زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

جمعہ، 10 اپریل، 2026

کیا شہادت ہر شخص کو نصیب ہو سکتی ہے؟

کیا شہادت ہر شخص کو نصیب ہو سکتی ہے؟

ڈاکٹر نذر حافی

 اگر اس امر پر غور کیا جائے کہ یہ اسلام گزشتہ چودہ سو سالوں میں  کیوں کر  قائم رہا،  اور اسلام کا  نوخیز پودا کیوں مرجھانے نہ پایا اور کیسے بتدریج  یہ ایک تناور درخت میں تبدیل ہوا، تو اس کا معقول و مدلّل جواب قربانی، ایثار، جذبۂ شہادت اور وقتِ ضرورت میدان میں موجود رہنے کی آمادگی میں ملتا ہے۔

ایران کا اسلامی انقلاب ایک ایسے دور میں برپا ہوا تھا کہ  جب یقین، شک کے سامنے ہتھیار ڈال چکا تھا ،  دنیا کی اکثریت  نامِ خدا اور نظامِ خدا کے بجائے مادی ترقی پر مر مِٹی تھی۔ دنیا  بھر کے نظریہ ساز یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ خدائی نظام اور الہی  دین تو اب قدیم  تاریخ کا قصہ بن چکا ہے۔ ایسے دور میں ایرانی  شہداء نے شہادت کے راستے کو اختیار کر کے مادیت کو پٹڑی سے اتار دیا اور  موت کو زندگی بنا دیا ۔ انہوں نے ثابت کیا کہ سب سے بڑی طاقت خدا پر ایمان کی ہے اور سب سے روشن چراغ  شہادت کا ہے۔ اگرچہ یہ سب سے روشن چراغ ہے لیکن  یہ چراغ ہر دماغ میں نہیں جلتا ۔اس حقیقت کو شہید رہبر نے اپنے الفاظ میں یوں بیان کیا ہے کہ  "انقلابِ اسلامی کے عظیم رہنما اُن افراد میں شامل تھے جنہوں نے اُس زمانے میں، جب ایران کے حکمرانوں کی سرکاری ادبیات پر مغربی ثقافت غالب تھی، اس  شہادت کی  ثقافت کو فروغ دیا۔

میں انقلاب سے پہلے مشہد کی ایک مسجد میں نماز پڑھاتا تھا اور لوگوں سے خطاب کرتا تھا، جہاں نوجوان بھی جمع ہو جاتے تھے۔ اُس وقت شہادت، انقلاب کے بعد کے زمانے کی طرح عام نہ تھی  تاہم ہمارے پاس شہداء موجود تھے۔ میں اُن سے کہا کرتا تھا کہ اے نوجوانو! اے بھائیو! شہادت ایک نفع بخش موت ہے، ایک دانا اور باخبر انسان کی موت ہے۔ یہ خدا کا ایک عطیہ ہے اور خدا یہ عطیہ ہر ایک کو نہیں دیتا  بلکہ اسے اُن لوگوں کو عطا کرتا ہے جو اس کی راہ میں جدوجہد کرتے ہیں۔"[1]

بے شک شہید رہبر نے سچ فرمایا ہے۔ آپ اسلامی انقلاب کے شہدا کی زندگیوں کا مطالعہ کر کے دیکھیں۔ شہادت ہر شخص کو نصیب نہیں ہوتی۔ شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کے موقع پر اس حقیقت کو ہم نے اس جملے میں بیان کیا تھا کہ  شہدا ہی شہید ہوتے ہیں۔  نگاہ کیجیے شہداء کی  ظاہری حیات پر۔  بظاہر وہ خالی ہاتھ اور  دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے مگر  اُن کے دل اور بازو ایمان کی طاقت سے بھرپور تھے۔ اسلامی انقلاب کے ایّام میں وہ خالی ہاتھ  سنگینوں اور توپوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو گئے ۔شہنشاہ کے خوفناک ہتھیاروں کے مقابلے میں اُن کے پاس صرف ایمان کی طاقت تھی۔  اسی طاقت سے انہوں نے تخت و تاج اور زمانے کی سُپر طاقتوں کو اپنے قدموں میں جھکا دیا۔

ایمان کی طاقت انسان کو اس زندگی میں ہی ایک چلتا پھرتا شہید بنا دیتی ہے۔وہ اس مادی پیکر میں ایک ایسا انسان بن جاتا ہے کہ  اُسے کوئی مار نہیں سکتا اور جھکا نہیں سکتا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ شہید رہبر شہادت پر ایک انوکھے انداز میں روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں کہ " لفظ 'شہید' ایک ایسا عنوان ہے کہ جسے آسانی سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس لفظ میں دینی، قومی اور انسانی اقدار کا ایک مکمل مجموعہ پوشیدہ ہے۔ جب آپ 'شہید' کہتے ہیں، تو در حقیقت یہ لفظ ایک کتاب کے مانند ہے،  اس میں دینی معارف، قومی معارف اور اخلاقی فضائل کا خزانہ موجود ہے۔ یہ لفظ نہایت بامعنی اور اہم ہے۔"[2]

ہمارے نزدیک جیساکہ شہید رہبر نے فرمایا ہے کہ  شہادت کا عنوان ایک جامع عنوان ہے، اُس کے مطابق شہادت کے راستے پر کاربند رہنے کیلئے انسان کا  اپنی مادی زندگی میں جامع اور اجتماعی ہونا ضروری ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے کہ شہادت کا راستہ انسانیت کے بلند ترین مقام تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ایران میں اسلامی انقلاب کی  جدوجہد کے ایام میں ایسے بھی لوگ تھے کہ جنہوں نے شہادت کی آرزو اور طاغوت کے خلاف لڑائی کے جذبے سے قدم بڑھائے، مگر اس  سفر کے دوران وہ منحرف ہو گئے۔ وہ جامع ہونے کے بجائے ایک ہی رُخ کو دیکھنے اور اُسی کو لے کر آگے چلنے والے تھے۔ جامعیت خود ایک نورِ ہدایت ہے۔   چنانچہ رہبر معظم نے  اس  مسئلے کو اِن الفاظ میں بیان کیا ہے کہ  "جب آپ دیکھتے اور سنتے ہیں کہ بعض شہداء عاشقانہ انداز میں شہادت کی آرزو کرتے تھے، تو یہ اس لیے تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ایک نور ڈال دیا تھا۔ اسی نور کے ذریعے وہ حقیقت دیکھ پاتے تھے، اور وہ حقیقت یہ تھی کہ وہ شہادت کے عاشق تھے۔یہ ایک عجیب سچ ہے کہ جنہیں مٹانے کی کوشش کی گئی، وہی فکر بن کر پھیل گئے؛ اور جنہیں طاقت کا زعم تھا، وہ اپنی ہی قوت کے بوجھ تلے دب گئے۔ اگر اس راز کو سمجھ لیا جائے تو زر و زور کی چمک خود اپنی تاریکی بن جائے گی، اور استعماری قوتوں کے تمام ہتھیار اپنی ہی دھار سے بے اثر ہو جائیں گے۔[3]

شہید رہبر کے افکار کی روشنی میں یہاں تک یہ واضح ہو گیا ہے کہ  شہادت  لوگوں کے اذہان میں  ایک مسلمان کی تصویر کو رفعت و عظمت بخشتی ہے اور معاشرے میں اُس کی شناخت کو جرأت، استقامت اور بلند مقاصد کی جستجو سے جوڑ دیتی ہے۔ شہید وہ ہستی ہے جو اپنی انا  سے بلند ہو کر اور ہر پستی کو ٹھکرا کر اپنی قوم کے لیے غیرت، حوصلے اور شجاعت کی نئی روایت قائم کرتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ لوگ بھی، جو خود راہِ شہادت کے متلاشی نہیں ہوتے، شہداء کے گرویدہ دکھائی دیتے ہیں۔ شہدا سے لوگوں کا ایسا عشق  اس لیے ہے  کہ شہداء نے علائقِ دنیا سے گزر کر بقا و جاودانگی کا مقام پایا ہے۔ پس شہادت کا کلچر  مسلمانوں کی قومی شناخت کی حیثیت رکھتاہے۔ اسلامی ثقافت اور شہادت کے تعلق کو  شہید رہبر نے کچھ یوں بیان کیا ہے کہ " جو چیز اسلامی ثقافت کو زندہ و تابندہ رکھتی ہے، وہ جذبۂ طلبِ شہادت ہے اگر کسی قوم میں موت اور شہادت کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے کا حوصلہ موجود ہو، تو وہ قوم لازماً کامیاب و سربلند ہوتی ہے۔"[4] اسی طرح آپ کے الفاظ میں "اسلامی  ثقافت کی حیات و بقا کا راز درحقیقت اسی جذبۂ طلبِ شہادت میں مضمر ہے، جو ہر دور میں اسے تازگی اور  حیاتِ نو عطا کرتا ہے۔[5]

شہید رہبر کی ذات میں یہ جذبۂ طلبِ شہادت ایک مسلسل اور پائیدار کیفیت کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ انہیں وہ لمحہ بھی یاد تھا کہ  جب انہوں نے شہید  نواب صفوی کو سلیمان خان مدرسے میں دیکھا تھا وہ اس واقعے کو وہ یوں بیان کرتے اور یاد کیا کرتے تھے۔"  شہید صفوی کے دور میں، میں  نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ہم سب بڑے شوق اور جوش کے ساتھ یہ تمنا رکھتے تھے کہ شہادت نصیب ہو جائے! حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے میں معاشرے کے اندر نہ شہادت کی وہ ثقافت موجود تھی اور نہ ہی جذبۂ طلبِ شہادت کا وہ شعور پایا جاتا تھا۔[6] یہاں تک کہ آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے اختتام کے بعد، انہوں نے بسیجیوں کے اجتماع میں یہ  ارشاد فرمایا کہ " جمهوری اسلامی کے حکام نے اسی جذبۂ طلبِ شہادت کے ساتھ، جس جذبے کے ساتھ وہ انقلاب کے میدان میں قدم رکھ چکے تھے، جنگ کے میدان میں بھی قدم رکھا۔ خدا کے راستے میں قربانی دینے کی آمادگی کے ساتھ، اور انقلابِ اسلامی کے اعلیٰ مقاصد کے لیے اپنی آخری سانس تک مضبوطی، عزم اور طاقت کے ساتھ ثابت قدم رہے۔"[7]

جذبہ شہادت اُن کے گوشت پوست میں اس قدر رچا بسا تھا کہ   ان کی زندگی  کا ایک اہم مشن شہداء کی یاد کو زندہ رکھنے اور ان کے کارناموں کو تازہ  کرنے  کے لیے باوقار اور عظیم الشان یادگاری مجالس کا اہتمام کرنا تھا۔ ان مجالس کے حوالے سے آپ کا کہنا ہے کہ  "شہدا کو یاد کرنے کی محافل و  مجالس دراصل جہادی حرکت کے تسلسل اور جذبۂ شہادت کے دوام کی ایک زندہ علامت ہیں۔ یہ محض باوقار تعزیتی تقاریب نہیں ہوتیں، جیسا کہ بسا اوقات سمجھ لیا جاتا ہے، بلکہ یہ اپنے اندر ایک گہرا فکری و معنوی پیغام سموئے ہوئے ہوتی ہیں۔ ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ شہادت کے مفہوم کو دلوں میں روشن کیا جائے، شہید کی شخصیت کو اس کی حقیقی معنویت کے ساتھ متعارف کرایا جائے، اور ثقافتِ شہادت کو معاشرے کی اجتماعی یادداشت میں ہمیشہ کے لیے راسخ و زندہ رکھا جائے۔[8]

شہید رہبر  کے نزدیک جو لوگ اس دنیا میں خدا کیلئے خالص ہو جاتے ہیں یہ اُن کے شایان شان ہی نہیں کہ وہ شہادت کے بغیر اس دنیا سے چلے جائیں۔ آپ نے اس حقیقت کو کچھ اس طرح بیان فرمایا ہے:

"شہادت کا خطِ مقدس انقلابِ اسلامی میں اپنی ایک مستقل اور تابناک تاریخ رکھتا ہے۔ یہ نورانی راہ اُن پاکیزہ شہداء کے خون سے ہموار ہوئی جنہوں نے نوخیز انقلابی نظام کے استحکام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اور آٹھ سالہ دفاعِ مقدس میں یہی راستہ عظیم ترین معرکوں اور لازوال حماسی داستانوں کا منظر بنا، جو مجاہدینِ اسلام کے ہاتھوں رقم ہوئیں۔البتہ جب ۱۹۸۸ میں جنگ بندی کا اعلان ہوا تو چند دنوں تک ایک گہرا رنج دل پر طاری رہا۔ اگرچہ یہ کیفیت زیادہ دیر قائم نہ رہی، کیونکہ دشمن نے جنگ بندی کے بعد دوبارہ حملہ کیا، بعض علاقوں پر قبضہ کیا، اور یوں یہ راستہ ایک بار پھر کھل گیا۔ میں تہران میں نہ رہا اور وہاں چلا گیا، یہاں تک کہ حالات بتدریج سنبھل گئے؛ مجاہدین نے کارروائیاں کیں، دشمن کو پیچھے دھکیلا گیا، اور صورتحال پھر اسی سمت لوٹ آئی۔اس کے بعد یہ گمان بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ شہادت کا یہ دروازہ اسی طرح کھلا رہے گا۔ تاہم اس عرصے میں خدا کے کچھ خالص بندے شہادت کے بلند مرتبے پر فائز ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمدانی، کاظمی، صیاد جیسے افراد کے لیے یہ بات شایانِ شان نہیں کہ وہ شہادت کے سوا کسی اور صورت میں دنیا سے جائیں یا عام انسانوں کی طرح وفات پائیں۔" [9]

یہاں پہنچ کر اب میرے پاس لکھنے کو کچھ نہیں رہا۔ شہید رہبر  کی زندگی حرف بحرف ایک کرامت کے طور پر میرے سامنے مجسّم ہے۔ اگر آپ عام انسانوں کی مانند وفات پا جاتے تو میرے جیسے لوگوں کے لیے یہ امر یقیناً حیرت اور تعجب کا باعث ہوتا۔ عام انسانوں جیسی وفات ہرگز آپ کے شایانِ شان نہیں تھی۔اب صورتِ حال یہ تھی کہ بظاہر میدانِ جنگ میں شہادت کے امکانات بھی نہ ہونے کے برابر تھے۔ ایک تو آپ کی عمر مبارک چھیاسی سال تھی، اور اس عمر میں میدانِ جنگ میں شہادت کا واقع ہونا معمول کے اسباب کے تحت قریباً ناممکن دکھائی دیتا تھا۔ دوسرے یہ کہ دنیا کے معروف ضابطوں اور عرف کے مطابق قائدین، سیاستدانوں اور اہلِ فکر کو عسکری حملوں کا ہدف بنانا جائز نہیں سمجھا جاتا۔اس کے باوجود، دورِ حاضر کے عالمِ کفر کے سرغنہ نے آپ کو عین اسی مقام پر نشانہ بنایا، جہاں سے آپ مسلمان مجاہدین کی سربراہی کر رہے تھے، اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ آپ کی شخصیت عام اسباب و معمولات کے دائرے میں سمونے والی نہ تھی، بلکہ آپ کی حیات اور آپ کی رخصت دونوں  ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں۔ آپ اس دنیا میں جس  خلوص کے ساتھ خدا کے لئے فعال تھے  بالکل اُسی مخلصانہ فعالیت کو انجام دیتے ہوئے  دوسری دنیا میں چلے گئے۔  یعنی آپ کی زندگی اور موت ایک ہی تصویر کے دو  رُخ ہیں۔ یوں نہیں ہے کہ آپ شہادت کے بعد جنت الفردوس میں چلے گئے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ اس دنیا میں بھی شہدا کی جنّت میں ہی رہتے تھے، اُنہی کے راستے پر، اُنہی کی یاد میں، اُنہی کی تعلیمات کے ساتھ اور اُنہیں کے مشن پر لبیک کہتے ہوئے آپ دوسری زندگی میں اناًفاناً داخل ہو گئے۔آپ ایسے شہید ہوئے کہ ساری دنیا حیران رہ گئی اور سب پر آپ کی شہادت سے  ایک مرتبہ پھر یہ ثابت ہوگیا کہ  جو بھی ہو جائے، ظاہری حالات و اسباب جیسے بھی ہوں، عمر، مقام و مرتبہ بھی جو مرضی ہو ہر صورت میں شہدا ہی شہید ہوتے ہیں۔

آخر میں ہم اپنے قارئین کیلئے یہ عرض کرتے چلیں  کہ دین اسلام میں صاحبانِ ایمان خصوصاً شہدا سے جس جنّت کا وعدہ کیا گیا ہے ، وہ جنّت محض نہروں، باغوں اور محلات کا نام نہیں۔ یہ سب کچھ  دلوں کی صفائی، روحوں کی شفافیت اور کینوں کے خاتمے کے ساتھ مشروط ہے۔ وہاں ہر غل و غش مٹ جائے گا، اور لوگ آمنے سامنے اخوت کے ساتھ بیٹھیں گے۔ شہید رہبر نے اس مادی دنیا میں بالکل شہدا کی مانند پاکیزہ زندگی بسر کی۔ دنیا کے تمام صاحبانِ ایمان کے ساتھ آپ کا  طرزِ زندگی وہی اہلِ بہشت کا سا تھا۔ آپ نے اس مادی دنیا میں شہدا جیسی زندگی بسر کر کے ہمیں یہ درس دیا ہے   کہ اگر دل صاف نہ ہو تو جنت بھی جنت نہیں رہتی، اور اگر دل صاف ہو تو اس دنیا میں بھی اہل بہشت کی مانند زندگی بسر کی جا سکتی ہے۔



[1] کرمان کے شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات میں بیانات (۲ مارچ ۲۰۰۶)

[2] قم صوبے کے شہداء کے کانگریس کے منتظمین سے ملاقات میں بیانات (۳۰ اکتوبر ۲۰۲۲)

[3] ایضاً

[4] سرچشمہ کے قتل گاہ میں خطاب (۱۶ اکتوبر ۱۹۸۳)

[5] قم صوبے کے شہداء کے کانگریس کے منتظمین سے ملاقات میں بیانات (۳۰ اکتوبر ۲۰۲۲)

[6] فدائیان اسلام کے جانثار ساتھیوں سے ملاقات (۱۷ جنوری ۱۹۸۵)

[7] بیس ملین فوج کے بڑے کمانڈروں کے اجتماع میں آزادی اسٹیڈیم میں بیانات (۲۴ نومبر ۱۹۸۸)

[8]تعلیمی امور کے شہداء کے کانگریس”، “طلبہ کے شہداء کے کانگریس” اور “فنکار شہداء کے کانگریس” کے اسٹاف کے اراکین سے ملاقات میں بیانات (۱۶ فروری ۲۰۱۵)

[9] شہید آیت اللہ مدنی کے کانگریس کے اراکین سے ملاقات میں بیانات (۳ ستمبر ۲۰۰1)


0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...