کہاں ہیں وہ نام نہاد
دانشور؟
ڈاکٹر نذر حافی
فروری ۲۰۲۶ کو تاریخ کبھی
فراموش نہیں کرے گی۔ جب بموں کی گرج سے زمین
لرزتی رہی اور انسانیت چیختی رہی۔ہم نے اِن ایّام میں صرف شہرہی نہیں انسانی ضمیر
بھی جلتے ہوئے دیکھے۔فروری ۲۰۲۶ کے آخری دنوں میں جو کچھ اسلامی جمہوریہ ایران کی سرزمین
پر ہوا، وہ عالمی انسانی ضمیر، بین
الاقوامی قانون اور مغربی تہذیب کے تمام دعووں پر پانی پھیر گیا۔ کیا اس حملے کے
بعد بھی امریکہ و یورپ خود کو قانون، اخلاق اور انسانیت کے علمبردار کہنے کے مجاز ہیں؟
۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کیا جانے والا حملہ امریکہ و اسرائیل کی سفاکیت اور مغربی دنیا کی اخلاقی موت کو بیک وقت عیاں کرتا ہے۔ اس جارحیت کے نتیجے میں متعدد شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ہرمزگان کے شہر میناب میں ایک ابتدائی اسکول پر دن کی روشنی میں ایسا حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں تقریباً ۱۶۵ معصوم طالبات شہید ہوئیں اور درجنوں دیگر بچے ملبے تلے دب گئے۔ اسی طرح مشرقی تہران اور قزوین کے شہر آبیک میں بھی تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا گیا جہاں مزید طلبا اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔یقین جانئے اس دن صرف عمارتیں نہیں گریں بلکہ انسانیت کا وجود مسمار کر دیا گیا۔
ہم امریکہ و یورپ میں بسنے والی ماوں سے یہ کہنا چاہتے ہیں
کہ ایران میں مارے جانے والے سکولوں کے بچوں کو ایک ماں کی نگاہ سے دیکھیں، اور ان ماوں کے دُکھ کو محسوس کریں ۔ یقیناً مائیں
ہی اس درد کو محسوس کر سکتی ہیں کہ جب بچوں کی مسکراہٹیں موت میں بدل جاتی ہیں تو
ماوں کیلئے دنیا کی سب خوشیاں تباہ ہوجاتی
ہیں۔ایک ماں کے لیے سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ اس کا بچہ بے بسی کے عالم میں موت کے منہ میں
چلا جائے۔ ایران اور غزہ میں امریکا و اسرائیل نے سینکڑوں بچے مار دئیے ہیں لیکن یورپ و امریکہ کی
مائیں اس ظُلم پر خاموش ہیں۔
یکم مارچ ۲۰۲۶ کو حملوں کا دائرہ مزید وسیع ہوا۔ تہران میں ہلال احمر کی
عمارت، گاندی، مطہری اور خاتم الانبیاء ہسپتال، اہواز میں ابوذر ہسپتال، اور سراب،
چابہار اور ہمدان میں تین ایمرجنسی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ہسپتال وہ مقدس مقامات ہیں جو انسانوں کے درمیان
زندگی کے چراغ جلاتے ہیں لیکن ظالموں نے
انہیں آگ، دھویں اور ملبے میں تبدیل کر دیا۔اسی دن شمالی تہران کے کئی
رہائشی علاقوں پر بھی حملے کیے گئے۔ اگلی صبح، ۲ مارچ کو سنندج
کے ایک گنجان آباد رہائشی علاقے پر میزائل داغے گئے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق ان
حملوں میں دو سو سے زائد افراد شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے، جبکہ متعدد اسکول،
ہسپتال اور رہائشی عمارتیں تباہ ہوئیں۔ظالموں نے ان مراکز کو نشانہ بنایا جو علم، صحت او انسانیت کی علامت تھے ۔
یہاں ایک بنیادی سوال ابھر کر سامنے آتا ہے؛ وہ لوگ کہاں ہیں
جو برسوں سے یہ کہتے آئے تھے کہ امریکہ اور یورپ انسانی حقوق کے سب سے بڑے محافظ ہیں؟
وہ دانشور کہاں ہیں جو مغرب کو قانون کی آخری پناہ گاہ اور انسانیت کی معراج قرار
دیتے تھے؟ آج جب اسکولوں پر بم برس رہے ہیں، جب ہسپتالوں کے بستر راکھ بن رہے ہیں،
جب امدادی کارکنوں کا خون سڑکوں پر بہہ رہا ہے، تو وہ روشن فکر کیوں خاموش ہیں؟ کیا یہ انسانیت ہے یا درندگی؟ اور اس درندگی پر
خاموش رہنا خود کتنی بڑی درندگی ہے؟
ان حملوں کے مقابلے میں ایران کی جوابی کارروائیاں ایک
مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ ایران نے اپنی کارروائیوں میں صرف دشمن کے فوجی اڈوں کو
نشانہ بنایا اور وہ بھی انہی اڈوں کو جو دشمن نے خطے کے مختلف مقامات پر قائم کیے
تھے۔ اس نے اپنے ہمسایہ عرب ممالک میں سے کسی ایک پر بھی حملہ نہیں کیا، نہ کسی
شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ یہ اسلام کے
جنگی اصولوں کی پاسداری ہے کہ نہ بچوں کو
قتل کیا جائے، نہ عورتوں کو نقصان پہنچایا جائے، نہ عبادت گاہوں کو تباہ کیا جائے
اور نہ بے گناہوں کے گھروں کو مسمار کیا جائے۔ ایران نے اپنی فتح کیلئے بے گناہ
انسانوں کو ٹارگٹ نہیں بنایا۔ انسانیت کے بغیر فتح ایران و اسلام کو مطلوب ہی
نہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے اس بحران میں ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ دین اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں ۔ جب دشمن نے اسکولوں کو نشانہ بنایا تو ایران نے فوجی اڈوں کو جواب دیا، جب دشمن نے شہری آبادیوں پر بم برسائے تو ایران نے صرف عسکری اہداف کو چنا۔ یہی وہ فرق ہے جو ایران دنیا کو سمجھانا چاہتا ہے۔ اب دنیا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اسلامی تعلیمات اور یورپ و امریکہ کی تعلیمات میں انسانیت کا کتنا احترام ہے!۔
آج اگر دنیا کے مسلمان سر اٹھا کر دیکھیں تو انہیں محسوس
ہوگا کہ اس معرکے میں امریکہ و اسرائیل کے مقابلے میں صرف ایک اسلامی ملک نہیں بلکہ ایک اسلامی اُصول کھڑا ہے۔ یہ اُصول ہر مسلمان سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ جنگ میں بھی انسانیت کو زندہ رکھا جا ئے، طاقت
کے مقابلے میں اخلاق کو بلند رکھا جائے، اور جنگ کے دوران بھی اپنے ضمیر کی آواز کو دھیان سے
سُنا جائے۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں میدان
جنگ میں ایک مسلمان کیلئے اپنی جان بچانے
سے زیادہ اہم اپنا ضمیر بچانا ہے ۔اتنے
ظلم کے باوجود دوسری طرف نام نہاد
دانشوروں کی خاموشی یہ بتا رہی ہے کہ امریکہ کے بم انسانوں کے بچے اور امریکہ کے
ڈالر انسانوں کے ضمیر مار دیتے ہیں۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں