زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

بدھ، 29 جولائی، 2026

بستی گڈن کے شب و روز

 جنوبی پنجاب میں عزاداری  اور بیداری کی کیفیّت:

دوسری قسط:بستی    گڈن :ڈاکٹر نذر حافی: 

 بستی  گڈن کا ذکر آئے اور جام رمضان علی صاحب کا نام نہ لیا جائے، تو سفرنامہ نامکمل رہے گا۔ بعض لوگ کسی علاقے کی شناخت بن جاتے ہیں۔ ان سے مل کر احساس ہوتا ہے کہ انسانی کردار بھی خوشبو کی طرح خاموشی سے اردگرد کے ماحول میں پھیل جاتا ہے۔جام صاحب سے میری  پہلی ملاقات رات گئے ہوئی۔ گھڑی شاید دس بجنے کا اشارہ دے رہی تھی۔ میں یہ توقع نہیں کر رہا تھا کہ وہ اس وقت تشریف لائیں گے، خصوصاً اس حالت میں جب اُن کی  طبیعت بھی ناساز تھی اور رعشے نے اُن کے جسم کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ اس کے باوجود وہ  تشریف لائے۔ محبت جب دل سے نکلتی ہے تو راستے، وقت اور جسمانی کمزوری سب ثانوی ہو جاتے ہیں۔ وہ زیادہ دیر نہ بیٹھے، لیکن  ان کی آمد نے میرے دل میں ایک ایسی جگہ بنا لی   جسے وقت  کی دھول کبھی نہ مٹا سکے گی۔

اُن کی صحبت نے مجھے جنوبی پنجاب کی عزاداری کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع بھی دیا۔ یہاں کی فضا میں اہلِ بیتؑ سے عقیدت سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔ چھوٹے بڑے قصبوں میں امام بارگاہیں محبت کی روشن علامت بن کر کھڑی ہیں۔ محرم اور صفر میں یہی مقامات سیاہ پرچموں ،  چراغوں، مجالس، نوحوں اور عزاداروں سے آباد ہو جاتے ہیں۔ ہر طرف ایک روحانی کیفیت چھا جاتی ہے، جیسے صدیوں کی روایت پھر سے زندہ ہو گئی ہو۔یہاں پر قابلِ ذکر ہے کہ ہمارے میزبان  مولانا صابر حسین صاحب  اور محترم جام رمضان علی صاحب اکے درمیان عقیدت، محبت اور خلوص کا تعلق پہلے سے ہی  بہت گہرا تھا۔ دونوں بزرگوں کے مابین قائم یہ رشتہ دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ بعض تعلقات الفاظ کے محتاج نہیں ہوتے، ان کی اپنی ایک خاموش زبان ہوتی ہے۔

دو روز بعد مولانا صابر حسین صاحب نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ "جام صاحب نے آپ کو دوپہر کے کھانے پر بلایا ہے۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ ایسے مواقع بار بار نہیں آتے۔ بزرگوں کی صحبت بھی عجیب نعمت ہے، ایک ملاقات میں برسوں کا تجربہ سمٹ آتا ہے۔ چنانچہ   مولانا صابر حسین صاحب   کی توقع  اور اپنے مزاج کے برعکس میں نے فوراً  دعوت قبول کر لی۔میرے لیے جام صاحب جیسی بزرگ، صاحبِ تجربہ اور محبت سے بھرپور شخصیت سے ملاقات کسی سعادت سے کم نہ تھی۔ چنانچہ اس موقع کو ہاتھ سے جانے دینا مناسب نہ سمجھا۔ مقررہ وقت پر جب میں ان کے دولت کدے پر پہنچا تو محسوس ہوا جیسے کسی پرانے شناسا کے  دولت کدے پر  آیا ہوں۔ دروازے پر استقبال میں محبت تھی، گفتگو میں چاہت تھی اور ماحول میں وہی گھریلو اپنائیت جس میں آدمی اپنے آپ کو مہمان کم اور اہلِ خانہ کا حصہ زیادہ محسوس کرتا ہے۔

جام رمضان علی صاحب کے چہرے پر بیماری کی ہلکی ہلکی پرچھائیاں اتر آئی تھیں۔ ان کی آواز  قدرے  دھیمی تھی۔ وہ آہستہ بولتے، کہیں رک جاتے، جیسے لفظوں کو سانس کے ساتھ سفر کرنا پڑ رہا ہو، پھر ایک مانوس سی مسکراہٹ کے ساتھ بات کا سرا پکڑ لیتے۔ محسوس ہوتا تھا کہ بدن نے تھکن کا اقرار کر لیا ہے، مگر دل نے ابھی شکست تسلیم نہیں کی۔ وہی فراخی، وہی محبت، وہی اپنائیت جو کسی بزرگ درخت کے سائے میں بیٹھنے کا احساس دیتی ہے۔

کچھ عر صہ پہلے ان کے جوان بیٹے کی موت نے بھی ان کے اعضا و جوارح پر  گہرے اثرات مرتب کئے تھے۔ اس روز گھر میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ ان کے گھر والے مجلسِ عزا کے لیے گئے ہوئے تھے اور وہ گھر میں تنہا تھے۔ انہوں نے اپنے کی جدائی اور شِدّت غم کا بھی اظہار کیا۔ وقت کم تھا لیکن انہوں نے ماضی کے کئی اوراق کھول کر میرے سامنے رکھ دئیے۔ مولانا صابر علی صاحب جب تک مجلسِ عزا  سے خطاب کر کے  واپس نہیں آئے، میں انہی کے پاس  بیٹھا رہا اور گفتگو کا سلسلہ چلتا رہا۔ ایک بات سے دوسری بات، ایک یاد سے دوسری یاد، ایک تجربے سے دوسرے تجربے تک۔ بہت کچھ سیکھا اور بہت کچھ سُننے کو ملا۔یہ چند گھنٹے محض گفتگو کے گھنٹے نہیں تھے۔ مجھے  ایک ایسے شخص کے قریب بیٹھنے کا موقع  ملا تھا جس کے جسم پر علالت کے آثار نمایاں تھے اور  اُس کے اندر کا چراغ اب بھی  ایمان کی  روشنی سے جل رہا تھا۔آپ مانیں یا نہ مانیں  بعض لوگ بیماری سے کمزور نہیں ہوتے، صرف خاموش ہو جاتے ہیں  اور ان کی خاموشی میں بھی زندگی کی پوری کتاب کھلی ہوتی ہے۔

کھانے کے بعد دیر انہوں نے اس موضوع پر بھی گفتگو کی کہ بہت سی امام بارگاہوں کے دروازے سال بھر سوائے ایام عزا کے  بند  رہتے ہیں، صحن خاموش  اور فضا پر  سکوت حاکم رہتا ہے۔ ان کے لہجے میں شکایت  کے بجائے  ایک درد مند خواہش تھی۔ اُن کی خواہش تھی کہ  اگر یہی مراکز سال بھر اہلِ علم، طلبا، نوجوانوں اور اہلِ محلہ کے لیے فعال رہیں تو کتنی زندگیاں ان سے فیض پا سکتی ہیں۔ یہاں قرآن و نہج البلاغہ کے دروس ہوں، مطالعے کی نشستیں منعقد ہوں، بچوں کی اخلاقی و دینی تربیت ہو، نوجوانوں کے فکری سوالات پر گفتگو ہو، خواتین کے لیے علمی حلقے قائم ہوں اور ضرورت مندوں کی مدد کا مستقل سلسلہ جاری رہے۔ ان کا کہنا بجا تھا چونکہ مسجد و   امام بارگاہ صرف اینٹوں اور پتھروں کی عمارت کا نام تو  نہیں، اسے  ایک فکر کی علامت، ایک تہذیب کی امانت اور ایک زندہ روایت کا مرکز  ہونا چاہے۔

جام صاحب نے میری طرف دیکھا اور دھیرے سے کہا :امام حسینؑ کا پیغام صرف یاد کرنے کا نہیں، زندگی میں اتارنے کا ہے۔میں نے  اثبات میں سر ہلایا اور  اُن کی طرف دیکھتا رہ گیا۔۔۔ اُن کا یہ جملہ مختصر تھا لیکن  اس کے اندر ایک پورا فکری جہان آباد تھا۔

مولانا صابر علی صاحب مجلسِ عزا سے  واپس آئے تو ہم نے ان سے رخصتی کی اجازت چاہی۔ واپسی  پر  راستے وہی تھے، کھیت  بھی ویسے  تھے، درخت خاموشی سے کناروں پر کھڑے تھے اور نصف النہار  کا سورج  ہر طرف آگ بکھیر رہا تھا۔ اس گرمی میں جھلستی ہوئی بستی   گڈن  کے اپنے ہی مناظر تھے۔  جام رمضان علی صاحب کی محبت، ان کی مہمان نوازی اور ان کے مختصر اور  گہرے جملے میرے ساتھ ساتھ سفر کر رہے تھے۔ مجھے یہ یقین ہے کہ گڈن بستی میں  ان شااللہ جلد ضرور خوشحالی آئے گی چونکہ لوگوں میں اچھائی کی نیت اور آگے بڑھنے کی  ہمت  ہو تو راستے نکل ہی  آتے ہیں۔

جاری ہے۔۔۔۔




0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...