امام رضاؑکی نظر میں ایک منتظم کی حیثیت، اہمیت اور فرائض
:سید امتیاز علی رضوی :
امام علی رضا علیہ السلام ایک روحانی و معنوی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایسے انسان تھے جنہوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری۔ حکومت کے ساتھ گرم و سرد معاملات کو جھیلا۔ قید کی صعوبتیں بھی برداشت کیں اور ولی عہدی کے حکومتی منصب پر بھی فائز رہے۔ عوام کی بھرپور حمایت بھی حاصل کی اور غیر حکومتی سطح پر تعلیمی و فلاحی ادارے قائم کئے اور انہیں چلایا اور ان کی سرپرستی کی اور پوری ممکت اسلامیہ میں پھیلے ہوئے اپنے پیروکاروں کو مضبوط تنظیمی بنیاد فراہم کی۔ ایسی بھرپور زندگی گزارنے والی شخصیت سے بہتر کون ہوسکتا ہے جس سے منتظم اور اس کی ذمہ داریوں کو سمجھا اور سیکھا جائے۔
امام علی رضا علیہ السلام بطورِ منتظم
امام علی رضا علیہ السلام کے زمانے سے ان کے بصیرت افروز انتظامی فیصلوں کے نتیجے میں ان کے ماننے والوں کے لیے ترقی اور عروج کا ایک نیا دور شروع ہوا، اگرچہ یہ پچھلے دور کے ائمہ کی کوششوں کا ہی ایک نتیجہ تھا لیکن امام علی رضا علیہ السلام کے دور اندیشی پر مبنی فیصلوں کا اس میں بہت بڑا ہاتھ ہے۔ جب آپ کے والد گرامی شہید ہوئے، تو آپ مدینہ ہی میں تھے۔ اس موقع پر آپ نے اپنے ماننے والوں کے معاملات کی دیکھ بھال شروع کی۔ آپ نے اپنے والد کے شاگردوں کو اپنے گرد جمع کیا اور انہیں دینی تعلیمات سے روشناس کرایا، جس سے دینی علوم کو استحکام اور بقا ملی اور آپ کے ماتحت شاگردوں کی ایک ایسی گھیپ مہیا ہو گئی جو آپ کے انتظامی معاملات کے نگران بن گئے۔ دینی ملی مراکز قائم کرکے آپ نے امت مسلمہ کی نظریاتی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ لا مذہب اور غیر مسلموں کے ساتھ علمی مباحث و مناظرے رکھ کر شائستگی کے ساتھ ان کے شبہات کے جواب دئے جس سے دینی علمی بنیادیں گہری ہوتی گئیں۔
آپ نے اپنے دور میں عوامی رابطے کا ایک نیٹ ورک منظم کیا جس سے آپ کو بھرپور عوامی حمایت ملی۔ مدینہ میں آپ کی ممتاز اور بلند شخصیت کا یہ عالم تھا کہ اس زمانے میں اسلامی مملکت کے ہر شہر و دیہات سے لوگ اپنے مادی و معنوی مسائل میں آپ سے مدد لیتے تھے۔ ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ آپ کے پیروکار اتنی طاقت حاصل کر چکے تھے کہ حکومت کو آپ اور آپ کے ماننے والوں سے خطرہ محسوس ہونے لگا۔ یہی صورت حال عباسی حکمرانوں کے لیے خوف کا باعث بنی اور وہ کسی چارہ جوئی پر مجبور ہو گئے۔ اسی لئے ایک منصوبہ کے تحت امام علی رضا علیہ السلام کو ولی عہدی کا منصب دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ امام علی رضا علیہ السلام نےاس ولی عیدی کو قبول کرنے کا سیاسی فیصلہ کیا تاکہ اس اقدام کے ذریعے وہ اپنے پیروکاروں کو ممکنہ خطرات سے بچا سکیں اور یوں اس دانش مندانہ فیصلے نے امت مسلمہ کو ایک بڑے تصادم سے بچا لیا۔
ایک اچھا منتظم ہر حال میں اپنا کام کرتا ہے
امام علی رضا علیہ السلام نے مامون الرشید سے ولی عہدی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا:
”ولی عہدی نے مجھ پر کوئی اضافی فضیلت نہیں ڈالی۔ جب میں مدینہ میں تھا، تو میرا حکم مشرق و مغرب میں نافذ تھا۔ اگر میں مدینہ کی گلیوں سے گزرتا تو مجھ سے زیادہ محترم کوئی نہ تھا۔ لوگ مسلسل اپنی حاجتیں لے کر میرے پاس آتے تھے، اور کوئی ایسا نہ تھا جس کی ضرورت پوری نہ کر سکوں، ہر ایک کے میں کام کر دیتا تھا۔ لوگ مجھے اپنا عزیز اور بزرگ سمجھتے تھے۔"
امام علی رضا علیہ السلام کی روحانی اور معنوی شخصیت اور پھر ان کا حکومتی حلقہ سے ہٹ کر ایک وسیع گروہ کا نظم چلانا اور پھر حکومت کے اہم عہدے کو لے کر لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا آپ کی زندگی کو ایسا خاص بنا دیتی ہے کہ آپ سے نظم و انتظام سمجھنا چاہیے اور منتظم کی ذمہ داریوں کو جاننا چاہیے۔ ان میں چند چیزوں کو اس مضمون میں سمونے کی کوشش کی گئی ہے۔
نظم چلانے کے لئے ایک منتظم کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟
انسانی زندگی اور سماجی تعلقات کے تاریخی مطالعے سے اس اصول کی ضرورت ثابت ہوتی ہے کہ ہر معاشرے کے لیے انتظامیہ کا ہونا ضروری ہے۔ جہاں کہیں بھی لوگ تعاون اور اشتراک کی بنیاد پر اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں، وہاں ایک منتظم کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے پروگراموں کی قیادت کرے۔
حضرت فضل بن شاذان نیشاپوری کہتے ہیں کہ میں نے امام علی رضا علیہ السلام سے انتظامیہ کی ضرورت کے بارے میں سنا، آپ نے فرمایا:
انّا لانجد فرقة من الفرق و لاملّة من الملل بقوا و عاشوا الّا بقیّم و رئیس لما لابدّ لهم منه فی الامر الدین و الدنیا
”ہم نے کسی بھی گروہ یا قوم کو نہیں دیکھا جو بغیر کسی سرپرست یا رہنما کے زندہ رہ سکے، کیونکہ ان کے دینی اور دنیاوی معاملات کے لیے ایک قائد کی ضرورت ہوتی ہے۔"
امام نے ایک اور مقام پر مسلمانوں کے والی کو خیمے کے ستون سے تشبیہ دی اور فرمایا:
اما علمت انّ والی المسلمین مثل العمود فی وسط الفسطاط من اراده اخذه
”کیا تم نہیں جانتے کہ مسلمانوں کا والی خیمے کے درمیان ستون کی مانند ہے؟ جو ہر طرف سے یکساں طور پر قابل رسائی ہوتا ہے۔"
منتظم کو نظم کیسے چلانا چاہیے؟
امام علی رضا علیہ السلام نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ مشکلات پر قابو پانے کے لیے اللہ کی توفیق ضروری ہے، لیکن صرف یہ عقیدہ کافی نہیں ہے۔ منتظم کو مشکلات کے حل کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ آپ نے فرمایا:
من سأل التوفیق و لم یجتهد فقد استهزء بنفسه
”جو شخص اللہ سے توفیق مانگے لیکن کوشش نہ کرے، وہ اپنے آپ کا مذاق اڑاتا ہے۔"
منتظم کی حیثیت کا شرعی جواز کیا ہے؟
امام علی رضا علیہ السلام کے نقطہ نظر میں منتظم اور اس کے ساتھ کام کرنے والی انتظامیہ کا شرعی جواز اس وقت ہے جب یہ امامت سے جڑی ہوئی ہو اور عدل و احسان کے قیام کے لئے کام کر رہی ہو۔ جب امامت سے تعلق نہ رہے اور یہ رشتہ ٹوٹ جائے تو تمام تحریکیں اور انتظامی یونٹس اپنی شرعی حیثیت کھو دیتی ہیں۔ امام علی رضا علیہ السلام نے سورہ الرحمن کی آیت "وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ" کی تفسیر میں فرمایا:
"میزان حضرت علی علیہ السلام ہیں، جنہیں اللہ نے لوگوں کے لیے امام مقرر کیا ہے۔" امام علی کے میزان پر پورا اترنا حق پر باقی ہونے کی علامت ہے۔
امامت کے ساتھ امام علی رضا علیہ السلام نے عدل و احسان کو معاشرے کی استواری کی بنیاد قرار دیا ہے، اور فرمایا ہے:
استعمال العدل و الاحسان موذن بدوام النعمة.
”عدل اور احسان کا استعمال نعمتوں کے دوام کا باعث بنتا ہے۔"
دینی و دنیاوی معاملات ایک ہی نظم کے تحت آتے ہیں
امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا:
”کوئی بھی قوم یا گروہ بغیر سرپرست کے زندہ نہیں رہ سکتا وہ ہی ان کے دینی اور دنیاوی معاملات کی دیکھ بھال کرے۔"
لہذا عقل کے مطابق یہ جائز نہیں کہ لوگوں کو اس چیز سے محروم رکھا جائے جس کی انہیں ناگزیر ضرورت ہو اور جس کے بغیر ان کی بقا اور استحکام ممکن نہ ہو۔ امام حق و انصاف کو نافذ کرنے کا معیار ہوتے ہیں، وہ لوگوں کے اموال، عزتوں اور جانوں کے امین ہیں۔ وہ تمام سماجی و معاشی معاملات، لین دین، بازاروں، کارخانوں اور کھیتوں کی نگرانی کرتے ہیں تاکہ ظلم و زیادتی نہ ہو، نہ ہی غصب، استحصال، ذخیرہ اندوزی، مہنگا فروشی، سود خوری اور دوسرے باطل طریقے رواج پائیں۔ وہ ظالمانہ تعلقات جو بدگمانی، کینہ پروری، تضاد اور ناسالم مقابلہ بازی کا باعث بنتے ہیں، اسی لیے امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہم مومنین کے سرپرست ہیں جو ان کے حق میں فیصلے کرتے ہیں اور ان کے حقوق ظالموں سے واپس لیتے ہیں۔”
یہ بات امام علی رضا علیہ السلام کے سیاسی فلسفہ اور اسلامی نظام کے منتظمین و کارکنوں کے دائرہ اختیار کو بیان کرتا ہے، وہ سماجی انصاف کے قیام، معاشی مسائل کی درستگی، ظلم کے خاتمے اور معاشی کمزوریوں کے ازالے سے متعلق ہے۔ یہاں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ امام علی رضا علیہ السلام کے مکتب میں دنیاوی و دینی انتظام میں کوئی تفریق موجود نہیں ہے اور ہر منتظم جو اپنے اپنے دائرہ کار میں یہ ذمہ داری نبھانا ہے۔
د: منتظم اور عملہ
منتظم اپنے انتظامی منصوبوں اور پروگراموں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنے ماتحت کارکنوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ درحقیقت، تمام وہ افراد جو سرکاری اداروں، تنظیموں اور حکومتی یا غیر حکومتی ڈھانچوں میں کام کر رہے ہیں، دراصل منتظم کے کارکن اور اس کے معاونین ہیں۔ اسلامی ثقافت میں، رفقا اور ساتھیوں کا کردار الہٰی افکار کی تبلیغ و اشاعت میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔ ایک ایسا منتظم جو اخلاص، کمال طلبی، ہمدردی، سچائی اور دیانت سے مزین ہو، وہ اقدار پر مبنی اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے اور فطری اصولوں اور انسانی کرامتوں کا لحاظ رکھتے ہوئے مفید، تعمیری اور اصلاحی نظریات و منصوبوں کو مخلص، پابندِ شرع اور دینی و اخلاقی ضمیر رکھنے والے ساتھیوں کے سپرد کرتا ہے، اور ان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ان کے نفاذ اور فروغ میں شرعی فریضہ سمجھ کر کوشش کریں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظیم تحریک میں مہاجرین و انصار نے پیغمبر اسلام کے مضبوط بازوؤں کی حیثیت سے اسلامی پروگراموں اور مقاصد کی پیشرفت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انتہائی مشکل اور پرآشوب حالات میں انہوں نے تبلیغی اور عملی دونوں میدانوں میں، نیز ثقافتی، علمی اور جہادی محاذوں پر احکام الٰہی کے نفاذ کا بھاری بوجھ اٹھایا۔ یہ وہی لوگ تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اسلام کے اولین پیش روؤں کے طور پر پہچنوایا جو ایمان لانے میں سبقت لے گئے تھے۔
۱۔ خوف خدا کے ساتھ ذمہ داری نبھائے
امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
"جو شخص لوگوں میں سب سے زیادہ عزت والا بننا چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ ظاہر و باطن میں اللہ سے ڈرتا رہے۔"
(فقہ الرضا)
یہ قول منتظم کے لیے بنیادی اصول بیان کرتا ہے کہ تقویٰ اور اخلاص ہی حقیقی قیادت کی بنیاد ہیں۔ آپؑ کے نزدیک، منتظم کی کامیابی اس کے اخلاق اور دیانت پر منحصر ہے، نہ کہ صرف اس کے عہدے پر۔
۲۔ کارکنان کا ہمدرد ہو:
منتظم کو کارکنان کا ہمدرد اور خیر خواہ ہونا چاہیے۔ منتظم کو چاہیے کہ ان کی مشکلات سنے اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئے۔
امام رضا علیہ السلام کی سیرت سے دو اہم اصول ملتے ہیں:
خدمت گاروں کے ساتھ رحم دلی: آپؑ دربانوں اور خادموں کے ساتھ بھی احسان کرتے، رات کے وقت خاموشی سے غریبوں کو صدقہ دیتے۔ (روایات کی روشنی میں)
بات سننے کی اہمیت: آپؑ کسی کی بات کاٹتے نہیں تھے اور ہر ضرورت مند کی حاجت پوری کرنے کی کوشش کرتے۔
۳۔ صلاحیت کو ترجیح دے: نااہلوں کو ذمہ داری نہ دے۔
امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
"امین شخص نے تمہارے ساتھ خیانت نہیں کی، بلکہ تم نے خود خیانت کار پر اعتماد کیا ہے۔"
اس کا مطلب یہ ہے کہ منتظم کو چاہیے کہ صلاحیت اور امانت داری کو ترجیح دے، نہ کہ جانبداری یا سفارش کو۔
۴۔ سادگی اختیار کرے:
منتظم کو چاہیے کہ اپنا زندگی کا گذارنے ڈھنگ عامیانہ رکھے اور عوامی زندگی کے مطابق رہے۔
مامون کے دور میں امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:
"اگر میں حکومت کی ذمہ داری سنبھالوں تو سادہ کھانا کھاؤں گا، کھردرے کپڑے پہنوں گا، اور مشکل حالات میں زندگی گزاروں گا۔"
یہ بات قائدانہ سادگی اور عوامی ہمدردی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ چونکہ ملازمین وقتاً فوقتاً یا مسلسل معاشی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ ان کی سماجی ذمہ داریاں ان سے توقعات زیادہ لگالیتی ہیں۔ ایسے میں منتظم کا سادہ طرزِ زندگی ان کے دکھوں کا مداوا اور توقعات میں اعتدال لانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ یہی اصول اسلامی معاشرے کی ولائی قیادت اور انتظامیہ کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ عوامی سطح کے طرزِ زندگی کو اپنائیں۔
۵۔ وقت کا صحیح استعمال کرے: منتظم کو چاہیے کہ روحانی، معاشی اور سماجی ضروریات میں توازن رکھے۔
امام رضا علیہ السلام کا مشہور قول ہے:
"اپنے وقت کو چار حصوں میں تقسیم کرو: عبادت، معاش، دوستوں کے ساتھ میل جول، اور حلال تفریح۔"
یہ منتظم اور کارکنان دونوں کے لیے ایک بہترین گائیڈ لائن ہے تاکہ کام اور ذاتی زندگی میں توازن قائم رہے۔
۶۔ ماتحت افراد سے نرمی سے پیش آئے:
اچھا منتظم معیاری اور مقداری دونوں پہلوؤں پر توجہ دیتا ہے۔ وہ نرمی، محبت اور اپنی توجہ کو اپنے ماتحتوں مرکوز رکھتا ہے۔ نتیجتاً، یہ خصوصیت نہ صرف انہیں کام پر ابھارتی ہے بلکہ کام کے معیار پر بھی اثر انداز ہوتی ہے اور ان کے اندر اخلاص، کمال طلبی، ہمدردی اور عزت نفس کی روح کو زندہ کرتی ہے۔
امام علی رضا علیہ السلام اپنی عملی زندگی میں اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے۔ ابراہیم بن عباس کہتے ہیں: میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ امام ابوالحسن الرضا علیہ السلام نے کسی کو دکھ پہنچانے والی کوئی بات کی ہو، نہ کسی کی بات اس کے ختم ہونے سے پہلے کاٹی ہو، اور نہ ہی کسی کی حاجت کو، جسے پورا کرنے کی ان میں صلاحیت ہو، ٹھکرایا ہو۔۔۔ اور وہ دربانوں اور خادموں کے ساتھ بھی بہت احسان کرتے تھے، کثرت سے صدقہ دیتے تھے، اور یہ کام عموماً تاریک راتوں میں انجام دیتے تھے۔
۷۔ طبقاتی تفاوت کو ختم کرنے کی کوشش کرے:
جس معاشرے میں ناسالم معاشی اور سماجی تعلقات حاکم ہو، وہاں طبقاتی تفاوت پیدا ہو جاتی ہے۔ دینی معاشرے کے مدیر کو مختلف طریقوں سے ان فاصلوں کو کم کرنا چاہیے۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ معاشرے کے کمزور طبقات کی محرومی اور غربت کو محسوس کیا جائے اور اسے دور کرنے کی کوشش کی جائے، تاکہ وہ خود کو کمتر نہ سمجھیں اور دینی معاشرے سے پیچھے نہ رہ جائیں، بلکہ خود کو معاشرے کا حصہ سمجھیں اور ضروری جذبے کے ساتھ فعال عنصر بن جائیں۔امام علی رضا علیہ السلام کے دور میں عباسیوں کی جابر حکومت لوگوں پر مسلط تھی، جس نے دہائیوں تک عوام کا استحصال کیا تھا۔ امام علی رضا علیہ السلام کوشش کرتے تھے کہ اپنی ہمدردیوں اور رہنمائیوں سے معاشرے کے محروم لوگوں کے دکھوں کو کم کریں اور دوسروں کو بھی ان کی مدد پر آمادہ کریں۔
۸- جدید وسائل و آلات کا استعمال کرے:
تمام مخلوقات میں سے انسان تخلیقی صلاحیت رکھتا ہے۔ اختراع، ایجاد، منصوبہ بندی اور مناسب منصوبہ ریزی وہ صلاحیتیں ہیں جنہیں منتظم کو کامیابی تک پہنچنے کے لیے پروان چڑھانا چاہیے۔
امام رضا علیہ السلام نے قرآن مجید کی تفسیر میں حضرت داؤدؑ اور سلیمانؑ کی صنعتی مہارتوں (لوہے کو نرم کرنے، زرہ بانی، تعمیرات) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
"اللہ نے بعض بندوں کو خاص علوم عطا کیے ہیں جو دوسروں کے لیے مفید ہیں۔" (عیون اخبار الرضا)
یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی علم کی ایک شکل ہے۔ نئی ایجادات جب انسانی فلاح کے لیے ہوں تو ان کا استعمال جائز بلکہ پسندیدہ ہے۔ امام رضا علیہ السلام نے مامون کے دور میں نہریں بنوانے، پانی کی تقسیم کے نظام اور زراعت کے جدید طریقوں کی حوصلہ افزائی کی۔ آپؑ کا یہ عمل بتاتا ہے کہ ایک منتظم کو جدید وسائل اپنانے چاہئیں تاکہ وہ اپنے کاموں بہتر طور پر کر سکے اور معیشت اور پیداوار بہتر ہو۔ امام رضا علیہ السلام نے طب، فلکیات اور ریاضی کے علوم کو فروغ دیا۔ آپؑ کا یہ عمل بتاتا ہے کہ مدیر کو چاہیے کہ وہ ٹیکنالوجی کو سیکھنے اور سکھانے کا ذریعہ بنائے۔
۹- وقت کو منظم طریقے سے صرف کرے:
خوشی اور صحت مند تفریح انسان کی روحانی و نفسیاتی ضروریات میں سے ہے، لیکن بہت سے لوگ مصروفیات اور معاشی پریشانیوں کی وجہ سے زندگی کے اس اہم پہلو سے غافل ہو جاتے ہیں۔ وقت کی درست مدیریت اور منصوبہ بندی انسان کو اس اہم معاملے میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔ اگر وقت کو صحیح طریقے سے منظم نہ کیا جائے اور سارا وقت صرف روزی کمانے اور معاش کے لیے صرف ہو تو جلد ہی زندگی کی یکسانیت کی وجہ سے انسان سستی اور کاہلی کا شکار ہو جاتا ہے، جس سے روح تھک جاتی ہے۔
امام رضا علیہ السلام نے وقت کی مدیریت کے حوالے سے ایک نہایت کارآمد نصیحت فرمائی ہے: "اپنے وقت کو چار حصوں میں تقسیم کرو: ایک حصہ عبادت اور خدا سے راز و نیاز کے لیے مخصوص کرو، دوسرا حصہ روزی کمانے اور زندگی کے اخراجات پورے کرنے میں صرف کرو، تیسرا حصہ اپنے ایمانی بھائیوں کے ساتھ میل جول اور ہم نشینی کے لیے رکھو، اور چوتھا حصہ صحت مند تفریح اور حلال لذتوں کے لیے مختص کرو۔"
۱۰- خوش رہے اور دوسروں کو خوش رکھے:
امام رضا علیہ السلام نے صرف فرد کے خوشی رہنے پر توجہ نہیں دی بلکہ یہ بھی فرمایا ہے کہ ہمیں دوسروں کو خوش کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے، کیونکہ معاشرے میں خوشی پھیلانا اور دوسروں کو مسرور کرنا اللہ کو پسندیدہ عمل ہے اور یہ انسانی و اسلامی اخلاق کا حصہ ہے۔
آپؑ نے اس بارے میں فرمایا: "ضرورت مندوں کی حاجتیں پوری کرنے، انہیں خوش کرنے اور ان کی تکلیفیں دور کرنے کی کوشش کرو، کیونکہ اللہ کے نزدیک واجبات کی ادائیگی کے بعد کوئی عمل ایمانی بھائیوں کو خوش کرنے سے بڑھ کر نہیں۔"
۱۱- اپنی تربیت و اصلاح کا اہتمام کرے:
کتاب فقہ الرضا علیہ السلام میں جو امام علی رضا علیہ السلام سے منسوب ہے، درج ہے: "جو شخص لوگوں میں سب سے زیادہ عزت والا بننا چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ ظاہر و باطن میں اللہ سے ڈرتا رہے۔" اگر انسان خود کو ہمیشہ اللہ کے حضور سمجھے اور اخلاقی برائیوں کو چھوڑ کر اچھائیوں کی طرف ہجرت کرے، تو وہ قرب الٰہی کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کا ہر عمل اللہ تک پہنچنے کا ذریعہ بن جاتا ہے، اور وہ انسانوں کی خدمت کو بھی اللہ کی بارگاہ میں قربت حاصل کرنے کا وسیلہ بناتا ہے۔ جو شخص اپنی نفسانی تربیت نہیں کرتا، اسے کسی ذمہ داری یا انتظامی عہدے کے قریب نہیں جانا چاہیے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو درحقیقت اپنی ہلاکت کا راستہ ہموار کرتا ہے۔
امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا:
"پانچ چیزیں اگر کسی میں نہ ہوں تو دنیا و آخرت میں اس سے کوئی اچھی توقع نہ رکھو۔ خاندانی شرافت، اچھے اخلاق، پائیدار کردار، روحانی عظمت، اللہ کا خوف۔"
تربیت یافتہ منتظم وہ ہے جو اپنے اخلاق کی اصلاح و تزکیہ کے ذریعے پرہیزگاروں کی پیشوائی و امامت کے مقام تک پہنچتا ہے اور قرآن کی اصطلاح میں "امام المتقین" (پرہیزگاروں کا امام) بن جاتا ہے۔ امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام ان باتوں کو ناپسند فرماتے ہیں جو فخرو مباہات، محض نعرہ بازی یا بحث میں کامیابی کی خواہش سے کی جائیں، جبکہ بولنے والے میں نہ علم ہو نہ عمل۔ آپ فرماتے ہیں:
إن اللهَ یبْغُضُ القیلَ و القالَ و إضاعة المال و کثرة السئوال
"بے شک اللہ بے مقصد گفتگو، مال کو ضائع کرنے اور بے جا مطالبے کرنے کو ناپسند کرتا ہے۔"
۱۲- فیصلے عقل و دانش کے مطابق کرے:
امام علی رضا علیہ السلام کی طرزِ مدیریت میں منتظم کے لئے عقل و دانش اہلیت کا معیار ہے۔ انتظامی اور فیصلہ سازی کی صلاحیت رکھنے والے لوگ ہی منصبِ مدیریت کے لئے اہل ہوتے ہیں۔ ذمہ داریاں سونپتے وقت صرف ڈگری، آراستہ ظاہری شکل، خاندانی روابط یا دیگر ظاہری امور کو معیار نہیں بنانا چاہیے۔ امام علی رضا علیہ السلام کی تعلیمات میں کم عقل، درست فیصلہ کرنے اور ضروری مہارت سے محروم منتظمین کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ امام علی رضا علیہ السلام نے مامون کے نام ایک خط میں سماجی بے راہ روی اور انتظامی و اداری نظام کی خرابیوں کی وجوہات بیان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان میں سے ایک اہم وجہ جاہلوں، سطحی سوچ رکھنے والوں اور غیر ماہر افراد کا اقتدار میں آنا ہے۔










0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں