حضرت امام خمینی نے آمریّت اور تھیوکریسی کو رد کر کے اسلامی جمہوریّت کا کامیاب نظریہ پیش کیا۔ یہی اسلامی جمہوریت ہی حقیقی معنوں میں جمہوریت ہے ۔ حضرت امام خمینی سے پہلے مسلمان فرقہ واریّت پر فخر کرتے تھے لیکن حضرت خمینی نے حقیقی معنوں میں قرآنی حکم کے مطابق اسلامی بھائی چارے پر عمل کیا ، آپ نے یوم القدس اور مسئلہ کشمیر پر خالصتا اسلامی موقف اپنایا۔ آپ خالصتا خدا کی وحدانیت اور توحید پر توکل کے پیکر تھے۔ اسلامی انقلاب کی چھیالیسویں سالگرہ سے مقررین کا خطاب۔
جامعہ الرضا اسلام آباد میں اسلامی انقلاب کی سالگرہ کی تقریب کا آغاز حافظ اثمار مہدی صاحب نے تلاوت قرآن سے کیا۔ ان کے بعد کے متعلم جامعۃ الرضا سید حسن رضا کاظمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام خمینی نے قرآن اور سنت کی روشنی میں ایک ایسا نظریہ پیش کیا جس میں دین اور سیاست کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ولایت فقیہ کا نظام تعارف کروایا جو اسلامی قیادت کی بنیاد پر ایک عادلانہ حکومت کا تصور تھا۔ ان کی جدوجہد بنیادی طور پر شعور، آگاہی ایثار، مہربانی ، عوامی جدوجہد اور قربانی پرمشتمل تھی۔ ان کے بعد محترم آغا نقی حسین جعفری نے اپنی تقریر میں کہا کہ جب اسلامی انقلاب آیا تو اس وقت استعمار مسلمانوں کو انہی کے مال سے سے خرید کر اپنا غلام بنا رہا تھا۔ حضرت امام خمینی ؒ نے استعمار کی ساری سازشوں کو ناکام بنا دیا ۔
اس تقریب سے جامعہ المصطفی کے نمائندے ڈاکٹر اعجاز نگری صاحب نے بھی گفتگو کی۔ انہوں نے انقلاب اسلامی ایران کے اسباب و عوامل میں سے کچھ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایک عامل ملت ایران کا دیندار ہونا ہے۔ ایرانی لوگ دیندار تھے اور جو نظام شہنشاہیت تھا اس کو دین کے ساتھ انہوں نے موازنہ کیا اور جب یہ دیکھا کہ یہ دین کے ساتھ سازگار نہیں ہے تو پھر انہوں نے دل و جان سے اسلامی انقلاب کو اپنا لیا۔ دوسرا عامل انقلابی لوگوں کا بلند حوصلہ ہے۔ ان کے حوصلے کبھی بھی پست نہیں ہوئے۔ انہوں نے اپنے بلند حوصلے کے ساتھ امریکہ، برطانیہ اور دیگر استعماری ممالک کی غلامی سے نجات حاصل کر لی۔ان کے بعد جامعہ الرضا کے مدیر علامہ سید حسنین عباس گردیزی صاحب نے انتہائی دلنشین اور فکر انگیز خطاب فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ اس انقلاب کی اہمیت، خصوصیات، ثمرات، برکات اور افادیت کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا ہے اور ابھی بھی بہت کچھ اس کے لیے لکھا جانا باقی ہے۔ اس انقلاب، اس کے انقلابی نعروں، مقدس جذبات اور اس سے منسوب شعائر کی قدر کیجئے اور انہیں اگلی نسلوں میں منتقل کیجئے۔ انہوں نے کہا کہ اس انقلاب کا گہرا اور ہمہ جہتی مطالعہ کیجئے۔
اس تقریب سے جامعہ المصطفی کے نمائندے ڈاکٹر اعجاز نگری صاحب نے بھی گفتگو کی۔ انہوں نے انقلاب اسلامی ایران کے اسباب و عوامل میں سے کچھ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایک عامل ملت ایران کا دیندار ہونا ہے۔ ایرانی لوگ دیندار تھے اور جو نظام شہنشاہیت تھا اس کو دین کے ساتھ انہوں نے موازنہ کیا اور جب یہ دیکھا کہ یہ دین کے ساتھ سازگار نہیں ہے تو پھر انہوں نے دل و جان سے اسلامی انقلاب کو اپنا لیا۔ دوسرا عامل انقلابی لوگوں کا بلند حوصلہ ہے۔ ان کے حوصلے کبھی بھی پست نہیں ہوئے۔ انہوں نے اپنے بلند حوصلے کے ساتھ امریکہ، برطانیہ اور دیگر استعماری ممالک کی غلامی سے نجات حاصل کر لی۔ان کے بعد جامعہ الرضا کے مدیر علامہ سید حسنین عباس گردیزی صاحب نے انتہائی دلنشین اور فکر انگیز خطاب فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ اس انقلاب کی اہمیت، خصوصیات، ثمرات، برکات اور افادیت کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا ہے اور ابھی بھی بہت کچھ اس کے لیے لکھا جانا باقی ہے۔ اس انقلاب، اس کے انقلابی نعروں، مقدس جذبات اور اس سے منسوب شعائر کی قدر کیجئے اور انہیں اگلی نسلوں میں منتقل کیجئے۔ انہوں نے کہا کہ اس انقلاب کا گہرا اور ہمہ جہتی مطالعہ کیجئے۔
رپورٹ: شیخ تاثیر رضا









0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں