جنگ کا جواز یا رُسوائی و ڈھٹائی
ڈاکٹر نذر حافی
چالیس روزہ جنگ میں بہت کچھ عجیب و غریب ہوا۔ آج چالیس دن کے بعد دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت خاک پر ناک رگڑ رہی ہے ۔ جنگ کے دوران امریکہ و اسرائیل ہر میزائل کے ساتھ اپنی ہی طاقت گھٹاتے گئے۔ ایرانی شہروں سے اٹھتے ہوئے دھوئیں نے جارحین کے چہرے کو سیاہ و رُسوا کر دیا ہے۔ وہ جو ایران کو تنہا کرنے نکلے تھے، آج خود دیوار کے ساتھ لگ چکے ہیں۔ ٹرٹر نے اتنا ایران کو تباہ نہیں کیا جتنا اپنی اخلاقی ساکھ، سفارتی اعتماد، معاشی استحکام اور عسکری ذخائر کو برباد کیا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اس جنگ میں امریکہ کی فتح کا ہر اعلان، اُس کی شکست کا نیا ثبوت بن کر تاریخ میں ثبت ہوا ہے ۔
فتح کے بجائے دنیا ایران کی جدید قیادت کے مقابل یہ منظر دیکھ رہی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل دونوں یہ فیصلہ کرنے میں لگے ہیں کہ ہم میں سے پہلے کون پسپائی اختیار کرے۔ دونوں اب فرار کی راہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔اُن میں سے ہر ایک کیلئے آگے بڑھنا شکست اور پیچھے ہٹنا رسوائی ہے۔ انہوں نے جنگ اس لیے چھیڑی تھی کہ اپنی طاقت ثابت کر سکیں لیکن اب انہیں سمجھ آئی ہے کہ اصل طاقت جنگ شروع کرنے کے بجائے اسے روکنے میں ہے۔ چنانچہ دونوں کو اب یہی پریشانی ہے کہ یہ جنگ آخرکار کیسے ختم ہو !
دوسری طرف تہران کی مظلومیت نے دنیا کی رائے عامہ کو بدل دیا ہے۔ یہ جنگ ڈونلڈ ٹر ٹر کے لیے ایک دیرپا بحران کے سوا اپنے ہمراہ اور کچھ نہیں لائی۔ عالمی برادری مسلسل ٹرٹر سے یہ پوچھ رہی ہے کہ آخر کس مقصد کے لیے اُس نے اتنی بھاری قیمت، عسکری و سفارتی دباؤ اور انتقامی خطرہ مول لیا ہے؟ دنیا یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ ایران پر حملے سے امریکہ و اسرائیل کو حقیقتاً کیا حاصل ہوا؟ سوائے اس کے کہ چند اہم اور قیمتی شخصیات قتل کر دی گئیں۔ ایران کی فضائی اور بحری قوت کو بھی کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا اور بڑے پیمانے پر حملے کرنے کی اس کی میزائل صلاحیت بھی متاثر نہیں ہوئی۔
بین الاقوامی جائزوں کے مطابق تہران کے پاس اب بھی تقریباً 70 فیصد میزائل ذخیرہ، 70 فیصد متحرک لانچر، اور آبنائے ہرمز کے اطراف موجود 90 فیصد سے زیادہ میزائل سائٹس عملاً فعال ہیں۔ اس کے علاوہ تہران اب بھی اسرائیل اور خلیج فارس میں امریکی اتحادیوں کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایران کے پاس اب بھی اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ موجود ہے۔ المختصر یہ کہ امریکہ کو کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہوا۔اسی دوران امریکی وزارتِ دفاع بھی اس جنگ میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے میں مصروف ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک تحقیق کے مطابق ایران کے حملوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے 15 فوجی اڈوں پر موجود 217 تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔
سی این این نے ایک علیحدہ رپورٹ میں بتایا کہ بحرین، کویت، عراق، متحدہ عرب امارات اور قطر میں کم از کم 9 امریکی اڈے ایرانی حملوں سے "نمایاں طور پر متاثر" ہوئے۔ قابلِ ذکر ہے کہ ایسے نقصانات کے اثرات محدود نہیں ہیں بلکہ ان تنصیبات کی تعمیرِ نو میں غالباً کئی سال لگیں گے اور واشنگٹن پر اربوں ڈالر کا مزید بوجھ پڑے گا۔ انفراسٹرکچر کےنقصانات کے ساتھ ساتھ جنگ کے دوران امریکی فوجی مقامات اور امریکی اتحادیوں پر ایران کا عسکری دباؤ بھی نمایاں رہا ہے۔ ایک اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز سینٹر کے اندازے کے مطابق امریکہ نے ایران کے ساتھ موجودہ جنگی مرحلے میں اپنے پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کا 50 سے 60 فیصد تک استعمال کر لیا ہے، یہ ایک قابلِ توجہ مقدار ہے، جو روس کے خلاف چار سالہ جنگ میں یوکرین کے استعمال سے بھی زیادہ ہے۔
علاوہ ازیں امریکہ نے ایران کے ساتھ جھڑپ میں اپنے ایک تہائی ٹاما ہاک میزائل بھی استعمال کر لیے ہیں۔ مالی اخراجات سے قطع نظر، اس قسم کے ہتھیاروں کی تیاری اور دوبارہ فراہمی میں چار سال تک لگ سکتے ہیں۔ عسکری دنیا میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر امریکہ کو اب کسی دوسرے محاذ پر فوجی کارروائی کرنا پڑی، یا ایران کے ساتھ ہی دوبارہ ٹکرانا پڑا تو وہ شدید کمزور جنگی صلاحیت کے ساتھ میدان میں اترے گا۔
داخلی اتفاقِ رائے اور وسیع بین الاقوامی حمایت کے بغیر جنگ میں داخل ہونے کی وجہ سے ٹر ٹر کو سیاسی و معاشی عدمِ استحکام کے ساتھ ساتھ توانائی کےبحران کا بھی سامنا ہے۔ امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دُگنی ہو چکی ہیں اور ڈیزل، جو تجارتی گاڑیوں کا بنیادی ایندھن ہے، 59 فیصد مہنگا ہو گیا ہے۔
پاکستان اور فلپائن جیسے ممالک نے بڑھتے ہوئے توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے سرکاری دفاتر کو ہفتہ وار اوقاتِ کار کم کرنے کی ہدایت دی ہے اور بعض جامعات کو توانائی بچانے کے لیے بند بھی کر دیا ہے۔ یہ صورتحال صرف چھوٹی معیشتوں تک محدود نہیں رہی، دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بھارت نے بھی اپنی 1.4 ارب آبادی سے ایندھن کے استعمال میں کمی اور سونے کی خوفزدہ خریداری سے گریز کی اپیل کی ہے۔
اگر واشنگٹن اپنی تیل برآمدات کم کر دے یا بیجنگ دوبارہ عالمی منڈی میں بھرپور انداز سے تیل خریدنے لگے، تو قیمتیں ایک بے قابو صعودی چکر میں داخل ہو جائیں گی۔ ایسا ہُوا تو سب سے زیادہ وہ ممالک متاثر ہونگے جن کے پاس نہ توانائی کی کمی سے نمٹنے کی مالی طاقت ہے اور نہ ہی اس بحران سے کم نقصان کے ساتھ نکلنے کے لیے اسٹریٹجک ذخائر ہیں۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز صرف دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے خام تیل اور قدرتی گیس کی گزرگاہ نہیں، بلکہ یہ دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی کیمیائی کھاد اور عالمی مارکیٹ کے ایک تہائی ہیلیم کی ترسیل کا بھی اہم راستہ ہے۔ اسی لیے بحران کے اثرات توانائی کے شعبے سے آگے بڑھ کر دوسرے حساس شعبوں تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ آگے چل کر جتنا زیادہ یہ بحران طول پکڑے گا، عالمی معیشت پر اس کی لاگت اتنی ہی بڑھتی جائے گی اور اس کا دباؤ صرف توانائی کی منڈی تک محدود نہیں رہے گا۔
اصل تشویش یہ ہے کہ اگر توانائی کی فراہمی معمول پر واپس نہ آئی تو اگلے سال عالمی ترقی 2 فیصد تک گر سکتی ہے ۔ اس عدد کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہوتی ہے جب معلوم ہو کہ 1980 کے بعد سے دنیا نے صرف چار بار 2 فیصد سے کم ترقی دیکھی ہے۔
دوسری جانب، 1950 کے بعد سے دنیا صرف دو مرتبہ حقیقی عالمی کساد بازاری کا شکار ہوئی ہے۔ پہلی مرتبہ 2008کے عالمی مالیاتی بحران میں، اور دوسری مرتبہ 2020 میں کووِڈ-19 وبا کے دوران۔ اگر ایران کی جنگ بھی ان دو بڑے اور غیر متوقع بحرانات کے ساتھ شامل ہو جائے، تو یہ ٹر ٹر اور امریکہ کے لیے ایک تاریخی خودساختہ نقصان ہوگا۔
اس جنگ کی قیمت صرف میدانِ جنگ، عالمی معیشت یا توانائی مارکیٹ تک محدود نہیں لہذا امریکی اتحادی بھی اس کے اثرات چکھ رہے ہیں ۔ ٹر ٹر نے نیٹو کے یورپی اتحادیوں سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے کئی مرتبہ مدد مانگی ہے لیکن کسی نے مثبت جواب نہیں دیا اور نہ ہی دیں گے۔ خلیج فارس میں وہ ممالک، جنہوں نے پہلے امریکی فوجی اڈوں کا خیرمقدم کیا تھا، اب پچھتا رہے ہیں۔ قطر اس کی نمایاں مثال ہے۔ غالب امکان ہے کہ اسے اپنی قدرتی گیس کی پیداوار کو جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں کئی سال لگیں اور اندازہ ہے کہ اس کی معیشت رواں سال 8.6 فیصد سکڑ جائے گی۔
دوسری جانب امریکہ کے ایشیائی اتحادی بھی اپنی کمزور معیشت کے باعث واشنگٹن کے رویے کو تشویش سے دیکھ رہے ہیں۔ اس سارے پسِ منظر میں چین غالباً امریکہ کی فوجی طاقت کے زوال، اس کی فوج کے مہنگے محاذ میں الجھنے اور واشنگٹن کی سیاسی حیثیت کے کمزور ہونے پر خوش ہے۔ روس بھی اس تنازعے میں اُلجھے بغیر ے نمایاں طور پر فائدہ اٹھا رہا ہے۔ روس کی ماہانہ تیل آمدنی جنگ کے آغاز کے ایام سے اب دوگنی ہو چکی ہے۔موجودہ حالات سے نکلنے کیلئے امریکہ سفارت کاری کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اب دنیا ٹر ٹر سے یہ پوچھ رہی ہے کہ اگر آخری حل سفارت کاری ہی تھا تو پھر جنگ شروع ہی کیوں کی تھی؟ ٹر ٹر کیلئے اس سے بڑی رُسوائی و ڈھٹائی اور کیا ہو گی کہ اُس نے جو جنگ طاقت کے اظہار کے لیے شروع کی تھی اب اسے اس جنگ کا جواز ڈھونڈنا پڑ رہا ہے۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں