رسول اللہ ﷺ اور آج کے مذہبی رویّے
پروفیسر سید امتیاز علی رضوی :
سیرتِ نبویؐ کا ایک دلکش اور روشن پہلو وہ ہے جہاں محبت کی شگفتگی ہے، لطف و کرم کی بارانی ہے، خندہ پیشانی کی رونقیں ہیں، اور مزاح کے پاکیزہ لمحات ہیں۔ یہ باب نہ صرف حضور نبی اکرم ﷺ کی ذاتی زندگی کی جھلک پیش کرتا ہے، بلکہ ہمیں زندگی گزارنے اور دوسروں کے ساتھ ربط و ضبط قائم رکھنے کا بہترین نمونہ بھی فراہم کرتا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ تقویٰ اور بزرگی کا مطلب ترش روئی، اکڑ، یا لوگوں سے کٹ کر رہنا نہیں، بلکہ خوشیاں بانٹنا، مسکراہٹیں بکھیرنا اور دلوں کو جوڑنا ہے۔
جس طرح قرآنِ مجید اپنی اصل صورت میں محفوظ ہے، اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی پاکیزہ سیرت بھی ہمارے سامنے ہے۔ آپ ﷺ کی ولادت سے لے کر وصال تک کے واقعات تفصیل سے سیرت و احادیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ تاریخ نگاروں نے آپ کے معمولات، ذاتی عادات، نشست و برخاست، لباس، گفتگو، اور معاشرتی تعلقات تک کو قلمبند کیا ہے۔ قرآنِ کریم نے آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کو "اسوۂ حسنہ" قرار دیا ہے، جس کی پیروی ہر مسلمان پر لازم ہے۔ خاص طور پر مذہبی راہنماؤں اور دینی طبقے کے لیے تو یہ ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے سیرتِ نبویؐ کے آئینے میں اپنا رویہ دیکھیں۔
رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ نرمی، محبت اور شگفتگی سے پیش آتے تھے۔ آپ ﷺ کے مزاج میں درشتی اور سختی کا کوئی نشان تک نہ تھا۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس نرم دلی کو اپنی رحمت قرار دیتے ہوئے فرمایا: فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّہِ لِنتَ لَہُمْ وَلَوْ کُنتَ فَظّاً غَلِیْظَ الْقَلْبِ لاَنفَضُّواْ مِنْ حَوْلِکَ
(آل عمران: 159)"اے نبیؐ، یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم لوگوں کے لیے نرم مزاج ہو، اگر تم تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گرد سے بھاگ کھڑے ہوتے۔"
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کے بندے لوگوں کے درمیان رہیں، ان سے ملا جلا کریں اور معاشرت پیدا کریں۔ لیکن آج ہمارا فہم، مذہبی انسان کا تصور ایک ایسے گوشہ نشین کے طور پر کراتا ہے جو ہمیشہ ظاہری عبادت میں مگن رہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ لوگوں کے بیچ رہے، ان کے دکھ سکھ بانٹے۔
آپ ﷺ کا نرم مزاجی کا یہ رویہ ہر ایک کے ساتھ تھا—خواہ اہلِ بیت ہوں، ازواجِ مطہرات، بچے ہوں یا بزرگ، قریبی ساتھی ہوں یا اجنبی۔ آپ ﷺ بچوں سے خصوصی محبت کرتے، ان سے پیار بھری باتیں کرتے، اور کبھی کبھی پاکیزہ مزاح بھی فرماتے۔ امام حسن اور امام حسین ؑ کے ساتھ آپ ﷺ کے پیار بھرے واقعات سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔ ایک موقع پر آپ ﷺ راستے میں کھیلتے ہوئے بچوں میں ان دونوں کو دیکھ کر مسکرائے، ان کے پیچھے دوڑے، پکڑا اور پیار سے بوسہ دیا۔ (مسند احمد)
سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ آپ ﷺ گھر کے کاموں میں اہلِ خانہ کا ہاتھ بٹاتے، گوشت کاٹتے، دسترخوان پر بڑے تواضع سے بیٹھتے، فقیروں کے ساتھ کھانا کھاتے، مسکینوں کے ساتھ مصافحہ کرتے، اور اپنے ساتھیوں کو پانی پلانے کے بعد خود پانی پیتے۔ آپ ﷺ فرماتے: "ساقی قوم آخر میں پانی پئے۔"
لیکن افسوس، آج کا مذہبی طبقہ سیرت کے ان پہلوؤں سے اکثر غافل ہے۔ ہمارے ہاں مذہب کا ایک غلط تصور پایا جاتا ہے جس میں خشکی، اکڑ اور رسمیں شامل ہو گئی ہیں۔ ہم سیرت کو اسوہ بنانے کے بجائے معاشرتی توقعات کے اسیر ہو گئے ہیں۔
ایک واقعہ ہے کہ ایک بدو نے رسول اللہ ﷺ کی چادر زور سے کھینچی، جس سے آپ کی گردن پر خراش آ گئی۔ اس نے گستاخی سے کہا: "مجھے اپنے اونٹوں پر غلہ لاد دو۔" آپ ﷺ خاموش رہے، پھر مسکرا کر اسے جو اور کھجور دلوا دیں۔ (سفینۃ البحار)اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ آپ ﷺ میں انتہائی بردباری تھی۔ آج کے مذہبی راہنما اکثر جلد غصہ ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے نئی نسل ان سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
ایک اور واقعہ یہ ہے ک ایک یہودی نے قرض کی واپسی کے لیے آپ ﷺ کو روک لیا۔ آپ ﷺ نے نرمی سے کہا کہ ابھی ادائیگی ممکن نہیں۔ یہودی نے اصرار کیا تو آپ ﷺ وہیں بیٹھ گئے۔ جب صحابہ نے اسے ڈانٹا تو آپ ﷺ نے منع فرمایا اور کہا: "میرے رب نے مجھے ظلم کرنے کے لیے نہیں بھیجا۔" یہ دیکھ کر وہ یہودی مسلمان ہو گیا اور بولا: "میں نے تورات میں آپ کی یہی صفات پڑھی تھیں۔" (امالی شیخ صدوق)
آج کے مذہبی معاشرے میں مختلف گروہ بن گئے ہیں جو اپنے آپ کو دوسروں سے الگ سمجھتے ہیں۔ ہر گروہ اپنی پہچان الگ بنانا چاہتا ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ سب کے ساتھ مل کر رہے، کسی سے امتیاز نہ برتا۔سورہ توبہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لقد جاء کم رسول من انفسکم عزیزعلیہ ماعنتم حریص علیکم بالمومنین رؤف رحیم
"تمہارے پاس تمہیں میں سے ایک رسول آئے، جنہیں تمہاری تکلیف گراں گزرتی ہے، جو تمہاری بھلائی کے خواہش مند ہیں، اور مومنوں کے لیے نہایت مہربان اور رحم کرنے والے ہیں۔" (التوبہ: 128)
آج کے مذہبی راہنما اکثر اپنی ذات میں مگن رہتے ہیں۔ اگر دوسروں کی طرف توجہ دیں بھی تو وہاں محبت کے بجائے نفرت اور تنقید کا element زیادہ ہوتا ہے۔حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں: "میں نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی، آپ ﷺ نے مجھے اُف تک نہیں کہا۔" آج کے مذہبی خطبے اور تقریریں دیکھیں—وہاں گالی گلوچ، طعن و تشنیع اور بدتمیزی عام ہے۔
ایک مرتبہ انس بن مالک ؓ نے آپ ﷺ کے لیے دودھ اور روٹی رکھی، لیکن غلطی سے خود کھا لی۔ پوری رات پریشان رہے، لیکن آپ ﷺ نے کبھی پوچھا تک نہیں۔ آپ ﷺ کسی کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔
آپ ﷺ اپنے لیے کسی امتیاز کے قائل نہ تھے۔ سفر میں جب گوشت پکانے کا موقع آیا، تو آپ ﷺ خود لکڑیاں جمع کرنے چلے گئے۔ صحابہ نے روکا تو فرمایا: "مجھے تم سے الگ تھلگ رہنا پسند نہیں۔" حضرت ابوذر غفاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ صحابہ میں اس طرح بیٹھتے کہ کوئی اجنبی پہچان نہ پاتا کہ رسول اللہ ﷺ کون ہیں۔
آج کی مذہبی محفلیں اس کے برعکس ہیں—وہاں بڑے بڑے سجادے، ممتاز نشستیں، علیحدہ دسترخوان، مہنگے لباس اور پروٹوکول کا دبدبہ ہوتا ہے۔ مریدوں کے جھرمٹ، قدم بوسی، دست بوسی—یہ سب سیرت کے برعکس ہے۔رسول اللہ ﷺ جب کسی سے ملتے تو مسکرا کر ملتے، مصافحہ کرتے تو دوسرا شخص ہاتھ کھینچتا تب جاتے۔ جب تک ساتھ بیٹھا شخص خود نہ اٹھتا، آپ ﷺ نہ اٹھتے۔ کسی صحابی کو تین دن نہ دیکھتے تو دریافت فرماتے، اگر بیمار ہوتے تو عیادت کو جاتے۔ آپ ﷺ عام گدھے پر سفر فرماتے، غلاموں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے، بچوں کو سلام کرتے۔
آج کے "مذہبی" معاشرے میں بڑی گاڑیاں، قیمتی لباس، مریدوں کا ہجوم—یہ سب دکھاوا بن گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اگر سوار ہوتے اور کوئی پیدل چل رہا ہوتا تو اسے اپنی سواری پر بٹھا لیتے، یا اسے آگے جانے کو کہتے۔ آج مذہبی راہنما بڑی گاڑیوں میں سوار ہیں اور عوام ان کے پیچھے دوڑ رہی ہے۔
آپ ﷺ ہمیشہ خندہ پیشانی سے ملتے، دوستوں کے ساتھ پاکیزہ مزاح فرماتے۔ ایک بزرگ خاتون نے جنت کی دعا مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا: "بوڑھیاں جنت میں نہیں جائیں گی۔" وہ رونے لگیں تو مسکرا کر بتایا: "تم جوان ہو کر جاؤ گی۔ اللہ تمہیں نئی صورت عطا فرمائے گا۔"
آپ ﷺ کی مجلس میں سب برابر ہوتے، کوئی اونچ نیچ نہ تھی۔ آپ ﷺ صحابہ کی بات غور سے سنتے، ان کے ساتھ ہنستے، اور کبھی کبھی بغیر کہے بھی مسکرا دیتے، پھر اس کی حکمت بتاتے۔سیرتِ نبویؐ کا یہ روشن پہلو ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ مذہبی بننے کا مطلب خشکی اور تکبر نہ سمجھیں، بلکہ محبت، نرمی، اور خندہ پیشانی کو اپنائیں—ورنہ ہم دین کی صحیح روح سے محروم رہ جائیں گے۔
۱۱ ستمبر 2025ء مطابق 17 ربیع الاول 1447ھ








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں