فیصلہ آج بھی ہمارے
ہاتھ میں ہے
ڈاکٹر نذر حافی
گزشتہ کالم میں ہم نے یہ کہا تھا کہ گزشتہ نصف صدی میں ملتِ
ایران نے ایسی آزمائشوں کا سامنا کیا ہے جنہیں شعبِ ابی طالب کی یادگار کہا جائے
تو مبالغہ نہ ہوگا۔ پابندیوں نے انہیں جھکانے کے بجائے سنبھالا، مصیبتوں نے انہیں
بکھیرنے کے بجائے سمیٹا، اور استعماری دشمنوں نے انہیں کمزور کرنے کے بجائے باہم جوڑ دیا۔ جن
طوفانوں سے قومیں ٹوٹ جایا کرتی ہیں، انہی طوفانوں نے ایران میں عزم کو جِلا،
کردار کو استحکام اور اجتماعی شعور کو دوام عطا کیا۔
اسلامی انقلاب کے ابتدائی ایام میں ایرانی عوام نے آزادی
اور خودمختاری کی قیمت اپنے بہترین فرزندوں کے لہو سے ادا کی۔ آٹھ برس کی جنگ،
ہزاروں دہشت گردانہ حملے، بے شمار اہلِ علم، اربابِ سیاست، عسکری قیادت اور قومی
شخصیات کی شہادت۔۔۔یہ سب ایسے زخم تھے جن سے کسی بھی ریاست کا وجود لرز جاتا ہے
لیکن وہاں خون نے خوف کو جنم نہیں
دیا بلکہ حوصلے کو زندگی بخشی، قربانی نے
مایوسی کو نہیں بلکہ امید کو جنم دیا اور
شہدا نے شکست کو شکست دے کر استقامت کا پرچم بلند کیا۔یہیں سے وہ سوال جنم لیتا
ہے جس پر پاکستان اور آزاد کشمیر کے صاحبانِ اقتدار کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے
کہ آخر وہ کون سا راز ہے کہ مسلسل سانحات کے باوجود ایک ریاست اپنی قومی حیثیت برقرار
رکھے ہوئے ہے جبکہ بعض ریاستیں معمولی سیاسی
اختلافات سے بھی انتشار کا شکار ہو جاتی ہیں؟ اس کا جواب توپ و تفنگ میں نہیں،
کردار و تدبر میں ہے، طاقت کے اظہار میں نہیں، قانون کے احترام میں ہے اور تقاریر کے سحر میں نہیں، اجتماعی شعور کی بیداری
میں ہے۔
ایران کے تجربے نے کم از کم یہ حقیقت ضرور واضح کی ہے کہ ریاستیں
صرف عسکری قوت سے محفوظ نہیں ہوتیں بلکہ انصاف سے مضبوط، قانون سے مستحکم، علم سے
منور اور اخلاق سے معتبر بنتی ہیں۔ جہاں اقتدار خدمت کا نام ہو، جہاں منصب امانت
سمجھا جائے، جہاں ذاتی منفعت پر قومی مصلحت کو ترجیح دی جائے، وہاں مشکلات راستہ
روکنے کے بجائے منزل کا شعور عطا کرتی ہیں۔قومیں اس وقت عروج پاتی ہیں جب وہ افراد
کی عظمت کو اداروں کی مضبوطی میں ڈھال دیتی ہیں، اور شہداء کی قربانیوں کو محض
آنسوؤں کی نذر کرنے کے بجائے قومی کردار کا حصہ بنا لیتی ہیں۔ ملتِ ایران کا یہ
پہلو ہر صاحبِ فکر کے لیے قابلِ غور اور
ہر صاحبِ اقتدار کے لیے قابلِ عمل ہے۔
انقلابِ اسلامی کے ابتدائی ایام میں حضرت امام خمینیؒ ملتِ
ایران کے لیے صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھے بلکہ امید کا چراغ، اعتماد کا مرکز اور
استقامت کا استعارہ تھے۔ قوم ان کے وجود میں اپنی منزل کا نشان اور اپنے مستقبل کا
امکان دیکھتی تھی۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اگر یہ آفتاب غروب ہوا تو کاروانِ
انقلاب منتشر ہو جائے گا، لیکن تاریخ نے ایک اور منظر دکھایا۔ 3 جون 1989ء کو جب
امامِ راحل اس دنیا سے رخصت ہوئے تو آنکھیں اشک بار تھیں، دل سوگوار تھے اور نگاہیں
مستقبل کے افق کو اضطراب سے تک رہی تھیں، ٹھیک اسی لمحے ایک اور حقیقت نے جنم لیا
کہ زندہ قومیں افراد کے سہارے نہیں بلکہ افکار کے سہارے سفر کرتی ہیں، اور مضبوط ریاستیں
اشخاص کے بل پر نہیں بلکہ اداروں کے زور پر قائم رہتی ہیں۔
نئی قیادت نے ثابت کیا کہ اگر قوم کو شعور مل جائے تو قیادت
کا تسلسل کبھی منقطع نہیں ہوتا۔ ایک چراغ بجھتا ہے تو دوسرا روشن ہو جاتا ہے، ایک
ہاتھ گرتا ہے تو ہزاروں ہاتھ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، ایک آواز خاموش ہوتی ہے تو پوری
قوم اس کی بازگشت بن جاتی ہے۔ یہی وہ راز ہے جس نے ایران کو مسلسل سانحات کے
باوجود بکھرنے نہیں دیا۔بعد کے برسوں میں درجنوں ممتاز سائنس دان، عسکری کمانڈر
اور قومی رہنما دہشت گردی کا نشانہ بنتے
رہے، لیکن ہر شہادت نے اس قوم کے ارادے کو کمزور کرنے کے بجائے مزید صیقل کیا۔ گویا
خون نے خاک کو نہیں، شعور کو سیراب کیا اور قربانی نے ماتم کو نہیں، عزم کو جنم دیا یوں یوں
جدائی نے مایوسی کے بجائے استقامت کی نئی تاریخ رقم کی۔
تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے کہ جب قومیں اپنے رہنماؤں کو اقدار
کا پیکر سمجھنے لگیں تو پھر اُن کی رحلت ایک نئے دور کا آغاز بن جاتی ہے۔ عظیم قائد دنیا سے رخصت ہو
جاتے ہیں، اور ان کا کردار زندہ رہتا ہے، ان کی آواز خاموش ہو جاتی ہے، اور ان کا پیغام گونجتا رہتا ہے، ان کا جسم مٹی میں اتر جاتا ہے، اور ان کی فکر نسلوں کے سینوں میں دھڑکتی رہتی ہے۔ یہی
وہ سرمایہ ہے جسے نہ کوئی پابندی چھین سکتی ہے، نہ کوئی حملہ مٹا سکتا ہے اور نہ
کوئی دشمن تباہ کر سکتا ہے۔
اسی حقیقت کا دوسرا نام قومی شعور ہے۔ جب شعور بیدار ہو
جائے تو قوم جذبات کے طوفان میں بہنے کے بجائے بصیرت کے چراغ جلاتی ہے۔ قومی
شعور کو کچلا نہ جائے تو سانحات مستقبل کی
تعمیر کا زینہ بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ نصف صدی میں ایران نے بارہا اپنے
مقبول ترین رہنماؤں، اپنے نامور دانشوروں اور اپنے قابل ترین سپہ سالاروں کو سپردِ
خاک کیا اور ہر تدفین کے بعد اس کی اجتماعی
قوت میں ایک نئی جان، اس کی قومی وحدت میں ایک نئی تازگی اور اس کے سیاسی عزم میں
ایک نئی پختگی دکھائی دی۔ یہاں سے ایک اور سبق بھی سامنے آتا ہے کہ ریاست کی اصل
طاقت اس کے اسلحہ خانوں کے بجائے اس کے
انسانوں میں ہوتی ہے۔
گزشتہ سینتالیس برسوں میں ملتِ ایران نے بارہا اپنے محبوب
ترین فرزندوں کو اپنے کندھوں پر اٹھایا، اپنی آنکھوں سے انہیں سپردِ خاک کیا اور
اپنے آنسوؤں سے ان کی قبروں کو تر کیا۔ ایسا ہر منظر عزم کی تجدید، وفا کی تجسیم
اور تاریخ سے عہدِ نو کی تصویر بنتا گیا۔ وہاں جنازے آئندہ سفر جاری رہنے
کا اعلان بن جاتے ہیں، اور قبریں آنے والی نسلوں کو بیداری کا سبق دیتی ہیں۔
حالیہ سانحے کے بعد بھی یہی منظر دنیا نے دیکھا۔ ایک طرف غم
تھا اور دوسری طرف عزم تھا ۔ ایک طرف آنکھیں اشک بار تھیں،
دوسری طرف پیشانیاں استقلال سے تابناک تھیں۔ پوری قوم اپنے شہید
رہبر کو دفنانے کے بجائے اپنے عہد کی
تجدید کرنے، اپنے عزم کو دہرانے اور اپنے مستقبل کو سنوارنے کیلئے نکلی ہوئی تھی۔ قاتل اس خوف سے لرز رہے تھے کہ ظالم کی عمر مختصر ہے جبکہ مظلوم کا احتجاج طویل، اور ظالم کی قوت عارضی ہے جبکہ حق کی عظمت دائمی۔اہلِ ایران کو دیکھ کر ساری
دنیا نے یہ مان لیا ہے کہ مظلوم اگر اپنے
موقف پر استقامت اختیار کرے تو شہادت بھی تاریخ کی سب سے بڑی فتح میں بدل سکتی ہے۔
اسی لیے ایران میں شہادت اور قربانی کو
نقصان کے بجائے سرمایہ تصور کیا جاتا ہے،
اور صبر کو کمزوری کے بجائے قوت کا سرچشمہ
مانا جاتا ہے۔
لیکن یہاں ایک لمحہ فکریہ پاکستان کے لیے بھی ہے۔پاکستان کی سرزمین بھی
قربانیوں سے خالی نہیں۔ یہ مٹی بھی شہداء کے لہو سے سیراب ہوئی ہے، یہ فضاء بھی
ماؤں کی آہوں سے بوجھل رہی ہے، یہ قوم بھی ہجرت، جنگ، دہشت گردی، معاشی ابتلا اور
سیاسی اضطراب کے بے شمار موسم دیکھ چکی ہے۔ اس وطن کے سپاہیوں نے بھی سرحدوں پر اپنی جانیں نچھاور کی ہیں ، اس کے شہریوں نے بھی
دہشت گردی کے خلاف سینہ سپر ہو کر قربانیاں دی ہیں ، اور اس کے عوام نے بھی مسلسل مشکلات کے باوجود ریاست کے وجود کو
قائم رکھا ہوا ہے ۔ اس اعتبار سے پاکستان کی داستان بھی ایثار، استقامت اور آزمائش
کی ایک طویل حکایت ہے۔ہمیں ملتِ ایران سے یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ تاریخ صرف قربانیوں کی گنتی نہیں کرتی، بلکہ شہدا کے مقصد کو زندہ رکھنے پر زور دیتی ہے۔ فیصلہ
اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم ایران سے کچھ سیکھیں گے یا صرف اُن پرفخر ہی کرتے رہیں گے؟ یہی
سوال ہر پاکستانی کے سامنے ہے، یہی امتحان آزاد کشمیر کے لوگوں کا بھی ہے، اور گلگت و بلتستان کے باسیوں کا بھی۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں