امریکہ و اسرائیل کو طاقتور کس نے بنایا؟
ڈاکٹر نذر حافی :
لوگ خوش ہیں کہ امریکہ و اسرائیل کی مذمت ہورہی ہے۔ اب اِن بھولے بھالے لوگوں سے یہ کون پوچھے کہ کیا مذمت تاریخ کا رخ موڑتی ہے، یا صرف تاریخ کے حاشیے پر ایک فِٹ نوٹ بن جاتی ہے؟ روز بروز ایران پر حملے ہو رہے ہیں اور " فلسطین میںوسیع نوعیت کی سیاسی و جغرافیائی تبدیلیاں جاری ہیں۔ ایران جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں ہے اور جنگ کے دوران اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاری کی رفتار تیز کی جا رہی ہے، جنگی حالات میں اسرائیل کو مزید اسلحہ دے کر اسرائیلی انتظامیہ کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ جہانِ اسلام کی لاپرواہی دیکھیے! عالمِ اسلام کی طرف سے اسرائیلی قبضے کوایک طرف فقط زبانی کلامی غیر قانونی کہا جاتا ہے، دوسری طرف دِن بدن وہ قبضہ عربوں کیلئے اتنا ہی مضبوط ہوتا جارہا ہے۔ روزانہ انسانیت چِیختی ہے، بلڈوزر آگے بڑھتے ہیں، قراردادیں میز پر رہ جاتی ہیں، اور ہر نئی صبح کے ساتھ صہیونیوں کی نِت نئی بستیاں زمین پر اُگ آتی ہیں۔
ترکیہ، برازیل، فرانس، اسپین، سعودی عرب، مصر، اردن، ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، انڈونیشیا، آئرلینڈ، لگزمبرگ، ناروے، فلسطین، پرتگال، قطر، سلووینیا اور سویڈن کے ساتھ عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کو بھی شامل کر لیجئے۔ کسی نے بھی ایران میں شعلہ ور آگ پر پانی ڈالنے کی کوشش نہین کی۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ قسمت باتوں سے نہیں، فیصلوں سے بدلتی ہے۔لیگ آف عرب اسٹیٹس کے سیکرٹری اور او آئی سی بھی سو رہی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک نے بھی ایران کے سپریم لیڈر کے قاتلوں کی مذمت نہیں کی۔ اگرچہ مذمت کرنے کا یہ لفظ مشرق و مغرب کی سیاست میں شاید سب سے زیادہ استعمال ہونے والا بے معنی لفظ ہے۔ موجودہ دور میں یہ لفظ ایک ایسے خالی کارتوس کی مانند ہے کہ جس کا چلانا اور نہ چلانا برابر ہے۔ پھر بھی ہم نے اس کارتوس کو نہ چلانے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔
دوسری طرف نئی نسل اس عجیب منظر کو حیرت سے کیوں نہ دیکھے! ایک طرف فلسطین پر قابض مافیا اپنی رفتار تیز کر رہا ہے، اور دوسری طرف فلسطین کیلئے آواز اٹھانے والے اکیلے ملک ایران پر حملوں میں شِدّت آ رہی ہے۔ ایک طرف فلسطین کی ڈیموگرافی، جغرافئے اور تاریخ پر شبخون مارا جا رہا ہے اور دوسری طرف ایران کی بستیوں، سکولوں، ہسپتالوں اور آبی ذخائر پر الفاظ کی گولہ باری جاری ہے۔ اب مختلف ممالک میں احتجاج کرنے والی تنظیمیں یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ جنگ الفاظ سے لڑی جاتی ہے یا ارادوں سے؟
ایران نے تاریخ کی عظیم قربانیاں پیش کی ہیں۔ ایک طرف ایران پرغیرقانونی جارحیت جاری ہے اور دوسری طرف
اسرائیلی بستیوں کو "بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی" کرتے ہوئے وسعت مل رہی ہے۔ یہاں تک یہ تو سب جانتے ہیں کہ ایران پر حملے اور فسلطین پر اسرائیل کا قبضہ غیر قانونی ہے لیکن سب اُلٹا ایران پر ہی دباو بڑھانے میں مصروف ہیں۔ کہنے کو تو سب کی زباں پر یہی ہے کہ فلسطینی زمین فلسطینیوں کی ہے، لیکن سب مل کر ایران کو تنہا کر کے فلسطینیوں کو اُن کی سر زمین پر ہی بے گھر اور بے اختیار بنانے میں مشغول ہیں۔ سب امن کی بات کرتے ہیں، لیکن ایسا امن جس میں مظلوم سے صبر کا مطالبہ تو کیا جاتا ہے لیکن ظالم سے ظلم روکنے کا نہیں۔
ایران اور فلسطین کے خلاف جاری ظلم کو نارملائز کرنے والوں کو اپنے کل کی کچھ خبر نہیں۔ امریکہ و اسرائیل سے ڈرنے سے کچھ تبدیل نہیں ہونے والا چونکہ اسرائیل و امریکہ بخوبی جانتے ہیں کہ "مسلمان وہ ہیں جو وہ کرتے ہیں، نہ کہ وہ جو وہ کہتے ہیں"۔ ہمارے نزدیک اسرائیل و امریکہ کی مذمت سے مذمّت کی دنیا میں مزید ایک مذمّت کا اضافہ ہونے کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتا۔ایسے مواقع پر مذمت کے بیانات جو دنیا کے مختلف ممالک کی طرف سے سامنے آتے ہیں، وہ مسائل کے اصل حل سے توجہ ہٹانے کیلئے ایک "ضمنی" یا "غیر مؤثر" ردعمل ہیں۔ ایسی مذمتیں صرف ایک علامتی اور غیر اہم ردعمل کی حیثیت رکھتی ہیں، جن کا مقصد لوگوں کا منہ بند رکھنے کیلئے ایک خاص قسم کی کارروائی ڈالنا ہوتا ہے۔ کاش ہم یہ سمجھ جائیں کہ یہ ظلم کی تسلسل کو بے نام تحفظ فراہم کر نے کا عمل ہے۔ "نارملائزیشن آف ظلم" کی یہ پالیسی زیادہ سے زیادہ ایک "اظہار رائے" ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ ایسی مذمت کی حیثیت کسی قانونی دستاویز میں ایک چھوٹے سے کمنٹ کی سی ہے جو کسی رائے کو بدل نہیں سکتا۔ اگر بظاہرمسلم ممالک ملکر ایران پرامریکی و اسرائیلی حملے نیز فلسطین پر غیر قانونی قبضے کی مذمت کرتے ہیں، اور اس مذمّت سے امریکہ و اسرائیل پر کچھ اثر نہیں پڑتا ، تو آج کی دنیا میں یہ بیان فیس بک پر دئیے گئے ایک معمولی سے کمنٹ سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہمارے لئے یہ عجب صورتحال ہے کہ دنیا وہی ہے، انسانی حقوق وہی ہیں، بین الاقوامی ادارے وہی ہیں، لیکن جارحین کو روکنے اور پوچھنے والا کوئی نہین۔ کیا ہماری آج کی اسلامی دنیا کے یہ سربراہ کل کو تاریخ کے کٹہرے میں اس سوال کا جواب دے پائیں گے کہ امریکہ و اسرائیل کو طاقتور کس نے بنایا؟۔اُن کی ٹیکنالوجی نے یا مسلمان حکمرانوں کی عیاشیوں نے!۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں