چھوٹے اقدامات سے بڑی تبدیلی کا سفر
مزمل حسین متعلم جامعۃ الرضا اسلام آباد
مدارس محض درس و تدریس کے مراکز نہیں ہوتے، بلکہ یہ وہ فکری و روحانی چمن ہوتے ہیں جہاں کردار پروان چڑھتا ہے، وژن بنتا ہے، اور امت کی رہنمائی کے چراغ روشن ہوتے ہیں۔ مدرسہ جامعہ الرضا اسلام آباد (بارہ کہو) میں منعقدہ سالانہ جشنِ ولادتِ امام علی رضا علیہ السلام (9 فروری 2025) کے موقع پر جب مجھے "بہترین منتظم" کے اعزاز سے نوازا گیا تو یہ شیلڈ محض ایک انعام نہ تھی بلکہ اجتماعی کاوش، اخلاص، اور عزمِ مسلسل کی ایک خوبصورت پہچان تھی۔
یہ اعزاز صرف میرے ذاتی سفر کا اعتراف نہیں، بلکہ ان اساتذہ کی رہنمائی، طلبا کے اخلاص، اور ادارے کے بھرپور تعاون کا ثمر ہے جنہوں نے ہر قدم پر میری کوششوں کو تقویت بخشی۔ اس سفر میں کئی ایسے اقدامات تھے جو محض رسمی ذمہ داریاں نہیں بلکہ ایک وژن اور خدمت کے جذبے کا عملی اظہارتھے۔
۱۔ تعلیم اور اخلاقیات کی ترجیح
بطور منتظم، میری اولین ترجیح تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت تھی۔ میں نے نہ صرف خود نظم و ضبط کو اختیار کیا بلکہ اپنی ٹیم کو بھی عملی زندگی کے لیے تیار کیا تاکہ وہ دینی و دنیاوی میدان میں مثالی کردار ادا کریں۔
۲۔ تحقیق و جدید علوم کی ترویج
مجھے شعبہ تحقیق کی ذمہ داری دی گئی، تو میں نے اسے صرف ایک رسمی عہدہ نہ سمجھا، بلکہ عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا ایک موقع جانا۔ طلبا کو مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر سائنس، اور ڈیجیٹل تحقیق جیسے جدید میدانوں سے روشناس کرایا تاکہ وہ وقت کے ساتھ ہم قدم ہو سکیں۔
جب یہ مشاہدے میں آیا کہ طلبا کو موسمی و جسمانی بیماریوں سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے تو اساتذہ کے تعاون سے ایک مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ طبی معائنے، ادویات اور علاج کی سہولت نے نہ صرف وقتی مسائل کا حل نکالا بلکہ طلبا کی صحت کے حوالے سے شعور بیدار کیا۔
بلڈ ڈونیشن سسٹم بھی ایک انقلابی قدم تھا۔ طلبا کے بلڈ گروپس رجسٹر کر کے ایسے ایک نیٹ ورک کی بنیاد رکھی گئی جو ایمرجنسی میں انسانی زندگی بچانے کا ذریعہ بنا۔علاوہ ازیں، مختلف پرائیویٹ کلینکس کے ساتھ معاہدے کے تحت 40 فیصد رعایت پر طبی معائنہ ممکن بنایا گیا، جس سے مالی طور پر کمزور طلبا کو بھی معیاری صحت کی سہولت میسر آئی۔
۴۔ ٹیکنالوجی کی عملی تربیت
آج کا دور ٹیکنالوجی کا ہے، اور طلبا کو اس میدان میں پیچھے رکھنا ایک ناانصافی ہوگی۔ میں نے ۲6 طلبا کو MS Office، کمپیوٹر بیسک سکلز، پروجیکٹر اور LED جیسے ڈیجیٹل ٹولز کی تربیت دی تاکہ وہ علمی میدان میں مؤثر انداز میں کام کر سکیں۔
ادارے کی ایک بڑی لیکن نسبتاً کم فعال لائبریری کو نئی زندگی دی گئی۔ لاکھوں روپے کی کتب کو جدید سافٹ ویئر کے ذریعے منظم کیا گیا تاکہ طلبا آسانی سے تحقیقی مواد تک رسائی حاصل کر سکیں۔ اس اقدام نے نہ صرف مطالعے کا رجحان بڑھایا بلکہ تحقیقی ماحول کو بھی فروغ دیا۔
یہ اعزاز دراصل اس سچائی کی تصدیق ہے کہ اگر ہم اخلاص، محنت اور اجتماعی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کام کریں تو چھوٹے قدم بھی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ میرا مقصد صرف ذاتی ترقی نہ تھا، بلکہ میں نے ہمیشہ یہ سوچا کہ میرے اقدامات دوسروں کے لیے راہ ہموار کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں امام علی رضا علیہ السلام کے علم، حلم اور اخلاق کی روشنی میں اپنی ذات، ادارے اور معاشرے کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین











0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں