زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

ہفتہ، 11 جولائی، 2026

ایران سے سیکھیں !

ڈاکٹر نذر حافی : 
کشمیر کو ایرانِ صغیر بھی کہتے ہیں۔ کشمیر کی آزادی کا مسئلہ اپنی جگہ اہم ہے لیکن آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال بھی چونکا دینے والی ہے۔ کیا پاکستان اور آزاد کشمیر کے لوگ اس حقیقت کو سمجھ رہے ہیں کہ  کیوں ایران کا دشمن جتنا آج خوفزدہ ہے اتنا کبھی ماضی میں نہ تھا؟۔   آئیے ایران کی قصیدہ خوانی کے بجائے ایران سے کچھ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ بات قابلِ مشاہدہ  ہے کہ  ایرانیوں نے  ایک نصف صدی تک بلا وقفہ  شعبِ ابیطالب جیسے   حالات کا سامنا کیا ہے۔ ایسے حالات پاکستان اور آزاد کشمیر پر بھی گزرے ہیں لیکن    کیا پاکستان اور آزاد کشمیر کے  حکمران  تاریخ کے ان اصولوں کو سمجھ رہے ہیں کہ جن پر قوموں کے عروج و زوال کا انحصار ہوتا ہے؟
کفار و مشرکین اور منافقین کی پابندیوں نے صدرِ اسلام کے مسلمانوں کی مانند   اہلِ ایران کو  توڑنے کے بجائے مزید   متحد کیاہے اور مشکلات نے  انہیں جھکانے کے بجائے مزید   بہتر انداز میں سنوارا ہے ۔اسلامی انقلاب کے ابتدائی برسوں میں، بادشاہت سے نجات حاصل کرنے کے لیے، انہوں  نے اپنے بہترین افراد کو اسلامی نظام کی خاطر قربان کیا۔یقیناً اس کرۂ ارض پر شاید ہی کوئی ایسا دوسرا  ملک ہوگا کہ  جس نے صرف 47 برس کے عرصے میں اتنے سانحات دیکھے ہوں۔ آٹھ سالہ دفاعِ مقدس میں 2 لاکھ 13 ہزار سے زائد شہداء، منافقین کے ہاتھوں 17 ہزار شہداء، ایک ہی دہشت گردانہ واقعے میں اکٹھے  72 ارکانِ پارلیمنٹ، ایک وزیر، نائب وزیر اور دیگر اعلیٰ حکام کی شہادت، اور دو صدورِ مملکت (شہید رجائی اور شہید رئیسی) اور ایک وزیرِ اعظم (شہید باہنر) کی شہادت۔ یہ سب اُس اُن کے ساتھ اُس  وقت ہوا جب انہیں امن،  سکون اور استحکام کی ضرورت تھی۔
ملتِ ایران کے اس امتحان  سے پاکستانی  اربابِ حل و عقد  کو  یہ نتیجہ کیوں نظر نہیں آتا کہ ایک مضبوط ریاست صرف  طاقت سے نہیں بلکہ حکمت، انصاف اور ایسے رہنماؤں سے  وجود میں آتی  ہے جو ذاتی مفادات پر  مفادِ عامہ کو ترجیح دیں۔ یہ عام فہم سی بات ہے کہ  وہی ریاست ترقی کر سکتی ہے جہاں  کرپشن کے بجائےکردار،  طاقت کے بجائے قانون اور شخصی و قبائلی مفادات کے بجائے  اجتماعی مقاصد مدِّنظرہوں۔
ایران میں پے در پے  بہترین افراد کا کھو جانا  اسلامی نظام کی کمزوری کا سبب ہونا چاہیے تھا  لیکن ایران میں اس کے برعکس ہوا۔ واقعہ کربلا کی مانند ان قربانیوں نے اسلامی انقلاب کو حیاتِ نو بخشی ۔  ایران میں اسلامی انقلاب کے ظہور کے وقت  ابھی ایرانی  ایک طویل جنگ سے نکلے ہی تھے اور حضرت امام خمینی ؒ کی موجودگی ہی اُن کیلئے سب سے بڑی امید تھی، ایسے وقت میں حضرت امامؒ ہی اُن کی  سب سے بڑی ڈھارس تھے، اُن کے سائے میں وہ اپنی ایک دہائی پر محیط جدوجہد کے مقاصد اور آرزوؤں کو حاصل کرنے کے خواب دیکھ  ہی رہے تھے  کہ  پھر  3 جون 1989ء کو حضرت امام کی جدائی  کا دن آیا اور اس کے بعد  ایرانی  ایک نئی جنگ میں داخل ہوگئے۔جس شخصیت کی موجودگی کو وہ اپنی  کامیابی کے لیے ضروری سمجھتے تھے ، اسی کی عدم موجودگی  میں نئی قیادت نے ملت ایران کیلئے کامیابیوں اور سر بلندی کے نئے دروازے کھولے۔ 
ایرانی قیادت نے  اپنی حکمت اور تدبیر سے یہ منوایا ہے  کہ مُلکی اداروں اور قومی  قیادت  کو علم، حکمت اور انسانی و اخلاقی اقدار سے مزیّن کئے بغیر آپ باشعور قوم نہیں بن  سکتے۔ ان کے نزدیک حکمران کا مقصد  کُرسی یا اقتدار حاصل کرنے کے بجائے  انسانوں کی فلاح و بہبود  اور  تعلیم و تربیّت  کیلئے کوشاں ہونا  ہے ۔
حضرت امام خمینیؒ  کے بعد  دو دہائیوں کے دوران درجنوں سائنس دان شہید ہوئے، دو جنگوں میں صرف چند ماہ کے مختصر وقفے کے اندر درجنوں اعلیٰ فوجی کمانڈر شہید ہوئے۔ان سب  قربانیوں کی انتہا  اور معراج  شہید رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای کی شہادت ہے۔  شہید رہبر  نے حضرت امام خمینی ؒ کے بعد  اپنی 37 سالہ حکیمانہ قیادت کے دوران ایک  دانا اور مہربان باپ کی طرح امت کی رہنمائی کی۔ انہوں نے حضرت امام خمینیؒ کے بعد ملتِ ایران کو اسلامی جمہوریت، دینی  معرفت اور سیاسی دانش  کی بلندیوں تک پہنچایا، اور اسے اس طرح تیار کیا کہ آج ان کی شہادت کو چار ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود بھی ایرانی قوم کی بصیرت، دنیا کیلئے  ایک روشن مثال بن چکی ہے۔ ایرانی عوام میں یہ بصیرت اس لئے موجود ہے چونکہ اُن کے عظیم رہنماوں نے دل و جان سے  اپنی عوام  کو محض رعایا نہیں بلکہ باوقار، صاحبِ عقل اور حقوق رکھنے والے شہری تسلیم کیا ہے۔
آج ساری دنیا یہ تسلیم کرتی ہے  کہ نظریاتی یا اعتقادی زاویے سے یہ  آزمائشیں، شہادتیں اور قربانیاں   ایک فطری امر ہیں، لیکن اہلِ ایران کیلئے  ان کی شدّت اور نوعیت انسانی توقعات سے کہیں زیادہ تھی۔یہ تمام واقعات اور حادثات، اگرچہ شہید رہبر سیّد علی خامنہ ای  کی نگاہ میں منزلِ مقصود کی چوٹی تک پہنچنے کے لیے ضروری تھے ، تاہم ان میں ایسے سانحات بھی شامل ہیں کہ جن کا اس شدت اور تسلسل  کے ساتھ پیش آنا ، ملتِ ایران کے  وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ بہرحال  ایسے المناک حادثات کا بھی ایرانیوں نے بحہثیتِ قوم بہترین انداز میں استقبال کیا ہے۔ ایسا اس لئے ہوا ہے چونکہ عظیم قائدین اس دنیا سے چلے بھی چائیں تو  ان کا طرزِ زندگی اور قوم کو  دیا گیا  شعور ایک قومی سرمائے کی صورت میں ہمیشہ باقی  رہتا ہے ۔ یعنی  ایک فکر اگر عوام کے  دلوں میں اتر جائے تو  کسی قائد یا رہبر کے جانے سے ختم ہونے کے بجائے ترقی کے سفر کیلئے مشعلِ راہ  بن جاتی ہے۔
گزشتہ سینتالیس سالوں میں کئی بار ملتِ ایران  نے اپنے سب سے قیمتی اور مقبول ترین افراد کے جنازوں  کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر اپنے ہاتھوں سے  سپردِ خاک کیا۔ 4 جون 1989ء کو جب  ملتِ ایران  تہران کے مصلیٰ میں امامِ راحل سے آخری وداع کے لیے جا رہے تھی  تو اس وقت کسی کے دل و دماغ میں  یہ تصور بھی نہ تھا کہ  یہ قوم ایک دن پھر   اسی مقام پر اپنے ایک اور نہایت عزیز رہنما سے رخصت ہونے کے لیے حاضر ہوگی۔  یہی تو وہ قوم ہے کہ  جس نے اس قدر زخم اور صدمات سہنے کے باوجود اسلامی نظام کو  زندگی کی سانسوں کی طرح  برقرار رکھا  ہوا ہے۔ اس قوم نے ساری دنیا تک یہ پیغام پہنچا دیا ہے کہ قومیں صرف  بڑے بڑے اجتماعات سے نہیں بلکہ  اعلی اہداف، مشترکہ مقاصد،  ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرانے  اور دیانتدار و سمجھدار  قیادت کے گرد جمع ہونے سے بنتی ہیں۔
 یہ امر کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ   ان لوگوں  نے یہ عہد کر رکھا ہے کہ خواہ کتنی ہی آزمائشیں اور مصیبتیں ہمارے حصے میں آئیں، ہم امام خمینیؒ اور شہید خامنہ ای کے افکار و مقاصد پر ثابت قدم رہیں گے اور اپنے دشمن کو ذلت و رسوائی سے دوچار کریں گے۔ان کا یہ عہد ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ ایسا ایمان جو شعور سے خالی ہو، جذبات کا طوفان تو بن سکتا ہے لیکن کسی قوم کو اُس کے دشمنوں کے مقابلے میں کھڑا نہیں کر سکتا۔
آج کل ملت ایران پر ایک گہرااور ناقابلِ بیان بوجھ طاری ہے، گویا آسمان زمین پر گِر گیاہو۔ شہید رہبر کی نماز جنازہ کا جلوس یہ ایک ایسا عظیم اجتماع تھا جو پوری قوم کے اتحاد، جذبہ شہادت اور  دشمن سے انتقام  کا مظہر تھا۔ ملت کو اطمینان اور سکون دینے والا رہبر اب خاموش ہو گیا ہے لیکن اُس کی ملت اب بول رہی ہے۔ ایران  کی سڑکیں اور گلیاں سب بیک زبان " انتقام انتقام "کی صداوں سے گونج رہی ہیں۔  دشمن بہت خوفزدہ ہے۔ سُنا ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد ابن زیاد، عمر ابن سعد، شمر اور ۔۔۔ یزید وغیرہ  بھی بہت خوفزدہ تھے۔ ایرانیوں نے شمر و یزید پر صرف زبانی کلامی لعنت نہیں کی ۔ انہوں نے تاریخ کربلا سے یہ درس لیا ہے کہ کربلا میں طاقتوروں کے ہاتھ بہت لمبے  تھے لیکن انسانی و اخلاقی عظمت ایک چھوٹے سے قافلے کے پاس تھی۔ چنانچہ  انسانی اقدار کو پامال کرنے والے طاقتور ہار گئے لیکن وہ چھوٹا سے قافلہ انسانی اقدار کو بچانے میں کامیاب ہو گیا۔یہ درس کربلا کا ہے کہ  فتحیاب وہ نہیں ہوتے جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں، اُن کے حقوق غصب کرتے ہیں حتی کہ اُن کا پانی تک بند کر دیتے ہیں بلکہ  فتحیاب وہ ہوا کرتے ہیں جو مشکل حالات میں اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوتے۔ 
شہید رہبر  سید علی خامنہ ای کے قاتلوں کو اب خبر ہوئی ہے کہ شہید رہبر اور ملت اسلامیہ ایک ہی جسد اور ایک ہی جسم تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق  پیر اور منگل کے روز تہران اور قم کے عوام صرف ایک جنازے کو الوداع کہنے کے بجائے  گویا وہ  "اپنے ہی وجود کے  دِل کو وداع  کرنے کیلئے"  جمع ہوئےتھے۔ ایسے ہی مناظر عراق میں بھی چشمِ فلک نے دیکھے۔  اس کے بعد سے دشمن پر خوف و ہراس طاری ہے۔ قاتل بے چین ہیں چونکہ  شہید رہبر کا  راستہ  اُن کی شہادت سے مزید روشن ہو گیا ہے۔ اُن کا  وجود تو لوگوں کی نگاہوں سے  اوجھل ہو گیا ہے  لیکن اُن کی   فکر مزید  نمایاں ہو گئی ہے، ایرانیوں کے  دانشور شہید ہوگئے ہیں لیکن دانش باقی ہے اور سپہ سالار چلے گئے ہیں لیکن  سپاہ قائم  ہے۔ اس سے ثابت ہوا  کہ  درست فکر  ایک ایسے دریا کی مانند ہے جو راستہ تو بدلتا ہے لیکن خشک نہیں ہوتا۔
تدفین کے روز قاتلوں پر کپکپی طاری تھی۔ ہر سمت سے سیاہ پوش اور بےقرار انسانوں کا ایک ایسا  سیلاب امڈا چلا آ رہا تھا کہ  جو تھکن کے باوجود تھمنے پر آمادہ نہ تھا۔ ہر چہرے سے  ایسا غم و الم  چھلک رہا  تھا کہ جس کے اختتام کا کوئی تصور ممکن نہیں تھا۔ ہر آنکھ سینتالیس برس کی استقامت، مزاحمت اور وفا کی گواہ تھی، اور ہر ہاتھ اشک و انتقام کا عَلَم تھامے ہوئے تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ لوگ نہیں تھے بلکہ یہ وہ دل تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی  کو اسی دِن  کے لیے اپنے آپ  کو تیار کیا  ہُوا تھا، اپنے عزم کو  کربلا سے  جِلا بخشی  تھی اور اپنے ایمان کو شہادت کے مصلّے پر  استوار  کر رکھا تھا۔ قاتل ان مناظر کو دیکھ کر بہت خوفزدہ ہیں چونکہ انسانی تاثرات الفاظ سے زیادہ بلیغ ہوتے ہیں۔
وہ مائیں، جو اپنے بچوں کو کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھیں، وہ ضعیف مرد و زن، جو عصاؤں کے سہارے اور خمیدہ قامت کے ساتھ جنازے کےہمراہ چل  رہے تھے،  اور وہ نوجوان، جو  اپنے سروں اور چہروں  پر ماتم کر رہے تھے ۔۔۔یہ سب ایک ہی جذبے  اور ایک ہی عہدِ وفا " انتقام انتقام" پر اکٹھے  تھے۔ یہ سب یہ اعلان کر رہے تھے کہ " ہم  ایک عظیم انتقام  کی جانب رواں دواں ہیں۔"
یہاں پر قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان اور کشمیر  کی تاریخ بھی سانحات، قربانیوں اور آزمائشوں سے بھری ہوئی ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک اس قوم نے جنگوں، دہشت گردی، سیاسی بحرانوں، معاشی مشکلات اور داخلی چیلنجز کا سامنا کیا۔ لاکھوں لوگوں کی ہجرت، سرحدوں کے دفاع میں قربانیاں، دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد اور بے شمار خاندانوں کے دکھ اس بات کے گواہ ہیں کہ پاکستان نے بھی آسانیاں نہیں دیکھیں۔ 
تاہم ہمارے پاکستانی صاحبانِ اقتدار اب   یہ بھول چکے ہیں  کہ قومیں صرف شہادتوں اور قربانیوں سے عظیم نہیں بنتیں بلکہ   وہ ان قربانیوں کے مقاصد کو زندہ رکھ کر عظیم بنتی ہیں۔ قومی قائدین اور  شہیدوں کی یاد اگر صرف آنسو بن جائے تو  ترقی  کا سفر رک جاتا ہے، لیکن اگر وہ کردار، علم، دیانت اور خدمت میں تبدیل ہو جائے تو وہی  "یاد" مستقبل کی طاقت بن جاتی ہے۔ پاکستان جیسا ایک ایسا  عظیم ملک جس نے بے شمار مشکلات دیکھی ہیں،  جس کے پاس نوجوان آبادی، قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت اور دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس کے باوجود  آج ہمارے سیاستدانوں کی نالائقی و کرپشن  کی وجہ سے  بظاہر بحرانوں میں گھرا ہوا ہے لیکن پھر بھی یہ امیدوں اور   امکانات سے بھرا ہوا پاکستان ہے۔ 
آج لازم ہے کہ نسل در نسل بادشاہوں کی مانند حکمرانوں اور مقتدر اشرافیہ  کی  لوٹ کھسوٹ  کو جاری رکھنے کے بجائے ملت ایران کی مانند پاکستان کے چاروں صوبوں، بشمول  گلگت بلتستان  اور آزادکشمیر کے عوام کے مقدس جذبات اور آئینی مطالبات کا احترام کیا جائے۔ ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کو  ایران سے یہ سیکھنا چاہیے کہ  قومیں باہر کے حملوں سے نہیں ٹوٹتیں بلکہ  اندر سے کمزور ہو کر شکست کھاتی ہیں۔ آزاد کشمیر کے عوامی مطالبات اور پاکستانی اشرافیہ کے لئے ہمارا یہ ایک جملہ کافی ہونا چاہیے کہ  جو قومیں اپنے قائدین اور شہیدوں سے  شعور لیتی ہیں،  اپنے قبائل کو اتحاد اور اپنے نوجوانوں کو  تعمیرِ ملت  کے راستے پر لگا دیتی  ہیں، ان کے لیے دشمن  بھی ترقی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ 
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ 1947 کے بعد  ہمارے ہاں بادشاہ بدل گئے ہیں لیکن سیاسی پارٹیوں، سیاستدانوں اور مُقتدر اداروں کی   سوچ وہی   پرانےبادشاہوں والی ہے۔ آزادکشمیر اور پاکستان کے حکمرانوں کو یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ عوام کسی تخت کے غلام نہیں، اس ملک کے مالک اور آزاد  شہری ہیں۔ چاروں صوبوں ، گلگت و بلتستان اور آزاد کشمیر کے لوگوں کو اُن کا آئینی اور قومی حق دیا جانا چاہیے کیونکہ قوموں کو غُلام بنا کر رکھنے کا دور گزر چکا ہے۔اس دور میں  جو ریاست اپنے شہریوں کو عزت کے ساتھ ایک وقت کا  لقمہ نہیں دے سکتی  اُس کے شہری بھی  اپنا لقمہ آسانی سے  اب  اشرافیہ کو نگلنے  نہیں دیتے۔ شہنشاہِ ایران اور ٹرمپ سے پوچھ لیجئے  ! مظلوم  سے زبردستی کے ساتھ چھینا ہوا  نوالہ ظالم کے   گلے کا پھندا  بن جایا کرتا ہے۔۔۔ 

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...