زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

بدھ، 11 مارچ، 2026

امریکہ و اسرائیل کو طاقتور کس نے بنایا؟

امریکہ و اسرائیل کو  طاقتور  کس نے بنایا؟
ڈاکٹر نذر حافی :
لوگ خوش ہیں کہ امریکہ و اسرائیل کی مذمت ہورہی ہے۔  اب اِن بھولے بھالے لوگوں سے یہ کون پوچھے  کہ  کیا مذمت تاریخ کا رخ موڑتی ہے، یا صرف تاریخ کے حاشیے پر ایک فِٹ نوٹ بن جاتی ہے؟  روز بروز ایران پر حملے ہو رہے ہیں اور " فلسطین میںوسیع نوعیت کی سیاسی و جغرافیائی  تبدیلیاں جاری ہیں۔ ایران جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں ہے اور جنگ کے دوران اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاری کی رفتار تیز کی جا رہی ہے، جنگی حالات میں اسرائیل کو مزید اسلحہ دے کر   اسرائیلی انتظامیہ کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ جہانِ اسلام  کی لاپرواہی دیکھیے! عالمِ اسلام کی طرف سے  اسرائیلی قبضے کوایک طرف فقط زبانی کلامی غیر قانونی کہا جاتا ہے، دوسری طرف دِن بدن وہ قبضہ عربوں کیلئے اتنا ہی مضبوط ہوتا  جارہا ہے۔ روزانہ انسانیت چِیختی ہے، بلڈوزر آگے بڑھتے ہیں،  قراردادیں میز پر رہ جاتی ہیں، اور ہر نئی صبح کے ساتھ  صہیونیوں کی نِت نئی  بستیاں  زمین  پر اُگ آتی ہیں۔

 ترکیہ، برازیل، فرانس، اسپین، سعودی عرب، مصر، اردن، ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، انڈونیشیا، آئرلینڈ، لگزمبرگ، ناروے، فلسطین، پرتگال، قطر، سلووینیا اور سویڈن کے ساتھ عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کو بھی شامل کر لیجئے۔  کسی نے بھی ایران میں شعلہ ور آگ پر پانی ڈالنے کی کوشش نہین کی۔  یہ بات سب جانتے ہیں کہ  قسمت  باتوں سے نہیں، فیصلوں سے بدلتی ہے۔لیگ آف عرب اسٹیٹس کے سیکرٹری اور او آئی سی بھی سو رہی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک نے بھی ایران کے سپریم لیڈر کے قاتلوں کی مذمت نہیں کی۔ اگرچہ مذمت  کرنے کا یہ لفظ   مشرق و مغرب کی سیاست میں شاید سب سے زیادہ استعمال ہونے والا بے معنی  لفظ ہے۔ موجودہ دور میں  یہ لفظ  ایک ایسے خالی کارتوس کی مانند ہے کہ  جس کا  چلانا اور نہ چلانا برابر ہے۔ پھر بھی ہم نے اس کارتوس کو نہ چلانے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔
دوسری طرف نئی نسل اس عجیب منظر کو حیرت سے کیوں نہ دیکھے! ایک طرف فلسطین پر  قابض مافیا  اپنی رفتار تیز کر رہا ہے، اور دوسری طرف  فلسطین کیلئے آواز اٹھانے والے اکیلے ملک ایران پر حملوں میں شِدّت آ رہی ہے۔ ایک  طرف فلسطین کی ڈیموگرافی، جغرافئے اور تاریخ   پر شبخون مارا جا رہا ہے اور  دوسری طرف ایران کی بستیوں، سکولوں، ہسپتالوں اور آبی ذخائر  پر الفاظ کی گولہ باری جاری ہے۔  اب مختلف ممالک میں احتجاج کرنے والی تنظیمیں یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ جنگ الفاظ سے لڑی جاتی  ہے یا ارادوں سے؟
ایران نے تاریخ کی عظیم قربانیاں پیش کی ہیں۔ ایک طرف ایران پرغیرقانونی جارحیت جاری ہے اور دوسری طرف 
  اسرائیلی بستیوں کو "بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی" کرتے ہوئے وسعت مل رہی ہے۔  یہاں تک یہ تو  سب جانتے ہیں کہ ایران پر حملے اور فسلطین پر اسرائیل کا  قبضہ غیر قانونی ہے لیکن  سب اُلٹا ایران پر ہی دباو بڑھانے میں  مصروف ہیں۔ کہنے کو تو سب کی زباں پر یہی ہے کہ  فلسطینی زمین فلسطینیوں کی ہے، لیکن سب مل کر ایران کو تنہا کر کے  فلسطینیوں کو اُن کی سر زمین پر ہی بے گھر اور بے اختیار بنانے میں مشغول ہیں۔ سب امن کی بات کرتے ہیں، لیکن ایسا امن جس میں مظلوم سے صبر کا مطالبہ تو کیا جاتا ہے لیکن ظالم  سے ظلم روکنے کا نہیں۔
ایران اور فلسطین کے خلاف  جاری ظلم کو نارملائز کرنے والوں کو اپنے کل کی کچھ خبر نہیں۔ امریکہ و اسرائیل سے ڈرنے  سے کچھ تبدیل نہیں ہونے والا چونکہ اسرائیل و امریکہ بخوبی جانتے ہیں کہ "مسلمان وہ ہیں جو وہ کرتے ہیں، نہ کہ وہ جو وہ کہتے ہیں"۔ ہمارے نزدیک اسرائیل و امریکہ کی مذمت سے مذمّت کی دنیا میں مزید ایک مذمّت کا اضافہ ہونے کے سوا  کچھ اور نہیں ہوسکتا۔ایسے مواقع پر  مذمت کے بیانات جو دنیا کے مختلف ممالک کی طرف سے سامنے آتے ہیں، وہ مسائل کے اصل حل  سے توجہ ہٹانے کیلئے ایک "ضمنی" یا "غیر مؤثر" ردعمل ہیں۔ ایسی مذمتیں صرف ایک علامتی اور غیر اہم ردعمل کی حیثیت رکھتی ہیں، جن کا مقصد لوگوں کا منہ بند رکھنے کیلئے ایک خاص قسم کی کارروائی ڈالنا ہوتا ہے۔ کاش ہم یہ سمجھ جائیں کہ یہ ظلم کی تسلسل کو بے نام تحفظ فراہم کر نے کا عمل ہے۔ "نارملائزیشن آف ظلم" کی یہ پالیسی زیادہ سے زیادہ ایک "اظہار رائے"  ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ ایسی مذمت کی حیثیت  کسی  قانونی دستاویز میں ایک چھوٹے سے کمنٹ کی سی ہے  جو کسی   رائے  کو بدل نہیں سکتا۔ اگر  بظاہرمسلم ممالک ملکر ایران پرامریکی و اسرائیلی حملے نیز فلسطین پر غیر قانونی  قبضے کی مذمت کرتے ہیں، اور اس  مذمّت سے امریکہ و اسرائیل پر کچھ اثر نہیں پڑتا ، تو آج کی دنیا میں  یہ بیان  فیس بک پر دئیے گئے ایک معمولی  سے کمنٹ سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہمارے لئے  یہ عجب صورتحال ہے  کہ  دنیا وہی ہے، انسانی حقوق وہی ہیں، بین الاقوامی ادارے وہی ہیں، لیکن جارحین کو روکنے اور پوچھنے والا کوئی نہین۔  کیا ہماری آج کی اسلامی دنیا کے یہ  سربراہ  کل کو تاریخ کے کٹہرے میں  اس سوال کا جواب دے پائیں گے کہ امریکہ و اسرائیل کو  طاقتور  کس نے بنایا؟۔اُن کی ٹیکنالوجی نے یا مسلمان حکمرانوں کی عیاشیوں نے!۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...