اداروں کی ترقی میں تعمیری اقدامات اور باہمی تعاون کی اہمیت
تحریر سید امتیاز علی رضوی :
اداروں کے سربراہان اور ناظمین کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ادارے کی ترقی ایک مسلسل عمل ہے جس کے لیے مستعدی، حکمت عملی، اور باہمی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ترقی صرف مادی وسائل کے حصول تک محدود نہیں، بلکہ وسائل کے مؤثر استعمال، اخلاقی اقدار، دانشمندانہ فیصلے، اور دیرپا تعلقات پر بھی منحصر ہے۔ قرآن کریم اور احادیث میں تعاون، صبر، اور حکمت سے کام لینے کی تلقین کی گئی ہے، جبکہ مغربی مفکرین نے بھی اجتماعی ترقی کے لیے تعاون اور تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا ہے۔آئیے ان امور کا ایک جائزہ لیتے ہیں۔
1. مستعدی اور مسلسل جدوجہد
کامیابی کا راستہ مستقل محنت اور تیاری سے ہوکر گزرتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ (سورہ النجم: 39) "اور انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی۔"
یہ آیت انسانی محنت، جدوجہد اور اس کے نتائج کے درمیان گہرا تعلق واضح کرتی ہے۔ اس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ انسان صرف اپنی محنت کا پھل پاتا ہے، اور بغیر کوشش کے کامیابی یا اجر کی توقع رکھنا بے جا ہے۔
امام علی (ع) فرماتے ہیں: مشکلات کے وقت صبر کرو، کیونکہ صبر ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
مطلوبہ نتائج کے لئے استقامت کے ساتھ کام کرنا اور مناسب وقت کا انتظار کرنا ضروری ہوتا ہے جس کے لئے نتیجے پر ایمان اور صبر کی طاقت چاہیے۔ ادارے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہمیشہ بہتر سے بہتر کی تلاش میں رہیں اور چیلنجز کو مواقع میں تبدیل کریں۔ پوری محنت کریں اور جدوجہد پر یقین رکھیں۔
2. باہمی فائدے پر مبنی معاہدے
اجتماعی ترقی کے لیے تعاون ناگزیر ہے۔ قرآن پاک میں فرمایا گیا:
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (سورہ المائدہ: 2) "نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور ظلم پر تعاون نہ کرو۔"
اس آیت کی روشنی میں اجتماعی ترقی کا راز نیکی اور تقویٰ پر تعاون میں پوشیدہ ہے۔ یہ نہ صرف مادی ترقی کو یقینی بناتا ہے بلکہ معاشرے کو امن اور استحکام بھی فراہم کرتا ہے۔ اسلامی معاشرہ اسی وقت کامیاب ہوگا جب اس کے افراد ایک دوسرے کے لیے مددگار، منصف، اور اخلاقی رول ماڈل بنیں گے۔ جدید معاشیات کے بانی ایڈم سمتھ نے "باہمی مفاد" کو تجارت کی بنیاد قرار دیا:
"ہر فرد اپنے فائدے کے لیے کام کرتا ہے، لیکن یہی عمل معاشرے کے مجموعی فائدے کا باعث بنتا ہے۔"
اداروں کو چاہیے کہ وہ ایسے معاہدے کریں جن سے دونوں فریق مستفید ہوں، کیونکہ یک طرفہ فائدہ دیرپا نہیں ہوتا۔ ہمیشہ اپنے فائدے کا سوچنا خود غرضی ہے جبکہ فائدہ دینا اور فائدہ لینا تعاون ہے جو اسلام میں مطلوب ہے۔ اداروں کو چاہیے کہ وہ غور کریں کہ وہ سماج کی کیا خدمت کر رہے ہیں کہ اس سے معاونت کی توقع رکھیں۔ اسی طرح اداروں میں ملازمت کرنے والے افراد کو ادارے مطمئن رکھ پا رہے ہیں یا نہیں۔
3. تنازعات سے پرہیز اور صبر کی حکمت
جذباتی ردعمل کے بجائے حکمت عملی سے کام لینا ہی دانشمندی ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا (سورہ الفرقان: 72) "اور جب وہ بیہودہ باتوں کے پاس سے گزرتے ہیں تو عزت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔" اس آیت سے سیکھا جا سکتا ہے کہ حقیقی کامیابی فضول باتوں اور تنازعات میں پڑنے میں نہیں، بلکہ حکمت، صبر اور عزت دارانہ رویہ اپنانے میں ہے۔ مومن کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی توانائی مثبت کاموں میں صرف کرے، نہ کہ جھگڑوں میں۔
امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں: عقل مند وہ ہے جو غصے کو ضبط کرے اور تنازعات سے بچے۔"
غصے میں کئے گئے فیصلے کبھی بھی درست نہیں ہوتے۔ اداروں کے سربراہوں کو کمال کا صبر دکھانا چاہیے۔ ادارے کو اپنی جاگیر نہیں بلکہ ایک ذمہ داری سمجھ کر نبھانا چاہیے۔ جب عوامی رابطے ہوں گے تو کئی قسم کے لوگوں سے واسطہ بھی پڑے گا اور ہر ایک کی ہر قسم کیبنٹ بھی سننا پڑے گی اور برداشت بھی کرنا پڑے گی۔
جرمن فلسفی فریدرش نیٹشے نے کہا جو شخص اپنے دشمن کو نظرانداز کرتا ہے، وہ درحقیقت اس پر سب سے بڑا حملہ کرتا ہے۔ اداروں کو چاہیے کہ وہ فوری تصادم سے بچیں اور طویل المدتی حکمت عملی اپنائیں۔ وقت کے ساتھ اثر و رسوخ بڑھتا جائے گا اور اہداف خود بخود حاصل ہونے لگیں گے۔
دشمنی شناسی ضروری ہے اور اس کی تدبیر بھی لیکن صبر و حکمت کے ساتھ۔ دشمن وہ ہوتا ہے جو ادارے کے نصب العین اور اس کی ترقی میں رکاوٹ بن رہا ہو۔ ایسے لوگوں کو حکیمانہ انداز سے کنٹرول کیا جانا چاہئے۔ یہ لوگ لڑائی کو ذاتی لڑائی بنانے کی کوشش کرتے ہیں جس سے اجتناب ضروری ہے لہذا کسی کو انفرادی فائدہ پہنچا،سکتے ہوں تو کبھی رکاوٹ نہ بنیں۔
4. غیر معمولی توقعات اور دیرپا اثرات
بلند توقعات رکھنا ترقی کی بنیاد ہے، لیکن اس کے لیے صبر اور مستقل مزاجی درکار ہوتی ہے۔ قرآن پاک میں ہے:
وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (سورہ الطلاق: 2-3)
"جو اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ پیدا کر دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو۔"
یہ آیت ہمیں سمجھاتی ہے کہ حقیقی اور دیرپا ترقی کا راز تقویٰ میں پوشیدہ ہے۔ جو شخص اللہ کے بنائے ہوئے اصولوں پر چلتا ہے، اللہ اس کے لیے نہ صرف مشکلات آسان کر دیتا ہے، بلکہ اسے ایسے راستے دکھاتا ہے جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے۔ ادارے کے سربراہ اگر اس بات کو دل و جان سے قبول کریں۔ اور اس پر مکمل ایمان رکھیں تو ان کے لئے بہت سے کام آسان ہو جائیں گے۔
امریکی مصنف اسٹیفن کووی نے مشہور زمانہ کتاب "The 7 Habits of Highly Effective People" میں ایک فطری اصول کو 500 کامیاب افراد کے انٹرویوز کے بعد لکھا ہے: "کامیاب لوگ طویل المدتی اہداف پر توجہ دیتے ہیں اور فوری نتائج کے پیچھے نہیں بھاگتے۔"
ادارے کو چاہیے کہ وہ غیر معمولی اہداف طے کرے، لیکن ان کے حصول کے لیے صبر اور حکمت سے کام لے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کا اثر بڑھے گا اور نتائج خود بخود سامنے آئیں گے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اداروں کی ترقی کا راز مستعدی، باہمی تعاون، تنازعات سے اجتناب، اور بلند توقعات میں پوشیدہ ہے۔ اسلامی تعلیمات اور جدید مغربی نظریات دونوں ہی اس بات پر متفق ہیں کہ دیرپا کامیابی کے لیے حکمت، صبر، اور اجتماعی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔ ادارے کو چاہیے کہ وہ اپنے اہداف کے حصول کے لیے دانشمندانہ فیصلے کرے اور ہمیشہ تعمیری راستہ اختیار کرے۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں