بسم اللہ الرحمن الرحیم
توقیر کھرل کی نئی کتاب "شہید رہبر"
ڈاکٹر نذر حافی
وقت کی طاقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ سب
لوگ مرجاتے ہیں۔ یعنی وقت سب کو مار دیتا ہے تاہم ہر
دور میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں کہ وقت کے اُن کے نام سے زندہ رہتا ہے۔ایسی شخصیات وقت کے دھارے کے ساتھ بہنے کے بجائے وقت کو حیاتِ نو عطا کرتی ہیں۔ ایسے لوگ جو اپنے وجود و خون سے صدیوں کو زندہ کر دیتے ہیں، اُن کی عمر کو
سالوں کے بجائے اُن کی عظمت سے ماپا جاتا ہے۔ چونکہ ہم نے مقتل میں بارہا یہ
دیکھا ہے کہ بعض لوگ تلواروں کے درمیان سے
اپنی جان بچا کر بھی لوگوں کے دِلوں میں مر جاتے ہیں، جبکہ بعض اپنا سر کٹوا کر ہمیشہ
کیلئے امر ہو جاتے ہیں۔ جی ہاں !عام لوگ زمانے کے تابع ہوتے ہیں، لیکن وقت غیر
معمولی انسانوں کے تابع ہو تا ہے۔تاریخ میں جو چراغ خون سے جلائے جاتے ہیں اُنہیں زمانے کی آندھیاں نہیں بُجھا سکتیں۔ غیر معمولی انسان ہی تاریخ کے اُفق پر ایسے غیرمعمولی
چراغ جلاتے ہیں۔ ایسے عظیم مرتبہ انسان ہی
شکست
خوردہ قوموں کو حوصلہ، مرعوب ذہنوں کو جرأت، اور منتشر افکار کو وحدت عطا کرتے ہیں۔زمانہ انہیں اس
دنیا سے جانے کے بعد بھی امام ، رہبر قائد اور قطب جیسے القابات سے یاد کرتا ہے۔ بلا شبہ شہید رہبر سید
علی خامنہ ای بھی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ایک ہیں ۔
ہمارے معاصر عہد میں شہید رہبر نے اپنی قیادت اور شہادت سے دنیا کو یہ باور کرایا ہے کہ ایمان اگر بصیرت کے ساتھ جمع ہو جائے تو
وہ سپر طاقتوں کے غرور کو بھی خاک میں ملا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے خون کے آخری
قطرے سے یہ ثابت کر دیا ہےکہ قیادت مسندِ اقتدار پر براجمان ہو کر پھولوں کی سیج
پر سونے کا نام نہیں بلکہ کانٹوں کے بستر پر ملت کے دکھ درد میں کروٹیں بدلنے کا
نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی قیادت و رہبری میں جرأت بھی تھی، تقویٰ بھی، مزاحمت
بھی تھی، حکمت بھی، حرکت بھی تھی ، تبدیلی
بھی، دوام بھی تھا، تسلسل بھی، اقتدار بھی
تھا اور انکسار بھی۔ انہوں نے سادگی اور عاجزی سے اپنی
ایمانی طاقت اور سربلندی کو منوایا جبکہ اُن کے متکبر قاتل دنیا والوں کی نگاہوں میں لمحہ بہ لمحہ مزید پست ہی ہوتے جا رہے ہیں۔بھلا
جس کے ساتھ خدا ہو اُسے کون کمزور کر سکتا
ہے !؟۔
عام طور پر دیکھا یہ گیا ہے کہ اکثر حکمران اپنے اقتدار کی حفاظت کیلئے قومی غیرت
و حمیت کو قربان کر دیتے ہیں جبکہ شہید رہبر نے اپنی قوم، نظریے اور امت کیلئے خود کو قربان کر دیا۔ آہ! مجھے یاد
آیا کہ قومی غیرت و حمیت کیلئے قربانی
دینے والوں میں ایک بڑا نام شہید قاسم سلیمانی کا بھی ہے۔ برادرِ عزیز توقیر کھرل
نے شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کے موقع پر بھی ایک مؤثر اور فکر انگیز کتاب تالیف
کی تھی۔ جو خصوصیات اُن کی اُس کتاب میں
تھیں و ہ سب اس کتاب میں بھی بدرجہ اتم
موجود ہیں۔ اب شہید رہبر کی مظلومانہ شہادت ہوئی تو مولف ِ محترم نے ایک بار پھر میدانِ تالیف میں وقت
کی پکار پر لبیک کہا ہے۔ شہید قاسم سلیمانی والی کتاب کی طرح اس کتاب میں بھی انہوں نے محض واقعات جمع کرنے کے بجائے ایک پورے عہد کی فکری، سیاسی اور روحانی تاریخ
کو ایک مربوط بیانیے میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ “شہید رہبر” کے نام سے ان کی
حالیہ تصنیف بھی آئندہ نسلوں کیلئے ایک
اہم منبع اور معتبر حوالہ بنے گی۔
یہاں پر یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ تحقیق کی دنیا میں مواد اکٹھا
کرنا کوئی بڑا کارنامہ نہیں، اصل امتحان یہ ہے کہ منتشر حوالوں، متفرق واقعات اور
مختلف زاویوں کو ایک ایسی فکری وحدت میں ڈھالا جائے کہ جس سے قاری کے دِل میں عقیدت کے چراغ بھی جلیں اور اُس کے دماغ میں بصیرت کی
قندیلیں بھی ٹمٹمائیں۔ توقیر کھرل نے یہی
کام کیا ہے۔ انہوں نے اس تصنیف میں صرف معلومات فراہم نہیں کیں بلکہ ایک ایسا بیانیہ
تشکیل دیا ہے جو قاری کو سوال کرنے، سوچنے اور اپنے زمانے کو نئے زاویے سے دیکھنے
پر مجبور کرتا ہے۔
یہ کتاب شہید رہبر کی نجی زندگی کے اُن پہلوؤں کو بھی آشکار کرتی
ہے جن کی تاب ہمارے حکمران نہیں لا سکتے۔ بھلا
آج کے سُپر ماڈرن دور میں ایک ریاست کا سُپریم لیڈر اور دنیا بھر کے مسلمانوں کا
قائد ہونے کے باوجود کوئی شخص کیسے زاہدانہ زندگی بسر کرتا رہا اور جس
کے پاس اپنے زمانے کی سُپر پاور سے ٹکرانے کی عسکری قوت تھی لیکن وہ کیونکر ساری
زندگی خوفِ خدا کا عملی مجسمہ بنا رہا!؟۔ دنیا بھر کے حکمران محلات میں بیٹھ کر عوام سے قربانی مانگتے
ہوئے نظر آتےہیں، جبکہ شہید رہبر نے اپنی جان دے کر ثابت کیا کہ حقیقی و عوامی قیادت قربانی کے میدان میں اپنی ملت سے پیچھے نہیں رہتی۔
عزیزم توقیر کھرل کی یہ کتاب ایک اور بنیادی حقیقت
کو بھی بے نقاب کرتی ہے کہ رہبری آرام دہ کرسیوں، پروٹوکول اور نعروں کے بجائے مسلسل خطرات، قربانیوں اور مشکل فیصلوں کی شاہراہ پر گامزن رہنے کے مشن کا نام ہے۔
اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ قاری کو حق و باطل کے
معرکے میں غیر جانبدار نہیں رہنے دیتی۔ یہ آپ کو یا تو حق کے ساتھ یا پھر اپنے ضمیر
کے کٹہرے میں لا کھڑا کرتی ہے۔ اس کے صفحات میں صرف سوانح نہیں بلکہ سوالات بھی ہیں۔
ایسے سوالات کہ جو جذبات کو جلا بخشنے کے
ساتھ ساتھ دلائل کو بھی جنم دیتے ہیں، اور عقیدت کے چراغ جلانے کے ہمراہ فکری مزاحمت کے دریچے بھی کھولتے ہیں۔
یہ تصنیف دراصل اُن تمام فکری مغالطوں کے خلاف ایک اعلانِ بغاوت
ہے جو امت کو تقسیم، مرعوب اور بے حس کرنے کیلئے پھیلائے جا تے ہیں۔ اس کتاب میں
آپ کو سیاست کے ساتھ اخلاق، اقتدار کے ساتھ انکسار، قانون کے ساتھ تقویٰ، قوت کے
ساتھ انسانیت اور قیادت کے ساتھ شہادت دکھائی دے گی۔ اس کے ورق ورق پر علما صرف خطیب نہیں بلکہ بصیرت کے نگہبان نظر آئیں
گے، فوج و پولیس کے ادارے صرف طاقتور ادارے نہیں بلکہ قانون و امانت کے محافظ
دکھائی دیں گے، اور پالیسی ساز صرف حکمران نہیں بلکہ قربانی کیلئے آمادہ مجاہد
محسوس ہوں گے۔
عزیزم توقیر کھرل کی یہ کتاب شہید رہبر کے عشاق کیلئے ایک تحفہ بھی ہے اور ایک فکری اسلحہ بھی۔ یہ کتاب قاری کو ایک نظریاتی و فکری محاذ کا سپاہی بنانے کی سعی ہے۔ اس کے بعض جملے پھول کی طرح مہکتے ہیں اور بعض کانٹے کی طرح دل میں اتر جاتے ہیں۔ کہیں یہ امید دیتی ہے، کہیں بے حسی پر ضرب لگاتی ہے، کہیں آنکھ نم کرتی ہے اور کہیں انسان کے اندر سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ قاری کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ توقیر کھرل کے نرم و ملائم الفاظ کبھی کبھی قاری کے دِل پر تلوار سے زیادہ گہرا زخم لگا دیتے ہیں۔ ایسا ہونا بھی چاہیے چونکہ جو تحریر انسان کے ضمیر کا آپریشن کر دے وہ تحریر ، الفاظ کے قالب میں ایک فکری تلوار ہوتی ہے۔
آخر میں عرض یہ ہے کہ ایسے دور میں جب میڈیا سچ کو دفن کر رہا
ہو، طاقتور ظلم کو قانون کا نام دے رہے ہوں، حق گوئی کو انتہاپسندی اور مزاحمت کو
جرم قرار دیا جا رہا ہو، تو پھر ایسی کتابیں مطالعے کے بجائے روحانی زندگی و نظریاتی حیات کیلئے ضروری ہوتی ہیں۔مجھے امید ہے کہ یہ کتاب
اہلِ علم، نوجوان نسل اور عام قارئین سب کیلئے بصیرت و آگہی کا چراغ ثابت ہوگی،
اور امتِ مسلمہ کے درمیان فکری وحدت، شعوری بیداری اور مزاحمتی فکر کے نئے در وا
کرے گی۔ شہید رہبر کی شہادت کے بعد اس
کتاب کے بارے میں یہی کہوں گا کہ اندھیرا چھانے کے بعد ہی روشنی جنم لیا کرتی ہے۔ اس
روشنی کا استقبال کیجئے۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں