زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

بدھ، 29 جولائی، 2026

جنوبی پنجاب میں عزاداری اور بیداری کی کیفیّت

جنوبی پنجاب میں عزاداری  اور بیداری کی کیفیّت  : 
پہلی قسط :
ڈاکٹر نذر حافی :
مجھے اس سال  محرم الحرام میں  پہلی مرتبہ راجن پور  جانے کا اتفاق ہوا ۔ گاڑی کہاں سے جائے گی اور ٹکٹ کیسے ملے گی؟  ایسے سوالات تو ہر مسافر کے ذہن میں ہوتے ہی ہیں لیکن میں  یہ سوچ کر عجیب سی کیفیّت محسوس کر رہا تھا کہ جنوبی پنجاب کی عزاداری کو نزدیک سے دیکھنا یہ خود کتنی بڑی خوش قسمتی ہے۔ میں نے سُن رکھا تھا کہ ملتان، راجن پور، ڈیرہ غازی خان، مظفرگڑھ، لیہ، کوٹ ادو، بہاولپور اور دیگر اضلاع میں محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی ایک ایسی روحانی فضا قائم ہو جاتی ہے جو اس خطے کی تہذیبی شناخت بن چکی ہے۔  بلاشبہ ایسی تہذیبی شناخت وہی لوگ قائم کر سکتے ہیں جو اپنے عقیدے کی قیمت ادا کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
راستہ کتنا طویل ہوگا  اور یہ سفر کیسے کٹے گا؟  یہ سوال بھی میرے دماغ میں بار بار ہچکولے کھا رہا تھا ۔بار بار یہ سوچ کر مجھے عجیب مسّرت کا احساس  بھی ہوتا تھا کہ یہ منطقہ صدیوں سے عشقِ اہلِ بیتؑ،  اور عزاداری  کا ایک عظیم مرکز رہا ہے۔ بہرحال تقریباً  آٹھ گھنٹے کے بعد ہم لوگ  جھنگ سٹی پہنچ گئے۔محرم الحرام کی آمد آمد تھی چنانچہ ہر طرف سوگواری کی کیفیت تھی ۔ ہم کچھ گھنٹے وہاں ٹھہرے اور پھر وہاں سے ملتان کیلئے چل پڑے۔وہاں بھی ایسی ہی کیفیّت تھی۔  جنوبی پنجاب میں  آپ اِن ایام میں سارے عزاداروں کو ایک  ہی رنگ میں, اور ایک ہی طرح سے سوگوار پائیں گے۔ 
یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت امام حسین ؑکی عزاداری ہر طرح کی ذات پات اور رنگ و قبیلے کے فرق کو مٹا  دیتی ہے۔ بغیر کسی حکومتی یا سرکاری مدد کے  عزاداری  کی روایت کا نسل در نسل قائم رہنا یہ خود ایک معجزہ ہے۔  عشق، شعور اور بیداری کی یہ  ایسی روایت ہے جو نسل در نسل  اپنے قدموں پر خود ہی کھڑی ہے۔ کوچے کوچے اور گلی گلی میں  جلوس، مجالس، علم، تعزیے، سبیلیں، ماتمی انجمنیں اور نیاز کی محفلیں  عزاداروں  کے اجتماعی شعور، اخوت اور بھائی چارے کی مظہر ہیں۔
اے سی والی گاڑی ہونے کے باوجود مجھے  باہرکی گرمی سے خوف محسوس ہو رہا تھا اور مجھے ابھی اسی خوف کے ساتھ  مزید  سفر کرنا تھا۔  رات کو راجن پور میں میرا  پہلا پڑاو  بستی گڈن میں قرار پایا ۔ ہمیشہ  پہلے سفر کا  اپنا ہی تجسس ہوتا ہے۔  کچھ مقامات کے ایڈرس کاغذ کے  نقشے کے بجائے لوگوں کے دلوں میں  ہوتے ہیں، اور وہاں پہنچنے کے لیے ٹکٹ سے زیادہ احساس کی ضرورت ہوتی ہے۔راستے میں جدھر بھی دیکھا تو  امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا دکھائی دیا۔ عام عوام کی آبادیوں میں جابجا پسماندگی ،غربت، افلاس ، گندگی اور فقر کے آثار نمایا ں  تھے۔  گاڑی کے شیشے سے باہر  کا منظر یہ گواہی دے رہا تھا کہ  غریب شخص  ابھی بھی  غلامی کے دور میں ہی جی رہا ہے۔ یہاں پر ابھی تک لوگوں نے  آزادی کی نعمت نہیں چکھی۔ ناخواندگی سے آزادی، فقر سے آزادی، افلاس سے آزادی، پسماندگی سے آزادی۔۔۔ کسی کو بھی  ہر گز نہیں  ملی ۔  
 میرے ساتھ والی سیٹ پر  بستی گڈن کے رہنے والے  ایک صاحب تشریف فرماتھے۔ ان  کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کے عزاداروں نے اس عظیم سرمایۂ عشق کو محفوظ تو رکھا ہوا ہے تاہم اسے عزاداروں کی  فکری، سماجی اور اخلاقی ترقی کیلئے استعمال کرنے کا خلا موجود  ہے۔اسی تناظر میں انہوں نے  ایک اور اہم مسئلہ بھی  اٹھایا۔ ان کے مطابق  جنوبی پنجاب میں بہت سی مساجد، مدارس اور امام بارگاہیں عوام کے چندوں، عطیات اور اجتماعی تعاون سے تعمیر ہوتی ہیں۔ ان اداروں کے قیام میں پورے معاشرے کا مالی، اخلاقی اور عملی کردار شامل ہوتا ہے، لیکن متعدد مقامات پر وقت گزرنے کے ساتھ ان کی انتظامی باگ ڈور چند خاندانوں تک محدود ہو جاتی ہے اور متولی حضرات نسل در نسل ان اداروں پر قابض رہتے ہیں۔ یوں عوامی وسائل سے قائم ہونے والے مذہبی ادارے عملاً شخصی یا خاندانی ملکیت بن جاتے ہیں۔  راقم الحروف کے مطابق  یہ  مسئلہ صرف جنوبی پنجاب تک محدود نہیں بلکہ مختلف علاقوں میں مختلف صورتوں میں موجود ہے، تاہم جنوبی پنجاب میں اس کی شدت نسبتاً زیادہ محسوس کی جاسکتی ہے۔
یوں تو سارے ملک میں ضرورت اس امر کی ہے کہ مذہبی اداروں کی انتظامیہ میں شفافیت، جوابدہی، مشاورت اور اجتماعی شرکت کو فروغ دیا جائے۔ مساجد، مدارس اور امام بارگاہیں کسی فرد یا خاندان کی جاگیر نہیں بلکہ پوری امت کی امانت ہیں۔ ان کے انتظام و انصرام میں اہلِ علم، معتبر شخصیات، مخیر حضرات اور مقامی مؤمنین کی نمائندہ شمولیت اس امانت کے تقاضوں سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔ جب اداروں کا نظام اعتماد، شفافیت اور اجتماعی مشاورت پر استوار ہوگا تو نہ صرف عوام کا اعتماد بڑھے گا بلکہ نئی نسل بھی ان اداروں کو زیادہ مؤثر، فعال اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ دیکھے گی۔
رات کے تقریباً ۱۲ بجے ہمیں بس نے اپنے اسٹیشن پر اتار دیا وہاں پر مقامی میزبان پہلے ہی منتظر کھڑے تھے۔ اب ہم نے بستی گڈن کی طرف جانا تھا ۔ وہاں سے روزانہ ۴۵، ۴۵ منٹ کی مسافت پر ہم نے تین سے چار مرتبہ سفر کرنا تھا۔  اللہ آباد، بستی چھینہ، اور جام پور  پھر واپس بستی گڈن۔
دس دن تک ہم نے یہاں بہت سارے لوگوں سے ملنا اور قریب سے ان کی عزاداری کی رسومات اور روایات کا مشاہدہ کرنا تھا۔ اس سفر میں ہم نے آٹھ سالہ حسین عباس کو بھی اپنا ہم سفر بنا لیا تھا۔  بچے من کے سچے ہوتے ہیں۔ حسین عباس کی اصل ذمہ داری ہم سے سچے اور کھرے سوالات پوچھتے رہنے کی تھی۔ ہم نے انہیں کئی مرتبہ بتایا کہ   عزاداری کا اصل پیغام ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا، عدل و انصاف کا قیام، انسانی وقار کا تحفظ اور اجتماعی اصلاح ہے۔
تاہم  ہر روز وہ ہماری باتوں کے بعد یہ  جملہ کہہ دیتے تھے کہ کیا واقعی ایسا ہی ہے جیسا آپ کہہ رہے ہیں، اگر ایسا ہے تو پھر  یہاں پر کوئی ایسی بات کیوں سنائی یا دکھائی نہیں دیتی؟ جی ہاں ! ان کا یہ سوال ہر مرتبہ ہمیں آئیں بائیں شائیں کرنے پر مجبور کرتا تھا چونکہ جنوبی پنجاب میں ہر سال جلوسوں کی تعداد بڑھتی ہے، مجالس میں حاضرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے، نئے علم اور امام بارگاہیں تعمیر ہوتی ہیں، تاہم منبر سے نوّے فیصد پرانے موضوعات ہی دہرائے جاتے ہیں اور پڑھنے والوں سے فرمائش بھی کی جاتی ہے کہ وہ فلاں  قصّہ پھر سنائیں۔ اکثر قصّے  کہانیاں  اور اشعار   پڑھنے والوں کی طرح سُننے والوں کو بھی ازبر ہیں اور وہ وہی سننے کیلئے جمع ہوتے ہیں۔
آصف  گڈن  صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ یہاں محرم الحرام  کے دوران متعدد مجالس منعقد ہوتی ہیں اور مرد و زن سب  ان میں شرکت کرتے ہیں، لیکن ان مجالس کی ایک بڑی تعداد اب بھی روایتی انداز تک محدود ہے۔ ان کے مطابق جدید تعلیم یافتہ نوجوان، یونیورسٹیوں کے طلبا، سوشل میڈیا کے دور میں پیدا ہونے والے فکری شبہات، خاندانی نظام کے مسائل، معاشی اخلاقیات، میڈیا کے چیلنجز اور عالمی سطح پر اہلِ بیتؑ کے پیغام کی مؤثر ترجمانی جیسے موضوعات  نہ ہونے کے برابر  زیر بحث آتے ہیں۔
ہمارے میزبانوں میں محمد جوّاد،  عون عباس ، محمد باقر اور قیصر عباس بھی شامل تھے۔  المختصر یہ کہ جنوبی پنجاب کے دور دراز دیہاتوں میں بھی  مجالس اور ماتم کی روایت موجود ہے اور لوگ اپنی استطاعت سے بڑھ کر عزاداری کا اہتمام کرتے ہیں اور  وہاں بھی اکثر مقامات پر دہائیوں پرانے طرزِ بیان اور محدود موضوعات ہی  دہرائے جاتے ہیں۔ نئی نسل کو یہ کم بتایا جاتا ہے کہ امام حسینؑ کی تعلیمات کو تعلیم، تجارت، سیاست، معاشرت، میڈیا اور سماجی خدمت میں کس طرح عملی شکل دی جا سکتی ہے۔
 صادق کھوسہ صاحب اللہ آباد مسجد و امام بارگاہ کے متولی ہیں۔ ان کی اپنی بساط کے مطابق پوری کوشش ہے کہ عزاداری  کے منبر سے   عزاداروں کی  دنیا و آخرت سنوارنے کیلئے استفادہ کیا جائے۔
پڑھے لکھے نوجوانوں کے مطابق جنوبی پنجاب کی عزاداری کا شاید سب سے بڑا فکری المیہ یہ ہے کہ اسے بڑی حد تک صرف "ثواب" کے تصور تک محدود کر دیا گیا ہے۔ مجالس میں عزاداری کے فضائل، گریہ کے اجر، زیارت کے ثواب اور جنت کی بشارتوں کا تذکرہ تو کثرت سے ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ سوال کم اٹھایا جاتا ہے کہ ایک حسینی  اور عزادار  اپنے گھر، اپنے کاروبار، اپنی ملازمت، اپنی سیاست، اپنی عدالت، اپنی درسگاہ اور اپنے معاشرے  کو حسینی بن کر  کیسے سنوارے؟ عزاداری کو آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنا کر  تو بھرپور انداز میں پیش کیا جاتا ہے لیکن گویا  دنیا کی اصلاح اور معاشرے کی تعمیر کے عملی پروگرام کا عزاداری سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ ۔۔ 

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...