ڈاکٹر نذر حافی:
کیا ہمارا یہ عظیم الشان دعویٰ نہیں کہ دینِ اسلام ایک کامل و اکمل ضابطۂ حیات ہے؟ مگر پھر کیا یہی ضابطۂ حیات صرف وضو کے پانی، غسل کے احکام، نماز میں ہاتھ باندھنے کے مقامات تک ہی محدود ہے؟ یا نہیں اسلام کے ضابطہِ حیات ہونےسے مراد کچھ اور ہے؟ یقیناً آپ کا جواب یہی ہوگا کہ ضابطہ حیات کو صرف وضو و غسل اور نماز روزے کے احکام تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ضابطہ حیات یعنی انسانی زندگی کے تمام شعبوں کیلئے ضابطہ۔ آئیے جب ضابطے کی بات ہو رہی ہے توانسانی زندگی کے مختلف شعبہ جات پر بھی ایک اجمالی نگاہ ڈال لیتے ہیں۔
انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں سے چند ایک کو ہی آپ لے لیجئے مثلاً تعلیم و تربیت ، جیسے رسمی تعلیم (اسکول، کالج، یونیورسٹی) ، غیر رسمی تعلیم (مہارتی تربیت، آن لائن کورسز) ، تحقیقی ادارے (سائنسی لیبارٹریز، تعلیمی تحقیق) اسی طرح صحت و طب ، ہسپتال اور کلینکس ، ذہنی صحت (کاؤنسلنگ، نفسیاتی علاج) ، روایتی طب (حکمت، آیورویدک) ، دواسازی اور میڈیکل ریسرچ ، یہاں پر معیشت و مالیات کا ذکر بھی ضروری ہے مثلاً بینکنگ اور انشورنس ، کاروبار اور تجارت ، زراعت اور صنعت ، روزگار اور لیبر مارکیٹ۔
اس کے ساتھ ہی ہم سائنس و ٹیکنالوجی کوبھی نظر انداز نہیں کر سکتے خصوصاً آج کے دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ، مصنوعی ذہانت (AI) اور روبوٹکس ، انجینئرنگ اور ایجادات ، خلائی تحقیق (سپیس سائنس) ، جہاں یہ سب ہے وہاں ثقافت و فنون کا بھی انسانی زندگی سے گہرا تعلق ہے، ادب (شاعری، نثر، ڈراما) ، تفریح ، مصوری، مجسمہ سازی، اور آرٹ ، ثقافتی ورثہ اور عجائب گھر ، مذہب و روحانیت ، عبادت گاہوں کا باہمی ثقافتی مکالمہ (مساجد، مندر، گرجا گھر) ، مذہبی تعلیمات اور تبلیغ ، روحانی تربیت ، روحانی بیماریاں اور ان کا علاج، حکومت و سیاست ، انتظامیہ (سرکاری دفاتر، پولیس) ، قانون سازی اور عدلیہ ،سفارت کاری اور بین الاقوامی تعلقات ، انتخابی عمل اور جمہوریت ، خاندان و سماج ، ازدواجی زندگی (شادی، طلاق) ، بچوں کی پرورش اور نگہداشت ، سماجی خدمات (یتیم خانے، بزرگوں کی دیکھ بھال) ۔
آپ ماحولیات و قدرتی وسائل پر بھی ایک نگاہ ڈالیں، جنگلات اور حیاتیاتی تنوع، پانی اور ہوا کی صفائی ، قابل تجدید توانائی (شمسی، ہوائی) ، نقل و حمل ، سڑکیں اور ریلوے، ہوائی اور بحری جہاز ، شہری منصوبہ بندی (میٹرو، بس سروسز) ، کھیل و تفریح ،- کھیلوں کے مقابلہ جات (کرکٹ، فٹبال) ، فلمیں اور ڈرامے ، سیاحت اور سیر و تفریح ، زراعت و کاشتکاری ، فصلوں کی کاشت ، مویشی پالنا ، جدید زرعی ٹیکنالوجی ، عدلیہ و قانون ،عدالتی نظام ، انسانی حقوق کی پاسداری، وکالت اور قانونی مشاورت ، میڈیا و ابلاغ ، اخبارات اور میگزین ، ریڈیو، ٹی وی، اور سوشل میڈیا ، اشتہارات اور مارکیٹنگ ، دفاع و سیکیورٹی ، فوج اور دفاعی ادارے ، سائبر سیکیورٹی ، تھنک ٹینکس اور حکمت عملی ۔ شخصی ترقی ، خود اعتمادی کی تربیت ، وقت کا درست اسلام، ذہنی اور جسمانی صحت ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ ، ای کامرس اور آن لائن بزنس ، ورچوئل رئیلٹی (VR) اور گیمنگ۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دینِ اسلام ان سارے شعبہ جات میں انسان کو رفاہ، ترقی اور کامیابی فراہم کرنا چاہتا ہے۔ کیا فقہ جعفری کے علاوہ کوئی اور ایسی فقہ ہمارے پاس ہے کہ جو ان سارے شعبہ جات کیلئے کتاب و سُنّت سے کوئی زندہ نظام دنیا کے سامنے رکھ سکی ہو؟ کیا فقہ جعفری کی طرح کسی اور فقہ نے انسانی سماج ، اسلامی جمہوریت کی تشکیل ، سائنس و ٹیکنالوجی ، اور عالمی برادری کی ترقی اور پیشرفت میں اپنا کوئی حصّہ ڈالا ہے؟
جب ہم اپنے ہاں دیکھتے ہیں تو سوائے تکفیر، برادر کُشی، کشورکشائی وغیرہ وغیرہ کے فتووں کے علاوہ کچھ اور نظر ہی نہیں آتا۔ ابھی فلسطین اور غزہ میں کی صورتحال آپ کے سامنے ہے، افغانستان و پاکستان، نیز عراق و شام میں اپنے ہی بھائیوں کے کُشتوں کے پُشتے لگانے والے ہمارے مفتیوں و مجاہدین حضرات کا آج بھی فلسطین میں ظُلم کو رکوانے یا ظالموں کے خلاف جہاد کرنے کے حوالے سے کردار بالکل صفر ہے۔
آپ اگر منصف مزاجی کے ساتھ عالمِ اسلام کے حالات کا جائزہ لیں تو آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ اس وقت ساری دنیا میں حقیقی معنوں میں فقط فقہ جعفری ہی اسلام کی مکمل اور بھرپور ترجمانی کر رہی ہے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان جیسی عظیم نظریاتی ریاست کے بانی قائداعظم محمد علی جناح کا جعفری المذہب ہونا، فقہ جعفری کی بنیاد پر ایران کے عظیم اسلامی انقلاب کی کامیابی اور فقہ جعفری کی اساس پر اسلامی جمہوریہ ایران کا فلسطین کے مظلوموں کی ڈٹ کر حمایت کرنا ، اسی طرح شہید قاسم سلیمانی، شہید حسن نصراللہ اور حزب اللہ لبنان کے سینکڑوں جوانوں کا اپنے فلسطینی اہلِ سنّت بھائیوں کیلئے قربان ہو جانا ۔۔۔ ان سب پہلووں نے جدید عہد میں فقہ جعفری کے مطالعہ کی اہمیت کو دوچند کر دیا ہے۔
ایک طرف یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ برّصغیر جیسے کثیر المسالک منطقے میں قائد اعظم جیسے جعفری المذہب کا سارے مسلمانوں کی قیادت کر کے اُن کیلئے دنیا میں پہلی اسلامی نظریاتی ریاست تشکیل دینا یہ فقہ جعفری کی آفاقیّت اور جامعیّت پر دلیل ہے۔ قائداعظم کے مخالفین نے قائداعظم کی تکفیر تک کی اور قاتلانہ حملہ بھی کیا لیکن قائداعظم نے نہ ہی تو کسی مسلمان کی تکفیر کی اور نہ ہی کسی کے خلاف اوچھے یا نام نہاد جہادی ہتھکنڈے استعمال کئے۔
دوسری طرف اس حقیقت کا بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ فقہ جعفری نے ایران میں ایک عظیم اسلامی انقلاب برپا کیا ہے۔ ایک ایسا عظیم انقلاب کہ جس نے انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں اپنی کامیابی کا لوہا منوایا اور دنیا پر ثابت کیا کہ اسلام حقیقت میں ایک ضابطہ حیات ہے۔ اسلام محض عقائد و عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ وجودِ انسانی کی تکوین سے لے کر اجتماعی نظامِ حیات تک کیلئےایک متوازن نظامِ زندگی پیش کرتا ہے ۔اسلام بطورِ ضابطہ حیات انسان کے فکر و عمل کے درمیان اُس کی ذات سے کائنات تک ایک ربط قائم کرتا ہے ۔
اسلامی انقلاب کے بعد ایران میں تمام مذاہبِ اسلامی اور دیگراقلیتوں کے ساتھ ویسی ہی رواداری برتی جاتی ہے جیسی رواداری حضرت امام جعفرصادق ؑ اپنے عہد میں دوسروں کے ساتھ اپناتے تھے۔ فقہ جعفری نے ایران کی تاریخ تبدیل کر دی اور ملّتِ ایران کو حیاتِ نو عطا کی ۔ یہ ایران میں فقہ جعفری نے ثابت کیا ہے کہ اسلام زندہ حقیقتوں کا شجرِ سایہ دار ہے۔ اس کی جڑیں فطرتِ انسانی کی گہرائیوں میں پیوست ہیں، شاخیں زمانے کے ساتھ پھیلتی جا رہی ہیں، اور اس کا پھل ہر دور کے لیے تازہ حکمت و دانائی ہے۔ یہ محض قاعدوں و فتووں کا مجموعہ نہیں، بلکہ زندگی کو گزارنے کا وہ علم ہے جس کی دنیا تِشنہ ہے۔
اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے ایران نے جو بھی موقف اختیار کیا، وہ ہمیشہ سارے عالمِ اسلام کے دکھوں، تمناؤں اور جہدِ مسلسل کا آئینہ دار رہا ہے۔ فقہ جعفری کے حامل ایران نے اپنے آپ کو کسی بھی میدان میں فقط شیعہ مفادات تک محدود نہیں رکھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ فقہ جعفری میں اجتہاد محض فقہی روایات کا ازبر کرنا نہیں، بلکہ وحی الٰہی اور انسانی عقل کے درمیان ایک لازوال رشتہ ہے ۔ ایران کی یہ وسعتِ قلبی دراصل فقہ جعفری کی علمی و نظری وسعت کی مرہونِ منّت ہے۔ مسئلہ فلسطین اس وسعتِ قلبی کا زندہ ثبوت ہے۔کتنے ہی طوفان الاقصی جیسے طوفان آئے، اور کتنے ہی معاشی دباو ڈالے گئے مگر جعفری المسلک ایران نے ہمیشہ مظلوم فلسطینیوں اور یمنیوں کی عملی مدد کی۔
اسی طرح کیا آپ فلسطینیوں کیلئے حزب اللہ لبنان کی قربانیوں کو فراموش کر سکتے ہیں؟ حزب اللہ لبنان در اصل فقہِ جعفری کے جہاد کا ایک جیتا جاگتا مظہر ہے۔ حزب اللہ لبنان نے اپنے اہلِ سنّت بھائیوں کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کر کے اسلام کی حقیقی چہرے کو ساری دنیا کے سامنے روشن کر دیا ہے۔ کیا یہ جعفری فقہ کی ہی وسعتِ نظری نہیں کہ اس نے برادرکشی کے شعلوں کو بجھا کر، تکفیری و ناصبی عناصر کے مقابلے میں اتحادِ امت کی ایک نئی داستان رقم کی؟ حزب اللہ نے فلسطین کے مظلوموں کا ساتھ دے کر جہاد کے اس مفہوم کو زندہ کر دکھایا جو نفرتوں کو مٹاتا ہے، محبتوں کو سینچتا ہے اور یہی تو فقہِ جعفری کا وہ محبوب و مقبول پیغام ہے جو آج دنیا کے ہر مسلمان کے دل تک پہنچ چکا ہے۔
لمحۂ موجود کے تناظر میں فقہ جعفری درحقیقت عینِ اسلام ہے۔ عینِ اسلام یعنی مکمل ضابطہ حیات۔ایسا ضابطہ حیات جو زندگی اور موت کے بنیادی سوالات جیسے مبدا و معاد، تقدیر و انسانی اختیار، عبادت اور اجتماعی ذمہ داری کو شرعی احکام کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے۔ یہ ایسی فقہ ہے جو سوالات کے جواب میں فقط فتوے نہیں دیتی بلکہ سوال اٹھانے والے کیلئے سوچ کے نئے دروازے کھولتی ہے۔ آج حزب اللہ لبنان کی مزاحمت اور ایران کا فلسطین پر موقف در اصل دینِ اسلام کی زندگی کی دلیل ہے۔ فقہ جعفری "ظلم" کو محض ایک فردی فعل نہیں، بلکہ ایک اجتماعی ناسور قرار دیتی ہے۔ اسی لئے اس کے فقہا نے اسرائیل کو ایک ناسور سے تشبیہ دی ہے۔
جب فقہ جعفری جہاد کی بات کرتی ہے تو وہ صرف عسکری عمل کا حکم نہیں دیتی، بلکہ شہید قاسم سلیمانی کی مانند ایک جامع تہذیبی و اصلاحی بیانیہ پیش کرتی ہے ۔ لمحہ موجود کے متحرک علمی چیلنجز اور فقہ جعفری کے علمی اصولوں کے درمیان یہ ہم آہنگی درحقیقت زمان و مکان کے ارتقائی ربط کی عکاس ہے۔ فقہ جعفری میں اجتہاد کی شمع قدیم نص اور جدید عقل کے ملاپ سے شعلہ ور ہوتی ہے۔
ہم ماضی کے بکھیڑوں کے بجائے لمحہ موجود کی بات کرتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ کیا آج ہم اسلام کو صرف چند عبادتوں کا مجموعہ سمجھتے ہیں اور یا پھر ایک زندہ نظامِ حیات ؟ فقہ جعفری ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم صرف حالات کی بوسیدہ ہوتی ہوئی عمارت کے تماشائی نہیں ہیں، بلکہ ہم حالات کی درخشاں عمارت کے خودمعمار ہیں۔فقہ جعفری وہ واحد فقہ ہے جو صرف کتابوں کے زرد صفحات اور خون آشام فتووں تک محدود نہیں ، بلکہ زندگی کے تازہ ترین اوراق پر اس فقہ نے انتہائی حکمت اور دانائی کے ساتھ استعمار شناسی، اسلامی اخوّت، عالمی سفارتکاری، اسلامی جمہوریت، سائنس و ٹیکنالوجی اور بصیرت و بیداری کی ایک جدید تاریخ رقم کی ہے۔ ایک جملے میں مذکورہ بالا سطور کا خلاصہ یہی ہے کہ لمحہ موجود اور عصرِ جدید میں اگر ہمارا یہ دعوی ٰہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے تو پھر مسلمانوں کے پاس موجودہ دور میں اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے کیلئے مکمل طور پر بطورِ نصابِ حیات ، فقط فقہ جعفری ہی ہے۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں