زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

پیر، 23 مارچ، 2026

سوشل میڈیا پرگرینڈ جرگے کی ضرورت

سوشل میڈیا پر گرینڈ جرگے کی ضرورت 

تحریر: ڈاکٹر نذر حافی

مشرقِ وسطیٰ کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں۔ موجودہ عالمی حالات میں شعور، تحقیق اور ہوشیاری کو جذبات پر مقدم رکھنے کی ضرورت ہے۔  مذاکرات کے دوران ایران پر ہونے والے حملوں کے  پیچھے دنیا کے عالمی امور کے ماہرین اور تھنک ٹینکس نے کام کیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ  بڑی طاقتوں کی پیچیدہ حکمتِ عملیاں فقط عسکری میدان تک محدود نہیں ہوتیں۔ میدان جنگ میں  عوام کی رائے کو متاثر کرنے کے لیے ایک طرف دھوکے اور مبالغے کا استعمال کیا جا تاہے اور دوسری طرف درست خبریں اور رپورٹس بھی غلط وقت پر نشر کی جاتی ہیں۔آج  ہم یہ عرض کر کے آگے بڑھنا چاہتے ہیں کہ جو شخص  اپنے دماغ کو استعمال نہیں کرتا، اسے کمزور ہونے کیلئے کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی۔

خطے میں چند سچائیاں اس وقت سب کیلئے روشن ہیں اور انہیں مزید روشن کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک تو اسرائیل اپنے سیکیورٹی مفادات کے لیے اپنی حکمتِ عملی کے تحت امریکہ کی عسکری طاقت اور اس کے عالمی اثر و رسوخ کو استعمال کر رہا ہے، اور دوسری طرف سعودی عرب اپنے سیاسی و دفاعی فیصلوں کے ذریعے خطے میں پاکستان کی ایٹمی و عسکری صلاحیت کو اپنے لئے استعمال میں لانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ حالانکہ سعودی عرب کو ایران سے کوئی خطرہ  نہیں۔ ایران سے خطرہ فقط امریکی اڈوں کو ہے۔

بہرحال غیر مصدقہ مگر قابل غور اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے طائف کے نزدیک ایک فوجی اڈے تک امریکہ کو رسائی دی ہے۔ اس کا ممکنہ مقصد ایران کا مذکورہ علاقے پر حملہ کرنے کیلئے ماحول بنانا بھی ہو سکتا ہے تاکہ ایران کے حملوں کو مدینہ منورہ پر حملہ قرار دیا جاسکے۔ اس طرح حرمین شریفین کے نام پر ساری دنیا کے مسلمانوں خصوصاً پاکستان کی عسکری افواج کو ایران کے خلاف میدان میں اترنے کا جواز فراہم کیا جائے۔ یہ معاملہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم ہے۔ ایسے میں صرف سوشل میڈیا کی دنیا میں جلتی پر تیل ڈالنا کوئی دانشمندانہ کام نہیں۔ فقط ایسی خبروں کی تشہیر کسی درد کا درماں بھی نہیں۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر وہ خبر جو کسی انسان پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں کرتی، اسے بیدار اور ہوشیاری نہیں کرتی وہ خود بہت بڑا خطرہ ہے۔ لہذا ہمارے لئے بریکنگ نیوز سے زیادہ خبروں کا متن اور ان کا انداز بیان نیز الفاظ کا چناو مورد توجہ ہونا چاہیئے۔

اس وقت کوئی بھی خبر بریک کرنے سے زیادہ عالم اسلام کے درمیان اتحاد اور امن کے فروغ کی ضرورت ہے۔ عالم اسلام کی حفاظت کیلئے فقط سنی و شیعہ، نیز مختلف فقہا و مسالک کا جمع ہونا کافی نہیں بلکہ مسلمان ممالک کا باہمی اتحاد بھی ضروری ہے۔ اس تناظر میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان مثبت تعلقات بھی ناگزیر ہیں۔ جو علما، سیاستدان، دانشور اور صحافی سعودی عرب سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں، انہیں چاہیئے کہ وہ اپنے تمام روابط بروئے کار لاکر تعلقات کو خوشگواری اور تعاون کی طرف لے جائیں۔ وہ عربی میڈیا اور سوشل میڈیا پر عربی زبان میں خلیجی ریاستوں، عرب اکابرین اور عرب باشندوں  کو مشرق وسطی میں امریکی اڈوں کی قباحت اور اسرائیل کے خطرات سمجھائیں۔

اس وقت یہ ساری مسلمان قوم کا فریضہ ہے کہ وہ اپنے اصلی و مشترکہ دشمن کو پہچانے۔ کوئی بھی قوم صرف اس وقت تک محفوظ رہ سکتی ہے جب تک اس کے عقل مند، ذمہ دار اور فرض شناس افراد اس کی بروقت راہنمائی کرتے رہیں۔ ہر دانشور اور عالم کا فرض صرف علم حاصل کرنا نہیں بلکہ وقت کی ضرورت کے مطابق اسے اپنے عمل میں ڈھالنا ہے۔ عرب مسلمانوں کو صرف عرب حکمرانوں پر نہ چھوڑیں۔ یہ صرف عرب بادشاہتوں کا مسئلہ نہیں یہ عرب مسلمانوں کے مستقبل اور سلامتی کا مسئلہ ہے۔ گریٹر اسرائیل کا نعرہ کوئی خواب یا کچی بات نہیں یہ ایک حقیقت اور ایک تھیوری ہے۔ سوشل میڈیا پر عربی عوام اور خلیجی اکابرین  کو خواب غفلت سے بیدار کیا جانا چاہیئے۔ 

جاری صورتحال میں صرف خبریں پھیلانے کے بجائے یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی اپنی سطح پر اسلامی مسالک اور ممالک کے درمیان اتحاد کیلئے کیا کوئی چھوٹا سا قدم بھی اٹھا سکتے ہیں! اگر نہیں تو پھر کم از کم مسلمانوں کے درمیان نفرت یا تشدد پھیلانے والے بیانیے سے بچیں، اسلامی ممالک کے اتحاد، مفاد اور خودمختاری کو اولین ترجیح دیں، اور سارے اسلامی ممالک کو ان کے حقیقی دشمنوں کے مقابل کھڑا کرنے کی کوشش کریں۔  انتہائی سنجیدہ اور انتہائی محتاط انداز میں سوچیں اور دوسروں کو سوچنے کی دعوت دیں۔

یاد رکھیں، جذبات اور غیر مصدقہ معلومات اکثر ہمیں تقسیم کرتی ہیں، جبکہ شعور، احساس ذمہ داری، بصیرت اور اتحاد سے قومیں مضبوط بنتی ہیں۔ عقل مند انسان کا مقصد صرف دشمن کو پہچاننا نہیں ہوتا بلکہ اس کا راستہ روکنا ہوتا ہے۔ اتحاد اور وحدت کا سفر  بصیرت اور بیداری کی روشنی میں ہی طے ہو سکتا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کی خبریں بہت پرانی ہیں۔ ایسی خبروں سے صرف ہمارے دشمن کو خوشی ہوتی ہے۔ دشمن کی اس خوشی کو غم میں بدلنے کیلئے ہمیں مختلف زبانوں خصوصاً انگلش اور عربی میں سوشل میڈیا پر عرب مسلمانوں کے ساتھ ایک گرینڈ مکالمہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ایسا مکالمہ شروع کیا جائے جس میں عرب اور ایرانی، سنی اور شیعہ، عوام اور دانشور ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھیں، اطلاعات کی تصدیق کریں اور امت کے حق میں دانشمندانہ فیصلوں کی راہ ہموار کریں۔

سوشل میڈیا پر گرینڈ جرگے کا اصل مقصد صرف بات چیت نہیں بلکہ فہم، اتحاد، اور تعاون پیدا کرنا ہے۔ مثال کے طور پر ایران اور سعودی عرب کے مسائل پر مکالمہ اس لیے ہونا چاہیے تاکہ حقائق کی تصدیق ہو، افواہوں سے بچا جائے اور اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد اور تعاون کی فضا بڑھے۔  اس پر سوچیں کہ عرب مسلمانوں کے اذہان میں کیسے سوالات بٹھائے جائیں جو انہیں امریکی و اسرائیلی اتحاد سے اسلامی اتحاد کی طرف لے آئیں۔ پھر پلیٹ فارم اور فارمیٹ کا انتخاب ضروری ہے۔ اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق سوشل میڈیا پر جرگہ چند طریقوں سے ممکن بنائیں۔ Twitter/X، Threads یا Mastodon پر حقائق اور تجزیہ پر مبنی سلسلہ وار پوسٹس کی جا سکتی ہیں۔ Facebook اور LinkedIn گروپس دانشور، صحافی اور علما کے لیے سنجیدہ مکالمہ کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ YouTube یا Instagram Live پر ویڈیو مباحثے کیے جا سکتے ہیں، جس میں ماہرین براہ راست سوالات کے جواب دیں۔ Clubhouse یا Spaces پر آڈیو جرگے فوری سوال و جواب اور دلائل کے لیے بہترین ہیں۔

مکالمے کے اصول بھی واضح ہونے چاہیئے۔ کم از کم اپنے لئے ہے کر لیں کہ گفتگو ہمیشہ حقائق پر مبنی ہونی چاہیئے اور غیر مصدقہ اطلاعات کو فیڈ میں نہ ڈالا جائے متنوع نقطہ نظر شامل کریں تاکہ مختلف مسالک، ممالک اور پس منظر کے لوگ شامل ہو سکیں۔ احترام اور تحمل برقرار رکھیں اور سوالات کے ذریعے سوچنے کی دعوت دیں۔ اس دوران زبان اور مواد کے انتخاب پر بھی توجہ دیں۔ مقامی زبانوں کے ساتھ عربی اور انگریزی میں مواد شیئر کریں تاکہ زیادہ لوگ شامل ہو سکیں۔ بصری مواد جیسے انفورمیشن گرافکس، چارٹس اور ویڈیوز جذبات کو کم اور سمجھ کو زیادہ بڑھاتے ہیں۔ چھوٹے اور قابل فہم پیغامات بڑے دلائل کی بنیاد پر تیار کریں۔

کمیونٹی اور فالو اپ بھی جرگے کی کامیابی کے لیے اہم ہیں۔ مکالمہ ایک دن کا نہیں بلکہ مسلسل عمل ہے۔ ہر اہم خبر اور بحث کے بعد خلاصہ شیئر کریں اور اگلے قدم کی تجاویز دیں۔ اعتماد پیدا کرنے کے لیے شفافیت ضروری ہے تاکہ سب جان سکیں کہ معلومات کہاں سے آئی ہیں اور کس نے حصہ لیا ہے۔ سب سے بڑا خطرہ نفرت اور افواہیں ہیں۔ سوشل گرینڈ جرگے میں ہر پوسٹ سے پہلے حقائق چیک کریں، مبالغہ اور الزامات سے گریز کریں اور ہمیشہ مثبت تعاون اور اتحاد کو ترجیح دیں۔ اس پر سوچئے اس لئے کہ سوچنے والوں کی دنیا، دنیا والوں کی سوچ سے مختلف ہوتی ہے۔


0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...