اسلام میں سُپریم لیڈر کی ضرورت اور ایرانیوں
کا طریقہ کار
ڈاکٹر نذر حافی
اس حقیقت پر اہلِ عقل کا اتفاق ہے کہ انسان اپنی فطرت میں
اجتماعی ہے اور اجتماع نظم کے بغیر بکھر جاتا ہے۔ انسانی معاشروں کی بنیادی اور
ناگزیر ضرورتوں میں سے ایک یہ ہے کہ ان کے پاس ایک لائق، باصلاحیت اور ایسا ہر
دلعزیز و مقبول رہبر موجود ہو جس کے گرد لوگ اکٹھے رہیں۔یہ واضح ہے کہ معاشرہ ایک زندہ نظم ہے ۔ اس نظم کو قائم رکھنے
کیلئے حکمت اور تدبیر کی ضرورت ہوتی ہے،
اور جہاں تدبیر نہ ہو وہاں قوتیں اور
قومیں منتشر ہو جاتی ہیں۔ جب تک حکمت، اخلاق اور بصیرت ایک رہبر کی شخصیت میں جمع
نہ ہوں، اس وقت تک ریاست محض ہجوم کا نام
رہ جاتی ہے۔ لہٰذا ایک بہترین ملک کیلئے ضروری ہے کہ اُس کے
ایوانوں میں ایک مرکزی مدبر اور حکیم رہبر
موجود ہو۔
اربابِ دانش اس کی تصدیق کریں گے کہ معاشرہ محض افراد کا مجموعہ نہیں ہوتا، یہ تو ایک تاریخی امانت اور ایک شعوری قافلہ ہوتا ہے جسے آگے بڑھنے کیلئے ایک بیدار رہنما کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک ایسے رہنما کی ضرورت جو صرف حکومت نہ کرے بلکہ امت کو بیدار
کرے، اسے جمود سے نکالے اور مقصد کی طرف حرکت دے۔ المختصر یہ کہ قیادت و رہبری دراصل ایک اخلاقی و فکری مرکزیت ہے جو ریاستی
اکائیوں کو پراکندگی سے بچا کر انہیں ایک
اعلیٰ مقصد سے ہم آہنگ رکھتی ہے۔ چنانچہ رہبر ایک حاکم سے بڑھ کر ایک فکری محور، ایک اخلاقی معیار اور ایک تاریخی
ذمہ داری کا امین ہوتا ہے۔ اس کے بغیر ملک
جہاں بکھر جاتا ہے وہیں اس کی روح بھی ایک عظیم مقصد و ہدف سے خالی ہو جاتی ہے۔
شیعہ نقطۂ نظر کے مطابق معاشرے کی قیادت و رہنمائی سب سے پہلے
الٰہی پیشواؤں، یعنی پیغمبر اور ائمۂ معصومینؑ کی ذمہ داری ہے، جنہیں خداوندِ
متعال نے اس عظیم منصب کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ اہلِ تشیع کے نزدیک ان کی قیادت سیاست، تربیت، ہدایت، عدالت اور انسانی کمال کا سرچشمہ ہے۔ موجودہ دور میں جب کسی شخص کی حضرت امام مہدی ؑ
تک براہِ راست رسائی ممکن نہیں تو یہ ذمہ داری ایسے عادل، متقی اور جامع
الشرائط فقہاء کے سپرد کر دی گئی ہے جو دینی
بصیرت، علمی اہلیت اور زمانے کے شعور سے آراستہ ہوں۔ وہ امت کی فکری رہنمائی، اجتماعی نظم اور اخلاقی
سمت کو برقرار رکھتے ہوئے معاشرے کو اس الٰہی مقصد کی طرف لے جانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں جس کے بغیر ریاست صرف لوگوں کا ہجوم رہ جاتی ہے، ہجوم یعنی منزل کے بغیر متحرک۔
امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے کہ آپؑ نے فرمایا:
"جب کوئی فقیہ ہمارے احکام کے مطابق فیصلہ
صادر کرے اور کوئی شخص اس کی پیروی نہ کرے تو گویا اس نے حکمِ الٰہی کو حقیر جانا
اور ہماری مخالفت کی؛ اور ہماری مخالفت دراصل خدا کی مخالفت ہے، جو شرک کے مترادف
ہے۔"
شیخ صدوق نے معتبر سند کے ساتھ اسحاق بن یعقوبسے روایت نقل کی
ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں: میں نے محمد بن عثمان عمری(جو غیبتِ صغریٰ میں امامِ عصرؑ
کے دوسرے نائبِ خاص تھے) سے درخواست کی کہ وہ میرا ایک خط امامِ زمانؑ کی خدمت میں
پہنچا دیں، جس میں میں نے چند مشکل مسائل کے بارے میں استفسار کیا تھا۔ اس کے جواب
میں ہمارے مولا امام مہدی ؑکی طرف سے ایک توقیع موصول ہوئی، جس میں ارشاد فرمایا گیا:
"اور جہاں تک پیش آنے والے نئے واقعات کا تعلق ہے، تو ان میں
ہمارے احادیث کے راویوں کی طرف رجوع کرو؛ کیونکہ وہ تم پر میری حجت ہیں اور میں تم
پر خدا کی حجت ہوں۔"
لہٰذا جب معصوم رہبر یعنی امامِ وقت تک براہِ راست رسائی ممکن نہ ہو
تو اُس وقت ایک جامع الشرائط فقیہہی آگے بڑھ کر ولیِ فقیہ کی حیثیت سے ولایت، قیادت
اور اسلامی معاشرے کے نظم و نسق کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔ چونکہ متعدد مراکزِ
اقتدار اور فیصلہ سازی کا وجود امورِ مملکت میں انتشار اور بے نظمی کا باعث بنتا
ہے، اور قیادت کا نظام بنیادی طور پر نظم و ضبط پر قائم ہوتا ہے، اس لیے عقل کا
تقاضا ہے کہ معاشرے کی باگ ڈور ایک ہی رہبرکے ہاتھ میں ہو۔ اسی بنا پر ولیِ فقیہ کی
اطاعت باقی تمام افراد پر واجب قرار پاتی
ہے، حتیٰ کہ دوسرے فقہاء بھی اس کے پابند ہوتے ہیں۔جب ان فقہاء میں سے کوئی ایک
حکومت قائم کر کے قیادت سنبھال لے تو دیگر فقہاء پر لازم ہے کہ وہ اس کی اطاعت کریں،
اور ان کے لیے حکومتی امور میں مداخلت کرنا جائز نہیں رہتا۔
بہرحال ولیِ فقیہ بھی ایک غیر معصوم انسان ہی ہوتا ہے، اس لیے اس
سے غلطی، لغزش یا اقتدار کے غلط استعمال کا امکان موجود ہے۔ لہذا اسلام نے اس ممکنہ خطرے کے تدارک کے لیے
نہایت حکیمانہ تدابیر اختیار کی ہیں تاکہ اس کے مضر اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
چنانچہ اس منصب کے لیے چند بنیادی شرائط مقرر کی گئی ہیں، مثلاً:
وہ صاحبِ ایمان، عادل اور متقی ہو، اسلامی علوم کا ماہر اور زمانے
کے تقاضوں سے آگاہ ہو،انتظامی صلاحیت، بصیرت اور حسنِ تدبیر رکھتا ہو، اور حرص،
بخل، طمع، جاہ طلبی، مصلحت پرستی اور کمزور ارادے جیسی ناپسندیدہ صفات سے پاک ہو۔
دینی و عقلی اعتبار سے اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ ان شرائط کے حامل افراد میں سے سب سے بہتر،
باصلاحیت اور قوی ترین شخصیت کو قیادت کے لیے منتخب کیا جانا چاہیے۔
ظاہر ہے کہ ایسے رہبر
کے انتخاب کا طریقہ بھی معیّن، مشخص اور واضح ہونا چاہیے۔ دورِ غیبت میں امامِ مہدی ؑکی طرف سے کسی شخص کو براہِ راست اس منصب
پر مقرر نہیں کیا جاتا، اس لیے بظاہر صحیح انتخاب تک پہنچنے کا بہترین طریقہ اُس
شخص کی دین داری اور اکثریتِ عوام کے
درمیان مقبولیّت ہے۔ یاد رہے کہ جس طرح ہر
فرد خطا سے محفوظ نہیں اسی طرح اکثریت بھی
غلطی کر سکتی ہے، تاہم جب عوام کی اکثریت
شعوری اور آزادانہ طور پر کسی کو منتخب کرتی ہے تو غلطی کا احتمال کم ہو جاتا ہے۔ یہی
اصول آج کے ترقی یافتہ معاشروں میں بھی رائج اور قابلِ قبول ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین میں بھی ولیِ فقیہ کے انتخاب کے لیے
یہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ آئین کے مطابق ایران میں رہبرِ اعلی ٰ کے تعین کی ذمہ داری مجلسِ خبرگانِ
رہبری کے سپرد ہے، جس کے اراکین کو عوام براہِ راست اپنے ووٹوں سے منتخب کرتے ہیں۔
مجلسِ خبرگان تمام ان فقہاء کے حالات کا جائزہ لیتی ہے جو مذکورہ شرائط پر پورا
اترتے ہوں، اور اگر ان میں سے کسی کو فقہی مسائل، سیاسی و سماجی امور میں زیادہ
علم و بصیرت کا حامل، یا عوامی مقبولیت کا مالک، یا مذکورہ صفات میں نمایاں پائے
تو اسے رہبر منتخب کر لیتی ہے۔
مجلسِ خبرگان کے اراکین بھی ایسے ماہر، متقی اور قابلِ اعتماد
افراد میں سے ہوتے ہیں جنہیں قوم کی اکثریت براہِ راست ووٹوں سے منتخب کرتی ہے۔ اس
طرح رہبر کا انتخاب خبرگان کے ذریعےاور خبرگان کا انتخاب عوام کے ووٹوں کے ذریعےانجام
پاتا ہے، جس سے قیادت کا یہ سلسلہ ایک گہری
فکری اور اجتماعی مشروعیت اختیار کر لیتا ہے۔ یعنی اجتماعی شعور جب کسی نظم پر متفق
ہو جائے تو وہ سیاسی اقتدار کو اخلاقی جواز عطا کرتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا
ہے کہ اسلامی جمہوریت میں حاکمِ وقت کیلئے دینداری اور تقوی کے ہمراہ عوام کی رضامندی اور اعتماد کا حامل ہونا ضروری
ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات
میں اقتدار اسی وقت تک معتبر رہتا ہے جب تک حاکم خدا اور بندوں دونوں
کے نزدیک امین بن کر کام کرے۔ کسی بھی ریاست کے عوام تبھی فلاح پا سکتے ہیں کہ جب اُن
کے ہاں تدبیر، بصیرت اور تقوی آگے اگے ہو
اور اقتدار پیچھے پیچھے۔یعنی نظام ایسا
ہوکہ ملک میں لوگ اہلِ فضیلت اور اہلِ علم شخصیات
کو اجتماعی بھلائی کے لیے قیادت کے منصب پر اپنے ووٹوں سے فائز کریں۔اس کے علاوہ مجلسِ خبرگان پر یہ ذمہ
داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ رہبر کی شرائط کے برقرار رہنے، اس کی کارکردگی اور
ذمہ داریوں کی ادائیگی کی مسلسل نگرانی کرے۔ اگر کسی وقت یہ محسوس ہو کہ رہبر اپنی
مقررہ شرائط سے محروم ہو چکا ہے تو مجلسِ خبرگان اسے منصب سے معزول کر کے اس کی
جگہ کسی موزوں اور اہل فرد کو منتخب کر سکتی ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ مجلسِ
خبرگان کے اختیارات ہمیں بتاتے ہیں کہ اسلام میں اقتدار موروثی نہیں بلکہ اقتدار کو ہمیشہ عدل، حکمت اور انسانی خیر کے تابع ہونا
چاہیے۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں