو  میں نے کربلا کو ایک رسم بنا دیا ہے تاکہ مجھے کسی موقف کی ضرورت نہ پڑے۔ میں نے آنسوؤں کو جنت کا بدل بنایا، ماتم کو قیام کا بدل، اور مجلس کو انقلاب کا بدل۔ یوں میں نے خود کو مطمئن بھی کر لیا اور خود کو دیندار بھی سمجھ لیا، بغیر کچھ بدلے، بغیر کچھ دیے، کیونکہ علامتیں اختیار کرنا آسان ہے، اور کردار  تبدیل کرنا مشکل۔
مجھے جیسے لوگوں کیلئے حسینؑ جب صرف شہید ہوں تو قابلِ محبت ہوتے ہیں، مگر جب زندہ ہوں تو ناقابلِ برداشت، کیونکہ زندہ حسینؑ  روکتے اور ٹوکتے ہیں۔ وہ نہ غیرجانبداری کی اجازت دیتے ہیں، نہ بےقیمت ایمان کی۔ وہ یا تو انسان کو ت بدل  دیتے ہیں، یا نیا بنا دیتے ہیں اور میں ان دونوں کاموں  سے خوف زدہ ہوں۔ امریکا کی مشرق وسطیٰ میں بڑی فوجی پیش قدمی جاری ہے۔ اس پیش قدمی کو دیکھ کر میں خوف زدہ ہوں ۔۔۔امریکہ سے نہیں حسینؑ سے خوف زدہ ہوں۔ مجھے خوف  جنگ سے نہیں، مجھے خوف اس بات سے ہے کہ کہیں حسینؑ کا استغاثہ  مجھے دوبارہ نہ سنائی دے جائے۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...