زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

پیر، 15 ستمبر، 2025

سقراط اور حضرت ابوذر غفاریؓ کی نارمیٹو ایتھکس کا باہمی رابطہ

سقراط  اور حضرت  ابوذر غفاریؓ کی نارمیٹو ایتھکس کا باہمی رابطہ
ڈاکٹر  نذر حافی :  
جسمانی، نسلی اور خون کے رشتوں کی مانند کچھ رشتے داریاں فکری، تاریخی اور نظریاتی بھی ہوتی ہیں۔ آج دنیا میں جتنے لوگوں کو "عظیم انسان" کہاجاتا ہے ، ان سب کو  اپنے اپنے دور میں جھٹلایا گیا تھا۔ ان سارے عظیم انسانوں کی آخر کوئی تو  قدرِ مشترک  ہوگی؟  سقراط کی سزائے موت اور حضرت ابوذرؓ  کی جلاوطنی  کو ہی لیجئے۔ کیا ہم نے نسلِ   نو  کو یہ پوچھنے  اور سوچنے کا حق دیا ہے کہ سقراط کے سوال کا جواب ایتھنز نے زہر سے اور حضرت  ابوذرؓ کے سوال کا جواب ریاستِ مدینہ نے جلاوطنی سے کیوں دیا؟۔ ان کی معیاری اخلاقیات کی کسوٹی سے حکمرانوں کو کیا کد تھی؟  کیا یہ سچ ہے کہ دونوں نے اپنے عہد کی سماجی اور اخلاقی بدعنوانیوں کے خلاف آواز بلند کی اور اسی وجہ سے انہوں نے  حکمران طبقے اور معاشرتی اشرافیہ کی مخالفت کا سامنا کیا؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ صاحبانِ اقتدار کے تمام تر اثرورسوخ کے باوجود انہوں نے  معیاری اخلاقیات  کی جو  کسوٹی  معیّن کی اُسے کوئی  کیوں جھٹلا نہیں سکا؟۔
 ایک کو زہر کا جام اور دوسرے کو جلاوطنی کا زہر دیا گیا۔ کیا  عظیم انسانوں  کی مانند  جغرافئے میں بٹی ہوئی ڈیموگرافی کی بھی کچھ مشترکہ خصوصیات ہوتی ہیں؟ 
سقراط نے زہر کی گرمی اور حضرت ابوذر غفاریؓ  نے تپتے ہوئے صحرا کی گرمی چکھ کر دونوں  نے یہ ثابت کیا کہ ہم نہیں جانتے کہ موت کیا ہے مگر یہ جانتے ہیں  کہ جھوٹ بول کر  جینا موت سے بدتر ہے۔ 
 سقراط پانچویں صدی قبل مسیح میں یونان کے شہر ایتھنز میں پیدا ہوا۔ ایتھنز ایک ایسا شہر جو جمہوریت فلسفے اور غور و فکر کا مرکز تھا۔ سقراط نے  اسی جمہوریت کے مرکز میں جب لوگوں کو سوچنے اور سوال اٹھانے کی ترغیب دینا شروع کی  تو اُس پر"نوجوانوں کو بگاڑنے" اور "دیوی دیوتاؤں کی توہین" کا الزام لگا کر مقدمہ چلایا گیا۔ سقراط کا قصور یہ تھا کہ اُس نے  نام نہاد جمہوریّت  کے شہر میں سوال کی شمع جلائی تھی۔لکھنے والوں نے لکھا  ہے کہ  وہ لوگوں سے پوچھتا تھا کہ کیا جمہوریت اخلاق سے بالاتر ہے؟؟
 حضرت ابوذرؓ رسول اللہ ﷺ کے قریبی اصحاب میں سے تھے۔ ان کا پس منظر قبیلہ غفار سے تھا۔ قبیلہ غفار  ایک ایسا قبیلہ جو رہزنی میں مشہور تھا مگر حضرت  ابوذرؓ نے اسی ماحول سے نکل کر ایمان زہد اور صداقت کی بلند ترین مثال قائم کی۔آپ نے اسلامی ریاست کے مرکز یعنی مدینہ منوورہ کو اپنا مسکن بنا لیا۔ عہد نبوی ؐ کے بعد جب  دولت،  زمینوں اور اختیارات کا ارتکاز اموی سرداروں کے ہاتھ میں آنے لگا تو ابوذرؓ نے یہ سوال اٹھانا شروع کر دیا کہ کیا حکومت  امانت و عدالت سے بالاتر ہے؟   جو الزام سقراط پر تھا وہی حضرت  ابوذرؓ پر بھی لگا۔ کیا  اُمّت کے بچے خراب ہونے لگے تھے۔
سقراط، ایتھنز کی گلیوں کا وہ دانا جو خود کو "نادان" کہتا تھا، اُس کی زبان سے نکلے ہوئے سوالات تخت و تاج  ہلا دیتے تھے۔ اس نے زندگی کے جام کو ٹھکرا کر زہر کا پیالہ پیا، لیکن جہالت اور جھوٹ کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔ نہ وہ تلوار رکھتا تھا، نہ فوج، نہ کُرسیِ صدارت۔ وہ صرف سوال اٹھانے کا ہُنر رکھتا تھا۔ 
سقراط  کے صدیوں بعد، عرب کی سرزمین پر حضرت  ابوذرؓ نے  بھی اشرافیہ اور حکمرانوں کے کردار پر سوال اٹھانے کو ضروری سمجھا۔ سقراط کی طرح  وہ بھی تنہا تھے، ان کے پاس بھی کوئی لشکر نہ تھا،  اُن کی دانائی میں صرف سچائی کی تپش تھی اور ایمان کا جلال۔
دونوں نے آئندہ نسلوں کو یہ سکھا دیا کہ سچائی کے راستے پر چلنے سے آپ تنہا ہو سکتے ہیں لیکن شکست نہیں کھا سکتے، آپ کا جسم ابدی نیند سو سکتا ہے لیکن آپ کا پیغام نہیں مر سکتا۔ یہ دو تہذیبوں  کے رول ماڈل ہیں  ،  ایک مغرب کی گلیوں سے ابھرا، اور دوسرا  مشرق کے صحرا سے۔ ان کے زمانے الگ تھے لیکن خواب ایک۔ دونوں  ایک ایسا جہاں چاہتے تھے کہ  جہاں سچ جھکنے کے بجائے سر بلند رہے   اور ضمیر  زہر و تلوار سے نہ ڈرے۔ دونوں نے نے زبان کو تیغ  اور صداقت کو علم بنا کر یہ منوا لیا کہ جان کی قربانی  اگر صداقت کی گواہی بنے  تو  یہ سودا مہنگا نہیں۔
دونوں کی صدائے  احتجاج کو حکمرانوں نے نہیں سمجھا۔ دونوں  صرف یہ سوال نہیں اٹھا  رہے تھے کہ " یہ کیسے حکمران ہیں ؟" بلکہ دونوں یہ سوال اٹھا رہے تھے  کہ حکمرانوں کو کیسا ہونا چاہیے؟"۔  وہ انسانی اقدار کو  اقتدار پر حاکم کرنا چاہتے تھے۔ سقراط کے لیے "نیکی" ایک مطلق قدر تھی اور حضرت  ابوذرؓ کے لیے "عدل" قرآن کا اٹل حکم۔ دونوں نے یہ ثابت کیا کہ صداقت کا راستہ آسان نہیں مگر ابدی ہے۔دونوں اپنے پیچھے یہ سوال چھوڑ کر چلے گئے کہ سقراط  اور حضرت  ابوذرؓ نے آخر معاشرے میں بگاڑ پیدا کیا تھا یا اصلاح کیلئے کوشاں تھے؟ جو سماج  اپنے مُصلح کو نشانِ عبرت بنا دے کیا وہ زوال پذیر نہیں ہو گا؟  سقراط کا مسموم ہونا اُس کی سچائی  کا ثبوت تھا اور حضرت  ابوذرؓ کا جلا وطن ہونا اُن  کی حق گوئی کا نشان بن گیا۔ جس طرح  سقراط نے تخت و تاج  کو تولا اور حق کے پلڑے کو بھاری پایا، اسی طرح حضرت ابوذرؓ نے سونے  و چاندی کے انبار دیکھے لیکن ربذہ کے فقر و فاقے کا انتخاب کیا۔
یہ دونوں شخصیات انسانی تاریخ میں Normative Ethics ﴿ فلسفہ اخلاق کی وہ شاخ جو یہ طے کرتی ہے کہ اسے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے﴾ کا مجسم اظہار ہیں۔ ان کا احتجاج در اصل احتجاج برائے احتجاج نہیں تھا۔ انہوں نے جھوٹ کے ساتھ زندگی  کو  موت ثابت کیا اور سچ کے ساتھ موت  کو مرنے کے بجائے زندگی کا ایک نیا راستہ بنا دیا۔ دونوں  صاحبانِ علم  کے ہاں آج بھی   بولتے ہیں اور دونوں کے نام اج بھی گونجتے ہیں۔افلاطون نے ’’ری پبلک‘‘ میں سقراط کے سچ کو امر کر دیا اور تاریخِ اسلام نے ابوذرؓ  کی سچائی  کو استعارہ بنا دیا۔
نسلِ نو کے بچے اپنے اجداد سے  پوچھتے ہیں کہ سقراط کی قبر ایتھنز میں ہے اور حضرت ابوذرؓ کا مزار ربذہ میں! مگر جو لوگ خاموش تماشائی  بن کر  سقراط کو زہر پیتے اور حضرت ابوذرؓ کو جلاوطن  ہوتے ہوئے  دیکھتے رہے، ان لوگوں کی قبریں کہاں ہیں؟  ہمارے بچے ہمارے ہی تاریخی  رویّوں کو دیکھ کر یہ بھی پوچھتے ہیں کہ  ہمارے  ہاں نسل در نسل انسانی ضمیر اپڈیٹ ہوتا رہا یا اَن اِنسٹال؟ وہ ہم پر حیران ہوتے ہیں  کہ ہم سقراط اور حضرت ابوذر کے نام لیوا تو ہیں لیکن پھر کیوں آج   ہمیں اشرافیہ اور  صاحبانِ اقتدار کی  غلامی سے گھن نہیں آتی؟  بچوں کیلئے اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ جب سے انسان نے حکمرانوں پر سوال اٹھانا چھوڑ دیا ہے تب سے اُسے غلامی راس آ گئی ہے۔ چونکہ سوال کرنے سے ضمیر اپڈیٹ ہوتے ہیں اور جی حضوری کرنے سے ضمیر اَن اِنسٹال ہو جاتے ہیں۔ اس پسِ منظر میں  ایک حکایت ملاحظہ کیجئے  کہ چڑیا گھر میں ایک اونٹنی کے بچے نے اپنی ماں سے پوچھا کہ ماں ! ہماری ٹانگیں اتنی لمبی کیوں ہیں؟ ماں نے کہا چونکہ ہمیں صحراوں میں تیز دوڑنے کیلئے پیدا کیا گیا ہے۔ پھر بچے نے پوچھا کہ ہماری کوہان کیوں ہے؟ ماں نے کہا تاکہ ہم صحرا میں کئی دنوں پانی پئے بغیر زندہ رہ سکیں۔ پھر بچے نے پوچھا کہ ہماری پلکیں بھاری پردوں کی مانند کیوں ہیں؟ ماں بولی تاکہ ہم صحرا میں طوفان کے دوران دور تک دیکھ سکیں۔۔۔ پھر  بچے نے تڑپ کر ماں سے پوچھا کہ پھر ہماری گردن میں یہ رسی کیوں ہے؟۔۔۔ اور ماں تعجب سے اپنے بچے کو دیکھتی رہ گئی۔
ہم سے بھی بچے پوچھتے ہیں کہ ہم  مسلمان کیوں  ہوئے تھے   ؟  صحابہ کرام نے اتنی قربانیاں کیوں دی تھیں؟ مسلمانوں نے ہجرت کیوں کی تھی؟ نبی ؐ نے غزوات میں کیوں حصّہ لیا تھا؟ ہم جواب دیتے ہیں کہ ہر غلامی سے آزاد ہونے کیلئے ۔ تب بچے تڑپ کر   پوچھتے ہیں کہ پھر ہماری گردنوں میں یہ اشرافیہ و حکمرانوں کی غلامی کا طوق کیوں ہے؟  

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...