معصوم شہید بچی کا جنازہ کیوں میدانِ جنگ بن گیا؟فرقہ واریت کا افسوسناک منظر — حکام فوری ایکشن لیں!دریڑی پلانی، نکیال گاؤں میں شیعہ سنی تصادم — معصوم بچی کی دو نماز جنازہ؟نکیال میں یہ سب کیا ہو رہا ہے؟دریڑی پلانی گاؤں کا ماحول جنازہ کے بجائے میدانِ جنگ بن گیا۔یاد رہے کہ یہ معصوم بچی چند روز قبل موٹر سائیکل حادثے میں شدید زخمی ہوئی تھی اور گزشتہ روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئی۔بچی کی والدہ کوما میں ہے جبکہ والد اپاہج ہو کر موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔مزید یہ کہ بچی کے والد کا مسلک شیعہ ہے۔
تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ:ممبر، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال:سابق سیکرٹری جنرل، بار ایسوسی ایشن نکیال:
کل ایک ننھی بچی کا جنازہ اٹھا—لیکن
تدفین سے پہلے اس کی لاش کو مسلکی عدالت میں گھسیٹ لیا گیا۔گاؤں میں اذیت ناک مناظر دیکھنے کو ملے۔آوازیں بلند ہوئیں،
ہاتھ اٹھے، آنکھوں میں خون اترا…اور درمیان میں وہ معصوم
لاش پڑی تھی—بے زبان، بے قصور، اور شاید
ہم سب کی بے حسی پر ماتم کرتی ہوئی۔یہ ویڈیو اب صرف ایک "کلپ" نہیں رہی—یہ ہمارے ایمان، شعور، اور معاشرتی اخلاق کی
کھلی چارج شیٹ ہے۔ایک طرف وہ لوگ جو کہتے رہے:"پہلے
ہم پڑھائیں گے، ہماری تکبیریں زیادہ ہیں"—اور
دوسری طرف وہ جو کہتے رہے:"ہم پڑھائیں
گے، ہماری تکبیریں اصل ہیں"۔اور درمیان میں؟ایک معصوم بچی—جو صرف ایک کفن چاہتی تھی، ایک دعا، اور ایک
پُرامن رخصتی۔
حکامِ بالا!اگر آج آپ خاموش رہے،تو کل
یہ آگ کسی تھانے، مدرسے، مسجد، اسکول یا بازار تک پہنچ جائے گی۔
یہ محض ایک جنازے پر جھگڑا نہیں تھا۔یہ معاشرے کے ضمیر کی موت،
قانون کی بے بسی،اور انسانیت کے چہرے پر ایک سیاہ داغ تھا۔سوال یہ نہیں کہ کس نے
پہلے تکبیر کہی،سوال یہ ہے کہ کسی نے انسانیت کیوں نہ دیکھی؟
یہ ویڈیو دنیا کو کیا پیغام دے رہی ہے؟کیا ہم ایک معصوم کے
جنازے پر بھی متفق نہیں ہو سکتے؟کیا ہم دینِ اسلام کو مسلکی تعصبات میں بانٹ چکے ہیں؟کیا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات صرف تقریروں میں باقی رہ گئی ہیں؟
ہم مطالبہ کرتے ہیں:فرقہ واریت کو ہوا دینے
والے عناصر کے خلاف فوری، غیرجانبدار اور مؤثر قانونی کارروائی کی جائے۔جنازوں اور
لاشوں کی بے حرمتی کو سختی سے روکا جائے۔تحصیل و ضلع بھر میں بین المسالک ہم آہنگی
کے لیے ایک نمائندہ کمیٹی تشکیل دی جائے۔اور SOPs مرتب
کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
علماء کرام کو تحصیل و ضلعی سطح پر جمع کر کے ایک مشترکہ اعلامیہ
جاری کیا جائے۔جس میں واضح کیا جائے کہ معصوموں کے جنازے، دعائیں اور تدفین مسلک
سے بالاتر ہیں۔سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والوں کی نگرانی کی جائے۔۔۔اور قانون کے
مطابق ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
نکیال ایک پُرامن وادی
ہے—اسے پاراچنار، بلتستان یا
کراچی جیسا نہ بننے دیا جائے۔ہمیں اپنے بچوں کے لیے ایک ایسا ماحول چھوڑنا ہےجہاں
جنازے رشتوں کو توڑیں نہیں، جوڑیں۔جہاں مذہب دلوں کو نرم کرے، سخت نہ کرے۔جہاں تکبیر
کی تعداد نہیں، دعا کی تاثیر دیکھی جائے۔یہ ویڈیو، یہ تصادم—انسانیت،
دین اور شعور کی شکست ہے۔
ہمیں بتانا ہو گا کہ:اسلام اخلاص کا نام ہے،نمازِ
جنازہ ایصالِ ثواب اور دعا کا عمل ہے—نہ کہ فرقوں کی برتری کا میدان۔یہ
ویڈیو واضح کر رہی ہے کہ اس معصوم بچی کا جنازہ بھی ہمیں اکٹھا نہ کر سکا۔مرحومین
کے فیصلے آج فرقہ پرست کرنے لگے ہیں۔یہ ویڈیو
اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم کتنے نیچے گر چکے ہیں—اور
اگر اب نہ جاگے تو زمین کے نیچے کچھ باقی نہ رہے گا۔یہ وقت مذمت کا نہیں، مزاحمت
کا ہے—فرقہ واریت، نفرت اور تنگ
نظری کے خلاف!
یہ وقت اس مزاحمت کا ہے جس کے ذریعے ہم ایک غیرطبقاتی، پرامن،خوشحال اور مساوات پر مبنی نکیال کی بنیاد رکھیں—جو آنے والی نسلوں کے لیے بھائی چارے اور محبت کا ضامن ہو۔
توجہ رہے:راقم
الحروف نے یہ ویڈیو بطورِ ثبوت اور زمینی حقائق کے طور پر پیش کی ہے،جس کا مقصد
صرف شعور اجاگر کرنا ہے۔اس میں کسی مکتب فکر یا ورثاء کی توہین کا کوئی پہلو نہیں۔ہم
صرف فرقہ پرستی کے خلاف ہیں—اور نکیال جیسے پرامن
علاقے کو جنازوں کے ذریعے جنگ کا میدان بنتے نہیں دیکھنا چاہتے۔شکریہ۔
نوٹ: ویڈیو فیس بک پر موجود ہے
ملاقات میں ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کو دریڑی نکیال میں چند شرپسند عناصر کی طرف سے ایک شیعہ عالم کی بچی کی شیعہ نماز جنازہ ادائیگی سے روکنے ،نقص امن پیدا کرنے سمیت تحصیل صدر شیعہ علما کونسل مولانا ساجد رحمانی چوہدری کے بظاھر روڈ ایکسیڈنٹ کے ممکنہ ٹارگٹ کلنگ کے پہلو پر بھی میرٹ پر تفتیش کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔
وفد نے بتایا کہ گاڑی جس نے ٹکر ماری نکیال کے مالک کی ھے مولانا صاحب کے بقول پہلی ٹکر میں وہ معمولی زخمی ہوئے ڈرائیور نے دوبارہ ریورس کر کہ میرے و فیملی ممبران بیوی بچی پر کار چڑھادی جس سے ہم شدید زخمی ھوگے۔ مولانا ساجد اس حادثے میں شدید زخمی جبکہ انکی بچی اور بیوی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وفات پاگئی ہیں ۔۔
مولانا ساجد کو کچھ مقامی شر پسند عناصر کی طرف سے پہلے سے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں بظاہر روڈ ایکسیڈنٹ ٹارگٹ کلنگ و دھشت گردی بھی ہو سکتی ہے ۔صلعی انتظامیہ کے افسران نے وفد سے ملاقات کے بعد ماتحت انتظامیہ کو ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے وفد کو یقین دلایا کہ ساجد رحمانی کیس پر مکمل میرٹ پر تفتیش ہوگی کسی کو امن وامان خراب کرنے یا قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دینگے بالخصوص صلع کوٹلی کی تحصیل نکیال میں کسی کو مسلکی منافرت پھیلانے کی کسی کو اجازت نہیں دینگے۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں