زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

منگل، 7 اپریل، 2026

مولانا سید حسنین عباس گردیزی صاحب

مولانا سید حسنین عباس گردیزی صاحب

تعارف و تبصرہ

مولانا سید حسنین عباس گردیزی صاحب ایک معروف عالمِ دین، محقق، مترجم اور خطیب ہیں، جن کا تعلق ایک علمی و سادات گھرانے سے ہے۔ آپ کے والد محترم کا نام سید قاسم علی گردیزی ہے۔آپ کا تعلق معروف گردیزی سادات خاندان سے ہے، جس کے جدِ اعلیٰ حضرت ابو الفضل جمال الدین محمد یوسف گردیزی ہیں۔ آپ 450 ہجری میں افغانستان کے شہر گردیز میں پیدا ہوئے اور 481 ہجری میں ملتان کی طرف ہجرت کر کے وہیں مستقل سکونت اختیار کی۔ آپ کا سلسلۂ نسب امام جعفر صادق علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔ گردیزی خاندان گزشتہ ایک ہزار سال سے ملتان اور اس کے گرد و نواح میں آباد ہے اور اسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ ملتان میں آنے والے اولین شیعہ سادات میں شمار ہوتا ہے۔ اس خاندان نے ہمیشہ تشیع کی تبلیغ، ترویج اور عزاداری کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔


مولانا حسنین عباس گردیزی صاحب کی تاریخِ پیدائش سرکاری ریکارڈ کے مطابق یکم جنوری 1966ء ہے۔ آپ کی جائے پیدائش اُس وقت ضلع ملتان کا حصہ تھی، جو بعد میں ضلع خانیوال میں شامل ہو گئی۔

آپ نے ابتدائی تعلیم ملتان میں حاصل کی۔ 1981ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول پیراں غائب سے میٹرک کا امتحان پہلی پوزیشن کے ساتھ پاس کیا۔ 1983ء میں گورنمنٹ کالج بوسن روڈ، ملتان سے ایف ایس سی فرسٹ ڈویژن میں مکمل کی۔ اس کے بعد زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے 1987ء میں بی ایس سی (آنرز) ایگری کلچر اور 1989ء میں ایم ایس سی (آنرز) ایگری کلچر دونوں فرسٹ ڈویژن میں حاصل کیں۔

دینی علوم کے حصول کے لیے آپ نے جامعۃ المنتظر لاہور سے "سلطان الافاضل" کی سند حاصل کی، جس کے مساوی ایم اے (عربی) اور ایم اے (اسلامیات) کے سرٹیفیکیٹس پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کیے۔ مزید علمی تشنگی بجھانے کے لیے آپ جنوری 1990ء میں حوزہ علمیہ قم (ایران) تشریف لے گئے، جہاں آپ نے تفسیر قرآن، حدیث، فقہ و اصول فقہ، عقائد و کلام، تقابل ادیان اور فلسفہ جیسے علوم میں مہارت حاصل کی۔ آپ نے ان تمام مضامین میں امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔ دورانِ تعلیم آپ کو آیت اللہ اعتمادی، آیت اللہ پایانی، آیت اللہ گلپایگانی، آیت اللہ مکارم شیرازی اور آیت اللہ جعفر سبحانی جیسے جید اساتذہ سے استفادہ کا موقع ملا۔

اگست 1999ء میں وطن واپسی کے بعد آپ نے تدریسی خدمات کا آغاز کیا۔ آپ نے مدرسہ دارالقرآن ماڑی شاہ، ضلع جھنگ میں تدریس کی، بعد ازاں 2000ء سے 2001ء تک جامعہ الحسنین جھامرہ شریف، ضلع چکوال کے پرنسپل کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 2001ء سے تاحال آپ جامعۃ الرضا، بارہ کہو (اسلام آباد) میں تعلیم و تربیّت  سے وابستہ ہیں اور اسی ادارے کے مہتمم بھی ہیں۔ آپ کے  سینکڑوں شاگرد اس وقت حوزہ علمیہ قم المقدس، نجف اشرف اور مشہد مقدس میں زیرِ تعلیم ہیں۔ ان میں سے بہت سارے اپنی تعلیم مکمل کر کے پاکستان کے مختلف علاقوں میں بحیثیت عالم دین یا کالجز و یونیورسٹیز میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

مولانا گردیزی صاحب نے  سال ۲۰۰۴ میں  اپنے رفقاء کے ساتھ مل کر "نور الہدیٰ ٹرسٹ" کی بنیاد رکھی، جس کے آپ طویل عرصہ تک چیئرمین رہے۔ اس ٹرسٹ کے تحت متعدد علمی، تعلیمی اور رفاہی ادارے کام کر رہے ہیں، جن میں جامعۃ الرضا، جامعہ معصومہ (خواتین)، دی ایِمز اسکول و کالج، تحقیقی مجلہ "نور معرفت" اور نور الہدیٰ مرکز تحقیقات شامل ہیں۔

