کتاب : معجزہ کیا ہے؟
تبصرہ: ڈاکٹر نذر حافی
اس ہفتے ایک فارسی محقق محمد باقر سعیدی روشن کی تصنیف " معجزہ کیا ہے؟ " میرے زیرِ مطالعہ ہے۔ موصوف قاری کا ہاتھ پکڑ کر اسے اس سفر پر لے جاتے ہیں کہ جہاں انسان محسوسات کی محدود دنیا سے نکل کر ماورائے طبیعت حقیقتوں کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج بھی انسان جب آسمان کی وسعتوں کو دیکھتا ہے، ستاروں کی گردش، سورج کی روشنی، اور حیات و موت کے حیرت انگیز نظام پر غور کرتا ہے، تو اس کے دل میں ایک اضطراب، بے چینی اور کشمکش انگڑائیاں لینے لگتی ہے۔اس کشمکش میں انسان اپنے آپ سے یہ پوچھے بغیر نہیں رہ سکتا کہ کیا یہ سب کچھ محض اندھے قوانینِ فطرت کا نتیجہ ہے، یا اس کائنات کے پسِ پردہ کوئی ایسی ہستی موجود ہے جس کا ارادہ ہر قانون کا خالق ہے اور وہ ہستی ہر قانون پر حاکم ہے؟
مذکورہ کتاب کو نورالہدیٰ مرکز تحقیقات اسلام آباد نے نشر کیا ہے اور جامعۃ الرضا بارہ کہو اسلام آباد سے دستیاب ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ زیرِ نظر کتاب “معجزہ کیا ہے؟” دراصل انسانی عقل، ایمان، وحی اور حقیقت کے درمیان جاری مذکورہ کشمکش کی ایک علمی روایت ہے۔ اس کائنات میں ایک طرف مادی دنیا کے اٹل قوانین ہیں اور دوسری طرف انبیاءِ کرامؑ کے وہ حیرت انگیز معجزات جو ان قوانین کو بظاہر توڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم یہ کتاب قاری پر یہ روشن کرتی ہے کہ معجزہ دراصل قانونِ فطرت کی نفی نہیں بلکہ خالقِ فطرت کی حاکمیت کا اظہار ہے۔ یعنی قانونِ فطرت خود مختار نہیں بلکہ امرِ الہی کا دوسرا نام قانون فطرت ہے۔ گویا معجزہ دراصل اس امر کا اعلان ہے کہ قوانینِ فطرت اپنی ذات میں مستقل بالذات نہیں بلکہ ارادۂ الٰہی کے تابع ہیں۔
جیسے جیسے قاری کتاب کی ورق گردانی کرتا ہے تو اسےیوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ تاریخِ نبوت کے قافلے کے ساتھ ساتھ چل رہا ہو۔ کہیں حضرت ابراہیمؑ آگ کے الاؤ میں کھڑے ہیں ، کہیں حضرت موسیٰؑ کے عصا کی ضرب دکھائی دے رہی ہے، اور کہیں حضرت عیسیٰؑ مردہ اجسام کو حیاتِ نو عطا کر رہے ہیں۔ مصنف نے ان واقعات کے پسِ پردہ کارفرما الٰہی حکمت کو آشکار کرتے ہوئے قاری کو یہ احساس دلایا ہے کہ معجزہ دراصل انسان کو اس کی محدود عقل سے بلند تر حقیقت کی طرف متوجہ کرنے کا ذریعہ ہے۔
کتاب کا سب سے دل آویز مرحلہ وہ ہے جہاں گفتگو قرآنِ کریم کے اعجاز تک پہنچتی ہے۔ یہاں اسلوب میں ایک خاص روحانی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ مصنف بتاتے ہیں کہ سابقہ انبیاء کے معجزات ایک خاص زمانے اور مخصوص قوموں تک محدود تھے، مگر قرآن ایسا معجزہ ہے جو وقت کی قید سے آزاد ہے۔ چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود یہ آج بھی انسان کو چیلنج کرتا ہے کہ اگر تمہیں اس کے کلامِ الٰہی ہونے میں شک ہے تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ۔ یہ وہ معجزہ ہے جو آنکھوں سے زیادہ عقل کو مخاطب کرتا ہے، اور عقل سے بڑھ کر دل کو۔مصنف نے نہایت دلنشیں انداز میں یہ واضح کیا ہے کہ قرآن کا اعجاز یہ بھی ہے کہ وہ انسان کے باطن سے ہم کلام ہوتا ہے۔ قاری جب قرآن پڑھتا ہے تو یوں محسوس کرتا ہے کہ جیسے یہ کتاب اسے اُس سے زیادہ جانتی ہے جتنا وہ خود اپنے آپ کو جانتا ہے۔ اس بحث میں انسان پر یہ راز کھلتا ہے کہ قرآن کے الفاظ جب عبادت ہیں اور معانی ہدایت تو یہی تو قرآن کا نمایاں معجزہ ہے۔
کتاب کا ایک اور امتیاز یہ ہے کہ اس کے اسلوبِ تحریر میں علمی نزاکت بھی ہے اور روحانی تاثیر بھی۔ کہیں استدلال کی گہرائی ہے تو کہیں عرفان کی لطافت، کہیں تاریخی گفتگو ہے تو کہیں تفسیر سے مدد لی گئی ہے، کہیں منطقی استدلال ہے تو کہیں محبتِ رسالت کی لطیف جھلک۔ المختصر یہ کہ مصنف نے پیچیدہ موضوعات کو سہل انداز میں بیان کرتے ہوئے مباحث کے علمی وقار مجروح نہیں ہونے دیا۔لہذا دورانِ مطالعہ قاری محسوس کرتا ہے کہ جیسے وہ محض ایک کتاب پڑھنے کے بجائے ایک علمی، فکری و روحانی معراج کے زینے طے کر رہا ہے۔
اختتام تک پہنچتے پہنچتے قاری کے ذہن میں معجزے کا قدیمی، روایتی اور سُنا سنایا مفہوم بدل جاتا ہے۔ یعنی معجزہ کیا ہے؟ یہ کتاب اپنے موضوع، استدلال اور اسلوب کے اعتبار سے انسان کو اپنی ذات کے بارے میں ازسرِ نو سوچنے، اپنے ارد گرد کے بارے میں کچھ نیا محسوس کرنے اور اپنے خالق کو نئے شعور کے ساتھ پہچاننے پر آمادہ کرتی ہے۔
اس کتاب میں مصنف محمد باقر سعیدی روشن نے معجزات کو نبوت، وحی اور ہدایتِ انسانی کے باہمی ربط کی ایک الٰہی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔ کتاب کے مترجم ادریس احمد علوی ہیں۔ بلا شبہ اُن کی شستہ اردو اور ڈاکٹر سید راشد عباس نقوی کی نظرثانی نے اردو زبان کے قارئین کیلئے کتاب کے علمی معیار کو گرنے نہیں دیا۔ مصنف نے معجزہ اور کرامت، وحی اور عقل، قانونِ فطرت اور قدرتِ الٰہی کے درمیان ایک منطقی تطابق دکھایا ہے جسے مترجم نے بھی قائم رکھنے کا مکمل اہتمام کیا ہے۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں