زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

اتوار، 18 مئی، 2025

Self-confidence: Nazar Haffi

خود اعتمادی، حصول سے استعمال تک : 
ڈاکٹر نذر حافی :  
 میرے ایک چھوٹے سے ہمسائے کی عُمر ابھی صرف سات سال ہے۔وہ سکول بس میں سوار ہونے کیلئے  روزانہ اپنے والد صاحب کے ساتھ بس اسٹاپ تک جاتا ہے۔اِن دنوں اُس کی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ شاید یہی سکول آنا جانا ہے۔ اپنی زندگی کے پہیے کو دوسروں کے ریلے کے ساتھ گھمانے سے مشکلات حل نہیں ہوتیں۔ لہذا حسین کیلئے ضروری ہے کہ اگلے چند سالوں میں وہ تنہا بس اسٹاپ تک جانا سیکھ جائے۔

گزشتہ روز اتوار تھا۔ اُس دن بھی حسین مجھے گلی میں  ٹیویشن پڑھنے کیلئے جاتا  دکھائی دیا۔  یعنی وہ اتوار کو بھی پڑھائی کی چھٹی نہیں کرتا۔  اس عمر میں تعلیم اُس کی بہت ساری تفریحات اور کھیلوں کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ میں اُس کے والدین سے بھی کبھی کبھار ملتا رہتا ہوں۔  وہ  اُس کی تعلیم کو ہی اُس کیلئے تفریح و تربیّت بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ تعلیم اور تذکیہ نفس، تعلیم اور تفریح، تعلیم اور سیروسیاحت یہ سب حقیقت میں ایک ہی ہیں۔انہیں الگ الگ دیکھنا اور الگ انجام دینے کی کوشش کرنا سات سالہ حُسین سے سکون، اطمینان اور خوداعتمادی چھیننے کیلئے کافی ہے۔ 
اپنی زندگی کی موجودہ مشکلات کو عبور کرنے کیلئے حسین کو اِن دنوں بہت زیادہ   خود اعتمادی چاہیے۔ چونکہ خود اعتمادی کا حامل انسان اپنے حالات کو ایک  سیڑھی  طرح دیکھتا اور اوپر چڑھتا رہتا ہے۔ حسین کے والدین، عزیزواقارب ، اساتذہ اور ہمسایوں کو یہ احساس کرنے کی ضرورت ہے کہ کسی انسان یا معاشرے  کی سب سے بڑی جنگ وہ ہوتی ہے جو وہ  احساسِ کمتری کے خلاف لڑتا ہے۔ خود اعتمادی وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتی ہے، مگر اکثر لوگ اپنے بچوں، شاگردوں اور عزیزواقارب کی   روشنی کو  احساسِ کمتری  و مایوسی کے سائے میں دبا دیتے ہیں۔ پروردگار  ایسے لوگوں کو جنجھوڑ کر کہتا ہے:
وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُؤْمِنِينَ ،کمزور نہ پڑو اور نہ غمگین ہو، اگر تم مومن ہو تو تم غالب رہو گے۔سورۃ آل عمران: 139
خود اعتمادی کے حصول کیلئے  خدا پر توکل  اور اُس سے دعا کرنا ضروری ہے۔ جب انسان خوداعتمادی کے ساتھ خدا سے لو لگاتا  ہے تو  اُس کیلئے  پہاڑوں اور سمندروں میں  بھی راستے بن جاتے ہیں۔ اسی لئے تو قرآن مجید کہتا ہے " ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ، تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ (سورۃ غافر: 60) ۔
حسین جیسے ہزاروں بچے روزانہ سکول بس پر سوار ہوتے ہیں۔ کیا اُن سب کے والدین  اور اساتذہ یہ جانتے ہیں کہ حسین کی اسکول بس کی مکینیکل حالت اورڈرائیور کی ذہنی و اخلاقی صحت کیسی ہے؟  گھر سے نکلنے کے بعد بچے کو کہیں خوف   و وسواس کی زنجیریں   تو نہیں جکڑ لیتیں۔ یہ خوف اُستادوں کی  ڈانٹ ڈپٹ، مارپیٹ، کلاس فیلوز کی منفی رقابت،اور سکول بس کے ڈرائیور کے سخت رویّے کا بھی ہو سکتا ہے۔  
ایسے میں خود اعتمادی ہی  وہ چابی ہے جو بچے کی زبان کھولتی ہے۔خود اعتمادی  یہ نہیں کہ بچے  خطرات سے  خوف  محسوس نہ کریں  بلکہ خود اعتمادی یہ ہے کہ بچے خوف کے بارے میں اپنے والدین،  اور استادوں  کو  اپنے مسائل سے آگاہ کر سکیں اور   اپنے اوپر اعتماد کرتے ہوئے والدین  و  اساتذہ کی رہنمائی میں آگے بڑھتے  رہیں۔
بچے  کی خود اعتمادی کے فقدان کی ایک وجہ اُس کیلئے  منزل کی واضح تصویر  کا نہ  ہونا ہے۔ میرے کم سِن ہمسائے " حسین " کی منزل ان دنوں  سکول جانا ہی ہے۔ کیا اگلے چند سالوں میں بھی اُس کی منزل صرف سکول جانا ہی ہو گی؟  کیا ساری زندگی اُس کی  منزل سکول، کالج، یونیورسٹی اور دفتر جانا ہی ہونی چاہیے؟
حسین کے والدین اور اساتذہ کیلئے ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ حسین کے دل و دماغ میں اُس کی  زندگی کا  واضح نقشہ  ابھار سکیں۔آپ دو آدمیوں کو انتہائی زرخیز زمین دے دیں۔ اگر ایک کے پاس زراعت کی جانکاری ہو، وہ جانتا ہو کہ اس زمین سے مجھے کیا کرنا ہے تو  اُس کی زمین سونا اُگلے گی جبکہ  دوسرا  اتنی زمین دیکھ کر خوابوں میں کھویا رہے گا۔ نقصان اور خسارے کا واویلا کرے گا اور آنسو بہاتا ہوا نظر آئے گا۔پس حسین کی طرح ہر انسان کی خود اعتمادی کی جڑ  اُس کے دماغ کے  اندر موجودزندگی کے نقشے میں ہے باہر نہیں۔انسان کے پاس اُس کی  منزل کا نقشہ نہ ہو تو اُس کے سُنہرے  خواب  محض سراب ہوتے ہیں۔
حسین روزانہ مقررہ وقت پر بس اسٹاپ پہنچتا ہے۔کل کو   وہ اپنی  زندگی میں جو بھی بنے گا ، اُس کی  ناکامیوں یا کامیابیوں کا وہ  اکیلے سبب نہیں ہوگا۔ حسین سمیت ہر بچہ بڑا ہو کر  اپنے والدین، اُستادں، دوستوں اور ماحول  کا  چلتا پھرتا عکس ہوتاہے۔
کچھ اس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ اپنے اور اپنے بچوں کیلئے زرخیز ماحول کی تلاش بھی خود اعتمادی کے بغیر ممکن نہیں۔ جیسے ایک پودا روشنی کی تلاش میں زمین کی گہرائی میں جڑیں گاڑھتا اور بڑھتا جاتا ہے، ویسے ہی  انسان کو بھی جہاں اچھا ماحول ملے وہاں اپنی جڑیں گاڑھنی چاہیے۔انسان،  پتھر کی مانند نہیں ہے کہ وہ  اپنا ماحول  تبدیل نہ کر سکے اور جہاں ہے وہیں پڑا رہے۔اچھے ماحول کی تلاش میں  ناکامی وہ نہیں جو ہمیں گرا دے بلکہ وہ ہے جو ہمیں  اچھے ماحول میں جڑیں گاڑھنے سے روکے۔
حسین جیسے سکول جاتے ہر بچے کیلئے آج کا دن کل کا ماضی ہوگا۔ ماضی کی ناکامیاں دراصل اس وقت کی زندگی کا عکس ہوتی ہیں جب ہم زندگی کو مکمل طور پر سمجھ نہیں پائےتھے۔ زندگی کو سمجھنے میں شکست کے تجربے سے گزرنا  بھی ضروری ہے۔ماضی کی شکست و ریخت  انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ اُس  کا اصل مقام اس کی ہمت میں چھپاہوتا ہے، نہ کہ اس کی کامیابیوں میں۔ انسان کا ماضی اُس کی  تقدیر کا تعین نہیں کرتا بلکہ  ماضی کے تجربات اُن تُند وتیز طوفانی ریلوں کی مانند ہوتے ہیں جو راستے کی چٹانوں کو بہاکر لے جاتے ہیں۔ ماضی کا فقط وہ حصّہ قابلِ غور ہوتا ہے جس سے ہم نے کچھ سیکھا اور اُس سے ہماری  خود اعتمادی میں اضافہ ہوا۔
حسین کے اسکو ل بیگ یعنی بستے کو معمولی نہ سمجھئے۔ اُس  کا بستہ اُس کی خود اعتمادی کا خزانہ ہے۔ وہ تو  اپنا بستہ اٹھا کر روزانہ  سکول جاتا ہے  لیکن اُس کی عمر کے  سینکڑوں بچےبالکل  سکول  جاتے ہی نہیں۔ کیا  سکول انتظامیہ اور والدین کے پاس اس سوال کا کوئی جواب ہے کہ روزانہ  اُٹھایا ہوا یہ بستہ حسین کی خود اعتمادی میں اضافے کا باعث بھی بنتا ہے یا نہیں؟  کیا جو بچے روزانہ بستہ اٹھا کر سکول نہیں جاتے وہ خود اعتمادی کے لحاظ سے پیچھے رہ جاتے ہیں؟ 
کیا بچوں کے والدین اور اساتذہ  بھی یہ سمجھتے ہیں کہ  خود اعتمادی کے ساتھ  آگے بڑھنے کا سب سے اہم آلہ علم  ہے۔ صرف یہی ایک آلہ ہے جو  زندگی کی تاریک راہوں میں  انسان کی خود اعتمادی وبصیرت کو بڑھانے کا ذریعہ ہے۔علم نہ ہوتو خود اعتمادی و بصیرت کیسی اور زندگی میں بلند درجات و ارتقا کا امکان کہاں!۔ کیا ہمارے ہاں کے اساتذہ اور والدین نے کبھی بچوں کے اسکول بیگز کو کھول کر یہ اندازہ لگایا ہے کہ ان بیگز میں کتابیں و کاپیاں کتنی ہیں اور خوداعتمادی کتنی ہے؟   کیا ہماری  اس طرف بھی توجہ ہے :
"يَرْفَعِ اللّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ" اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور جنہیں علم دیا گیا ہے بلند درجات دیتا ہے۔" (سورۃ المجادلہ: 11)خود اعتمادی کے بغیر کاپیاں و کتابیں انسان کے کسی دکھ کی دوا نہیں۔  اس کے بغیر  انسانی زندگی خزاں کے موسم میں کسی  درخت کے لرزتے پتے کی مانند ہے۔
خود اعتمادی کیلئے بچے کو دو چیزوں کا سکھانا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ  میرے دور کی خصوصیات اور ضروریات کون سی ہیں؟ یعنی میں کس زمانے کا انسان ہوں؟  اور دوسرے یہ کہ میں اپنے زمانے کے تقاضوں  کو کیسے پورا کر سکتا ہوں؟ یعنی میں اپنے زمانے کے تقاضوں کے ساتھ کیسے چل سکتا ہوں؟
واضح رہے کہ  خود اعتمادی  یہ نہیں کہ ہم کبھی نہ گریں، بلکہ یہ ہے کہ ہر گرنے کے بعد خدا پر توکل کرتے ہوئے  اٹھ کر اپنے سفر کو جاری رکھیں۔ جس  انسان کو اپنے قدموں پر یقین نہ  ہو تو اُسے زمین پر  گرنے کیلئے کسی اونچے پہاڑ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگرچھ سال کی عمرمیں بچے  کی ٹانگیں مضبوط نہ ہوں تو  ساٹھ سال کی عمر میں تو ویسے ہی کانپیں ٹانگ جاتی ہیں۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...