آپ ایک ممتاز خطیب بھی ہیں اور ملک و بیرونِ ملک مجالسِ عزا سے خطاب کر چکے ہیں۔ آپ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ متحدہ عرب امارات، جنوبی افریقہ، کینیڈا اور امریکہ میں بھی اپنے علمی خطابات کے ذریعے پہچانے جاتے ہیں۔ 2001ء سے آپ بارہ کہو کی ایک معروف شیعہ مسجد﴿ مسجدِ علی ابنِ ابی طالبؑ ﴾  میں امام جمعہ و جماعت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ آپ نور الہدیٰ ٹرسٹ اور محمد علی فاؤنڈیشن کے بانی اراکین میں بھی شامل ہیں۔

تصنیف و تالیف اور ترجمہ نگاری کے میدان میں بھی آپ نے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ آپ نے متعدد اہم علمی و دینی کتب کے تراجم کیے، جن میں منشور جاوید، پیام قرآن، معاد، الصحیح من السیرۃ النبیؐ (جلد اول و دوم)، پیغمبر رحمت، مسئلہ فلسطین، علی بزبان علیؑ، حیات فاطمہ، حیات علی ابن الحسین، نہج الفصاحہ اور حضرت ابو طالب قابلِ ذکر ہیں۔

اس کے علاوہ آپ کے متعدد علمی و تحقیقی مقالات سہ ماہی "المیزان" اسلام آباد اور مجلہ "نور معرفت" میں شائع ہو چکے ہیں۔ آپ نے خطابت، تدریس، تحقیق اور تصنیف کے میدان میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔

تنظیمی اور ملی خدمات کے حوالے سے بھی آپ کی شخصیت نمایاں ہے۔ آپ نے زمانۂ طالب علمی میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (ISO) سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور مختلف ذمہ داریوں پر فائز رہے، یہاں تک کہ 1987-88ء میں مرکزی صدر منتخب ہوئے۔ بعد ازاں آپ مجلس نظارت کے رکن بنے اور تاحال اس ذمہ داری پر فائز ہیں۔ آپ مجلس وحدت المسلمین کے قیام میں بنیادی کردار ادا کرنے والوں میں شامل ہیں اور اس وقت اس کی شوریٰ عالی کے رکن اور سیکرٹری ہیں۔ علاوہ ازیں آپ مجلس علمائے مکتب اہل بیت کے صدر بھی ہیں۔ اس وقت وطنِ عزیز پاکستان میں مولانا سید حسنین عباس گردیزی صاحب کو علمی، دینی، تدریسی اور تنظیمی میدانوں میں ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے کہ جنہوں نے اپنی زندگی کو علم، دین اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کر رکھا ہے۔

مولانا سید حسنین عباس گردیزی صاحب کی حیاتِ علمی و عملی کا مطالعہ اس امر کو واضح کرتا ہے کہ آپ نے عصری اور دینی علوم میں اعلیٰ مہارت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس  علمی سرمائے کو معاشرتی اصلاح اور قومی  ارتقاء کے لیے مؤثر انداز میں استعمال  بھی کیا ہے۔آپ نےعلم، تدریس، تبلیغ اور خدمتِ دین کے  مختلف میدانوں میں اپنی خدمات انجام دی ہیں۔ حوزۂ علمیہ قم سے وطن واپسی پر آپ نے جس تسلسل، سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ تدریسی و تبلیغی خدمات سرانجام دیں، وہ آپ کے احساسِ ذمہ داری اور واضح نصب العین کی عکاس ہیں۔ آپ نے  بحیثیتِ معلم، منتظم، خطیب اور مترجم مختلف میدانوں میں ایک متوازن  شخصیت ہونے کا  عملی ثبوت دیا ہے۔

خصوصاً میدانِ تدریس میں آپ کی خدمات نہایت نمایاں ہیں، جہاں آپ نے نہ صرف  جامعۃ الرضا اور جامعۃ معصومہ کی بنیاد رکھی بلکہ ان اداروں میں دینی و عصری تعلیم کے ہمراہ تربیت  کو بھی اولویت دی۔  آپ کی زیرِ نگرانی بیسیوں  شاگردوں نے علمی و فکری تربیت حاصل کی، جو آج مختلف علمی، دینی اور سماجی شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ نور الہدیٰ ٹرسٹ اور اس کے ذیلی اداروں کا قیام آپ کی تنظیمی بصیرت اور ادارہ سازی کی صلاحیتوں کا عملی ثبوت ہے۔ ان اداروں نے سماج میں ایک  علمی، تعلیمی اور رفاہی خدمات کے ایک مربوط سلسلے کو  جنم دیا ہے۔  آپ کی تصانیف  و ترجمہ نگاری کی کاوشیں بھی علمی ذخیرے میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہیں۔

تنظیمی سطح پر بھی  آپ کی خدمات بھی خصوصی اہمیت کی حامل ہیں۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے وابستگی سے لے کر مجلس وحدت المسلمین میں فعال کردار تک، آپ نے جس بصیرت، فکری پختگی اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا، وہ آپ کی مِلّی صلاحیتوں کو نمایاں کرتا ہے۔ آپ کا یہ کردار اس بات کا مظہر ہے کہ آپ  ایک علمی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ  ایک مؤثر سماجی و تنظیمی رہنما بھی ہیں۔ آپ کی خدمات نئی نسل کیلئے  جہاں فکری و عملی رہنمائی فراہم کرتی ہیں وہیں  آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک  قابلِ تقلید نمونہ ہیں۔آپ نے عملاً ہمیں یہ درس دیا ہے کہ ایک بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔


0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...