عالی جاہ کیا پورا ایک ہزار بندہ ہی مارنا ہے؟
ڈاکٹر نذر حافی :
موجودہ صورت حال کو بندے مار کر ہی قابو کیجئے ، تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ بھوک، بیروزگاری، مہنگائی اور اشرافیہ کی لوٹ کھسوٹ کے باعث دیہاتوں کی گلیوں سے اٹھنے والی ہر چیخ بازاروں تک پہنچی۔ پھر شاہراہوں تک جا پہنچی۔ بجلی اور آٹے کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ سامنے آیا۔ بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی بات ہوئی۔ حکمرانوں کی مراعات کم کرنے کا مطالبہ اٹھا۔ سیاسی نمائندگی اور اختیار کا سوال بھی نمایاں ہوا۔پاکستان میں مقیم مہاجرین کی بارہ اسمبلی نشستوں کا معاملہ بھی اسی بحث کا اہم حصہ ہے۔ مقامی آبادی کے ایک بڑے حلقے کا مؤقف ہے کہ آزاد کشمیر کے سیاسی فیصلوں میں یہاں کے لوگوں کی رائے کو بنیادی حیثیت ملنی چاہیے۔ یہ مسئلہ صرف نشستوں کا نہیں۔ یہ اختیار، نمائندگی اور عوامی اعتماد کا مسئلہ ہے۔
اس صورت حال کا سب سے دردناک پہلو تشدد کے واقعات ہیں۔ احتجاج کے دوران نہتے شہریوں پر طاقت کے استعمال کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سینکڑوں کشمیریوں کی شہادت کے دعوے بھی سامنے آئے۔شنید ہے کہ کئی گھر اجڑ گئے۔ کئی خاندان ہمیشہ کے لیے اپنے پیاروں سے محروم ہو گئے۔ ہمارے مقتدر حضرات کو یہ احساس ہی نہیں کہ ان واقعات سے لوگوں کے اجتماعی حافظے پر کتنے گہرے زخم ثبت ہوئے ہیں ۔
یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ بعض مقامی ریاستی سہولت کاروں نے اپنے سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے ریاستی طاقت استعمال کروائی۔ ریاستی وسائل پر جبر کے ساتھ اپنی سیاسی گرفت برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی۔ نسل در نسل اپنے قائم اثر و رسوخ کو بچانے کیلئے ظلم کی ساری حدیں عبور کی گئیں۔ خدا نہ کرے ایسا ہوا ہو، ایسے الزامات سنگین ہیں۔ ان کی آزاد اور غیر جانب دار تحقیقات ضروری ہیں۔ریاستی طاقت کسی فرد، خاندان یا سیاسی گروہ کی ملکیت نہیں۔ یہ عوام کی امانت ہے۔ اس امانت کو عوام کے خلاف اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنا ریاستی اداروں کے وقار کو مجروح کرتا ہے۔ اس سے عوام کے اعتماد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
اس کا ایک بڑا نقصان پاکستانی فورسز کے بارے میں پیدا ہونے والی بداعتمادی ہے۔ ایسا کرنے سے لوگوں میں شدید غصہ پیدا ہوا،فاصلے بڑھے، فورسز پر اعتماد کم ہوا، یہ صورت حال ریاستِ آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔فورسز کا فرض شہریوں کی حفاظت ہے۔ ان کا کام امن قائم کرنا ہے۔ انہیں کسی سیاسی گروہ کے مفاد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔آزاد کشمیر کے مقامی سہولتکاروں کے کہنے پر لوگوں کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال انتہائی غلط فیصلہ ثابت ہوا ہے۔
یہ مقبوضہ کشمیر نہیں ہے۔ یہاں امن بندوق کی طاقت سے قائم کرنے کی باتیں کرنے والوں سے باز پُرس ہونی چاہیے۔ کہیں پر بھی گولی چلانے کا اعلان لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا نہیں کرتا۔ کسی خطے میں ایک ہزار انسانوں کو مار کر امن قائم کرنے کی سوچ خود پاکستانی و انسانی اقدار کی نفی ہے۔ ایسی سوچ رکھنے والوں کا بھی محاسبہ ہونا چاہیے۔ ریاستی پالیسی کی بنیاد انسانی جان کے احترام پر ہونی چاہیے۔ نیز قومی ادارے انسانی احترام اور انسانی حقوق کے اصولوں پر استوار ہونے چاہئیں۔ ہر شہری کی جان، عزت اور آزادی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اختیار اور منصب قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتے۔ وردی بھی قانون سے بالاتر نہیں اور سہولتکار بھی قانون سے بالاتر نہیں۔
ان واقعات کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔ ایک آزاد اور بااختیار کمیشن قائم کیا جائے۔اس تحریک کے دوران جان دینے والے ہر شخص کو احترام کے ساتھ شہید لکھا اور پکارا جائے۔ ہر زخمی کا بیان ریکارڈ کیا جائے۔ ہر گرفتاری کی حقیقت سامنے لائی جائے۔ ہر گمشدگی کی مکمل تحقیقات ہوں۔گھروں میں داخل ہونے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ چادر اور چار دیواری کی پامالی کے الزامات بھی لگے ہیں۔ غیر قانونی گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں کی بات بھی ہوئی ہے۔ ان تمام معاملات کی جامع تحقیقات ہونی چاہئیں۔
جن خاندانوں نے اپنے پیارے کھوئے ہیں، ان کا دکھ لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا۔ ایک ماں کے لیے بیٹے کا بچھڑنا عمر بھر کا غم ہے۔ ایک بچے کے لیے باپ کا کھو جانا ناقابل تلافی خلا ہے۔ ایک گھر سے جنازہ اٹھتا ہے تو کئی دل ماتم کدہ بن جاتے ہیں۔
ایسے خاندانوں کو انصاف ملنا چاہیے۔ انہیں حقیقت جاننے کا حق ہے۔ انہیں ذمہ داروں کا تعین دیکھنے کا حق ہے۔ انہیں قانون کے مطابق داد رسی ملنی چاہیے۔قرآن مجید انسانی جان کی حرمت کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ قصاص کو عدل کے نظام کا حصہ قرار دیتا ہے۔ قصاص کسی فرد یا ہجوم کا اختیار نہیں۔ یہ عدالت اور قانون کے ذریعے نافذ ہوتا ہے۔ جرم ثابت ہو تو سزا بھی قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔انصاف مظلوم کا حق بھی ہے اور ریاست کی ضرورت بھی۔ شفاف تحقیقات سے حقیقت سامنے آتی ہے۔ ذمہ داروں کا تعین ہوتا ہے۔ بے گناہوں کو بری کیا جاتا ہے۔ اسی عمل سے اعتماد بحال ہوتا ہے۔
آزاد کشمیر کے حکومتی ایوانوں میں موجود ان تمام افراد کا بھی احتساب ہونا چاہیے جن پر کرپشن، بدعنوانی، تشدد یا عوام کے حقوق پامال کرنے کے سنگین الزامات ہیں۔ کسی عہدے، جماعت یا سیاسی وابستگی کو احتساب کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہیے۔ الزام ثابت ہو تو قانون کے مطابق مقدمہ قائم ہو۔ جرم ثابت ہو تو سزا دی جائے۔
یہی وہ سیاسی اور بااثر حلقے ہیں جن پر ریاستی طاقت کے غلط استعمال کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ ان کے کردار کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔ عوامی احتجاج کو دبانے کے لیے سیاسی مفاد کی خاطر ریاستی اداروں کو استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔ایسے سہولت کاروں نے اپنے مفادات کی خاطر پاکستانی فورسز کو ایک مشکل صورت حال میں دھکیلا۔ ریاستی طاقت کے سیاسی استعمال نے عوام اور فورسز کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچایا۔ اس کا بوجھ فورسز کو بھی اٹھانا پڑا۔ اداروں کو ایسے سیاسی استعمال سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
اس صورت حال کا ایک اور افسوس ناک پہلو کشمیری عوام کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا ہے۔ بعض سہولت کاروں کی ایما پر عوامی مطالبات اور احتجاج کو صرف کشمیریوں کی تحریک بنا کر پیش کیا گیا۔ اسے باقی پاکستان سے کاٹنے کی کوشش ہوئی۔ کشمیریوں کو غدار کہا گیا۔ انہیں بھارت کا ایجنٹ قرار دیا گیا۔یہ طرز عمل مسئلے کو حل نہیں کرتا۔ یہ فاصلے بڑھاتا ہے۔ دلوں میں نفرت پیدا کرتا ہے۔ قومی یکجہتی کو کمزور کرتا ہے۔
کشمیری عوام کے مطالبات کو صرف کشمیریوں تک محدود کرنا درست نہیں۔ سستی بجلی ہر پاکستانی کی ضرورت ہے۔ معیاری تعلیم ہر پاکستانی کا حق ہے۔ بہتر صحت، روزگار، انصاف اور بنیادی سہولتیں ہر شہری کی ضرورت ہیں۔ حقیقی جمہوریت بھی ہر پاکستانی کی خواہش ہے۔چاروں صوبوں کا عام آدمی انہی مسائل سے دوچار ہے۔ دکھ مختلف نہیں، ضرورت مختلف نہیں، اور ان مسائل سے نجات کی خواہش مختلف نہیں۔ اسی لیے ان مطالبات میں پورا پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔کشمیریوں کو ان کے جائز حقوق ملنے چاہئیں۔ جن لوگوں نے کشمیری عوام کے خلاف ہرزہ سرائی کی، ان کے کردار اور بیانات کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ایک غیر جانب دار کمیشن قائم کیا جائے۔ نفرت انگیز بیانات کا ریکارڈ سامنے لایا جائے۔ ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ انہیں اپنے الفاظ کا جواب دینا چاہیے۔زبانی معافی کافی نہیں۔ رسمی معذرت کافی نہیں۔ ایک بیان دے کر زخم مندمل نہیں ہوتے۔
مہاجرین کی بارہ نشستوں کا معاملہ بھی اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ عوام کے مطابق یہ نشستیں سیاسی اثر و رسوخ، مفادات اور کرپشن کا ذریعہ بن چکی ہیں ۔ اس معاملے کا فیصلہ اب لٹکایا نہیں جانا چاہیے۔کشمیری عوام کی بھلائی اسی میں ہے کہ ان کے سیاسی نظام سے ایسے راستے ختم ہوں جو اختیار کے ارتکاز، سیاسی خرید و فروخت اور بدعنوانی کو تقویت دیتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے زخم گہرے ہیں۔ ان کا علاج بھی سنجیدہ اور منصفانہ ہونا چاہیے۔ سچ سامنے آئے، ظلم کی تحقیق ہو، مظلوم کو انصاف ملے اور ریاستی اختیار قانون کے تابع رہے۔یہی راستہ تلخی کم ، بداعتمادی ختم ، اورریاست و عوام کے درمیان اعتماد بحال کرے گا۔ یہی راستہ مسئلے کو ختم اور پاکستان کو مضبوط کرے گا۔ سچ بات یہ ہے کہ کشمیری پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ ایک بہتر اور منصفانہ پاکستان کا مطالبہ کر رہے ہیں۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں