ایران مذاکرات کر رہا ہے یا امریکہ کا علاج؟
ڈاکٹر نذر حافی :
دو ایرانی آئل ٹینکروں کی ضبطی کو سمندری ڈکیتی ہم نے نہیں کہا، یہ اعلان امریکی صدر نے خود کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد لگتا ہے کہ دنیا بھر میں قانون کی حیثیت اُس تعویذ جیسی رہ گئی ہے جس پر تحریر تو ہوتی ہے، مگر تاثیر نہیں۔جمعہ، یکم مئی 2026 کو اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے دو جہازوں کو لوٹا گیا۔ ممکن ہے دنیا اسے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف ایک معمول کی جنگی کارروائی سمجھتی، تاہم فلوریڈا کے شہر ویسٹ پام بیچ میں فورم کلب کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اس غلط فہمی کو خود ہی دور کر دیا۔مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ہماری کارروائی ایک سمندری ڈکیتی ہے۔ اس ڈکیتی سے ہم نے تیل حاصل کیا، اور یہ ایک نہایت منافع بخش کاروبار ہے۔ امریکی صدر کا یہ اعتراف، اعتراف بھی ہے اور استہزا بھی؛ یہ امریکہ کی حقیقت بھی ہے اور اس کی سیاست بھی۔
قانونی ماہرین اور معتبر ذرائع کی رپورٹس کے مطابق امریکہ کے حالیہ اقدامات کئی حوالوں سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کو ایک سرکاری خط میں زور دیا کہ ایسے اقدامات اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2(4) کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جس میں ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز پر زور دیا گیا ہے۔ مزید برآں، سمندری قوانین کے کنونشن (UNCLOS) کے مطابق بین الاقوامی پانیوں میں تجارتی جہازوں کو آزادانہ آمدورفت کا حق حاصل ہے۔ امریکی عدالتوں کے داخلی فیصلوں کی بنیاد پر ان جہازوں کی ضبطی بین الاقوامی سطح پر قانونی حیثیت نہیں رکھتی۔ اس سارے پسِ منظر کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ کیلئے قزاقی ایک جرم نہیں بلکہ ایک ریاستی پالیسی ہے۔ اس قزاقی سے دنیا کو یہ پیغام پہنچایا گیاہے کہ سُپر طاقتوں کے نزدیک اس سُپر ماڈرن عہد میں قزاق طاقتور ہوجائیں تو قزاقی بھی قابلِ فخر پیشہ بن جاتی ہے اور مظلوم اپنا دفاع بھی کرے تو اُسے باغی سمجھا جاتا ہے۔
حالیہ 40 روزہ جنگ کے تناظر میں امریکہ بغیر نقاب کے ساری دنیا کے سامنے کھڑا ہے۔ امریکی فوجی طاقت کے غیر قانونی مظاہرے اور سول آبادی پر وحشیانہ حملے بھی طاقت کا توازن واشنگٹن کے حق میں تبدیل نہ کر سکے۔ قزاق خود ہی جنگ بندی کا اعلان کرنے اور پھر اس اعلان میں یکطرفہ توسیع میں مجبور ہوئے۔آج بچہ بچہ اس حقیقت کو سمجھتا ہے کہ قزاق جب عسکری اور وحشیانہ اقدامات سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے، تو متبادل ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہوئے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کا بیان کوئی سبقتِ لسانی یا لغزش نہیں بلکہ بین الاقوامی جہاز رانی کے خلاف مجرمانہ اقدامات کا کھلا اعتراف ہے۔ انہوں نے ایرانی حکمتِ عملی کے مطابق عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے اقدامات کے خلاف سخت مؤقف اختیار کریں۔اسی طرح محسن رضائی، ایران کے مجمع تشخیص مصلحت نظام کے رکن نے کہا ہے کہ امریکہ دنیا کا واحد سمندری ڈاکو ہے جس کے پاس طیارہ بردار جہاز ہیں! ہماری صلاحیت صرف قزاقوں کا مقابلہ کرنے تک محدود نہیں بلکہ ہم ان کے بحری جہاز بھی ڈبو سکتے ہیں۔
تنگ آمد بجنگ آمد جیسی صورتحال میں ایران آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ باب المندب کی آبنائے کوبھی بند کرے گا۔ باب المندب جیسی اہم گزرگاہ کو بند کرنا یا مخالف ممالک کے جہازوں کو روکنا ہی امریکہ کیلئے کڑا چیلنج بن جائے گا۔ آگے چل کر یمن کی مزاحمتی قوتیں بھی اس سلسلے میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں اور انہوں نے ماضی میں بھی ایسے اقدامات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ باب المندب کو بند کرنے کی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں فی بیرل 250 ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں ایران کے بجائے امریکہ سمیت مغربی ممالک پر شدید اقتصادی دباؤ پڑے گا۔اس کا مطلب ہے کہ ایران کو غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا امریکہ کیلئے ممکن ہی نہیں۔ امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی جنگ صہیونی ریاست کو اکسا کر شروع کی، ٹرمپ کو یقین تھا کہ یہ جنگ ایران کے ہتھیار ڈالنے یا اس کی حکومت کے سقوط پر منتج ہوگی، اور ابتدائی حملوں کے چند گھنٹوں میں ہی وینزویلا جیسا منظرنامہ ایران میں بھی دہرایا جائے گا۔ اس کے بعد جنگ شروع ہوئی اور جنگ کے پھیلنے اور ایران کے سخت ردعمل کے باعث جلد ہی واشنگٹن کے سامنے صرف دو راستے کھلے رہ گئے، ایک مکمل ذلت آمیز پسپائی اور دوسرا کھلا اعلانِ شکست۔اس وقت امریکہ نہ جنگ جاری رکھ سکتا ہے، نہ ایران کو جھکا سکتا ہے، اور نہ ہی اس کے پاس کوئی اور راستہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ٹرمپ مؤثر حملے کر سکتا جو ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیتے، تو وہ تاخیر نہ کرتا اور جنگ بندی میں توسیع کی ضرورت پیش نہ آتی۔اس کے باوجود امریکی صدر کی تقاریر اور سوشل میڈیا پیغامات، نیز اس کے حامی میڈیا کی رپورٹس، اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ ایران کے خلاف فوجی طاقت اور اقتصادی دباؤ ہی کامیابی کی کلید ہے۔ امریکی پالیسی میکرز یہ بھی جانتے ہیں کہ جنگ کا دروازہ مکمل طور پر بند ہو چکا ہے، اسی لیے وہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے منصوبوں کے نام بدل کر وقت خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس کے باوجود امریکی ریاست کی قزاقی کی کارروائیاں اور امریکی صدر سمیت امریکی حکام کا دھونس آمیز رویّہ یہ بتا رہا ہے کہ مذاکرات ہونے کے باوجود اب امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ختم نہیں ہو گی۔امریکی رویّے اور زمینی حقائق کے درمیان ایک وسیع اور گہری خلیج موجود ہے۔ ایسی گہری خلیج سے چشم پوشی کو پالیسی کے بجائے ایک ذہنی بیماری اور نفسیاتی کمزوری سمجھا جانا چاہیے۔ یہ خلیج بتا رہی ہے کہ ایران کے ردِّ عمل کے باعث امریکی ریاست کے تمام ستون مکمل طور پر ذہنی و نفسیاتی مریض بن چکی ہیں۔ ایک طرف توامریکی سب کچھ جاننے کا دعویٰ کر رہے ہیں اور دوسری طرف ان پر کچھ بھی نہ سمجھنے کی کیفیت طاری ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ امریکہ کی اس اجتماعی بیماری اور نفسیاتی کمزوری کو ایرانی بخوبی بھانپ چکے ہیں۔ ایرانیوں کے نزدیک امریکہ کو اس وقت مذاکرات سے زیادہ علاج کی ضرورت ہے۔ چنانچہ ساری دنیا مذاکرات اور علاج کو ایک سمجھ رہی ہے جبکہ ایرانی اپنے عمل سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور امریکہ کا علاج یہ دو الگ الگ کام ہیں۔لہذا ایرانی ان دونوں کاموں کو الگ الگ سطح پر اپنی اپنی جگہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں