زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

جمعہ، 20 فروری، 2026

کیا پاکستان اب کشمیر کو اپنا حصّہ نہیں سمجھتا؟

کیا پاکستان اب کشمیر کو اپنا حصّہ نہیں سمجھتا؟

ڈاکٹر نذر حافی : 
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم : 
یہ بھی عجب المیّہ ہے۔ خاموشی کا المیّہ ، اور  سُکھ چین کا المیّہ۔  مقبوضہ جمّوں و کشمیر جل رہا ہے اور نیرو  چین کی بانسری بجا رہا ہے۔ غزہ امن بورڈ کے ابتدائی اجلاس میں وزیراعظم میاں شہباز شریف  نے  مسٹر ٹرمپ کی تعریفوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے لیکن  کشمیری عوام کے لیے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ بلاشبہ  اس خاموشی نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے تاریخی اور اخلاقی کردار پر  ایک گہری چوٹ لگائی ہے۔ ملتِ پاکستان پہلے ہی غزہ امن بورڈ کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتی ہے،  اب اگر ایک اس فورم پر پاکستان  اپنے اخلاقی فریضے یعنی مظلوم کشمیریوں کی حمایت کو نظر انداز کرتا ہے  تو پھر فلسطینیوں کی کیا خاک مدد کرے گا؟ ہماری دانست میں  آگے چل کر اس خاموشی  سے پاکستان کی عالمی ساکھ،  مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں اس کی مقبولیت  اور دنیا میں پاکستان کے  سفارتی اثرورسوخ پر دیرپا  منفی اثر پڑے گا۔
سنہ 1989 سے اب تک مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی متعدد رپورٹوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں  ہزاروں شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ 2016 کے بعد صرف پیلٹ گنز کے استعمال سے سیکڑوں نوجوان بینائی سے محروم اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ اگست 2019 میں خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد طویل کرفیو، مواصلاتی بندش، اور ہزاروں سیاسی کارکنوں و نوجوانوں کی گرفتاریوں نے وادی کو ایک وسیع حصار میں تبدیل کر دیا۔
اس دوران وادی میں ناکہ بندیوں کا جال، پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربندیاں، اور انٹرنیٹ کی طویل معطلی نے تعلیمی و معاشی سرگرمیوں میں شدید اختلال پیدا کیا۔ اعداد و شمار کے مطابق چند مہینوں میں ہزاروں افراد حراست و تفتیش کے مراحل سے گزرے، درجنوں صحافی اور کارکن قانونی کارروائیوں کا سامنا کر چکے ہیں، اور متعدد بستیوں میں جھڑپوں اور تصادم کا بازار گرم رہا۔ اس وادیِ بے اماں میں لفظ "سلامتی" اپنی آبرو کھو چکا ہے۔
اب بھارت کشمیریوں کے خلاف منشیات کو بطورِ ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ قابض حکام نے منشیات کے مسئلے کو ابتدا میں خطرہ قرار دیا، اور پھر اسی خطرے کے نام پر تشدد اور ٹارگٹ کلنگ کو ضرورت کا درجہ دے دیا۔ پرویز گجر اور دیگر ہدف بننے والے افراد کے قتل اور منشیات کے بڑھتے رجحان کے درمیان ایک مبہم مگر معنی خیز ربط موجود ہے۔ ایک طرف منشیات اور سماجی دباؤ کے ذریعے نوجوان نسل کو جسمانی، اخلاقی اور دینی طور پر کمزور کیا جا رہا ہے، اور دوسری طرف اسی فضا میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں انجام پا رہی ہیں۔
بھارت اب صرف کشمیر کے جغرافیے پر قابض نہیں رہا؛ وہ ایک طاقتور دیو کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ نوجوانوں کے افکار، پہاڑوں کی بلندیاں، پانی کا بہاؤ، راستوں کی نگرانی، اور بستیوں کی آبادی ۔۔۔ سب کچھ بدل رہا ہے۔ پاکستان کو اس تبدیلی سے آنکھیں نہیں چرانی چاہیے۔ خطرہ پاکستان کی دہلیز پر دستک دے رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو فریق زمین پر قابض ہے، وہ زمانے کی رفتار پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کو نگرانی، رسائی اور فوری ردِعمل کی مکمل صلاحیت حاصل ہے۔ وہ عملاً کشمیریوں کی نقل و حرکت کی نگرانی، راستوں اور بلند مقامات پر کنٹرول، اور آبادی کی جغرافیائی ترتیب پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ صاف بات یہ ہے کہ جو فریق زمین اور راستوں پر کنٹرول رکھتا ہے، وہ سماجی اور سیاسی حرکیات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
آج مقبوضہ کشمیر میں بھارت صرف عسکری طاقت تک محدود نہیں۔ اس کا وجود بیانیہ، قانون، جغرافیہ اور ادارہ جاتی ڈھانچوں کا مجموعہ بن چکا ہے۔ میڈیا سروس اور مختلف طبی و سماجی سروے رپورٹوں کے مطابق، اگر جموں و کشمیر میں منشیات کے خلاف بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے، تو یہ بہت بڑا انسانی المیہ پیدا کر سکتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ کہیں پر بھی جب نوجوان آبادی امید، روزگار اور سیاسی شرکت سے محروم ہو جائے، تو سماجی خلا منفی رجحانات سے بھر جاتا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 70 ہزار افراد منشیات کے عادی ہیں، جن میں 90 فیصد کی عمر 17 سے 35 سال کے درمیان ہے۔ حالیہ برسوں میں منشیات کے استعمال میں 1500 فیصد اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطہ شدید سماجی اور نفسیاتی دباؤ کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر کے شعبہ نفسیات اور محکمہ سماجی بہبود نے اس رجحان کو ایک ابھرتے ہوئے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی کے طور پر شناخت کیا ہے۔ریاست کی خصوصی حیثیت پر بھارت نے شب خون مارا، لیکن اب افراد کی ذہنی، سماجی اور معاشی زندگی بھی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق، مزاحمتی سیاست کو کمزور کرنے کے لیے نوجوانوں کو منشیات کے ذریعے غیر سیاسی اور غیر فعال بنانا قابض فورسز کی حکمتِ عملی ہے۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو منشیات کا بحران صرف صحت کا مسئلہ نہیں، بلکہ شعور اور ارادے کی جنگ کا ایک اہم پہلو بھی ہے۔
دوسری جانب بھارتی پیراملٹری فورس، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)، نے 43 عارضی آپریٹنگ اڈے قائم کیے، جن میں 26 وادی کشمیر اور 17 جموں میں ہیں، زیادہ تر بلند و بالا علاقوں میں۔ اس پیش رفت کے ذریعے بھارت نے اپنی جغرافیائی برتری سے کشمیریوں کے محاصرے کو مزید سخت کر دیا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ فلسطین میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی طرح، مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی بڑھتی ہوئی عسکری موجودگی کیا رنگ دکھائے گی؟ کیا پاکستان کو اس سارے منظرنامے سے الگ تھلگ رہنا چاہیے؟کیا  یہ خطرہ پاکستان کے لیے چیلنج نہیں؟ کیا کشمیر صرف کشمیریوں کا مسئلہ ہے یا پاکستانیوں کا بھی؟
وزیراعظم میاں شہباز شریف نے اجلاس میں کشمیری عوام کا ذکر نہ کر کے  یہ پیغام بین الاقوامی سطح پر دیا ہے کہ پاکستان کشمیری ایشو پر اتنا زیادہ پرعزم نہیں۔یہ صورت حال خاص طور پر مسلم دنیا میں پاکستان کے کردار کو کمزور کر سکتی ہے، کیونکہ پاکستان ہمیشہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا وکیل رہا ہے۔ یہ بھارت کی  سفارتی فتح بھی ہے کہ پاکستان اس فورم کی وساطت سے  کشمیر ایشو کو عالمی ایجنڈے پر نہیں لے جا سکا۔ اس سے  امریکہ اور دیگر مغربی ممالک  کو بھی یہ تاثر گیا ہے کہ پاکستان اب کشمیر کو اپنا حصّہ نہیں سمجھتا اور  اپنے مفادات کو کشمیر سے  جداگانہ طور پر دیکھتا ہے۔ بہر حال یہ کیسا اخلاقی تضاد ہے کہ کشمیریوں کے وکیل  وزیراعظم میاں شہباز شریف نے اپنی تقریر میں کشمیر کے لیے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ یہ تضاد ظاہر کرتا ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہد عالمی سطح پر نظرانداز کی جا رہی ہے، اور پاکستان کی ترجیحات میں کشمیری مسائل پچھلی صفوں میں دھکیل دیے گئے ہیں۔ بھارت تو پہلے سے ہی  ہر میدان میں  اخلاقی پستی کا مظاہرہ کر چکا ہے، کیا اب پاکستان بھی کشمیریوں کی اخلاقی حمایت سے دستبردار ہوا چاہتا ہے؟ خدا نہ کرے کہ ہم عالمی برادری کے بیچ میں اپنی  اخلاقی جرات ہی کھو دیں چونکہ  جو انسان اخلاقی جرائت کھودے وہ دوسروں کی کیا حمایت کرے گا،  وہ تو  اپنی آزادی اور وقار کی حفاظت بھی نہیں کر سکتا۔



0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...