مظاہرین کی شہادتیں اور شہیدوں کا پیغام
ڈاکٹر نذر حافی
گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں میں لوگ شہید اور زخمی ہوئے۔اِن مظاہرین کے دو ہی مطالبے تھے ، ایک یہ کہ پاکستان غزہ بورڈ سے الگ ہو جائے اور دوسرا یہ کہ پاکستان میں امریکی سفارتخانوں کو بند کیا جائے۔ اس بارے میں جو نہیں جانتے وہ یہ جان لیں کہ قانونی طور پر کسی بھی ملک کا سفارت خانہ میزبان ملک کے بجائے اُس ملک کی سرزمین شمار ہوتا ہے جس کا وہ سفارت خانہ ہوتا ہے۔
بین الاقوامی قانون ﴿ سفارتی تعلقات کا ویانا معاہدہ 1961ء ﴾ کے مطابق سفارت خانے کی عمارت تو قانونی طور پر میزبان ملک ہی کی حدود میں ہوتی ہے تاہم اُس عمارت کے اندر میزبان ملک کے قوانین نافذ نہیں ہوتے۔ یعنی سفارت خانہ میزبان ملک کے بجائے اپنے ملک کے داخلی قوانین اور ضوابط کے مطابق کام کرتا ہے ۔نیز میزبان ملک کے حکام بغیر اجازت کے سفارت خانے میں داخل نہیں ہو سکتے۔اسی طرح سفارتی عملے کو میزبان ملک کی عدالتوں سے استثنا حاصل ہوتا ہے۔اگر کوئی سفارتکار جرم کرے تو میزبان ملک اسے گرفتار نہیں کر سکتا اور ایسے معاملے میں اُس شخص کو زیادہ سے زیادہ “persona non grata” قرار دے کر واپس اُس کے مُلک بھیج دیا جاتاہے۔ پس پاکستان میں جو امریکی سفارتخانہ ہے اُس کا بظاہر وجود تو پاکستان میں ہے لیکن اُس کی قانونی حیثیت امریکی ریاست کی سی ہے۔
مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا فَاعْتَبَطَ بِقَتْلِهِ لَمْ يَقْبَلِ اللهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا۔
’’جس شخص نے کسی مومن کو ظلم سے (ناحق) قتل کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی کوئی نفلی اور فرض عبادت قبول نہیں فرمائے گا۔‘‘
اب اس تصویر کا ایک دوسرا رُخ بھی ہے۔ دوسرا رُخ یہ ہے کہ عوام کو احتجاج کرنے کا شعور دیا جائے۔ کہیں پر بھی لیڈر شِپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے احتجاج کا طریقہ کار بیان کریں اور انہیں لمحہ بہ لمحہ یہ بتائیں کہ کس طرح انہوں نے احتجاج کرنا ہے۔اسلام آباد میں سینیٹر علامہ ناصر عباس جعفری صاحب اور دیگر علمائے کرام کی موجودگی میں چند افراد نے اُن کی ہدایات کو نظر انداز کیا۔ بعض کو یہ کہتے ہوئے سُنا گیا کہ علما حضرات اور حکومت ایک ہی بات کرتے ہیں۔ لہذا ۔۔۔
عینی شاہدین کے مطابق اسلام آباد میں یہ جو کچھ ہوا اس کی ایک وجہ چند نا سمجھ افراد تھے۔ان کی وجہ سے احتجاج موثر انداز میں ختم ہونے کے بجائے ہنگامے کی نظر ہو گیا۔اس ہنگامے کی وجہ سے کچھ قیمتی جانوں کا بھی زیاں ہوا۔باعرضِ معذرت یہ جو خونِ ناحق بہا اس میں جیسے گولی چلانے والوں کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے ویسے ہی اُن لوگوں کو بھی اپنی عاقبت اور آخرت کے بارے میں سوچنا چاہیے کہ جن کی وجہ سے موقع پر موجود سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری صاحب سمیت دیگر علمائے کرام کی ایک نہیں سُنی گئی ۔ یہ تو ہم جانتے ہیں کہ لوگوں کو مشتعل کرنے والے ایسے افراد کے پاس سوائے چند جوشیلی باتوں کے کچھ نہیں ہوتا۔ یہ خود تو شرارت کر کے بھاگ جاتے ہیں اور ان کی وجہ سے شریف شہریوں پر تشدد ہوتا ہے۔ ہماری دانست میں مظاہروں کے دوران ایسے لوگوں کو پہچاننا اور ان کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔
راقم الحروف کو اچھی طرح یاد ہے کہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری صاحب کی ایک آنکھ بھی اسی طرح کے ایک مظاہرے میں ضائع ہوئی تھی۔ وہ مظاہرہ شہید ضیاالدین رضوی صاحب کی شہادت کے حوالے سے تھا اور اُس میں بھی ایسے لوگ گھس آئے تھے کہ اُن کی وجہ سے وہ مظاہرہ بھی موثر ثابت ہونے کے بجائے منتشر ہو گیا تھا۔ ہمیں آج کے اس دور میں عوام کو ایجوکیٹ کرنے اور یہ شعور دینے کی ضرورت ہے کہ مظاہرہ اور احتجاج کسے کہتے ہیں؟ یہ کس لئے کیا جاتا ہے؟ اسے کیسے موثر اور نتیجہ خیز بنایا جاتا ہے؟ اس کی ابتدا کیسے ہوتی ہے اور اس کا اختتام کیسے کیا جاتا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر مظاہرے، احتجاج یا ریلی کے دوران لیڈرشپ کی ہدایات پر عمل کرنا کتنا ضروری ہے؟
آخر میں اپنے وطن کی سیکورٹی فورسز، دانشوروں، محبِّ وطن عوام اور عوامی قائدین کی خدمت میں یہ عرض کرتا چلوں کہ دنیا کی تازہ ترین صورتحال آپ کی سامنے ہے۔ ہماری داخلی و قومی وحدت کے بغیر اس صورتحال سے ہمارا صحیح و سالم عبورناممکن ہے۔ جو لوگ بھی اس وقت ملک و قوم کی فکر میں ہیں وہ ا ٓیت اللہ سید علی خامنہ ای کے مقصدِ شہادت کو سمجھیں۔ اگر ہم اُن کے مقصدِ شہادت کو نہیں سمجھتے تو پھر اس سے بہت بڑا نقصان ہوگا۔ پاکستان کے موجودہ حالات میں رہبرِ معظم ؒکے مقصدِ شہادت کو سمجھنا ملتِ پاکستان کے ہر فرد کیلئے ضروری ہے۔ جس مقصد کے لیے اس عظیم رہبرؒ نے نہ صرف اپنی جان قربان کی بلکہ اپنے اہلِ خانہ ، اپنے جانثار ساتھیوں حتیٰ کہ معصوم بچوں کی قربانی بھی پیش کی، وہ یقیناً کوئی معمولی مقصد نہیں تھا۔ کسی بھی شخص کی مظلومانہ شہادت پر اس سے محبت و عقیدت یا ہمدردی رکھنے والوں کا اظہارِ غم ایک فطری امر ہے۔ ہمیں اس اظہارِ غم سے آگے بڑھ کر یہ دیکھنا چاہیے کہ رہبرِ معظم نے اپنی جان کا نذرانہ کیوں پیش کیا؟
انہوں نے اپنے خون سے ساری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ میرے قاتِل ، میرے مدِّ مقابل کسی بین الاقوامی قانون یا اخلاق کے پابند نہیں ہیں۔ وینزویلا کے صدر کی طرح حکمرانوں کو اغوا کر لینا یا حماس و حزب اللہ جیسے قائدین کو شہید کرنا یا ایران کی اعلی قیادت کو خاک و خون میں غلطاں کرنا ان شیاطین صفت طاقتوں کے نزدیک جائز ہے۔گزشتہ کئی دہائیوں سے سب کے سامنے دنیا میں امریکہ و اسرائیل ظلم کے پہاڑ ڈھا رہے تھے اور سب کا ضمیر سویا ہوا تھا۔ ایسے میں رہبرِ معظم نے شہادت کا راستہ اختیار کیا چونکہ آپ جانتے تھے کہ جب ضمیر سو یا ہوا ہو تو قربانی اسے جگا دیتی ہے۔
آپ نے اپنا خون دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ اگر حق و سچ ابدی ہے تو اس کے لیے دی گئی قربانی بھی ابدی ہے۔ اگر آزادی کی خواہش ، مظلوم کی مدد اور عدل و انصاف کا مطالبہ کرنا انسان کی فطرت کی آواز ہے تو کیا اپنے وطن کی آزادی پر سمجھوتہ نہ کرنا اور فلسطین کے مظلوموں کیلئے جان دینا فطرت کی آواز نہیں؟ آپ نے اپنی جان قربان کر کے یہ بتا دیا ہے کہ اصل تو "مقصد کی بقا"ہے باقی انسانی اجسام تو فانی ہیں۔
تاریخِ بشریّت گواہ ہے کہ اگر کوئی انسان اپنی ذات کو کسی عظیم مقصد پر قربان کر دے تو اس کی موت، موت نہیں رہتی پھر اُس کی موت زندگی کی دلیل بن جاتی ہے۔ گزشتہ روز جو مظاہرین شہید ہوگئے وہ اپنے پیچھے یہ پیغام چھوڑ گئے ہیں کہ ہم تو اپنے قاتلوں کو قبر اور حشر میں گریبان سے پکڑ لیں گے لیکن اب ہمارے بعد آپ نے رہبرِ معظم کی قربانی کے مقصد کو فراموش نہیں کرنا۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں