سُپریم لیڈرکی شہادت کا پہلادِن کیسے گُزرا؟
ڈاکٹر نذر حافی
اُن کا ہدف عسکری تنصیبات پر حملے کے بجائے “کمانڈ اینڈ کنٹرول” تھا ۔ یعنی وہ قیادت جس سے ریاست چلتی ہے اس کا خاتمہ ۔ انہیں خوش فہمی تھی کہ ہم سر کاٹیں گے تو جسم خود بخود گر جائے گا۔ پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ ویسا نہیں ہوا جیسا امریکہ و اسرائیل نے خیال کیا تھا۔ یقین جانئے آگے بھی ویسا نہیں ہوگا۔
یہاں پر مودی کے دورہ
اسرائیل اور ساتھ ہی افغانستان و پاکستان کے حالات کو بھی سامنے رکھئے۔ اس کے ساتھ ہی ایران پر امریکہ و اسرائیل کا حملہ
سوچنے اور سمجھنے والوں کیلئے اپنے اندر بہت کچھ رکھتا ہے۔ خیر یہ تو ظاہر ہے کہ ایران
تو اپنی جنگ خود ہی لڑے گا اورڈٹ کر لڑے گا۔
تاہم دیگر ممالک کیلئے یہ بڑی تلخ
حقیقت ہے کہ دشمن کے سامنے ہتھیار پھینکنے کے بعد جو تاوان ادا کرنا پڑتا ہے وہ سر
کٹا دینے سے کئی گُنا زیادہ ہوتا ہے۔جنگ
کے پہلے روز امریکہ اور اسرائیل نے سوچا تھا کہ ساری گیم تین چار گھنٹوں کی ہے۔ ہماری ایک ہی ضرب
فیصلہ کن ثابت ہو گی۔ اناً فاناً ایران
کی قیادت کا خاتمہ ہو جائے گا اور اس کے
بعد اسلامی نظام کسی پکے ہوئے پھل کی مانند خود بخود گر جائے
گا۔ حملے کے بعد ٹرمپ کا آٹھ منٹ کا خطاب، ٹرمپ کیلئے ساری دنیا کی لعنتیں سمیٹنے کیلئے کافی ثابت
ہوا۔ اس خطاب میں ایرانی عوام کو واضح طور پر بغاوت پر اکسایا گیا لیکن ٹرمپ کو
پھر منہ کی کھانی پڑی۔ وہ بھبھکیاں مارتا
رہا کہ “اقتدار خالی ہے، آگے بڑھو اور سنبھالو۔” یہ میزائلوں کے بعد دماغوں
پر الفاظ کا حملہ تھا ، میڈیا وار تھی ، بیانیے
کی جنگ اور عوامی ذہنوں پر یلغار تھی۔۔۔لیکن
اس کا نتیجہ بھی امریکہ و اسرائیل کی توقعات کے
برعکس نکلا۔ایران کے سُپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت اعلی ترین قیادت کی شہادت اور دیگر تمام تر خطرات کے باوجود
ایران ِ اسلامی خاموش نہیں رہا۔ جنگ کے پہلے روز ایران
میں کئی قیمتی انسانی جانیں اپنے دین اور وطن پر قربان ہو گئیں ۔ ایران خون، دھوئیں
اور بارود سے بھر گیا لیکن جھکا نہیں۔ صرف
ایک گھنٹے کے اندر ہی ایران نے ملٹی لیئر رسپانس دیا۔ پہلے مرحلے میں
بیلسٹک اور ڈرون حملے، دوسرے مرحلے میں خطے میں موجود امریکی بیسز پر پریشر اسٹرائیکس،
تیسرے مرحلے میں سمندری محاذ کو فعال کرنا۔ جوابی کارروائی کی نوعیّت بتاتی ہے کہ یہ
بالکل اچانک یا صرف جذباتی ردعمل نہیں تھا
۔ یہ اہل ایمان کی طرف سے کفار کے مقابلے کیلئے پہلے سے تیار شدہ "وار پلان" کی ایکٹیویشن تھی۔
میدانی اطلاعات اور بصری شواہد کی روشنی میں یہ امر روزِ روشن کی
طرح عیاں ہے کہ ایران نے اپنی جوابی حکمتِ عملی میں امریکی و اسرائیلی اہداف کو
براہِ راست نشانہ بنایا ۔ ضرب بھی متعیّن، اور پیغام بھی مبیّن۔ ابتدائی مرحلے ہی
میں امریکی فضائی برتری کے سارے خود ساختہ افسانے تحلیل ہوگئے اور اسرائیلی دفاعی حصار کے دعوے تباہ ہوگئے۔
ایران پر حملہ امریکہ و اسرائیل کو کتنا مہنگا پڑا یہ عنقریب مزید
آشکار ہو جائے گا۔ آج بھی ساری دنیا نے دیکھا کہ ایران پر حملے کے بعد اسرائیل کے مختلف شہروں میں سائرن گونجتے رہے
اور دیکھتے ہی دیکھتے ایران نے منطقے میں
موجود دشمن کے اڈوں پر تباہی مچا دی۔ فضا میں اینٹی میزائل انٹرسیپٹرز کی چمک اور
زمین پر دھماکوں کی گونج ۔ مناسب تو یہ ہے
کہ دنیا اسے ایران کا جوابی حملہ سمجھنے کے بجائے اسے خدا کی
ذات پر اعتماد اور اُس کی قدرت پر توکل کا اعلان
سمجھے۔
بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے
سے لے کر خلیجی ریاستوں اور تُرکی میں
موجود امریکی تنصیبات کے اڑتے ہوئے پر خچے بھی ساری دنیا نے دیکھے۔سچ مچ ایران کا یہ دفاعی
آپریشن دنیا کو “فتحِ خیبر” کی یاد
دلا گیا۔ فتح خیبر یعنی یہ جنگ صرف جغرافیے کی نہیں، بیانیے اور حوصلے کی بھی ہے۔ یہاں پر ایک نکتہ ہمارے سفارتکاروں کی جانب سے عرب ریاستوں
کو بھی سمجھایا جانا چاہیے۔ بعض عرب ریاستوں
نے اپنی سرزمین پر امریکی عسکری اڈوں کو اس تصور کے ساتھ جگہ دے رکھی ہے کہ یہ ان کی حفاظت کریں گے جبکہ یہ اڈّے در اصل اسرائیل کی حفاظت کیلئے ہیں۔ اس
معرکے میں ایران کی طرف سے امریکی اڈوں اور عسکری تنصیبات کے خلاف محدود
اور متعین اقدام کسی بھی طور پر عرب ریاستوں
کے خلاف نہیں۔ یہ توقع رکھنا کہ امریکہ جیسے خونخوار دشمن کے فارورڈ
اڈوں کو ایران فقط اس بنا پر
نشانہ نہ بنائے کہ وہ کسی “برادر ملک” کی سرزمین پر قائم ہیں، محض سادہ اندیشی
ہے، نہ کہ سنجیدہ و دفاعی حکمتِ عملی۔
ایران نے اپنے دفاع کیلئے عرب ریاستوں میں واقع امریکی اڈوں کو
بڑی چابکدستی اور انتہائی مہارت کے ساتھ
ٹھیک ٹھیک نشانہ بنا کر عرب ریاستوں کو یہ
پیغام دیا ہے کہ جنگ میں صرف قوت نہیں، ضبط بھی فیصلہ کن ہوتا ہے۔ اب عرب ریاستوں
کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پیغام کی قدروقیمت کو سمجھیں۔ ایران نے جنگ کے پہلے
روز یہ ثابت کیا ہے کہ یہ مرحلہ قوت کی نمائش سے زیادہ حکمت و دانائی کی آزمائش
کاہے۔
اُس نے خدا کی طاقت پر
اعتماد کرتے ہوئے میدانِ جنگ کو صرف زمین تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ کفر کے
مقابلے کیلئے فضا، سمندر، سائبر اسپیس اور
میڈیا۔۔۔ سب محاذ کھول دییے ہیں۔ یاد رکھیں! اس وقت ہمارے حصے میں دعا کرنے کا
محاذ ہے اور یہی سب سے اہم محاذ ہے۔ ہمیں اس محاذ پر غفلت نہیں برتنی چاہیے۔ اس
وقت ایک طرف آج کے زمانے کا کُلِّ کفر اور اس کے اتحادی ہیں اور دوسری طرف کُلِّ ایمان اور ایمان کی طاقت ہے۔
ایران نے تو یہ ثابت کر دیا ہے کہ جنگ میں حکمت و دانائی کا اظہار کیسے ہوتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ باقی دنیا کی
دعائیں، ریلیاں، سفارتکاریاں،
احساسات، جذبات اور ہمدردیاں کتنی حکمت آمیز
ہیں۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں