تعلیم و تربیت ایک ساتھ۔ رپورٹ: سید قاسم علی کاظمی
دینی طلبا کیلئے اصول پسندی محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی ہے۔ ہفتہ وار درسِ اخلاق ۔ جامعۃ الرضا میں طلبا کی تعلیم کے ہمراہ ان کی اخلاقی، نظریاتی اور قومی تربیت کا بھی خاص خیال رکھا جاتاہے۔اس سلسلے میں ہفتہ وار دروس، نشستوں اور مختلف پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس ہفتے کے درسِ اخلاق کا خلاصہ پیشِ خدمت ہیں:دین، فقط الفاظ کا پیراہن نہیں بلکہ انسان کو یہ دعوت دیتا ہے کہ انسان اپنے بارے میں اپنی فطرت کے مطابق یہ طے کرے کہ مجھے کیسا انسان ہونا چاہیے؟ میرا خدا جوکہ میرا آقا و مالک ہے اُسے کیسا ہونا چاہیے؟ اور میرے رہبر و رہنما کیسے ہونے چاہیے؟
یہ سوالات انسان کی زندگی کے معیارات اور اصولوں کو تشکیل دیتے ہیں۔ اس کے بعد انسان جو کچھ بنتا ہے وہ اپنے ہی طے کردہ اصولوں پر عمل کرنے کے نتیجے میں ہی بنتا ہے۔ حضرت امام علی ؑنے اصول پسندی کو اپنا کر ہمیں یہ درس دیا ہے کہ اصول پسندی فقط نظریاتی و فکری شئے نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی ہے۔ دینی طلبا کو یہی طرزِ زندگی وراثت میں ملا ہے۔ حضرت امام علی ؑ اگر ضروری کام کے بعد بیت المال کا چراغ بجھا دیتے ہیں تو کیا ہم بھی ایسا کرتے ہیں۔ ۔۔ اگر دیندار انسان اصول پسند اور قانون کا مطیع نہ ہو تو وہ خوارج کی مانند فتنہ گر اور فتنہ پرور بن جاتا ہے۔ امام علیہ اسلام نے کبھی مصلحت یا وقتی فائدے کے لیے اصول و ضوابط کو قربان نہیں کیا۔ خلافت کے نازک موقع پر جب بعض مشیروں نے سیاسی سودے بازی کی تجویز دی تو آپؑ نے فرمایا کہ "کیا تم چاہتے ہو میں حق و باطل کو برابر کر دوں؟"۔ امام علی نے اپنی عملی زندگی کی زبان سے ہمیں یہ سمجھایا کہ دین فقط فقہی احکامات اور عبادات تک محدودنہیں بلکہ اعلی اخلاقی اصولوں کی پابندی بھی اس میں شامل ہے۔ یاد رہے کہ جامعۃ الرضا کے طلبا ہفتہ وار درسِ اخلاق کے علاوہ بزمِ خطابت کا بھی اہتمام کرتے ہیں جس میں وہ ہر ہفتے کے زندہ اسلامی مسائل اور اہم مناسبتوں کے حوالے سے تبادلہ فکر اور تقاریر کرتے ہیں۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں