مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور پاکستان کے
ہتھیار
ڈاکٹر نذر حافی
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے دھماکہ خیز بیان دیا ہے۔ اگر ایران کے توانائی کے نظام پر حملہ کیا گیا تو پورا مشرقِ وسطیٰ شدید نتائج کا سامنا کرے گا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ جنگ شروع کرنا آسان ہوتا ہے، مگر صرف چند ٹوئٹس سے جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ ایران اس ’سنگین غلطی‘ پر امریکا کو پچھتانے پر مجبور کر دے گا۔
انہوں نے ٹرمپ سے یہ جوکہا یہ ویسے
ہی نہیں کہا۔ اس وقت ایران اپنے دشمنوں کے ساتھ امن قائم کرنے کیلئے لڑ رہا ہے۔ امن
کے لیے لڑنا، روشنی کے لیے جلنے کے مترادف ہے۔اس جنگ میں اب ایران امریکہ کے ایسے خفیہ فوجی مقامات کو نشانہ بنا
رہا ہے جو امریکا نے نقشوں میں ظاہر نہیں کیے تھے۔ دوسری طرف جنگ کا انداز بھی تیزی سے بدل رہا ہے، جہاں اب روایتی ہتھیاروں
کے بجائے الیکٹرانک وار فیئر، سیٹلائٹ معلومات اور ریڈار سگنلز فیصلہ کن کردار ادا
کر رہے ہیں۔امریکی و اسرائیلی جارحیت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جنگ کا آغاز وہ کرتے
ہیں جو اندر سے شکست کھا چکے ہوتے ہیں۔ جنگ صرف اور صرف دلائل سے ڈرنے والے بُزدلوں کا ایک حربہ ہوتا ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں۔
ٹرمپ کے جنگی جنون کے جواب میں علی لاریجانی نے سوشل میڈیا
پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ہے کہ اگر امریکا
نے ایران کی بجلی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو آدھے گھنٹے کے اندر پورا خطہ اندھیرے
میں ڈوب سکتا ہے، اور اس صورتحال میں امریکی فوجیوں کے لیے خطے میں محفوظ رہنا
مشکل ہو جائے گا۔مسٹر لاریجانی نے تو اپنی بات کر دی ہے، اب امریکیوں کو یہ سوچنا
ہے کہ کیا وہ اس آدھے گھنٹے کے متحمل ہیں؟
جدید جنگ میں درست معلومات گولیوں سے زیادہ قیمتی ہوتی ہیں۔
ایران کے پاس محدود جاسوس سیٹلائٹس ہیں، لیکن روس کے جدید سیٹلائٹ نظام خصوصاً کینوپس
﴿وی سیٹلائٹ جسے ایران میں خیام سیٹلائٹ کہا جاتا ہے﴾ایران کو مسلسل نگرانی کی
صلاحیت فراہم کر رہے ہیں۔شنید ہے کہ چین
نے بھی ایران کو جدید ریڈار سسٹم فراہم کیے ہیں اور ایرانی فوجی نیوی گیشن کو امریکی
جی پی ایس سے ہٹا کر چین کے بیڈو-3 سیٹلائٹ نظام سے جوڑ دیا ہے۔ چونکہ چین کا فراہم کردہ وائی ایل سی-8 بی اینٹی
اسٹیلتھ ریڈار کم فریکوئنسی لہروں کے ذریعے ایسے امریکی اسٹیلتھ طیاروں کو بھی پکڑ
سکتا ہے جو عام ریڈار سے تقریباً پوشیدہ سمجھے جاتے ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر آگے
کچھ نیا ہی ہونے والا ہے۔ ویسے بھی اسرائیلی فضائیہ کے سابق کمانڈر ایتان بن الیاحو
کے مطابق کسی ریڈار کو تباہ کرنا دراصل دشمن کو اندھا کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ اس
بیان کو ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور
(آئی آر جی سی) کے اس بیان سے جوڑ کر دیکھیں ۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور کے ترجمان
علی محمد نعینی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے خطے میں امریکا کے تقریباً دس جدید ریڈار
سسٹمز تباہ کر دئیے ہیں۔ ہمارا تجزیہ نشر ہونے تک اس تعداد میں اضافہ ممکن ہے۔
ماہرین کے مطابق چین بھی اس تنازع کو ایک عملی تجربہ گاہ کے طور پر بھی دیکھ
رہا ہے ۔ مستقبل میں تائیوان کے ممکنہ تنازع کے لیے اپنی فوجی حکمتِ عملی کو بہتر بنانے کیلئے اس جنگ میں چین کیلئے اپنے ہتھیاروں کے تجربات کرنے کے بہت زیادہ امکانات موجود ہیں۔ روس کے لیے بھی ایران کی مدد کرنا مغربی دباؤ کے جواب میں اس کے
اسٹریٹجک مفادات کا حصہ ہے۔ یہ سب اپنی اپنی جگہ اسی اثنا میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے
دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن کو میزائلوں
سے نشانہ بنایا گیا ہے جس سے اسے شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس ساری صورتحال سے واضح ہے
کہ خلیج میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے، اور اب اصل
جنگ یہ ہے کہ میدانِ جنگ میں کون اپنے دشمن کو زیادہ بہتر طور پر دیکھ اور اُس کی نقل و حرکت کو بروقت سمجھ سکتا ہے۔
امریکا کو اس خطے میں ایک اور بڑی مشکل اپنی طویل اور پیچیدہ
سپلائی لائنز کی صورت میں درپیش ہے۔ خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی
اڈے جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے فاصلے پر ہیں اور ان کا انحصار بحری راستوں اور
فضائی رسد پر ہے۔ اگر ان سپلائی لائنز پر ایران کا کنٹرول ہوجائے تو یہ
امر امریکی افواج کو قید کرنے کے مترادف
ہے۔
اسی طرح امریکی فوجی اڈے خلیجی ممالک میں جہاں جہاں موجود ہیں جہاں وہاں کا سیاسی دباؤ اور عوامی ردِعمل بھی امریکہ
کے خلاف ہے۔ کسی بڑے تنازع کی صورت میں کوئی بھی میزبان ملک امریکی فوجی موجودگی کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتا ہے۔ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ جدید
جنگ میں ٹیکنالوجی پر ضرورت سے زیادہ انحصار بھی امریکہ کی کمزوری ہے۔امریکہ کے سیٹلائٹ نیویگیشن، کمیونیکیشن نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل
کمانڈ سسٹمز اگر الیکٹرانک وار فیئر یا سائبر حملوں کا شکار ہو جائیں تو امریکی فوج آسانی سے مفلوج ہو جائے گی۔مزید
برآں، امریکا کو ایک ایسے خطے میں جنگ کا سامنا ہے جہاں مقامی آبادی اور عوامی رہنما امریکہ کو پسند نہیں کرتے۔ یہ تنازع طویل ہونے کی صورت میں خلیجی ریاستوں کے اندر بھی امریکیوں کی نقل و حرکت مشکل ہو جائے گی۔
امریکہ کو اپنی کمزرویوں کا بخوبی احساس ہے۔ لہذا اب
امریکہ ،خلیجی ریاستوں اور پاکستان کو اس جنگ میں دھکیلنا چاہتا ہے۔ خلیجی ریاستوں
کی اپنی کمزوریاں ہیں۔ جنگ میں اُترتے ہی اُن کی
بیشتر تیل اور گیس کی تنصیبات ساحلی علاقوں میں واقع ہیں، جو میزائلوں، ڈرون حملوں
یا بحری کارروائیوں کے لیے آسان ہدف بن جائینگی۔ توانائی کی تنصیبات پر کسی بڑے حملے کی
صورت میں عالمی توانائی کی منڈی بھی شدید متاثر ہو گی۔
اسی طرح خلیجی ممالک کا دفاعی ڈھانچہ بھی بالکل بیرونی ٹیکنالوجی اور اتحادی فوجی تعاون پر
منحصر ہے۔ جنگ میں اترنے کی صورت میں بیرونی
امداد پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ایک اور
اہم پہلو یہ ہے کہ خلیجی ریاستوں کے اہم شہر، بندرگاہیں اور اقتصادی مراکز محدود
جغرافیائی دائرے میں واقع ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چند اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ
بنانے سے پورے ملک کے معاشی اور انتظامی نظام کو تباہ کرنا ممکن ہے۔مزید برآں، آبنائے ہرمز کی
بندش سب سے زیادہ خلیجی ریاستوں کو متاثر
کرے گی۔اسی لیے ایران کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول فوجی برتری کے ساتھ ساتھ حکمتِ عملی، سفارتکاری،
سیاست ، توانائی، تجارت اور جغرافیائی برتری کا اعلان
بھی ہے ۔
ایسے میں پاکستان
پر خلیجی ریاستوں اور امریکہ کی طرف سے شدید دباو ہے۔اس دباو میں پاکستان کو بس یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اُسے اس وقت کس سے ڈرنا چاہیے اور کس سے نہیں۔ چونکہ جنگ بھی دراصل
سیاست کا تسلسل ہوتی ہے، صرف گرم اور نرم ہتھیاروں کا فرق ہوتا ہے۔اس معاملے
میں پاکستان کو بھی سیاست کرنی چاہیے لیکن
اُن ہتھیاروں کے ساتھ جن کا بوجھ وہ اُٹھا سکتا ہو۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں