تحریر: م ع شریفی:
آپ کی طرح میں بھی پریشان تھا۔ دو دن پہلے ریمدان بارڈر سے تین بےگناہ پرامن محب وطن علمائے کرام کی گرفتاری کی خبر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی۔ کئی دوستوں کی طرف سے پرسنل پر میسج بھی آئے برادر جواد پاروی نے خصوصی طور ایک میسج بناکر بھیجا اور اسے آگے پہنچانے اور شئیر کرنے کی تاکید کررہےتھے۔یہ سب ہوتا رہا۔ ابھی بارڈر سے بیگناہ گرفتار علمائے کرام کی رہائی کی خبر الحمدللہ آچکی ہے۔
میں اس موقع پر کسی کو کریڈٹ دینے کے بجائے اپنے ایک ذاتی تجربے کو شئیر کرنا چاہتا ہوں۔ اس پورے واقعے کے دوران یقینا غیر تنظیمی اور مختلف تنظیموں کی مختلف شخصیات نے ان بیگناہ علماء کی رہائی کےلئے اپنا اپنا حصہ ضرور ڈالا ہوگا اور عوامی سطح پر بھی حوصلہ افزاء دردعمل بھی دیکھنے میں آیا۔ بات کسی کو کریڈٹ دینے یا لینے کی بلکل نہیں ، لیکن کبھی کسی بھی کام میں کسی بھی شخصیت کی قوم و ملت کےلئے مخلصانہ کوشش جب نمایاں طور پر نظر آئے اور اسے چھپایا جائےیا بیان نہ کیا جائے تو یہ یقینا کھلی ناانصافی ہے۔
مذکورہ بالا میسج پہلے تو میں نے اسے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی گروپ شئیرکردیا پھر خیال آیا قائد وحدت ناصر ملت سینیٹرعلامہ راجہ ناصر عباس جعفری صاحب کو ہی کیوں نہ ایک میسج کروں ؟ میں ایک سینئر تنظیمی بندہ ہونے کے باوجود میری زندگی میں پہلی بار علامہ راجہ ناصر عباس صاحب سے فون پر کسی مسئلے سے متعلق رابطہ کررہاتھا اس سے پہلے کبھی الحمدللہ پرسنل یا کوئی اور مسئلہ پیش ہی نہیں آیا کہ آپ کو زحمت دینے کی نوبت آئے ۔ بس کئی سال پہلے ایک بار آغا صاحب کانمبر سیو کیاتھے تلاش کرنے پر موبائل سے نکل آیا اور یہ احتمال بھی دے رہا تھا شاید نمبر تبدیل ہواہو مرکزی قیادت مصروفیات کی وجہ سے خود جواب نہ پائے یا ناشناس نمبر کے میسج کو نظر انداز کریں لیکن خیر یہ سوچ کر میسج کر ہی دیا کہ کرنے میں کوئی حرج نہیں، میں نے جوں ہی میسج کیا دس سیکینڈ کے اندر میرا فون بجنے لگا تسلی سے دیکھنے پر معلوم ہوا راجہ صاحب کا نام آرہا تھا میں تو دنگ رہ گیا اتنی جلدی میں جواب ، اور مجھے 100%یقین ہے کہ راجہ صاحب کے پاس میرا نمبر نہیں ہے میں نے میسج میں صرف اپنا ہلکا سا تعارف کیا تھا ۔
پہلے تو یہ خیال کیا کہ شاید کسی تنظیمی دوست سے کروایا ہو یا ان کا کوئی سکریٹری ہوگا۔ خیر
فون اٹھانے پر معلوم ہوا کہ خود راجہ صاحب بات کررہے تھے اور فرمارہےتھے کہ آغا جان آپ ان دوستوں کی تفصیلات مجھے بھیج دیں کونسا بارڈر ہے کس وقت یہ واقعہ پیش آیا اور باقی مختصر تعارف۔۔۔؟ تاکہ میں سنجیدگی سے آگے حکام سے بات کرسکوں ۔
خیر میں نے آگےپیچھے رابطہ کرکے تینوں علمائے کرام کی تفصیلات لینے کی کوشش کی اس کےلئے مدد کرنے پر برادر عزیز آغاجواد پاروی صاحب کے شکر گزار ہیں انہوں نے ہماری مدد فرمائی قائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس صاحب گرچہ اسی دن کچھ ہی دیر پہلے لبنان سےواپس پہنچنے کی خبر چلی تھی میرے مختصر میسج پر اہمیت دیکر فورا ایکشن لینا وہ بھی کسی کے توسط سے نہیں بلکہ فورا خود نے جواب دینا ، نے مجھے کم سے کم بہت متاثر کیا اور عربی مقولہ ،، رئیس القوم خادمھم،، ذہن میں اتر آیا ، کوئی قیادت ہے کوئی سینیٹر ہے کوئی متمول طبقے کا عالم دین ہے جو اس طرح سے فون اٹھائے اور قومی مسائل کو اپنا درد سمجھے ؟؟ بات درد کی ہے۔ بات کسر نفسی کی ہے۔ بات قیادت اور عام آدمی کے درمیان حائل پردوں اور دیواروں کا نہ ہونے کی ہے ۔
بات پروٹوکول کلچر کے منہ پر طمانچہ مارنے کی ہے۔ بات اہمیت دینے کی ہے، ان کی سادگی پر ایک الگ تحریر درکار ہے۔ کئی موارد کا میں خود چشم دیدگواہ ہوں ،
کئی سال پہلے ہمارے بصیرت آرگنائزیشن کے دوستوں کی دعوت پر شہید منا علامہ ڈاکٹر غلام محمد فخرالدین اعلی اللہ مقامہ کے دولت کدے پر تشریف لانی تھی مجھ پر مین روڈ سے آغا صاحب کو اٹھانے کی ذمہ داری ڈال دی گئی ۔
میں بائیک لیکر منتظر رہا آغا صاحب سروس ٹیکسی سے اترے میں ایک ٹیکسی والے سے بات کرنے لگا قبلہ آغا راجہ صاحب کو گھر تک لیجانے کے لیے تو آپ نے سختی سے منع کیا ، اور کہا نہیں میں آپ کے ساتھ بائیک پر ہی چلوں گا ٹیکسی کرنے کی بلکل ضرورت نہیں ہے ۔ میں مجبورا اپنی خستہ حال بائیک پر آپ کو لیکر گھر مشکل سے پہنچا تھا۔ لہذا ہمارے ملک میں قیادتوں اور عام آدمی کا فاصلہ بہت زیادہ ہے ، اگر دیدار ہو بھی جائے تو مسائل کےلئے نہیں بلکہ دست بوسی اور دیگر تشریفات تک محدود ہوتا ہے۔ ہماری لیڈر شپ اپنے زیب تن کئے ہوئے مصنوعی تقدس کے لباس کو اتارنے کیلئے تیار ہی نہیں، عام آدمی سے دور رہنے کو ہی اپنی عزت اور وقار تصورکیا جاتا ہے لیکن علامہ صاحب میں سادگی اور درد کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا ہے جس کا ہم نے کئی مواقع پر مشاہدہ کیا ہے۔۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں