زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

بدھ، 16 اپریل، 2025

جدید عہد میں میرا انتخاب فقہِ جعفری ہی کیوں؟

جدید عہد میں میرا انتخاب فقہِ جعفری ہی کیوں؟
حضرت امام جعفرصادق ؑ کے ایّام شہادت کی مناسبت سے خصوصی تحریر
ڈاکٹرنذر حافی : 
کیا آپ کو  آزادانہ طور پر سوچنا، سمجھنا اور حقیقت تک پہنچنا پسند ہے؟  اگر ایسا ہے تو یقین رکھیے کہ آپ کو یہ دولت بڑی مشکل سے ملے گی۔ آزادانہ طور پر سوچنا، سمجھنا اور حقیقت تک پہنچنا یہ صرف آپ کی تمنّا  نہیں بلکہ  ہر باشعور انسان کا فطری مطالبہ ہے۔چاہے آپ بینکار ہوں یا صحافی، انجینئر ہوں یا طبیب، قانون دان ہوں یا معلم، طالب علم ہوں یا کسی کے ہمسفر۔۔۔کیا آپ  کو لکیر کا فقیر بننے سے نفرت نہیں؟  ہم آزادانہ طور پر  اپنی دنیا کو سنوارنا چاہتے ہیں اور آخرت کو نجات کا گلشن بنانا چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں ہمیں اپنے آپ سے کم از کم اپنی زندگی میں ایک بار یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ  کیا  قرآن اور اہلِ بیتؑ  کے بغیر ہماری دنیا اور آخرت سنور سکتی ہے؟
ویسے ایک مسلمان ہونے کے ناتے اتنا تو ہم سب تسلیم کرتے ہیں کہ جس طرح پیچیدہ سائنسی مسائل کے حل کے لیے ماہرین کی رہنمائی ناگزیر ہے، ویسے ہی روحانی اور معاشرتی زندگی کی پیچیدگیوں کے لیے بھی قرآن اور اہلِ بیت ؑ سے ہدایت لینا ضروری ہے۔ پھر ہم اس پر کیوں نہیں سوچتے کہ  آج کے دور میں قرآن اور اہلِ بیت  کا وہ حسین امتزاج کہاں ہے کہ جس سے ہمیں رہنمائی لینی چاہیے؟
ہماری ساری دنیا میں اس وقت صرف فقہ جعفری   کو ہی قرآن اور اہلِ بیت کی تعلیمات کا مجموعہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ فقہ جعفری کا اجمالی تعارف یہ ہے کہ یہ  وہ فقہی نظام ہے جو تقلیدِ جامد اور اندھی تقلید  کو رد کرتے ہوئے عقلِ انسانی کو وحی کے تابع رکھتا ہے، مگر ساتھ ساتھ عقل  کے کردار اور انسان کے  سوال کرنے کے حق کو سو فیصد  تسلیم کرتا ہے۔یہاں احکام کی بنیاد صرف ظاہر الفاظ پر نہیں، بلکہ ان اصولوں پر ہے جو عقلِ سلیم، مقاصدِ شریعت، اور قرآنی مزاج سے ہم آہنگ ہوں۔تقیید، تخصیص، قرائن، سیاق و سباق، عرف، عقل منبعی و عقل مصباحی  ۔۔۔یہ تمام ذرائع اس فقہ میں فعال کردار ادا کرتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے جدید قانون سازی میں عقلی اصول اور اجتہادی  راستے اختیار کیے جاتے ہیں۔
سوچنے اور سمجھنے والوں کی دنیا میں فقہِ جعفری  کا یہ بہت بڑا امتیاز ہے کہ اس میں  نہ تو جہاد کوئی تجارت ہے، اور نہ اجتہاد کوئی پیشہ۔یہاں فتوے ڈالروں کے عوض نہیں بکتے، بلکہ فتووں کو  علم، تقویٰ اور دلیل کے ترازو پر تولا جاتا ہے۔ اس صدی میں فقہِ جعفری نے ہر مسلمان کے سامنے یہ سوال کھڑا کردیا ہے کہ کیا کسی ایسے فتوے  یا مفتی کو قابلِ اعتماد سمجھا جا سکتا ہے جو  اُمّت کے مفادات کے بجائے   سامراجی مفادات کی حفاظت کر رہا ہو ؟فقہِ جعفری  اُمّت کے درمیان ہر  فتنہ انگیز روش سے خود کو الگ رکھتی ہے اور دین کو  استعماری ہتھکنڈے کے طور پر  استعمال کرنے  کے خلاف ایک مضبوط فکری دیوار قائم کرتی ہے۔ دینی مدارس اور علمی کانفرنسز میں مراجعِ تقلید، جو اس فقہ کے اعلیٰ نمائندے ہیں، اپنی اجتہادی آرا اور فقہی منہج  میں زمانی اور مکانی تغیرات کو مکمل طور پر ملحوظِ خاطر رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس، طب، بینکاری، سیاست اور جدید ٹیکنالوجی جیسے میدانوں میں فقہِ جعفری کے پاس ایسے جوابات موجود ہیں جو  انسانی فطرت، معاشرتی  ضرورت، جدید سماج، اور کتاب و  سُنّت  دونوں سے ہم آہنگ ہیں۔ شیعہ علما اور فقہا اس میں سرگرداں نہیں ہوتے کہ  کوئی سوال یا مسئلہ یہ مسئلہ پہلے کبھی تھا یا نہیں  بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ شفاف طریقے سے یعنی مجتہد یا عالم کی ذاتی رائے اور میلان کے بغیر    کتاب و سُنّت  نے چودہ سو سال پہلے آج کے انسان کیلئے اس حوالے سے کیا رہنمائی فراہم کی ہے۔چنانچہ فقہ جعفری کوئی مجرد فقہی احکام کی فقہ  نہیں، بلکہ یہ   ہر دور کے انسان کی ایک معاشرتی ضرورت ہے۔
ہمیں فراخدلی کے ساتھ یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ کوئی بھی فقہ، جو انسان کے انفرادی و اجتماعی حقوق کی ضامن نہ ہو، وہ نہ قابلِ عمل ہے نہ قابلِ اعتماد۔ صدیوں سے فقہِ جعفری میں انسانی حقوق،  تعلیم و صحت کے مسائل، عورت کے حقوق، اقلیتوں کے تحفظ، آزادیِ فکر، اور شہری مساوات جیسے موضوعات پر متوازن، عقلی اور اصولی موقف اپنایا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس فقہ میں انسان کی حرمت اور حق کو  خواہ کافر ہی کیوں نہ ہو اُسے  ہر حال میں  بالاتر تسلیم کیا گیا ہے۔ یہی وہ اصول ہے جو جدید انسانی حقوق کے عالمی منشور سے بھی ہم آہنگ ہے۔ تحقیق، مکالمہ، رواداری ۔۔۔ یہ سب اس فقہی سوچ  کے بنیادی اجزائے ترکیبی ہیں۔ مذکورہ فقہ میں  سوال اٹھانا نہ صرف جائز ہے بلکہ مطلوب اور ضروری ہے، کیونکہ بغیر سوال کے کوئی فہم جنم نہیں لیتا، اور بغیر تحقیق کے کوئی ایمان پختہ نہیں ہوتا۔اسی لیے فقہِ جعفری کا دامن ان اذہان کو اپنی جانب کھینچتا ہے جو تقلید کے ساتھ تفکر کو بھی دین کا حصّہ سمجھتے ہیں۔
یہ فقہ نہ صرف عقائد و عبادات کا احاطہ کرتی ہے بلکہ معاملات، فلسفہ، کلام، اخلاق، اور معاشرتی سائنس جیسے موضوعات پر بھی بھرپور رہنمائی فراہم کرتی ہے۔قدیم مسائل جیسے تقدیر و اختیار، توحید و امامت کے ساتھ ساتھ جدید ترین مباحث جیسے مصنوعی ذہانت، جنس کی تبدیلی، اور اعضا کی پیوند کاری پر بھی یہ فقہ روشن فکرانہ، عقلی اور شریعت پر مبنی آرا پیش کرتی ہے۔جس طرح قرآن مجید قیامت تک کے لیے ہدایت ہے، اسی طرح  فقہِ جعفری قیامت تک کیلئے  اس قرآن کی عملی تفسیر ہے جو زمان و مکان کی ہر تبدیلی کے ساتھ اپنا نور بانٹتی ہے۔یہ نور صرف عبادات یا اخلاقیات تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے ہر پہلو  کو منوّر کرتا ہے۔
حدیث و روایت کے باب میں بھی اس فقہ کی علمی دیانت  اپنی مثال آپ  ہے۔یہاں نہ صرف راویوں کی سند پر تحقیق کی جاتی ہے، بلکہ روایت کے متن کو بھی عقل، قرآن اور سیرتِ نبوی کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔اسی لیے اہلِ تشیع میں فتویٰ دینا عام علما کا کام نہیں، بلکہ وہی لوگ یہ ذمہ داری اٹھاتے ہیں جو علم و تقویٰ کی اعلیٰ سند رکھتے ہوں۔انہیں مراجعِ تقلید کہا جاتا ہے۔ ایسے رجالِ دین جو صرف مذہبی پیشوا نہیں، بلکہ فکری، اخلاقی اور سماجی رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔
فقہ جعفری  درحقیقت نبی ﷺ کی سنت، قرآن، اور  اہلِ بیتؑ کی تعلیم کا مجموعہ ہے۔ اسے فقہ جعفری اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ فقہ امام جعفر صادقؑ کے ذریعہ مدوّن، منظم اور عام ہوئی، حالانکہ اس کا اصل ماخذ قرآن کریم اور  نبی کریم ﷺ ہی کی تعلیمات ہیں۔  المختصر یہ کہ فقہ جعفری  دراصل " علمِ قرآن اور علمِ نبویؐ  کا ہی بہتا ہوا دریا ہے۔ امام جعفر صادقؑ نے  اس دریا  کو علمی و عقلی اصولوں، روایتی و سماجی  بنیادوں، اور اجتہادی بصیرت کے ساتھ منظم صورت میں پیش کیا، اس لیے یہ فقہ ان کے نام سے منسوب ہوئی۔ صاحبانِ دانش کیلئے عرض کروں کہ کسی علم کی نسبت اگر نام کے ساتھ جڑ جائے تو وہ اس کے ماخذ کی نفی نہیں بلکہ  وہ نسبت اس علم کو نکھار کر زمانے کے فہم کے قابل بنانے والے کی پہچان ہوتی ہے۔ مزید آسان الفاظ میں یہ کہ  کسی علم یا کتاب کا   انتساب اگر کسی شخصیت کے نام  ہو تو یہ اس کے  اصل مصنّف  کی تردید نہیں ہوتی۔ امام جعفرصادق ؑ نے  در اصل علمِ قرآن و علمِ نبوی  کو آیت و  روایت سے نکال کر نظامِ حیات کے قالب  میں ڈھالا ہے۔
کسی علم کی تاریخ  اگر کسی خاص ہستی سے منسوب ہو جائے تو یہ نسبت نہ اس علم کے ماخذِ اوّل کی نفی ہے، اور  نہ اس کی حقیقت کی تبدیلی۔  ایسی نسبت در اصل  اس عقلِ فعال، قلبِ متصل، اور لسانِ مبین  کی خدمات و زحمات کا اعتراف ہے کہ  جس نے علمِ  نبوی ؐ کو  ختمِ نبوّت کے بعد سماج کے جدید مکانی و زمانی فہم کے سانچے میں ڈھالا۔ نسبتِ جعفری، دراصل ایک تعیّن ہے اُس عالمِ آلِ محمد ؐ کا  جس نے علومِ  نبوی  کے دریا کو قیامت تک کیلئے  اُمّت کیلئے قابلِ استفادہ بنایا۔
جدید زمانے کے اربابِ فہم و شعور  اس پر توجہ دیں کہ علمِ الہی خود ایک مسلسل انکشاف ہے جو ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا اور مختلف آسمانی صحیفوں کی صورت میں منکشف ہوا۔  ختمِ نبوّت عہد کے  میں اس الہی علم نے نبویؐ علم کی صورت اختیار کی۔ اسی علم کا اعلان نبی ؐ نے  انا مدینۃ العم و علی بابھا کہہ کر کیا۔ یہی نبوی علم علمِ لدُنّی بن کر پیکرِ علی ؑ میں ظاہر ہوا۔ اسی الہی  علم  کو جو کبھی علمِ نبوی اور کبھی علم لدُنّی کی صورت میں منکشف ہوا جب امام جعفرصادقؑ کے ہاتھوں مدوّن ہوا تو جعفری کہلایا۔
باالفاظِ دیگر وہ  الہی علم، جو انسانی تاریخ میں وحی، نبوت، اور ولایت کی صورت میں مسلسل منکشف ہوتا رہا، نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں امام علیؑ  کی شکل میں باب العلم و  بطورِ علمِ لدنّی جلوہ گر ہوا، اور جب یہی علم امام جعفر صادقؑ کے توسط سے منظم و مدوّن ہوا تو فقہِ جعفری کہلایا، یوں یہ فقہ دراصل علمِ نبویؐ ہی کا قیامت تک کیلئے علمی  و زمانی اظہار ہے۔آخر میں ایک مرتبہ پھر یہ کہنا چاہوں گا کہ کیا آپ کو  آزادانہ طور پر سوچنا، سمجھنا اور حقیقت تک پہنچنا پسند ہے؟  اگر ایسا ہے تو  صرف یقین  نہیں بلکہ تجربہ کر کے دیکھ لیجئے کہ   آپ کو یہ دولت  فقہِ جعفری  کے سوا کہیں اور نہیں ملے گی۔
  
کمنٹ/پروفیسر سلیم گجرات/
فقہِ جعفری ایک ایسا فقہی و فکری نظام ہے جو تقلید کو تفکر کے تابع، اور عقل کو وحی کے ہم رکاب بناتا ہے۔ یہ فقہ انسان کو لکیر کا فقیر نہیں، بلکہ سوال کرنے والا، تحقیق کرنے والا اور استدلال سے نتیجہ اخذ کرنے والا بناتی ہے۔ اس کا اصولی امتیاز یہ ہے کہ یہاں فقہ، زندگی کی کلّیت (totality) کو محیط کرتی ہے— فرد، معاشرہ، عقل، اخلاق، قانون، اور روحانیت سب اس کے دائرے میں آتے ہیں، اور اسی لیے یہ فقہ، دینی روایت کا زندہ، ارتقائی، اور ہمہ گیر اظہار ہے۔
 کمنٹ/ اخترعلی مرزا صوابی
الہی علم ایک مسلسل انکشاف (progressive revelation) ہے، جو وحی، نبوت اور ولایت کی صورت میں انسانی شعور پر منکشف ہوتا رہا۔ فقہِ جعفری اسی علمِ نبویؐ و لدنّی کا ایک زمانی و عقلی تعیّن ہے، جو امام جعفر صادقؑ کی ذات میں اجتہادی، اصولی، اور سماجی بصیرت کے ساتھ منظم ہوا۔ یہ نسبت، اصل ماخذ (قرآن و سنت) کی نفی نہیں، بلکہ اُس مظہرِ فہم کی شناخت ہے، جو علم کو عصرِ انسانی کی تفہیم کے قابل بناتا ہے۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...