ہر سال 5 فروری کو پاکستان اور دنیا بھر میں لوگ کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے مختلف تقریبات منعقد کرتے ہیں۔ ان تقریبات میں تاریخ کشمیر کے حقائق بیان کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کے ساتھ ہر طرح کی ہمدردی اور ان کا بازو بن کر کھڑا رہنے کا اعلان کیا جاتا ہے ۔
رپورٹ: زوہیر حسن:متعلم جامعۃ الرضا اسلام آباد:
خاص طورپرپاکستان کا ہر شہری پرجوش طریقے سے یہ اعلان کرتا ہے کہ ہم کشمیریوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ کشمیری عوام کے حوصلوں کو بلند رکھنے کے لیے ان کے ساتھ یکجہتی کیلئے یہ دن بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس سال5 فروری کو ٹھیک رات 9 بجے جامعۃ الرضا شعبہ تحقیق بارہ کہو اسلام آباد کے زیر اہتمام تاریخ کشمیر پر روشنی ڈالنے کیلئے ایک تقریب منعقد کی گئی۔ اس تقریب میں طلبا نے جہاں تاریخ کشمیر کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی وہیں کشمیری عوام سے بھی بھرپور انداز سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
جامعۃالرضا کے طلبا نے کہا کہ پاکستان کا کشمیر پر موقف اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہے جب کہ بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مسلسل نظرانداز کیا ہے۔ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی مرضی سے طے ہونا چاہیے ۔ اقوام متحدہ نے کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دینے کا اعلان کر رکھا ہے لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اب تک یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا ۔
جامعۃ الرضا کے طلبا نے اپنی گفتگو میں کہا کہ تاریخ کشمیر کو نوجوانوں اور جوانوں کیلئے بار بار دہرایا جانا چاہیےتاکہ وہ اس مسئلے کی حقیقت اوراہمیت کو فراموش نہ کریں۔یہ حقیقت اظہرمن الشمس ہے کہ پاکستانی کسی صورت کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلانے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کے طور پر مناتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز سے بیان کیا جانا چاہیے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس مسئلے کو اب سنجیدہ نہیں لیا جا رہا ۔ اگر پاکستانی اور کشمیری جوانوں کو مسئلہ کشمیر سمجھانے اور تعلیمی درسگاہوں میں کشمیریات کو فروغ دینے کیلئے خصوصی اقدامات نہ کئے گئے تو ۵فروری کا دن محض ایک رسم بن کر رہ جائے گا۔
اس دن ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ کشمیر کے حوالے سے ہماری آج انفرادی اور اجتماعی کیا ذمہ داری ہے ۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہمیں محض تقریروں اور جلسوں تک محدودنہیں رہنا چاہیے بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں استصواب رائے کو یقینی بنانے کے لئے کوئی حکمت عملی بنانی چاہیے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہمیں چاہیے کہ اپنی آواز کو موثر بنائیں اور آج کل کی نوجوان نسل کو آگاہ و بیدار کریں۔ سوشل میڈیا پر مظلوم کی حمایت اور ظالم کے خلاف آواز بلند کریں جتنا ہو سکے اپنا حق ادا کریں تاکہ مظلوم کو اپنا حق مل جائے اور کشمیر میں مظالم کا خاتمہ ہو۔ مظلوم کی حمایت میں اٹھائی جانے والی ہر موثر آواز ظالموں کی شرمندگی کا باعث ہے لہذا ہمیں 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کو منظم انداز میں منانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یاد رہے کہ اس تقریب کا اہتمام جامعۃ الرضا اسلام آباد کے شعبہ تحقیق نے کیا تھا۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں