خبردار!فطرانہ دوبارہ بھی دینا پڑ سکتا ہے
ڈاکٹر نذر حافی
اللہ تعالیٰ ہر صاحبِ استطاعت کو فطرانہ ادا کرنے کا حکم دیتا
ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ یہ حکم محض ایک مالی ادائیگی نہیں بلکہ ایک زندہ اخلاقی دعوت
ہے۔ اچھائی محض جاننے کا نام نہیں بلکہ
انجام دینے کا نام ہے۔ لہذا ایک اسلامی
معاشرہ وہی ہے جہاں کمزور کی حاجت روائی ،
طاقتور کی ذمہ داری بن جائے۔ چنانچہ ربِّ کریم صاحبانِ ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ خود جا کر اُس کے مستحق بندوں کو تلاش کریں، اللہ کو یہ پسند نہیں کہ
مستحقین جا کر لوگوں کے دروازوں پر دستک دیں۔
آج بے حسی کا یہ عالم ہے کہ فطرانہ دینے والے عید کے دن بھی کسی
یتیم و مفلس کا چہرہ نہیں دیکھتے۔ ہم عید مناتے ہیں اور ساتھ ساتھ انسانیت سے فاصلے بڑھاتے ہیں۔ ہم یہ بھول گئے
ہیں کہ عبادت کا ظاہر اگر باطن سے خالی ہو
تو وہ محض رسم رہ جاتی ہے۔ پس ہم نماز، خوشبو اور ضیافت میں مشغول رہتے ہیں لیکن
کسی بیمار، بوڑھے یا مجبور کے پاس دو لمحے بیٹھنا گوارا نہیں کرتے۔ہمیں یہ
یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو نہ ہمارے بھوکے رہنے سے کوئی فائدہ ہے اور نہ
ہمارے مال دینے سے اُس کی شان میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ تو انسانوں کے درمیان ایک دوسرے کی حاجات پورا کرنے کو پسند کرتا ہے۔ وہ
چاہتا ہے کہ امیر و غریب ایک ہی دسترخوان پر جمع ہوں، ایک دوسرے کا بوجھ بانٹیں،
اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ المختصر یہ کہ فطرانہ اس لئے ہے کہ انسان، انسان کا سہارا بنے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ فطرانے کے اولین مستحق ہمارے اپنے
قریبی رشتے دار ہیں۔ اگر کسی گھر میں بیوہ، یتیم یا نادار موجود ہے تو سب سے پہلے
اسی کا حق ہے۔ صدقہ وہی مقبول ہے جو قریب
ترین محتاج تک پہنچے، کیونکہ قربِ نسب کے ساتھ قربِ ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ جو
لوگ فطرانہ محض ڈبوں میں ڈال کر خود کو بری
الذمہ سمجھ لیتے ہیں، وہ دراصل روحِ عبادت
سے ناواقف ہیں۔
اس طرح بے شک فطرانہ توادا ہو جاتا ہے، لیکن خدا کے ہاں جواب دہی باقی رہتی ہے۔ ان لوگوں سے قیامت کے دن سوال ہوگا کہ تم نے قریب والوں کو کیوں نظر انداز کیا؟ اگر کسی
مستحق تک حق نہ پہنچے تو وہ قیامت کے دن اپنے اقربا کو گریبان سے پکڑے گا۔
ماہِ رمضان، عیدالفطر اور فطرانے کا اصل فلسفہ یہ ہے کہ ہم سچے عبادت
گزاربن جائیں، دلوں کے باہمی فاصلے مٹ جائیں، اور معاشرہ ایک جسم کی مانند ہو
جائے۔ اگر ایک روئے تو دوسرا آنسو پونچھے، اگر ایک گرے تو دوسرا سہارا دے—ورنہ بکھرے
ہوئے لوگ اپنے ہی بوجھ تلے دبے رہتے ہیں۔
آخر میں یہ بھی سمجھ لیں کہ مستحق صرف وہ نہیں جس کے کپڑے پھٹے
ہوں، بلکہ وہ خوددار بھی ہے جو مانگ نہیں سکتا۔ ایسے شخص کی مدد اس طرح کرنی چاہیے
کہ اس کی عزتِ نفس محفوظ رہے۔ اگر دل ٹوٹنے کا اندیشہ ہو تو صدقے کا نام بھی ظاہر
نہ کیا جائے، یہی اعلیٰ اخلاق ہے، یہی دین کی روح۔ فطرانہ اپنے ہاتھوں سے
اپنے اقربا کو دینا افضل ہے، انہیں یہ
احساس بھی نہ ہونے دیں کہ یہ فطرانہ ہے۔ توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ اگر فطرانہ کسی
غیر مستحق کو دیا ہو تو اُسے واپس لے کر
یا از سرِنو مستحق کو دوبارہ دینا ضروری ہے۔ لہذا دوسروں پر اعتماد کرنے سے بہتر
ہے کہ خود اپنے ہا تھوں سے مستحق افراد کو اپنا افطرانہ دیں یا پھر کسی انتہائی مجبوری کی صورت میں اپنے
کسی بہت زیادہ قابلِ اعتماد شخص کو یہ ذمہ
داری سونپیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی حقیقی سمجھ، اعلی درجے کا اخلاص اور پابندی سےعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ
ہمارا فطرانہ محض ادائیگی نہ رہے بلکہ بنی
نوع انسان کیلئے زندگی اور نشاط کا باعث بن جائے۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں