نکیال آزادکشمیر۔۔۔ بچیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں
تحریر ڈاکٹر نذر حافی:
دریڑی پلانی، نکیال گاؤں میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ سوشل میڈیا کے مطابق ایک حادثے یا ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے والے مولانا چوہدری ساجد رحمانی کا کہنا ہے کہ پہلی ٹکر میں ہم لوگ معمولی زخمی ہوئے، لیکن ڈرائیور نے دوبارہ گاڑی ریورس کر کے مجھے، میری بیوی اور بچی پر گاڑی چڑھا دی، جس سے ہم شدید زخمی ہوگئے۔ اس واقعے کے حوالے سے شیعہ علماء کونسل آزاد کشمیر کے وفد نے ڈپٹی کمشنر کوٹلی، میجر (ر) ناصر رفیق، اور ایس ایس پی کوٹلی، عدیل لنگڑالوی سے اہم ملاقات کی ہے۔ شنید ہے کہ جس گاڑی نے موٹر سائیکل پر سوار مولانا کو ٹکر ماری، وہ نکیال کے ہی کسی شخص کی ملکیت ہے۔ دمِ تحریر مولانا چوہدری ساجد رحمانی کی بیوی اور بچی اس دارِ فانی سے کوچ کر چکی ہیں۔
یہ واقعہ فرقہ وارانہ منصوبہ بندی کا شاخسانہ ہے یا نہیں، اس کا
فیصلہ ریاستی اداروں کو کرنا چاہیے۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ آزاد کشمیر میں مقامی
سطح پر نہ فرقہ واریت کے نیٹ ورکس موجود ہیں اور نہ ہی مذہبی ٹارگٹ کلنگ کے۔ جب بھی ایسا کوئی واقعہ
رونما ہوتا ہے تو اُس کے تانے بانے آزاد کشمیر سے باہر کے دینی مدارس یا عسکری تنظیموں
سے جا ملتے ہیں۔اس سے قبل عباس پور اور مظفرآباد میں بھی ایسابہت کچھ دیکھنے میں آیا
ہے۔ یہاں پر یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کا مشترکہ اور ازلی
دشمن ہندوستان ہے۔ ماضی میں انڈین ایجنسی را کی گود میں بیٹھنے والے ہمارے نام
نہاد مجاہد بھائیوں نے جس بے دردی سے مساجد، امام بارگاہوں، اولیائے کرام کے مزارات،
پبلک مقامات، صحافیوں، شاعروں، ڈاکٹروں،
اور پولیس و فوج کے اہلکاروں کو اپنی بربریت
کا نشانہ بنایا ہے اُسے کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔اس بربریت کا براہِ راست
فائدہ ہندوستان کو پہنچا اور بارڈر کے
دونوں طرف کے کشمیری یہ نعرہ لگانا ہی بھول گئے کہ "کشمیر بنے گا
پاکستان"۔
لوگوں کو یہ خوف لاحق ہو گیا کہ یہ نام نہاد "مجاہدین"
اپنے جرگے بٹھا کر اور خود ساختہ عدالتیں لگا کر ہمیں درختوں سے لٹکا کر گولیاں
ماریں گے، اور ہماری خواتین و بیٹیوں کو
کنیز بنا لیں گے۔ سانحہ اے پی ایس، سانحہ کوہستان، سانحہ بابوسر۔۔۔یہ سب سانحات گواہ ہیں کہ ایسے عناصر انسانیت سے عاری ہوتے ہیں
اور ان کے لیے نہ کوئی فرقہ اہم ہوتا ہے، نہ قوم، نہ عمر، نہ جنس، نہ بچہ اور نہ بچی۔۔۔۔
آزاد کشمیر جو اولیائے کرام کی سرزمین ہے، وہاں مولانا چوہدری
ساجد رحمانی کی معصوم بچی کے جنازے کے موقع پر دھنگا فساد کرانے کی کوشش کوئی
معمولی بات نہیں۔ نکیال سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ شاہ نواز علی شیر، جو کہ
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کے ممبر اور بار ایسوسی ایشن کے سابق سیکرٹری جنرل
بھی ہیں، انہوں نے اپنے کالم میں بالکل
درست کہا ہے کہ "حکامِ
بالا! اگر آج آپ خاموش رہے، تو کل یہ آگ کسی تھانے، مدرسے، مسجد، اسکول یا بازار
تک پہنچ جائے گی۔ یہ محض ایک جنازے پر جھگڑا نہیں تھا؛ یہ معاشرے کے ضمیر کی موت،
قانون کی بے بسی، اور انسانیت کے چہرے پر ایک سیاہ داغ تھا۔
محترم کالم نگار کے
مطابق، مولانا چوہدری ساجد رحمانی کا مسلک شیعہ ہے۔ موقع پر موجود ویڈیوز اور عینی
شاہدین کے مطابق، اہلِ تشیع نے ہمیشہ کی طرح واضح کیا کہ جنازے دو ہی ہوں گے؛ ایک
اہلِ سنت کے مطابق اور دوسرا اہلِ تشیع کے مطابق۔ اس وضاحت کے باوجود ایک مولوی صاحب نے، اہلِ سنت کے عمومی اخلاق کے
برعکس، یہ اعلان کیا کہ "نہیں، جنازہ تو صرف ایک ہی ہوگا، اور وہ بھی صرف
اہلِ سنت طریقے کے مطابق۔ ہم دوسرا جنازہ نہیں پڑھنے دیں گے۔" انسان کے اندر سب سے قیمتی
چیز اس کا اخلاق ہے، اور یہی اخلاق اس کی شناخت اور مقام کی گواہی دیتا ہے۔یہ بات
واضح ہے کہ یہ رویہ اہلِ سنت کا اخلاق نہیں ہو سکتا، کیونکہ آزاد کشمیر میں اہلِ
سنت کے اندر مدبر، تعلیم یافتہ، اور روشن فکر شخصیات کی کمی نہیں۔
ہم اس پر کوئی تبصرہ نہیں
کرنا چاہتے، لیکن اتنا ضرور کہیں گے کہ یہ اخلاق اہلِ سنت کا نہیں۔ لہٰذا اس مولوی
صاحب کے بارے میں تحقیق ہونی چاہیے کہ کہیں وہ اس حسّاس سرحدی علاقے میں بھارتی انٹیلیجنس
"را" کے لیے تو کام نہیں کر رہے؟ ان دنوں بلوچستان اور
افغان بارڈر سمیت پورے پاکستان میں را کی سرگرمیوں اور ایجنٹوں کی موجودگی میں تیزی
دیکھی جا رہی ہے، ایسے میں نکیال جیسے حساس سرحدی علاقے میں ایسی حرکت کسی دشمن
ملک کے ایجنڈے کا حصہ بھی ہو سکتی ہے۔ بہر حال
عوامِ علاقہ کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ جب ہم انسانی احترام اور حب ُّ الوطنی کو فراموش کر دیتے ہیں، تو پھر ہم جنگ انسانیت اور اپنے ہی وطن کے خلاف لڑ رہے ہوتے ہیں نہ کہ کسی مذہب یا فرقے کے خلاف۔
نکیال کے ایڈوکیٹ نے
بجا طور پر مطالبہ کیا ہے کہ فرقہ واریت کو ہوا دینے والے عناصر کے خلاف فوری، غیرجانبدار
اور مؤثر قانونی کارروائی کی جائے۔ جنازوں اور لاشوں کی بے
حرمتی کو سختی سے روکا جائے۔ تحصیل
و ضلع کی سطح پر بین المسالک ہم آہنگی کے لیے نمائندہ کمیٹی تشکیل دی جائے۔ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے SOPs مرتب کیے جائیں۔ انہوں نے
یہ بھی تجویز دی کہ تمام مکاتبِ فکر کے علماء کو تحصیل و ضلعی سطح پر جمع کر کے ایک
مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے، جس میں واضح کیا جائے کہ معصوموں کے جنازے، دعائیں
اور تدفین کسی مسلک سے بالاتر ہیں۔
شاہ نواز علی شیر کا یہ جملہ ہر باشعور انسان کے دل کو چھو لیتا
ہےکہ ہمیں اپنے بچوں کے لیے ایک ایسا ماحول چھوڑنا ہے جہاں جنازے رشتوں کو توڑیں
نہیں، جوڑیں۔ جہاں مذہب دلوں کو نرم کرے، سخت نہ کرے۔ جہاں تکبیر کی تعداد نہیں،
دعا کی تاثیر دیکھی جائے۔ وہ اپنے سماج سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم سب کو یہ یاد
دلانا ہوگا کہ اسلام اخلاص کا نام ہے، نمازِ جنازہ ایصالِ ثواب اور دعا کا عمل ہے نہ
کہ فرقوں کی برتری کا میدان۔
شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ کے اس جملے کے بعد میرے لکھنے کو کچھ نہیں بچتاکہ ان فتنہ گروں کے بیچ وہ معصوم بچی صرف ایک کفن چاہتی تھی، ایک دعا، اور ایک پُرامن رخصتی۔ شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ صاحب ! ہم سمجھیں یا نہ سمجھیں یہ بچی ہمیں یہ سمجھا گئی ہے کہ فرقہ پرست مُلاّں یہ شعور نہیں نہیں رکھتے کہ بچیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ بچیوں کے جنازوں پر فرقوں کی سیاست نہیں کی جاتی۔ بچیاں، محبت کا وہ معصوم روپ ہوتی ہیں جو کسی ایک مسلک، قبیلے یا قوم کی ملکیت نہیں ہوتیں بلکہ وہ کائنات کے حُسن کی روشن تجلی ہیں۔ ان کے قہقہے، ان کی شرارتیں، ان کے ننھے ہاتھوں کی معصوم دعائیں ۔۔۔بیٹیاں خدا کی جانب سے انسانوں کو دی گئی وہ رحمتیں ہیں جنہیں کوئی دیوار، کوئی فرقہ، کوئی جغرافیہ محدود نہیں کر سکتا۔ جب ایک بچی فوت ہو جاتی ہے، تو گویا بہاروں کا رنگ پھیکا پڑ جاتا ہے اور جب ایک معصوم بچی کے جنازے پر کوئی مولوی فساد کھڑا کرے تو یہ صرف ایک بدنصیب خاندان کا سانحہ نہیں ہوتا بلکہ ایسا فساد پورے معاشرے کے ماتھے پر شرمندگی کی ایک نمایاں سلوٹ بن جاتا ہے۔









0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں