میثاقِ مدینہ کی روشنی میں قائداعظم محمد علی جناح کا تصوّرِ قومیت
ڈاکٹر نذر حافی :
قوموں کی تاریخ میں نظریات محض فکر نہیں بلکہ ایک تہذیبی و تاریخی سفر کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ قومیت کا نظریہ بھی ایسا ہی ایک تصور ہے، جو کبھی محض زمین، رنگ، نسل اور زبان کے گرد طواف کرتا ہے، اور کبھی عقیدے، نظریے اور تہذیب کے گرد گھومتا ہے۔ مغرب میں اس کا چہرہ زیادہ تر جغرافیائی قوم پرستی کے غلاف میں لپٹا رہا، لیکن اسلام نے جب اس تصور کو چھوا تو اس کی بنیاد نسل و زبان سے ہٹا کر ایمان و عقیدے پر رکھ دی۔
تاریخ کے آئینے میں جھانکیں تو اسلام کا ظہور ہی ایک ایسے عہد میں ہوا، جب قبائلی تعصبات، نسبی برتری اور لسانی تفاخر قومیت کے پیمانے سمجھے جاتے تھے۔ مگر پیغامِ رسالت نے ان تمام زمینی پیمانوں کو توڑ کر ایک آسمانی رشتہ متعارف کرایا جسے رشتۂ ایمان کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید نے اعلان کیا "إنما المؤمنون إخوة" یعنی بھائی وہ ہے جو ایمان کے رشتے میں بندھا ہوا ہو، نہ کہ وہ جو ایک قبیلے، رنگ یا زبان کا حامل ہو۔
اسی تصور نےجب مدینے کی زمین پر ایک عملی تشکیل اختیار کی تو نبی کریم ﷺ نے مختلف قبائل اور مذاہب کے افراد کو ایک سماجی معاہدے " میثاقِ مدینہ " کے تحت ایک معاشرتی وحدت میں پرویا۔ اس معاہدے میں مسلمانوں کو سماج میں ایک الگ امت قرار دینا، اہل معاشرہ کے درمیان دینی فرق کو باقی رکھتے ہوئے مذہبی اور سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنا، اور ریاستی قیادت کو ایک مرکزی اتھارٹی کے تحت منظم کرنا، یہ سب اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اسلام نے قومیت کا مفہوم محض نسلی یا جغرافیائی بنیادوں پر رکھنے کرنے کے بجائے نظریاتی اور ایمانی بنیادوں پر وضع کیا ہے۔
یہ سلسلہ عہدِ نبویؐ سے شروع ہو کر مختلف مسلمان بادشاہتوں سے ہوتا ہوا بالآخر خلافتِ عثمانیہ تک جاری رہا۔ ہر دور میں امت کا رشتہ نسل و زبان سے ماورا رہا۔ مسلمان ترک تھے یا عرب، ایرانی تھے یا ہندی، سب ایک قوم کہلاتے تھے ۔ بعد ازاں جب خلافتِ عثمانیہ کا شیرازہ بکھرا، تب بھی یہ ایمانی وحدت ایک فکری تسلسل کے طور پر باقی رہی۔ استعمار کے دور میں یہی وحدت مسلمانوں کے لیے ایک ڈھال بنی، اور اسی احساسِ قومیت نے برصغیر کے مسلمانوں کے اندر ایک الگ شناخت کے شعور کو بیدار کیا۔برصغیر میں مسلمانوں کیلئے الگ قومیّت کی بات سب سے پہلے سر سید احمد خان نے کی۔ انہوں نے سب سے پہلے یہ دعوی کیا کہ ہندوؤں کے ساتھ اشتراکِ وطن کا مطلب اشتراکِ قوم نہیں۔ ان کا طرزِ فکر خالصتاً اصلاحی اور تعلیمی تھا، لیکن اس کے اندر ایک گہری تہذیبی اورتاریخی آگاہی پوشیدہ تھی۔ یہی بات کہ مسلمان اپنی تاریخ، تمدن، روایات اور عقائد کے لحاظ سے ایک الگ قوم ہیں، آگے چل کر دو قومی نظریے کی صورت اختیار کرگئی۔
اسی نظریاتی اساس کو علامہ اقبال نے نئی فکری وسعت عطا کی۔ انہوں نے مسلمانانِ برصغیر کے لیے ایک جدا وطن کا خواب دیکھا، اور یہ استدلال پیش کیا کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، اور اس ضابطے کے پیروکاروں کا جداگانہ سیاسی نظام ہونا ناگزیر ہے۔علامہ اقبالؒ کے نزدیک قوم وہ ہے جس کا خدا، رسول، شریعت، اخلاقی نظام اور تہذیبی شعور مشترک ہو۔ یہ تعبیر اسلام کے اس عالمگیر تصورِ امت کو ایک جغرافیائی اور سیاسی اظہار میں ڈھالنے کی ایک بھرپور کوشش تھی۔
فکری سطح پر یہ قومیت جب عملی سیاسی تقاضا بنی، تو اس کے قائد محمد علی جناح قرار پائے۔ ابتدا میں جناح ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار تھے لیکن کانگریس کے رویے، 1937ء کے انتخابات، اور اقتدار کے ایوانوں میں مسلمانوں کی بیگانگی نے انہیں یہ حقیقت سمجھا دی کہ برصغیر میں مسلمانوں کے سیاسی، تہذیبی اور مذہبی مفادات صرف ایک علیحدہ قوم کی حیثیت سے ہی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ یہاں سے مسلم قومیت ایک شعور سے بڑھ کر ایک سیاسی تحریک میں ڈھل گئی۔
مارچ 1940ء میں لاہور کے مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ کے تاریخی اجلاس میں جو قرارداد پیش ہوئی، وہ دراصل صدیوں پر محیط اس فکری ارتقاء کا سیاسی نقطۂ عروج تھی۔ یہ قرارداد مسلمانوں کی جداگانہ قومیت کو آئینی سطح پر تسلیم کرنے کا مطالبہ تھی۔ اس مطالبے کی روح وہی تھی جو میثاقِ مدینہ کی روح تھی ، ایک ایسی ریاست کی تشکیل جہاں مسلمان اپنی تہذیب، شریعت، ثقافت اور نظامِ حیات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
یہ امر محض ایک سیاسی ہنر نہیں تھا، بلکہ ایک فکری اور تاریخی ناگزیرت تھی۔ قیامِ پاکستان کوئی حادثہ نہیں تھا، بلکہ اسلامی قومیت کے ایک تدریجی، منطقی اور نظریاتی سفر کی منزل تھی۔ حضرت محمد ﷺ کی امت سازی سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ، خلافتوں کی وحدت سے گزرتا، برصغیر کی فکری تحریکوں سے ہوتا ہوا، قراردادِ لاہور میں پختہ ہوا اور بالآخر 1947ء میں پاکستان کے قیام پر منتج ہوا۔
قائداعظم محمد علی جناح کا تصوّرِ قومیّت اپنے زمانے کی بہت ساری ناموّر شخصیات کے برعکس تھا۔ اُن کی قیادت، فکری بصیرت اور اصولی سیاست نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک نئی منزل تو دی مگر اس راہ میں انہیں بہت سارے مسلمان اکابرین کی مخالفت کا سامنا رہا۔ ان میں علامہ عنایت اللہ مشرقی، مولانا ظفر علی خان کا نام بطورِ مثال لیا جا سکتا ہے۔
علامہ مشرقی، جو خاکسار تحریک کے بانی تھے، ایک عالمی اسلامی قوم کا خواب دیکھتے تھے اور ان کی نگاہ میں برصغیر کی وحدت کو توڑ کر ایک علیحدہ ریاست قائم کرنا درست نہ تھا۔ وہ قائداعظم کی پارلیمانی سیاست اور مسلم لیگ کی قیادت کے تصوّرِ قومیت سے متفق نہ تھے۔ ان کی تحریروں اور تقاریر میں یہ تاثر نمایاں ہے کہ وہ جس مسلمان قوم کی بات کر رہے تھے اُس مسلمان قوم کیلئے جناح کو بطورِ قائد ماننے پر تیار نہیں تھے۔
اسی طرح مولانا ظفر علی خان، جو "زمیندار" جیسے بااثر اخبار کے مدیر تھے، ان کا جھکاؤ ایک ایسی مسلمان قوم کی طرف تھا جو شریعت کا عملی نفاذ تو کرے لیکن وہ ایسی مسلمان قوم کو بطورِ قوم ماننے کیلئے آمادہ نہ تھے کہ جو ایک نیا جغرافیائی وطن تشکیل دے۔ ان کا راستہ مہاتما گاندھی کی مانند "ہندو مسلم ایک قوم "والا تھا۔ مسٹرگاندھی اور علامہ مشرقی کی مانند وہ بھی جناح کے تصوّرِ قومیت کو رد کرتے تھے۔
ادھر گاندھی، جو ایک عظیم سیاسی شخصیت اور ہندوستانی قوم پرستی کے سب سے بڑے علمبردار سمجھے جاتے ہیں، وہ بھی قائداعظم کے دو قومی نظریے کو صاف الفاظ میں مسترد کرتے تھے۔ ان کے مطابق ہندو اور مسلمان صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں، اوردین کو بنیاد بنا کر قوموں کی تقسیم کرنا ایک غلطی ہے۔ گاندھی کے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کے قیام کو ایک المیہ سمجھتے تھے اور انہوں نے اسے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ مذکورہ تینوں شخصیات مختلف زاویوں سے حیرت انگیز طور پر ایک دوسرے سے مماثلت رکھتی ہیں۔ جیسے قائداعظم کی قیادت کو ماننے سے انکار، دو قومی نظریے کی مخالفت اور ہندو مسلم کا ایک قوم ہونے کا دعویٰ۔ اگرچہ مشرقی اسلامی انقلاب کے داعی تھے، مولانا ظفر علی خان مذہبی رومانویت کے قائل، اور گاندھی سیکولر قوم پرست، مگر تینوں کے نزدیک جناح کا تصوّرِ قومیّت ناقابلِ قبول تھا۔
یہ فکری مخالفتیں اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ تحریکِ پاکستان کا تصوّرِ قومیّت اپنے ہمراہ بہت سارے مسلمانوں کی مخالفت بھی لئے ہوئے تھا۔ نظریاتی اختلافات کو چیر کر اپنا راستہ بنایا۔ بالآخر پاکستان قائم ہوا اور تاریخ نے فیصلہ دے دیا کہ میثاقِ مدینہ سے شروع ہونے والا "مسلمانوں کی علیحدہ قومیت کا تصور" اس قابل ہے کہ اس کی بنیاد پر مسلمان چودہ سو سال کے بعد بھی ریاستِ مدینہ کی مانند اپنے لئے ایک الگ ملک بنا سکتے ہیں۔
پاکستان در اصل مسلمان قوم کے جغرافیائی وجود کے اظہار کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے ایک جداگانہ فکری موقف، ایک تہذیبی سفر ، اور ایک تاریخی شعور کا مظہر بھی ہے۔ یہ ریاست اس طویل فکری ارتقاء کی زندہ علامت ہے، جس نے اسلام کے عقیدے پر مبنی قومیت کو محض وعظ و نصیحت سے نکال کر ایک عملی سیاسی قالب میں ڈھالا۔ قائداعظم محمد علی جناح کے تصوّرِ قومیت کو سمجھنے کیلئے میثاقِ مدینہ سے قرارد لاہور تک کی تاریخی سچائیوں کو سمجھنا اور تسلیم کرنا ضروری ہے۔ اس سے ماضی کی تفہیم بھی ہو گی اور حال و مستقبل کی سمت متعین کرنے کے لیے بھی مدد ملے گی۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں