سوشل میڈیا پر گرینڈ جرگے کی ضرورت
تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
مشرقِ وسطیٰ کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں۔ موجودہ
عالمی حالات میں شعور، تحقیق اور ہوشیاری کو جذبات پر مقدم رکھنے کی ضرورت ہے۔ مذاکرات کے دوران ایران پر ہونے والے حملوں کے پیچھے دنیا کے عالمی امور کے ماہرین اور تھنک ٹینکس
نے کام کیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بڑی
طاقتوں کی پیچیدہ حکمتِ عملیاں فقط عسکری میدان تک محدود نہیں ہوتیں۔ میدان جنگ
میں عوام کی رائے کو متاثر کرنے کے لیے ایک
طرف دھوکے اور مبالغے کا استعمال کیا جا تاہے اور دوسری طرف درست خبریں اور رپورٹس
بھی غلط وقت پر نشر کی جاتی ہیں۔آج ہم یہ
عرض کر کے آگے بڑھنا چاہتے ہیں کہ جو شخص
اپنے دماغ کو استعمال نہیں کرتا، اسے کمزور ہونے کیلئے کسی دشمن کی ضرورت
نہیں ہوتی۔
خطے میں چند سچائیاں اس وقت سب کیلئے روشن ہیں اور انہیں مزید روشن کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک تو اسرائیل اپنے سیکیورٹی مفادات کے لیے اپنی حکمتِ عملی کے تحت امریکہ کی عسکری طاقت اور اس کے عالمی اثر و رسوخ کو استعمال کر رہا ہے، اور دوسری طرف سعودی عرب اپنے سیاسی و دفاعی فیصلوں کے ذریعے خطے میں پاکستان کی ایٹمی و عسکری صلاحیت کو اپنے لئے استعمال میں لانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ حالانکہ سعودی عرب کو ایران سے کوئی خطرہ نہیں۔ ایران سے خطرہ فقط امریکی اڈوں کو ہے۔
بہرحال غیر مصدقہ مگر قابل غور اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے
طائف کے نزدیک ایک فوجی اڈے تک امریکہ کو رسائی دی ہے۔ اس کا ممکنہ مقصد ایران کا
مذکورہ علاقے پر حملہ کرنے کیلئے ماحول بنانا بھی ہو سکتا ہے تاکہ ایران کے حملوں
کو مدینہ منورہ پر حملہ قرار دیا جاسکے۔ اس طرح حرمین شریفین کے نام پر ساری دنیا
کے مسلمانوں خصوصاً پاکستان کی عسکری افواج کو ایران کے خلاف میدان میں اترنے کا
جواز فراہم کیا جائے۔ یہ معاملہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم
ہے۔ ایسے میں صرف سوشل میڈیا کی دنیا میں جلتی پر تیل ڈالنا کوئی دانشمندانہ کام
نہیں۔ فقط ایسی خبروں کی تشہیر کسی درد کا درماں بھی نہیں۔ ہمیں یہ سمجھنے کی
ضرورت ہے کہ ہر وہ خبر جو کسی انسان پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں کرتی، اسے بیدار
اور ہوشیاری نہیں کرتی وہ خود بہت بڑا خطرہ ہے۔ لہذا ہمارے لئے بریکنگ نیوز سے زیادہ
خبروں کا متن اور ان کا انداز بیان نیز الفاظ کا چناو مورد توجہ ہونا چاہیئے۔
اس وقت کوئی بھی خبر بریک کرنے سے زیادہ عالم اسلام کے درمیان
اتحاد اور امن کے فروغ کی ضرورت ہے۔ عالم اسلام کی حفاظت کیلئے فقط سنی و شیعہ، نیز
مختلف فقہا و مسالک کا جمع ہونا کافی نہیں بلکہ مسلمان ممالک کا باہمی اتحاد بھی
ضروری ہے۔ اس تناظر میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان مثبت تعلقات بھی ناگزیر ہیں۔
جو علما، سیاستدان، دانشور اور صحافی سعودی عرب سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں، انہیں
چاہیئے کہ وہ اپنے تمام روابط بروئے کار لاکر تعلقات کو خوشگواری اور تعاون کی طرف
لے جائیں۔ وہ عربی میڈیا اور سوشل میڈیا پر عربی زبان میں خلیجی ریاستوں، عرب
اکابرین اور عرب باشندوں کو مشرق وسطی میں
امریکی اڈوں کی قباحت اور اسرائیل کے خطرات سمجھائیں۔
اس وقت یہ ساری مسلمان قوم کا فریضہ ہے کہ وہ اپنے اصلی و مشترکہ دشمن کو پہچانے۔ کوئی بھی قوم صرف اس وقت تک محفوظ رہ سکتی ہے جب تک اس کے عقل مند، ذمہ دار اور فرض شناس افراد اس کی بروقت راہنمائی کرتے رہیں۔ ہر دانشور اور عالم کا فرض صرف علم حاصل کرنا نہیں بلکہ وقت کی ضرورت کے مطابق اسے اپنے عمل میں ڈھالنا ہے۔ عرب مسلمانوں کو صرف عرب حکمرانوں پر نہ چھوڑیں۔ یہ صرف عرب بادشاہتوں کا مسئلہ نہیں یہ عرب مسلمانوں کے مستقبل اور سلامتی کا مسئلہ ہے۔ گریٹر اسرائیل کا نعرہ کوئی خواب یا کچی بات نہیں یہ ایک حقیقت اور ایک تھیوری ہے۔ سوشل میڈیا پر عربی عوام اور خلیجی اکابرین کو خواب غفلت سے بیدار کیا جانا چاہیئے۔
جاری صورتحال میں صرف خبریں پھیلانے کے بجائے یہ سوچنے کی ضرورت
ہے کہ ہم اپنی اپنی سطح پر اسلامی مسالک اور ممالک کے درمیان اتحاد کیلئے کیا کوئی
چھوٹا سا قدم بھی اٹھا سکتے ہیں! اگر نہیں تو پھر کم از کم مسلمانوں کے درمیان
نفرت یا تشدد پھیلانے والے بیانیے سے بچیں، اسلامی ممالک کے اتحاد، مفاد اور
خودمختاری کو اولین ترجیح دیں، اور سارے اسلامی ممالک کو ان کے حقیقی دشمنوں کے
مقابل کھڑا کرنے کی کوشش کریں۔ انتہائی
سنجیدہ اور انتہائی محتاط انداز میں سوچیں اور دوسروں کو سوچنے کی دعوت دیں۔
یاد رکھیں، جذبات اور غیر مصدقہ معلومات اکثر ہمیں تقسیم کرتی ہیں،
جبکہ شعور، احساس ذمہ داری، بصیرت اور اتحاد سے قومیں مضبوط بنتی ہیں۔ عقل مند
انسان کا مقصد صرف دشمن کو پہچاننا نہیں ہوتا بلکہ اس کا راستہ روکنا ہوتا ہے۔
اتحاد اور وحدت کا سفر بصیرت اور بیداری کی
روشنی میں ہی طے ہو سکتا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کی خبریں بہت
پرانی ہیں۔ ایسی خبروں سے صرف ہمارے دشمن کو خوشی ہوتی ہے۔ دشمن کی اس خوشی کو غم
میں بدلنے کیلئے ہمیں مختلف زبانوں خصوصاً انگلش اور عربی میں سوشل میڈیا پر عرب
مسلمانوں کے ساتھ ایک گرینڈ مکالمہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ایسا
مکالمہ شروع کیا جائے جس میں عرب اور ایرانی، سنی اور شیعہ، عوام اور دانشور ایک
دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھیں، اطلاعات کی تصدیق کریں اور امت کے حق میں دانشمندانہ
فیصلوں کی راہ ہموار کریں۔
سوشل میڈیا پر گرینڈ جرگے کا اصل مقصد صرف بات چیت نہیں بلکہ
فہم، اتحاد، اور تعاون پیدا کرنا ہے۔ مثال کے طور پر ایران اور سعودی عرب کے مسائل
پر مکالمہ اس لیے ہونا چاہیے تاکہ حقائق کی تصدیق ہو، افواہوں سے بچا جائے اور
اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد اور تعاون کی فضا بڑھے۔ اس پر سوچیں کہ عرب مسلمانوں کے اذہان میں کیسے
سوالات بٹھائے جائیں جو انہیں امریکی و اسرائیلی اتحاد سے اسلامی اتحاد کی طرف لے
آئیں۔ پھر پلیٹ فارم اور فارمیٹ کا انتخاب ضروری ہے۔ اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق سوشل
میڈیا پر جرگہ چند طریقوں سے ممکن بنائیں۔ Twitter/X، Threads یا Mastodon پر حقائق اور تجزیہ پر مبنی سلسلہ وار پوسٹس کی جا سکتی ہیں۔ Facebook اور LinkedIn گروپس
دانشور، صحافی اور علما کے لیے سنجیدہ مکالمہ کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ YouTube یا Instagram Live پر ویڈیو
مباحثے کیے جا سکتے ہیں، جس میں ماہرین براہ راست سوالات کے جواب دیں۔ Clubhouse یا Spaces پر آڈیو
جرگے فوری سوال و جواب اور دلائل کے لیے بہترین ہیں۔
مکالمے کے اصول بھی واضح ہونے چاہیئے۔ کم از کم اپنے لئے ہے کر
لیں کہ گفتگو ہمیشہ حقائق پر مبنی ہونی چاہیئے اور غیر مصدقہ اطلاعات کو فیڈ میں
نہ ڈالا جائے متنوع نقطہ نظر شامل کریں تاکہ مختلف مسالک، ممالک اور پس منظر کے
لوگ شامل ہو سکیں۔ احترام اور تحمل برقرار رکھیں اور سوالات کے ذریعے سوچنے کی
دعوت دیں۔ اس دوران زبان اور مواد کے انتخاب پر بھی توجہ دیں۔ مقامی زبانوں کے
ساتھ عربی اور انگریزی میں مواد شیئر کریں تاکہ زیادہ لوگ شامل ہو سکیں۔ بصری مواد
جیسے انفورمیشن گرافکس، چارٹس اور ویڈیوز جذبات کو کم اور سمجھ کو زیادہ بڑھاتے ہیں۔
چھوٹے اور قابل فہم پیغامات بڑے دلائل کی بنیاد پر تیار کریں۔
کمیونٹی اور فالو اپ بھی جرگے کی کامیابی کے لیے اہم ہیں۔
مکالمہ ایک دن کا نہیں بلکہ مسلسل عمل ہے۔ ہر اہم خبر اور بحث کے بعد خلاصہ شیئر
کریں اور اگلے قدم کی تجاویز دیں۔ اعتماد پیدا کرنے کے لیے شفافیت ضروری ہے تاکہ
سب جان سکیں کہ معلومات کہاں سے آئی ہیں اور کس نے حصہ لیا ہے۔ سب سے بڑا خطرہ
نفرت اور افواہیں ہیں۔ سوشل گرینڈ جرگے میں ہر پوسٹ سے پہلے حقائق چیک کریں،
مبالغہ اور الزامات سے گریز کریں اور ہمیشہ مثبت تعاون اور اتحاد کو ترجیح دیں۔ اس
پر سوچئے اس لئے کہ سوچنے والوں کی دنیا، دنیا والوں کی سوچ سے مختلف ہوتی ہے۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں