نذرحافی :
عزیزم منظوم ولایتی صاحب کا کالم پڑھنے کا موقع ملا۔اندازِ بیان ہمیشہ کی طرح دِلکش اور دردِ دل نمایاں تھا۔ آج کی بات میں انہوں نے "مجلسِ اتحادِ اُمت پاکستان" کے زیرِ اہتمام قومی کانفرنس کے انعقاد کا نوحہ لکھا ہے۔ انہوں نے جن نکات کی طرف اشارہ کیا ہے اُن کے بعد مجلسِ اتحادِ اُمت پاکستان کی اس کانفرنس نامی کارروائی کو زیادہ سے زیادہ پدی کے شوربے سے ہی تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ یہ محاورہ توآپ نے سُنا ہی ہوگا کہ کیا پِدی اور کیا پدی کا شوربہ۔ ۔۔ شوربےکےساتھ آپ پِدی کی سوچ بھی شامل کر لیں۔ کیا پِدی اور کیا پِدی کی سوچ۔۔۔
کچھ بڑی بات نہ تھی جو مجلسِ اتحادِ اُمت پاکستان کےفورم سے اس فورم کے نام کی لاج ہی رکھ لی جاتی۔ خیر ہم نے آج تک اپنے لوگوں کی تکفیر اور قتل کے سوا کیا ہی کیا ہے اور لوگوں کو اس کے علاوہ سکھایا ہی کیا ہے۔ منظوم ولایتی لکھتے ہیں کہ آج صبح نمازِ فجر کے بعد جب مفتی منیب الرحمٰن، مفتی تقی عثمانی اور مولانا فضل الرحمٰن کے خطابات سماعت کی زینت بنے، تو خیال تھا کہ شاید یہ کوئی نئی راہ دکھائیں گے، کوئی نیا شعور بیدار کریں گے۔مفتی منیب صاحب نے کانفرنس کا اعلامیہ پیش کیا، اور جہاد کے فتوے کو امت کے ضمیر کی پکار کہا۔ مفتی تقی عثمانی صاحب نے گفتگو کے آغاز ہی میں احساسِ شرمندگی کا اظہار کیا کہ ایک سال بیت گیا، اور ہم پھر فقط "تقاریر" کی دنیا میں محو ہیں۔ ان کی گفتگو میں درد تھی اور مجمع "اللہ اکبر" اور "الجہاد الجہاد" کے نعروں سے گونج اٹھا۔ تقی صاحب نے اسرائیلی مصنوعات کے پرامن بائیکاٹ پر زور دیا، اور اسلامی ریاست کے خلاف داخلی بغاوتوں کی حرمت پر بھی بات کی، شاید اُن گروہوں کی طرف اشارہ تھا جو بندوق کو دلیل بنائے بیٹھے ہیں۔
ولایتی صاحب کا متن واضح کر رہا ہے کہ گویا کانفرنس میں سکرپٹ بھی اور اداکار بھی پرانے تھے۔ بہتی گنگا میں ہمیشہ کی طرح مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے بھی فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا، اور نشتر حکمرانوں پر چلا کر چلتے بنے۔ مولانا کے بقول، امت کے اتحاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حکمران ہیں۔ ولایتی صاحب نے اس امر پر تعجب کیا اظہار کیا کہ مولانا نے اُن ممالک کا ذکر تو کیا جو اسرائیل کا مقابلہ کر سکتے ہیں، مگر ایران کا نام تک نہ لیا۔ یہاں پر ہم اپنے قارئین کیلئے ایک جملہ کہنا چاہتے ہیں کہ مولانا ایران کا نام لیں یا نہ لیں آج ایران کے بغیر جہانِ اسلام کی اور خود مولانا کی جو وقعت ہے وہ آپ سب کے سامنے ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ آج دنیا میں صرف ایک اسلامی ریاست ہے جو فلسطینیوں اور حماس کی کھل کر حمایت بھی کر رہی ہے اورقربانیاں بھیدے رہی ہے۔ پرانی بات نہیں کرتے انہی چند سالوں میں شہید قاسم سلیمانی سے لے کر شہید سید حسن نصراللہ تک فلسطینی بھائیوں کیلئے ایران نے جو قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے کیا دنیا کا کوئی دوسرا ملک یا تکفیری ٹالہ یا تکفیریوں کےباپ دادا ان قربانیوں میں شریک ہیں؟۔ ارباب دانش کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس نازک وقت میں یہ کانفرنس فلسطین کاز کی حمایت کے بجائے عملاً خود اسرائیل کے ایجنڈےکو عملی کرنے کیلئے اورامت کے اتحاد کو پاش پاش کرنے کیلئے بلائی گئی تھی۔ اس ایجنڈے پر مکمل طور پر عمل کرنے کیلئے اس کانفرنس میں شیعہ قیادت کو بھی مدعونہیں کیا گیا جبکہ تکفیری عناصر تک اسٹیج پر موجود دکھائی دئیے۔ خلاصی یہ کہ وہ لوگ جنہوں نے سوائے مسلمانوں کے قتلِ عام کے کچھ نہیں کیا وہ تو اس کانفرنس میں تھے لیکن وہ شیعہ جن کی فلسطین کیلئے قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں، انہیں نظرانداز کر کے اس کانفرنس کے ذریعے اسرائیل کو پاکستان میں موجود خلیجی ریاستوں کے نمک خواروں کی طرف سے گرین سگنل دیا گیا ہے۔
منظوم ولایتی لکھتے ہیں کہ کانفرنس کے اختتام پر، اگرچہ بارہا اسے "غیرمعمولی کانفرنس " قرار دیا گیا، مگر باتوں کی تکرار، جذباتی مناظر اور پرانے بیانیے سن کر یہ گمان تقویت پکڑتا گیا کہ دراصل کچھ بھی غیرمعمولی نہ تھا۔ نہ فتوے میں کوئی نئی روح تھی، نہ تقاریر میں کوئی اجتہادی جرات۔
قارئینِ محترم !غزہ کی الم ناک داستان نے صرف مسلمانوں کے نہیں، انسانیت کے ضمیر کو بھی جھنجھوڑ ڈالا ہے۔ خونِ مظلوم کی یہ گواہی اب کاغذ و قلم کی حدود سے نکل کر دلوں پر لکھی جا چکی ہے۔ ایسے میں وطنِ عزیز پاکستان میں "مجلسِ اتحادِ اُمت پاکستان" کے زیرِ اہتمام قومی کانفرنس کے انعقاد کی آڑ میں اسرائیلی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے مختلف حربے اپنانا اور تکفیری عناصر کو آکسیجن فراہم کرنا انتہائی شرمناک فعل ہے۔ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ حسین ابن علی ؑ کے قتل کے فتوے دینے والے آج نئے انداز میں فلسطینیوں کے قتل کے مشن پر دستخط کر رہے ہیں۔ وہی مفتی، وہی فتوے، وہی میدان، وہی کارِ زار اور مظلوم کی وہی تنہائی۔۔۔تاریخ بھی وہی ہےاور کردار بھی وہی۔ ماضی میں بھی یہی ہوا اورمستقبل میں بھی یہی ہوگا۔ تاہم فلسطینیوں کے غدار اور تکفیریوں کے سرپرست نوشتہ دیوار پڑھ لیں کہ خون کے سیلاب کی عظمت کہاں اورپِدی کاشوربہ کہاں۔۔۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں