شہید کی مائیکرو ڈپلومیسی
شہید کی پہلی برسی پر خصوصی تحریر
ڈاکٹر نذر حافی :
مائیکرو ڈپلومیسی، روایتی ریاستی سفارت کاری کے برعکس، ایسے عمل کو کہا جاتا ہے جس میں افراد، عوامی رہنما، تنظیمیں یا میڈیا بین الاقوامی یا علاقائی امور پر اثر انداز ہوتے ہیں، بغیر اس کے کہ وہ کسی رسمی سفارتی عہدے پر فائز ہوں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ شہید حسن نصراللہ عسکری قیادت کے علاوہ بروقت تقاریر اور بروقت خاموشی کے لحاظ سے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک غیر روایتی سفارتی طاقت بن چکے تھے۔شہید حسن نصراللہ نے مقاومت کی تعریف کو الفاظ، خاموشی، صبر، اور بصیرت کے آئینے میں دوبارہ تراشا۔عصرِ حاضر کی بین الاقوامی سیاست میں سفارت کاری کے روایتی طریقے اب صرف رسمی ملاقاتوں، معاہدوں اور اعلامیوں تک محدود نہیں رہے۔ اکیسویں صدی کی بدلتی ہوئی سیاسی حرکیات نے مائیکرو ڈپلومیسی (Micro-Diplomacy) جیسے نئے تصورات کو جنم دیا، جن کے ذریعے دانشور، غیر ریاستی فریقین اور عوامی قائدین عالمی بیانیے پر اثر انداز ہو رہےہیں۔حزب اللہ کے شہید رہنما سید حسن نصراللہ غیر معمولی طور پر ان غیر روایتی سفارتی اثرات یعنی مائیکرو ڈپلومیسی کے حامل تھے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں ہر باشعور اور غیّورقوم کو اُن جیسی قیادت کی ضرورت ہمیشہ پیش آتی رہے گی لہذا اُن کی عسکری، سیاسی اور سفارتی حکمتِ عملی کو بطورِ نصابِ تعلیم سمجھنے اور اپنانے کی ضرورت ہے۔
شہید حسن نصراللہ کے افکار و نظریات ہمارے لئے اس وجہ سے بھی اہم ہیں چونکہ ہمیں آئندہ نسلوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ جب ریاستیں سچائی پر مبنی الفاظ کو زخم لگانے لگیں، اور میڈیا سچ کو زہر بنا دے، تب ایسی قیادتیں ابھرتی ہیں جو الفاظ کو مرہم میں بدل دیں اور خاموشی کو حکمت بنا دیں۔ ایسے رہنما صرف سیاسی خلا نہیں بھرتے بلکہ وہ روحانی و فکری خلا کو بھی اپنی سچائی اور معنویت سے پُر کرتے ہیں۔ ایسے ہی قائدین کی تاریخ بعد والوں کیلِئے نصابِ تعلیم اور مشعلِ راہ ہوتی ہے۔ شہید حسن نصراللہ کا سکوت بھی اُن کی خطابت کی مانند اُن کی جنگی حکمتِ عملی کا ایک سلسلہ تھا۔ قُدس کی آزادی کی تحریک ہو یا فلسطینیوں کی سیاسی بقا کا مسئلہ، یوم القدس کی مناسبت ہو یا عالمِ اسلام کے خلاف استعماری طاقتوں کا جال ، اُنہوں نے ہمیشہ اپنی موثر خطابت اور سحر انگیز خاموشی سے یہ منوایا کہ مواقف صرف سوچ کے ترجمان نہیں ہوتے بلکہ دشمن کیلئے عسکری حملوں سے زیادہ تباہ کُن ہوتے ہیں۔ اُن کی مدبّرانہ خطابت اور سکوت نے ہمیشہ دشمن کو نفسیاتی پسپائی میں مبتلا رکھا۔ وہ جب بھی مائیک کے سامنے آتے تو وقت کی مناسبت سے مناسب پیغام کے باعث اُن کا ہر خطاب خود ایک آپریشنل واقعہ کی حیثیت اختیار کر جاتا ۔ انہوں نے اقوام عالم کو سکھایا کہ کیسے سفارتکاری کی دنیا میں الفاظ کو "دھوکے" کے بجائے دلیل اور سکوت کو "ڈر" کے بجائے "دانائی" میں ڈھالا جاتا ہے۔
اُن کی ہر تقریر مقاومتی و مزاحمتی محاذ کے حوصلوں کو بلند کرنے اور دشمن کے سیاسی و عسکری حساب کتاب میں شکوک و تذبذب پیدا کرنے کے لیے کافی ہوتی۔ اسی وجہ سے اُن کی تقریری اور خاموشی کی حکمتِ عملی کو سمجھنا کسی سیاسی مبصر کے لیے مکمل طور پر ایک مزاحمتی و مقاومتی بیانیے کا مطالعہ ہے ۔ ان کا بولنا اور چپ رہنا مساوی تھا دونوں کے اندر ایک جیسی کاٹ تھی۔ دونوں نے وہ کام کیا جو اکثر ریاستیں کروڑوں خرچ کر کے بھی نہ کر سکیں۔ جتنا مؤثر ان کا بولنا رہا، اتنی ہی اثر انگیز ان کی خاموشی بھی رہی۔ جب وہ خاموش رہے، تو دشمن کی خبروں میں ان کی غیر موجودگی ہی سرخی بن گئی۔ ان کا خاموش رہنا ہمیشہ ایک اسٹریٹیجک وقفہ ثابت ہوتا ، وہ ایسی خاموشی اختیار کرتے گویا کسی کمرے میں ایک "خاموش شیر "موجود ہو اور اُس کی موجودگی کو کسی طور بھی نظر انداز نہ کیا جا سکا۔ جدید دنیا نے تسلیم کیا کہ اُن کی خاموشی کسی بھی لحاظ سے اُن کی آواز سے کم رعب دار نہ تھی۔
آپ اُن کی جو بھی تقریر اُٹھا لیں، اُن کے ہاں زبان اور بیان کا حُسن بے مثال تھا، ان کا زوردار اور فصیح لہجہ اُن کے پیغامات کو عوام تک براہِ راست پہنچاتا ، عسکری و سیاسی مطالب کو دلکش اور فصیح لب و لہجے میں بیان کرنا بس اُنہی کا ہُنر تھا۔ اس ہُنر میں مذہبی و تاریخی حوالہ جات اُن کے الفاظ کو ایک اخلاقی اور معنوی وزن عطا کرتے، جس سے مقاومت کا بیانیہ صرف اطلاعات کا تبادلہ نہیں رہتا بلکہ ایک قسم کا اجتماعی نصاب بن جاتا اور دوست و دشمن دونوں اُن کی تقریر کے سحر میں مبتلا ہوجاتے۔اُنہوں نے آج کے جدید عہد میں یہ منوایا کہ طاقت صرف ہتھیار نہیں، بیانیہ بھی ہے اور بیانیہ صرف دعویٰ نہیں، تجربہ، قربانی اور صداقت سے بنتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے سکوت و بیان کے اثرات آج بھی دشمنوں کے دماغوں ، حلیفوں کے دلوں ، اور تاریخ کے صفحات پر نمایاں ہیں۔
وہ بخوبی جانتے تھے کہ پیغام رسانی کی ٹائمنگ ایک عُمدہ ہتھیار ہے۔لہذا بہترین ٹائمنگ کی تلاش میں اُن کی خاموشی بھی دشمن کیلئے جان لیوا ہوا کرتی تھی۔ انتہائی حساس اور اہم لمحات میں جیسے حملوں، شہادتوں یا بین الاقوامی فیصلوں کے موقع پر اُن کے پیغام کی پہنچ اور مطلوبہ تاثیر نتائج کے اعتبارسے سب سے زیادہ تھی۔ وہ تقریر کرتے تو گویا دشمن کی روح قبض کرتے جاتے اور خاموش ہوتے تو دشمن کی سانسیں اُکھڑنے لگتیں۔ اُن کی ہر تقریر اپنی موقعیت، جذباتی کیفیت، میڈیا کی توجہ اور بین الاقوامی منظرنامے کے گزشتہ سارے ریکارڈ توڑ دیتی۔ وہ ہمیشہ صحیح وقت پر ایک پیغام دے کر دشمن کے ردِعمل، اسرائیلی مورال، اور غیرمنصفانہ ثالثی کے عمل کو جامد کر کے رکھ دیتے۔ انہوں نے مائیکرو ڈپلومیسی کی اصطلاح کو دینی پیرائے میں زندہ کیا اور اس کے ذریعے بیانیہ، نفسیاتی جنگ، ثقافتی خوداعتمادی، اور سفارتی بالادستی حاصل کی۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ ان کے کسی ایک خطاب نے اقوامِ متحدہ کے بیانیے کو ہِلا کر رکھ دیا اور ان کے ایک توقف نے اسرائیلی کابینہ میں خوف پیدا کر دیا۔ دنیا نے اُن سے یہ سیکھا کہ مزاحمت و مقاومت صرف گولی سے نہیں، بلکہ صبر، تجزیے، اور سکوت سے بھی کی جاتی ہے۔ مثلاً کسی حملے کے فوراً بعد، کسی اہم شخصیت کی شہادت پر یا کسی بین الاقوامی فیصلے کے منظرِ عام پر آنے سے پہلے انہوں نے جب بھی تقریر کی تو اوضاع و صورتحال بالکل بدل گئی۔ انہوں نے اپنے سامعین کو صرف قائل نہیں کیا بلکہ انہیں شریکِ مزاحمت بنایا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان کے مدبرانہ جملوں اور حکیمانہ لفاظی نے مزاحمت و مقاومت کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔
باڈی لینگوئج کے ساتھ دشمن کو نفسیاتی دباؤ میں جکڑے رکھنا یہ اُن کی مستقل حکمتِ عملی کا حصہ تھا۔ اپنے متوقع عملی اقدامات کی تفصیل افشا کئے بغیر اُن کے اعلانیہ یا بالواسطہ لفظی اشارے اور ان کی باڈی لینگوئج دشمن کو غیر یقینی صورتِ حال میں مبتلا رکھتی۔ اسی متوازن عسکری، سیاسی اور ادبی خطابت نے اُنہیں ایک سیاسی و سفارتی طاقت بھی بنا دیا۔اُن کی مائیکرو ڈپلومیسی کا مقصد مقاومتی محاز کی نفسیاتی اور جذباتی قوت کو برقرار رکھنا، بحران میں کارروائی کی امید و برداشت بڑھانا، اور سیاسی و عسکری عمل کو طویل عرصے تک جاری رکھنا شامل ہوا کرتا تھا۔ شہادتیں چاہے کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوں وہ اپنے بیانات کے ذریعے قربانی دینے کے جذبے کو مزید معنادار بناتے ، شہداء کی داستانوں اور یادگار رسموں کو منظم کرتے، مربوط اعلانات کے ذریعے مقاومتی کامیابیوں کو نمایاں کرتے، اور منتخب معلومات کے ذریعے جنگی خوف و اضطراب کو کنٹرول کرتے۔ جنگ ، استقامت اور سیاسی مذاکرات میں ہمیشہ اُن ہی کا موقف سب سے بہتر مانا جاتا۔ اُن کی خطابت کا جوہر مخصوص اہداف کے پیشِ نظر ٹھیک نشانے پر لگانے کیلئے بنائے گئے پیغامات اور اشارے ہُوا کرتے تھے۔ ایسے پیغامات جو رسمی سفارتی عمل کے بجائے، کثیرالابعاد سامعین (دشمن قیادت، علاقائی حلیف، مقامی فریق یا بین الاقوامی نگران) کے ذہن و فیصلوں کو نرم یا تبدیل کر دیتے۔ بغیر کسی رسمی سفارتی چینل پر انحصار کیے، شہید سید نصراللہ کا ہر خطاب مائیکرو ڈپلومیسی کا شہکار ہوتا تھا۔ اُ ن کا ایک بروقت اشارہ لوگوں کا لہو گرما دیتا، ساری اسرائیلی و امریکی قیادت کو چونکا دیتا ، ثالثی کے راستے کھول دیتا، یا داخلی سیاسی دھڑوں کو متحد ہونے کا پیغام دے دیتا۔
سید حسن نصراللہ کی خطابت کا سفارتی و عسکری کردار ایک ملٹی لیئرڈ حربی محور تھا ۔ اس سے مراد ایک کثیر السطحی جنگی حکمتِ عملی ہے ۔ ایسی حکمتِ عملی جس کے تحت مختلف و متعددسطحوں پر فوری آپریشنل وسائل، درمیانی سپلائی ، انسانی ذخائر، اور اعلیٰ سطح کے اسٹریٹجک و معنوی اثاثوں کو تہہ در تہہ اس طرح سے منظّم رکھا جاتا ہے کہ ایک پرت پر ضرب لگنے پر دوسری پرت صورتحال سنبھال سکے۔ یعنی ایسی حکمت عملی کہ جس کے تحت فنّی، معلوماتی، اسٹریٹجک، سماجی،عقیدتی اور وسائل کی پرتیں باہم مواصلت میں رہ کر بیانیے کو لچکدار، پائیدار اور مؤثر بناتی ہیں۔ عسکری انداز بیان ، سیاسی و سفارتی حکمت عملی اور دینداری و خاموشی جب ایک ساتھ منظم ہوجائیں تو خطبات فقط بیانات تک محدود نہیں رہتے بلکہ تبدیلی کا آلہ بن جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دشمن نے تو ہم سے سید حسن نصراللہ کو چھیننا چاہا ہے لیکن اب ہم انہیں اپنے نصابِ تعلیم کا حصّہ بنا کر نسل در نسل ہمیشہ اپنے درمیان زندہ اور باقی رکھیں۔ بقول شاعر
آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں