زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

اتوار، 21 ستمبر، 2025

ساتویں صدی کے ایک ریجنل اسٹریٹیجک ہب میں حضرت ابوطالب ؑ کی تزویراتی حیثیت

ساتویں صدی کے  ایک ریجنل اسٹریٹیجک ہب میں حضرت ابوطالب ؑ کی  تزویراتی حیثیت :
ڈاکٹر  نذر حافی :
حضرت ابوطالب ؑ کی تزویراتی حیثیت کی پہچان کیلئے اُس وقت کے شہرِ مکّہ کو پہچاننا ضروری ہے۔ اگر مکہ کو ساتویں صدی کا ریجنل اسٹریٹیجک ہب (خطے کی حکمتِ عملی کا مرکز) کہا جائے تو یہ کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔ عرب دنیا کے جغرافیائی، معاشی، قبائلی اور مذہبی نیٹ ورک کا نکتۂ اتصال یہی شہر تھا ۔ ایک ایسا شہر جہاں طاقت کی تمام قبائلی ،تجارتی، اقتصادی، مذہبی ، ثقافتی  اور سیاسی  اکائیاں ایک دوسرے سے جُڑتی تھیں۔
ایک ایسے کثیرالجہتی اور  اہم مرکز میں خدا کی طرف سے حضرت محمد ﷺ  کو  بطورِ نبی مبعوث کیا گیا۔  آج اس بعثت کے پیچھے  حکمت، تدبر، مزاحمت، ہجرت اور انقلاب سے بھرپور منصوبہ بندی سب کو دکھائی دے رہی ہے۔ قُدرت نے اپنی  اس منصوبہ بندی میں  ایک ایسےمنصوبہ ساز  شخص کو بھی شامل  رکھا کہ  جس نے اللہ کے آخری رسولؐ کو  بغیر کسی رسمی عہدے کے ایک طاقتور اسٹریٹیجک پناہ گاہ  فراہم کی۔
ہمارے ہاں اس  منصوبہ ساز شخص کو حضرت ابوطالبؑ  کے نام سے جانا جاتا ہے۔  انہوں نے وادی ِ مکہ میں  طاقت کی مختلف جہتوں  سماجی اثر و رسوخ، قبائلی  رعب و دبدبے ، اور  مذہبی  مقام و عہدے  کے درمیان  ایک حکیمانہ توازن قائم کیا اور  اسلام کو سہارا دینے کے ساتھ ساتھ اہلِ مکہ کو بھی خون خرابے سے بچایا۔  اُس دور میں  اسلام کی حفاظت کیلئے  مکے کی  طاقت کی تمام اکائیوں اور  قریش کی تمام سیاسی و سماجی صف بندیوں کو ایک امن پسند ڈھانچے میں پرونا ضروری تھا چونکہ  اگر یہ اکائیاں بکھر جاتیں اور اِن میں اتحاد نہ رہتا  توان کے متفرق ہونے کے باعث  پیغمبرِ اسلام کے خلاف متعدد موروچوں سے  کارروائیوں کا امکان پیدا ہو جاتا جس سے  پیغمبرؐ کی زندگی  کو لاحق خطرات کئی گنا زیادہ ہو جاتے۔ چنانچہ حضرت ابوطالب ؑ نے ایک طرف تو پیغمبر ؐ کا دفاع کیا اور دوسری طرف قریش کو متحد رکھا تاکہ خطرات بڑھ نہ سکیں۔ وہ قریشی سرداری کے اندر رہتے ہوئے، قریش  کی مرکزی پالیسیوں سے اختلاف کرتے رہے جس کے باعث ایک نیا  توحیدی بیانیہ، یعنی اسلام، اپنی ابتدائی اور نہایت نازک حالت میں پنپنے کے قابل ہو سکا۔ ان کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کی حمایت، محض ایک چچا کی حمایت نہ تھی بلکہ یہ ایک قبائلی سردار کی جانب سے رائج  نظام کے اندر ایک نئی، خاموش  اور  فیصلہ کن صف بندی تھی۔
پیغمبرِ اسلام کو لاحق تمام ممکنہ خطرات کا بہترین متبادل حضرت ابوطالبؑ کی مزاحمتی حکمتِ عملی  تھی۔جب بھی قریش نے جارحیت کی کوشش کی  تو حضرت ابوطالبؑ  نے قبائلی اتحاد اور  سماجی  روایات کی طاقت سے انہیں روکا،  اگر   انہوں نے مسلمانوں پر معاشی پابندیاں لگائیں تو حضرت ابوطالبؑ نے  قبیلے کے اندرونی وسائل اور خود انحصاری کو بروئے کار لایا،  اگر دشمنوں نے  شدّت پسندی کا عندیہ دیا تو حضرت ابوطالبؑ  نے سفارتی مذاکرات اور بیانیے کا نرم و ہمدردانہ استعمال کیا۔ یہ لچکدار مزاحمت اور نرم جنگ  ایک ایسے  ماہر اور  ذہین اسٹریٹیجسٹ کی  اہم خصوصیات میں سےہے کہ جو صرف کسی  ایک ہی منصوبے پر انحصار نہیں کرتا، بلکہ متغیّر نقشے کے مطابق اپنا راستہ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
نبی ؐ کی حفاظت کیلئے اُن کی پہلی حکمتِ عملی قبائلی اثر و رسوخ کا استعمال تھا۔ انہوں نے  بنو ہاشم کو ایک Defensive Alliance (دفاعی اتحاد) میں تبدیل کر کے قریش کی ممکنہ جارحیت کی  موثر روک تھام  کر دی۔ دوسری حکمتِ عملی اُن کا حکمت آمیز ابہام تھا  ، وہ  قریش کو مذاکرات کے ذریعے  ہمیشہ ابہام میں رکھتے تھے  جس کی وجہ سے قریش کو  فیصلہ کن کارروائی کا جواز حاصل کرنے کیلئے  قبائلی تعاون حاصل نہیں ہو پاتا تھا۔ آپ  نے  قریش کے تند و سخت لب و لہجے کے مقابل ہمیشہ  اعتدال کا راستہ اختیار کر کے افراط و تفریط دونوں سے  اپنا دامن بچائے رکھا۔ قریش کی مرکزی قیادت  یہ جانتی تھی کہ اگر ابوطالبؑ کو ہی قتل کر دیں  تو نبیؐ کو بھی قتل کرنا آسان ہوجائے گا، مگر وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ابوطالبؑ کی جان لینے کی صورت میں  پورا قبائلی نظم و ضبط  یکسر عدمِ توازن کا شکار ہو جائے گا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حضرت ابوطالبؑ کی اسٹریٹیجک حیثیت اُجاگر ہوتی ہے۔ اُن کی موجودگی میں  قریش کا غیض و غضب اور شر   ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھ سکا۔
انہوں نے فقط زبان کے استعمال سے نہایت مہارت کے ساتھ قریش کو قابو کئے رکھا۔ آپ اپنی نرم سفارت کے ذریعے ایک  ایسے بیانیے کو فروغ دیتے رہے جو محمد ﷺ کی حمایت کے ساتھ ساتھ  قریش کی حساسیت کو بھی کم کرتا رہا۔ آپ نے اپنے  سماجی تعلقات کے زورسے قبائل کے درمیان  ہمدردی اور باہمی احترام کو زندہ رکھا  تاکہ اسلام کے دفاع کیلئے کسی  تصادم کی نوبت نہ آئے۔ آپ کی اس پالیسی نے جہاں مسلمانوں کو تحفظ دیا وہیں مخالفین بھی  اندر سے کمزور ہوتے گئے اور ان کے افراد رفتہ رفتہ  اسلام کے دائرے میں شامل ہوتے چلے گئے۔ اس طرح آپ  کی پالیسیوں کے باعث  مسلمانوں کیلئے  طاقت کا توازن  کبھی غیرمتوازن نہ ہوا۔آپ نے طاقتوروں  کے ساتھ تصادم کا راستہ تو اختیار نہیں کیا  مگر  طاقتوروں کے اثر و نفوذ  کو بے اثر کرنے کے لیے اپنی اخلاقی حیثیت کو اُن کے خلاف بطور اسلحہ استعمال کیا۔آپ نے اپنی اخلاقی و سماجی حیثیت کو  دفاعِ محمد ؐ کیلئے طاقتوروں  کے مقابلے میں کھڑا کر دیا۔  تاریخ میں نبی ﷺ کے ساتھ آپ  کی وابستگی کو ایک اخلاقی طاقت کے طور پر جانا اور  مانا گیا ہے۔
جب اہلِ مکہ نے شعبِ ابی طالب کا معاشی بائیکاٹ کیا تو حضرت ابوطالبؑ نے اس بحران میں اعلی قیادت   کا فریضہ انجام دیتے ہوئے  اپنے داخلی تعلقات و  وسائل کے ساتھ مسلمانوں کو زندہ رکھا۔ یہ ریسورس اینالیسس (Resource Analysis) کا ایک اعلیٰ درجے کا مظاہرہ تھا جو بحران میں بھی خود انحصاری کی طاقت پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے قریش کے ساتھ  کسی رسمی معاہدے  اور کسی تحریری دستور کے بغیرپیغمبر ﷺ کی دعوتِ حق کے لیے وہ سیاسی اور سماجی فضا مہیا کی کہ جس کے بغیر تحریکِ اسلام کا ابتدائی وجود ہی خطرے میں پڑ جاتا۔ وہ ایک خاموش معمار تھے، جنہوں نے اپنے گھر اور اپنے سائے میں اسلام  کی بنیاد رکھی مگر اس کا کریڈٹ کبھی خود نہیں لیا۔
وقت نے ثابت کیا کہ اس  حکمت عملی نے   اسلام کو  زندہ  بھی رکھا اور   ایک سیاسی اور سماجی طاقت کے طور پر  اپنے پاوں پر کھڑا  بھی کیا۔ یہ حضرت ابوطالب کے  لانگ ٹرم ویژن کا ہی نقشہ تھا کہ جس کے مطابق مسلمانوں نے  وقتی مشکلات کو عبور کر کے ایک نئی دنیا آباد کی ۔ اس پسِ منظر میں حضرت ابوطالبؑ کی حیثیت ایک غیر ریاستی مگر مؤثر  منصوبہ ساز  کی سی ہے کہ جس نے متعدد حاکم  طاقتوں کے درمیان رہتے ہوئے خدا کے  ایک سچے نبیؐ  اور اس کے دین  کو نہ صرف بچایا بلکہ اسے پروان  بھی چڑھایا۔  چنانچہ عامُ الحزن کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابوطالبؑ  کی موت  نبی ؐ کیلئے صرف ایک  چچا کی موت نہیں تھی بلکہ ایک پورے دفاعی نظام کی موت تھی۔  
 عام الحزن سے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ حضرت ابوطالبؑ نے بطورِ چچا  اپنے بھتیجے کی حمایت نہیں کی  بلکہ  انہوں نے افکارِ نبوّت کی حمایت کی اور خاندانی  رشتے کو نہیں نبھایا بلکہ  رسالت کی حفاظت کی،  انہوں نے نبیؐ کی پرورش کرتے ہوئے قبیلے کی رسم نہیں نبھائی  بلکہ  مستقبل کی ایک نئی تہذیب کی بنیاد کو اپنے وقار سے سینچا۔ یہی وجہ ہے کہ نبیؐ کیلئے  آپ کی موت کا غم صرف ایک چچا کی موت کا غم نہیں تھا بلکہ یہ اعلان تھا کہ  کہ کوئی بھی تحریک صرف نظریات کی بنیاد پر آگے نہیں بڑھتی بلکہ وہ اپنے  مہربان منصوبہ سازوں اور مخفی  نگہبانوں کی حکمت عملی سے جاری و ساری رہتی  ہے۔ تحریکیں محض نظریات سے زندہ نہیں رہتیں بلکہ نظریات تو  وہ بیج ہوتے ہیں جو تب تک بارآور نہیں ہوتے جب تک کوئی ان کی نگہبانی نہ کرے۔ ہمیشہ  وہ خاموش  نگہبان اور منصوبہ سازتحریکوں کو آگے بڑھاتے ہیں جو پس منظر میں رہ کر تاریخ کے دھارے کو بدلتے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی فکری تحریک "اسلام"  اگر ابتدائی مراحل میں بچی رہی تو اس کا سبب کوئی تلوار، کوئی قبیلہ یا کوئی معاہدہ نہیں تھا بلکہ ایک مردِ دانا  کی خاموش حکمتِ عملی تھی کہ  جسکے باعث طاقت کوبالاخرنبوّت کے سامنے  جھکنا پڑا۔ تاریخِ اسلام کی ابتدا کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابوطالبؑ ایک  عبوری دور کے معمار تھے کہ  جنہوں نے اپنی حکمتِ عملی کے ساتھ ایک   قدیم دنیا  کے اندر نئی اور   جدید   دنیا کے لیے جگہ بنائی۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...