امریکہ کا اپنی سفارتکاری پر عدمِ اعتماد
ڈاکٹر نذر حافی :
اسلام آباد میں 18 جون 2026کو ایران اور امریکہ نے امن کی طرف پہلا قدم بڑھایا تھا۔ یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ امن کی عمارت معاہدوں کی عبارت کے بجائے کردار کی صداقت پر کھڑی ہوا کرتی ہے ۔ لہذا افسوس ہے کہ امن کی طرف اٹھایا جانے والا یہ قدم پہلا اور آخری ثابت ہوا۔ چند ہفتوں میں ہی دونوں فریقوں کے متقابل فیصلوں نے امن کو جنگ میں تبدیل کر دیا۔ یہ معاہدہ، جسے کشیدگی میں کمی لانے اور وسیع تر مذاکرات کی بنیاد رکھنے کے نقطۂ آغاز کے طور پر پیش کیا گیا تھا، اب ایک کڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔ ایک ایسا امتحان جس کے نتائج پورے مشرقِ وسطیٰ کے سلامتی کے توازن، علاقائی معادلات اور عالمی سفارتی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر رہےہیں۔ صاف بات ہے کہ ہر فریق امن تو چاہتا ہے لیکن اپنی شرائط پر۔ اسی لیے یہ معاہدہ بیک وقت امید کی علامت بھی ہے اور نئے بحران کا نکتہ آغاز بھی۔
دوقوموں کے درمیان امن معاہدہ کوئی سادہ معاملہ نہیں ہوتا ۔ بین الاقوامی معاہدے قانونی دستاویزات کے بجائے قوموں کے مستقبل کا روڈ میپ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ایک مختصر ترین معاہدہ اپنے پیچھے طویل ترین اثرات چھوڑ جاتا ہے، اور کبھی برسوں کی سفارت کاری چند دنوں میں بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس بات کو امریکہ و یران دونوں اچھی طرح سمجھتے اور جانتے ہیں۔
آج خاموش تماشائی کا منظر پیش کرنی والی دنیا اس امر کی شاہد ہے کہ امریکہ و ایران کے درمیان یہ بداعتمادی ہرگز حالیہ اختلافات کی پیداوار نہیں۔ دنیا کے دانشور اس بداعتمادی کو امریکہ کے ماضی کے طرزِ عمل اور اس کی بارہا عہد شکنی کے تلخ تجربات کے منطقی نتیجے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایران کے سیاست دان اپنی کسی مصلحت کی خاطر عارضہ طور پر خاموش تو رہ سکتے ہیں لیکن وہ امریکہ کے ماضی کو فراموش نہیں کر سکتے۔ وہ جانتے ہیں کہ قومیں اپنے تجربات کو نعروں سے نہیں بلکہ نتائج سے تولتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وائٹ ہاوس کے بارے میں تہران کا مؤقف بڑا واضح ہے ۔اس مرتبہ بھی ساری دنیا نے دیکھا ہے کہ جب تک وائٹ ہاوس اپنی ذمہ داریوں کا پاس و لحاظ کرتا رہا، مفاہمت پر عمل درآمد کی گاڑی رواں دواں رہی لیکن جونہی واشنگٹن نے اپنے وعدوں سے انحراف کیا تو ایران نے بھی آنکھیں بند کرنے سے انکار کر دیا۔ کیا ایران کے پاس اس عہد شکنی کو روکنے کیلئے مزاحمت اور استقامت کے علاوہ کوئی اور چارہ کار ہے؟ جب کسی معاہدے و عہد کی حرمت مجروح ہو جائے تو اُس پر کئے جانے والے دستخط روشنائی کے دھبوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ دنیا ماضی کی طرح آج بھی انگشت بدنداں ہے اور امریکہ ایک مرتبہ پھر یکطرفہ طور پر عہد کو توڑ کر وعدہ فراموشی اور بدعہدی کی روایت کو دہرا رہا ہے۔
مشکل یہ ہے کہ عالمی برادری یہ احساس نہیں کر رہی کہ اعتماد کو ثابت کرنے کے لیے دلائل درکار نہیں ہوتے لیکن اس کے ٹوٹ جانے کے بعد ہزاروں دلائل بھی اسے بحال نہیں کر سکتے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ اسلام آباد میں ہونے والا معاہدہ ایران و امریکہ کے درمیان سارے اختلافات کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس معاہدے کے ہمراہ امریکہ کو ایران کے ساتھ اپنے اختلافات کو منظم کرنے اور منظّم انداز میں اختلاف کرنے کا سلیقہ اپنانے کی ضرورت ہے۔امریکہ کی مسلسل عہد شکنی نے آج ساری دنیا کو تباہی اور قحط کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔
پاکستان اور قطر کو امریکہ کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے سے زیادہ معاہدے کی اخلاقی پابندی کو لازمی بنانے کے نکات پر غور کرنا چاہیے۔ جس معاہدے کی ضمانت صرف طاقت ہو، وہ طاقت کے بدلتے توازن کے ساتھ بدل جاتا ہے لیکن جس معاہدے کی بنیاد اخلاقی ذمہ داری اور عہد کی حرمت ہو، وہ اختلافات کے باوجود بھی قائم رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پاکستان و قطر کو یہ سمجھنا چاہیے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اصل اختلاف مفاہمت کے متن یا الفاظ کے بجائے معاہدے کی پابندی کا ہے۔ جہاں ایک فریق پابندِ عہد ہو اور دوسرا خود کو اس پابندی سے آزاد سمجھے، وہاں کوئی معاہدہ کیسے قائم رہ سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں ساری عالمی برادری بھی اس اصول کے مطابق عمل کرے جسے وہ عالمگیر قانون بنتا دیکھنا چاہتی ہے۔
ہمیشہ کی طرح اس وقت بھی واشنگٹن بیک وقت دو متضاد راستوں پر گامزن ہے۔ ایک طرف سفارت کاری کا جھانسہ دینے کی کوشش، اور دوسری طرف عسکری اقدامات سے پانسہ پلٹنے کی چال۔ امریکہ کی اسی متضاد پالیسی نے ایک امید افزا مفاہمت کو نافذ ہونے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا ہے۔ اگر دنیا خاموش رہی تو یہ دو متضاد راستے نجانے دنیا کو کہاں لے جائیں گے!۔
موجودہ بحران کی اہم ترین حقیقتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اب بھی عسکری معادلات، سیاسی تدبر کے افق پر سایہ فگن ہیں۔وجہ یہ ہے کہ امریکہ کسی بھی طور اپنی سفارت کاری پر بھروسہ نہیں رکھتا۔ خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ، مسلسل بڑھتی ہوئی سلامتی کی کشیدگی، امریکی حملوں کا تسلسل، اور تصادم کے دائرے کے وسیع ہونے کا خدشہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ کی ناکام اور کمزور سفارت کاری کے سبب ساری دنیا امن کے ساحل سے دور ہوتی جا رہی ہے۔آج کی خاموش دنیا اس حقیقت کو بھول رہی ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ جنگ کا دائرہ کسی کے ارادے سے پھیلے ، یہ دائرہ پینٹاگون کے غلط اندازوں، امریکہ کی کمزور و ناکام سفارت کاری، اور عالمی برادری کی بے حسی کے سبب بھی پھیل سکتا ہے۔
قطر اور پاکستان اس وقت ایک ایسی نازک منزل پر کھڑے ہیں جہاں انہیں دو متحارب فریقوں کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو پاٹنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ دونوں ممالک کو اس حقیقت کو درک کرنا چاہیے کہ محدود جنگ بندی، بحری راستوں کی دوبارہ بحالی، اور کشیدگی میں اضافے سے پہلے کی صورتحال کی طرف واپسی جیسے اقدامات بظاہر حل کی جانب قدم دکھائی دیتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ نہ ہی تو اصل مسئلہ ہیں اور نہ ہی اصل مسئلے کا حل۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ کو اپنی سفارت کاری پر اعتماد اور بھروسہ بالکل بھی نہیں۔ یہ بھی امریکہ کے منہ پر ایک طمانچہ ہے کہ امریکہ جیسی ریاست جو دنیا بھر میں سفارت کاری کا سب سے زیادہ راگ الاپتی ہے، اُسے ہی اپنی سفارتی قوّت پر اعتماد نہیں۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں