زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

بدھ، 12 فروری، 2025

اسلامی انقلاب کی قصیدہ خوانی بمقابلہ انقلابی ڈاکٹرائن

ڈاکٹر نذر حافی:کیا اسلامی انقلاب فقط اہلِ ایران کی ہی ملکیّت ہے؟ کیا اب  اس انقلاب کو  ایرانیوں کی نجی پراپرٹی کے طور پر دنیا میں فروخت اور بر آمد کیا جانا چاہیے؟  کیاجس شخص نے  انقلابِ اسلامی کو سمجھنا  اور اس کے ثمرات کو حاصل کرنا ہو وہ ایرانیوں کو اس کا خراج ادا کرے اور اُن سے اکیڈمک طور پر اس انقلاب کو  اس کی اُجرت اورفیس کو ادا کر کے حاصل کرے؟ کچھ ایرانی یوں بھی سوچتے ہیں کہ   یہ انقلاب اہلِ ایران نے مفت میں برپا نہیں کیا اور نہ ہی اسے مفت میں کہیں پیش کیا جانا چاہیے۔ اس کی تمام تر تھیوریز، تاریخ، کتابیں، لیکچرز، کلاسیں ۔۔۔وغیرہ وغیرہ  یہ سب  کمائی کا  بہترین منبع اور ذریعہ ہے۔


اسلامی انقلاب کو کمائی کا وسیلہ بنانے کی سوچ نے "  انقلاب کے قصیدہ خوانوں اور ذاکرین کے بھی ایک سرگرم طبقے " کو جنم دیا ہے۔ یہ ایسا طبقہ ہےکہ جو اسلامی انقلاب کے محض کھوکھلے   گُن گا کر اپنے دام کھرے کرتا ہے۔ اس کے مطابق اسلامی انقلاب بہت اچھا ہے، بہترین ہے، خدا والوں کا انقلاب ہے، متقی لوگوں کا انقلاب ہے، دینداری کا مرقع اور مجسمہ ہے۔۔۔ بس سالہاسال سے انقلاب کے بارے میں ان کی تحلیل یہی ہے۔ یہ بانی انقلاب حضرت امام خمینی ؓ کے محاسن بھی کچھ ایسے بیان کرتے ہیں کہ  جیسے آپ کی داڑھی بہت نورانی تھی، اوّل وقت نماز پڑھتے تھے، نامحرم کو نہیں دیکھتے تھے، دعا ، توسل اور مناجات پر یقین کامل رکھتے تھے، لوگ آپ سے محبت کرتے تھے، آپ عوام کا بہت خیال رکھتے تھے،آپ   تندور کی   لائن میں کھڑے ہو کر روٹی لیتے تھے۔۔۔وغیرہ وغیرہ

مذکورہ بالا لوگوں نے اسلامی انقلاب پر پہرہ بٹھایا ہوا ہے۔ گویا اسلامی انقلاب کی وہی حدودوقیود اور ماہیت و شکل ہے جو ان کی بیان کردہ ہے۔ یہ جسے چاہتے ہیں اُس پرانقلابِ اسلامی کی مخالفت اور دشمنی کی مہر بھی لگا دیتے ہیں اور خود اپنے محدود و تنگ ذہن کےمطابق   اسلامی انقلاب کو پیش کرتے ہیں۔اسلامی انقلاب کی  درست تبیین اور تفہیم  میں سب سے بڑی رکاوٹ اسلامی انقلاب کے  یہ کم فکر قصیدہ گو  اور ذاکرین خود ہیں۔

دوسرا بڑا گروہ جس نے اسلامی انقلاب کو فقط ایران اور اہلِ تشیع تک محدود رکھنے کی ٹھان رکھی ہے،یہ اُن لوگوں پر مشتمل ہے جو عرب ممالک اورخلیجی ریاستوں کی قصیدہ خوانی کو اپنے ایمان کا حصّہ سمجھتے ہیں ۔ ایسے افرادلوگوں کو یہ بتاتے ہی نہیں کہ اسلام بذاتِ خود سیاست و  انقلاب ہے۔ اسلام مسلمانوں کو  کسی بھی بادشاہ یا آمر کی اطاعت کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ گروہ لوگوں کو بادشاہوں کا   غلام رکھنے کیلئے اسلامی انقلاب کو  ایرانی انقلاب اور شیعہ انقلاب کہہ کر اسلام کے انقلابی پیغام کو عوام سے مخفی رکھتا ہے۔

ان سے یہ پوچھا جانا چاہیے کہ فرض کیجئے یہ انقلاب اگر ایران کے بجائے سعودی عرب میں آجاتا  تو  پھر  عرب بادشاہوں پر کیا گزرتی؟  اگرسعودی عرب میں یہ انقلاب جمہوریت لے آتا تو  تو کیا پھر بھی اس انقلاب سے اسی طرح دوری اختیار کی جاتی؟  کیا اسلامی انقلاب میں ایسی کوئی خاص بات ہے کہ جو عرب ممالک کے  مسلمانوں  کیلئے قابلِ عمل، مفید اور نجات بخش ہے؟

تیسرا گروہ جو اسلامی انقلاب کے ڈاکٹرائن  کی تبیین و تفہیم کے راستے میں رکاوٹ ہے وہ ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو سیاسیات، سماجیات اور علمِ دین کی کلیات سے محروم ہونے کے باوجود سیاسی، سماجی اور دینی طور پر کوئی خدمت انجام دینے کا جذبہ اپنے سینے میں رکھتے ہیں۔ یہ اپنے تئیں  ساری کی ساری سوشل سائنسز اور سارے کے سارے دین کو سمجھ چکے ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ اسلام میں تو جمہوریت ہے ہی نہیں ، اس پر وہ اعلانِ غدیر کو بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں  کہ اسلام میں تو صرف تھیوکریسی ہے اس پر وہ سقیفہ بنی ساعدہ کےواقعہ کو دلیل بناتے ہیں۔ ان میں سے بعض    اسی سطحی سوچ کے عین مطابق ایران کے اسلامی انقلاب یا ولایت فقیہ کو بھی تھیو کریسی ہی کہتے نظر آتے ہیں۔

مذکورہ بالا تینوں طبقات کی یہ کوشش ہے  کہ اسلامی انقلاب   در اصل اہلِ ایران اور اہلِ تشیع  کی ذاتی ملکیت ہے اور اسے انہی تک ہی محدود رہنا چاہیے۔ ہر جگہ اس پر ایران اور اہلِ تشیع کی مہر لگا کر  پیش کیا جانا چاہیے تاکہ دیگر مسلمان اسے سمجھنے، پرکھنے ، اس پر تحقیق  کرنے اور اسے اپنانے کی کوشش نہ کریں۔  یہ تینوں گروہ بظاہر ایک دوسرے کے قریب نظر نہیں آتے  لیکن درحقیقت یہ اپنی طاقت کو ایک ہی مشترکہ ہدف کیلئے استعمال کرتے ہیں۔

ان  کے مقابلے میں ایک چوتھا گروہ بھی ہے۔ یہ ایسا گروہ ہے جو اسلامی انقلاب کی قصیدہ خوانی یا مخالفت کے بجائے بال کی کھال اتارنے پر یقین رکھتا ہے۔ اس کے مطابق اسلامی انقلاب کو ایرانی انقلاب سمجھنا در اصل اسلامی انقلاب  کے ڈاکٹرائن  کو نظر انداز کرنا ہے جو کہ   عینِ اسلام  کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ اس گروہ کے مطابق   اسلام کی ساری تعلیمات سارے مسلمانوں کی پراپرٹی ہیں۔  اگر ان  تعلیمات پر کسی وقت میں اہلِ ایران یا اہلِ تشیع نے عمل کیا ہے  تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ تعلیمات اب اہلِ ایران یا اہلِ تشیع  کی ذاتی ملکیت بن گئی ہیں۔اس چوتھے گروہ کے مطابق اسلامی انقلاب کو  قرآن و سُنّت  کی کسوٹی پر پرکھا جانا چاہیے۔ جب ہم اسلامی انقلاب کو ایران یا اہلِ تشیع کی پراپرٹی کے بجائے اسلامی تعلیمات کا نتیجہ سمجھتے ہیں تو پھر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ انقلاب سارے جہانِ اسلام کیلئے یکساں طور پر وجود میں آیاہےاور اس سے ساری دنیا کے مسلمانوں کو سیراب ہونا چاہیے۔ بانی انقلاب حضرت امام خمینی ؓ نے اسلامی معارف سے جو انقلاب کشید کیا ہے اُس کی  بنیادی   اور نظرانداز شُدہ ڈاکٹرائن  کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

الف۔ دینِ اسلام جنتر منتر اور تنتر کا دین نہیں

حضرت امام خمینی ؒ نے اس انقلاب کے ذریعے مسلمانوں پر یہ ثابت کیا ہے کہ دعائیں، تقوی اور معنویت اس لئے نہیں کہ مسلمان کمزور ہو جائیں، بلکہ یہ سب اس لئے ہے کہ مسلمان جسمانی و روحانی طور پر مضبوط ہو جائیں۔مسلمان جب خدا سے توسل اور دعا کاراستہ اختیار کریں اور اُس کا تقوی اپنائیں تو اُن کا خدا سے یہ قرب اُن کے عمل سے براہِراست نظرآئے۔  حالات کے سدھار اور معاشرے کو سنوارنے کیلئے دینِ اسلام  دیگر ادیان کی مانند  جنتر منتر اور تنتر کی طرز پر  لوگوں کی زندگی کو نہیں ڈھالتا بلکہ دعا و مناجات کے ساتھ انہیں معارفِ دین کو سمجھنے، بصیرت حاصل کرنے، جدید تعلیم حاصل کرنے،  رزقِ حلال کمانے، مہارتیں اور ہُنر سیکھنے  اور زمانے کی  شرائط کے مطابق امربالمعروف و نہی از منکر کرنے  کو لازمی قرار دیتا ہے۔

ب۔ دینِ اسلام میں بادشاہت اور تھیوکرسی دونوں کی گنجائش نہیں

امام خمینی ؒ نے آمروں اور بادشاہوں کی اطاعت نیز  تھیوکریسی کو بھی خلاف دین ٹھہرایا۔ آپ کے ہاں طاقت کے بل بوتے لوگوں سے اپنی اطاعت کروانا جس  طرح بادشاہوں کیلئے حرام ہے ویسے ہی کسی  دینی طبقے کا بھی لوگوں سے زبردستی اپنی اطاعت کرانا خلاف اسلام ہے۔ اگر دیندار لوگ بھی عاوم کی رضامندی اور لوگوں میں  مقبولیت کے بغیر اُن سے اطاعت کروانی شرو ع کریں تو یہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جائز نہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی انقلاب آنے کے بعد ایران میں چاہے جو بھی ہو جائے وہاں ہمیشہ انتخابات  بروقت ہوتے ہیں اور عوام سے ووٹ لئے بغیر حکومت کرنے یا حکومت کے وجود میں آنے کا کوئی تصوّر ہی نہیں۔  حتی کہ اعلی ترین حکومتی منصب "ولی فقیہ" کے انتخاب کیلئے جو ۸۸ رکنی  کمیٹی﴿مجلسِ خبرگان﴾ موجود ہے اُس کے اراکین کا انتخاب بھی عوام کے ووٹوں سے ہوتا ہے۔ کوئی شخص چاہےجتنا بھی دینی تعلیم میں ماہر ہو، حافظ قرآن، محدث اور مجتہد ہو لیکن اگر عوام اُسے پسند نہیں کرتے تو وہ مجلسِ خبرگان کا ممبر نہیں بن سکتا۔  یہ اٹھاسی افراد عوام کی طرف سے بذریعہ ووٹ منتخب ہوتے ہیں تاکہ وہ عوام کی طرف سے مراجع کرام میں سے اعلم اور اصلح شخصیت کو ملکی قیادت کیلئے منتخب کریں۔پس اسلامی انقلاب نے بادشاہت اور تھیوکریسی دونوں کو جڑوں سے اکھاڑ دیا ہے۔

ج۔ اسلام دینِ جمہوریت ہے

حضرت امام خمینی سے پہلے آمروں، سلطانوں اور بادشاہوں نے مسلمانوں کے اندر یہ غلط عقیدہ پھیلا رکھا تھا کہ دینِ اسلام میں تو عوام کی رائے کی کوئی اہمیت ہی نہیں، لہذا آمریّت، بادشاہت اور  ملوکیت ہی اسلامی نظامِ حکومت ہے، لوگ بادشاہوں کی دل و جان سے اطاعت کرتے اور انہیں ظِلّ الہی اور خلیفہ کہتے تھے۔ حضرت امام خمینیؒ نے مسلمانوں کو اُن کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ آپ نے عوام کو یہ شعور دیا کہ انبیائے کرام کی اطاعت اس لئے لازم ہے چونکہ وہ خدا کے نمائندے ہیں جبکہ بادشاہ اور سلاطین تو اپنی طاقت کے بل بوتے پر برسرِ اقتدار آتے ہیں اور مسلمانوں کے بیت المال اور وسائل پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ یہ سلاطین خود تو عیاشیاں کرتے اور محلات میں زندگیاں بسر کرتے ہیں جبکہ عام مسلمان فقر و پسماندگی میں کچلے جاتے ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ وہ  فقروپسماندگی میں زندگی گزارنے کے بجائے اقتدار کیلئے اپنے درمیان سے ایسے  صالح اور انسان دوست اشخاص کا انتخاب کریں جو ان کے وسائل  اور ان کے بیت المال کو  اپنی عیاشیوں اور رنگ رلیوں کے بجائے مساوی طور پر  اپنے عوام  پر خرچ کریں۔

حضرت امام خمینی نے جو انقلاب برپا کیا ہے اُس کے تناظر میں اسلامی جمہوریّت سے مراد "مسلمانوں کی تائید سےخدا کے ایسے   صالح اور بابصیرت افراد کی حکومت ہے  جو مسلمانوں کے وسائل اور بیت المال کو قربِ خداوندی کیلئے اس طرح صرف کرے  تاکہ لوگ دنیاوی و دینی سعادت سے بہرہ مند ہوں" ۔اگرآپ مذکورہ تعریف پر توجہ دیں تو یہی اسلامی جمہوریت کی حقیقی و جامع  تعریف بنتی ہے بلکہ ہمارے نزدیک  خود جمہوریت کی مثالی تعریف ہی یہی ہے۔

د۔ فرقے نہیں اسلام اہم ہے

اسلامی انقلاب نے  مسلمانوں کی کہنہ ذہنیت کو تبدیل کیا۔ اس سے پہلے مسلمان اپنی فرقہ وارانہ شناخت اور الگ الگ تاریخ پر فخر کرتے تھے۔ حتی کہ فرقہ وارانہ مناظروں کے باعث باہم حسداور کینہ بھی رکھتے تھے۔  اسلامی انقلاب نےاس دیرینہ نفرت کے ماحول کو پہلی مرتبہ محبت اور اخوّت کے قالب میں ڈھالا۔  تمام فرعی اختلافات کی فراخدلی کے ساتھ جمع بندی کی۔ربیع الاوّل میں ہفتہ وحدت سے لے کر مسئلہ کشمیر اور فلسطین پر  ایک عالمی اسلامی موقف اختیار کیا۔ اگر اسلامی انقلاب کسی بھی جہت سے ایرانی ہوتا تو  انقلابیوں کے پاس ماضی میں بھی یہ سنہری موقع تھا اور آج بھی ہے کہ وہ  اسرائیل و امریکہ و برطانیہ سے مل کر اپنی حریف عرب ریاستوں کو تاریخ کے خسدان میں پھینک دیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اسلامی انقلاب ہی ہے جس نے انقلابیوں کو ہمیشہ  ایسی منفی سوچ سے محفوظ رکھا ہے اور تاریخ میں  یہ ثابت کیا ہے کہ اسلامی انقلاب محض شیعہ یا ایرانی نہیں ہے۔ اس کی وسعت میں تمام عالم اسلام سمایا ہوا ہے اور اس کا وژن تمام اسلامی ممالک و اسلامی مسلاک  کیلئے یکساں ہے۔

ر۔حضرت امام مہدی  کا ظہور ہمارے حضور پر منحصر ہے

اسلامی انقلاب سے پہلے صدیوں سے مسلمان  یہ عقیدہ رکھتے چلے آ رہے تھے کہ جب امام آئیں گے تو وہ خود سارے حالات ٹھیک کریں گے۔ اہل تشیع تو یہ باور کرتے تھے  کہ حضرت امام مہدی ؑ کے ظہور سے پہلے اسلامی حکومت کے لئے قیام کرنا  ہی حرام ہے۔ برائیوں کو عام ہونے دو ، جب برائیاں عام ہونگی تو تب امام آئیں گے۔  اسلامی انقلاب نے مہدویت کے فرسودہ نظریات کو کاہل اور سست لوگوں کے نظریات قرار دیا اور یہ منوایا کہ اگر لوگ خود  بادشاہوں اور خائن حکمرانوں کے خلاف قیام نہیں کریں گے تو امام مہدیؑ کا ظہور بھی نہیں ہو گا۔   جنہیں  برائیوں کے عام ہونے  کا انتظار ہے وہ در اصل دجال کے منتظر ہیں۔  امام مہدی ؑ کے منتظرین وہ ہیں جو  جبرواستبداد اور منکرات کےخلاف قیام کرنے والے ہیں۔گویا حضرت امام مہدی  کا ظہور ہمارے حضور پر منحصر ہے۔ ہم جس قدرمیدان میں حاضر رہیں گے امام کا ظہور اتنا ہی قریب ہوگا۔

س۔ اختلاف اور تضاد میں فرق  ہے

اسلامی انقلاب نے مسلمانوں کو اپنے باہمی مسائل چاہے علمی ہوں،  سیاسی ہوں یا فقہی و معاشرتی۔۔۔ انہیں اختلاف کی حد تک محدود رکھنا سکھایا ہے اور اس اختلاف کا احترام کرتے ہوئے اُسے تضاد کی شکل دینے سے گریز کیا ہے۔ اس کی واضح شکل اسلامی جمہوریہ ایران میں اہلِ سُنّت کی مذہبی و سیاسی آزادی ہے۔ وہاں اہلِ سُنّت کو وہ تمام سیاسی و دینی حقوق حاصل ہیں جو انہیں  افغانستان، سعودی عرب و دیگر عرب ریاستوں میں حاصل نہیں۔  مسائل و مشکلات کو اختلافات کی حد تک رکھنے اور تضاد میں تبدیل نہ کرنے کی وجہ سے آج  ایران بغیر کسی ایٹم بمب کے ایک مضبوط علمی، عسکری اور خطے کی سیاسی طاقت میں تبدیل ہو چکا ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ اسلامی انقلاب کو ایران اور اہلِ تشیع کی پراپرٹی سمجھنا دراصل جہانِ اسلام کو اُس کے ایک گرانبہا خزانے سے محروم کرنا ہے۔ اسلام صرف اہلِ ایران کو  استبداد، آمریت، استعمار اور بادشاہت سے نجات دلانے کیلئے نہیں آیا اور نہ ہی اسلام صرف اہلِ تشیع کے اندر آزادی، استقلال اورقیام کی روح پھونکنے کی خاطرظہور پذیر ہوا ہے۔ پس اسلام کی آزادی بخش اور عادلانہ و منصفانہ تعلیمات سارے عالمِ اسلام اور عالمِ بشریت کیلئے ہیں۔ سو یہ ضروری ہے کہ لوگ اسلامی انقلاب کو ایران اور اہلِ تشیع سے جدا کر کے پرکھیں اور اسے  ایران یا اہل تشیع سے مخصوص نہ سمجھیں۔ جس طرح دینِ اسلام بے شک منطقہ عرب میں آیا لیکن اس کی تعلیمات صرف عربوں یا  اہلِ مکہ و مدینہ سے مخصوص ہونے  کے بجائے  آفاقی اور عالمی ہیں اسی طرح اسلامی انقلاب بے شک ایران میں آیا ہے لیکن اس کے نظریات و ڈاکٹرائن  صرف اہلِ تشیع یا ایران  سے مخصوص ہونے کے بجائے سارے مسلمانوں اور سارے انسانوں کی ملکیت ہیں اور سب کو انہیں سمجھنا اور ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ یاد رکھئے کہ  کہیں بھی انقلاب پہلے دن نہیں آتا لیکن ہر انقلاب کا ایک پہلا دن ہوتا ہے۔ جس دن ہم نے اسلامی انقلاب کو آزادانہ طورپر سمجھنے کی کوشش شروع کر دی وہی دن ہمارے ہاں انقلاب کا پہلا دن ہوگا۔

 


0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...